کیا محصوم زینب کے سفاک قاتل کو سنگ سار کیا جائے؟

(Mir Afsar Aman, Islamabad)

پنجاب کے شہر قصور میں محصوم بچی زنیب کا درندہ صفت سفاک قاتل کرفتار ہو چکا ہے ۔اس نے سنگین جرم کا اعتراف بھی کر لیا ہے۔کیا اس وحشی، انسانیت سے خارج ،انسان نماء بھیڑیے کوسنگ سار کیا جائے؟ یامغر ب سے متاثر سینیٹ کے ممبران پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اﷲ بابر اور بلوچستان سے قوم پرسٹ لیڈر اور نون لیگ کے اتحادی میر حاصل برنجو صاحبان اور مغربی فنڈڈ این جی اوز موم بتی مافیا کی رائے کے مطابق سنگ سار تو کیا، موت تک کی سزا نہ دی جائے۔ محترم قارئین! اسلام میں سنگین جرائم کے مجرموں کے لیے سخت ترین سزائیں کیوں تجویز کی گئی ہیں۔سب سے پہلے اس پر بات کر لیتے ہیں۔اسلام کی سخت سزائیں دینے کا مقصد عبرت پکڑنا اور جرائم کی روک تھام ہے۔ ورنہ اﷲ اپنی پیدا کردہ مخلوق سے بہت محبت کر تا ہے۔جن شیطانی تہذیب کے دلدادہ مغربی ممالک یا امریکا میں سنگین جرائم کے مرتکب مجرموں کو سزائے موت دینا مناسب نہیں سمجھا جا تا وہاں ایسے سنگین جرائم کی شرع زیادہ ہے۔ اگر ہم اسلامی ملک سعودی عرب کا ہی معاملہ لیں جہاں اسلامی سزائیں دی جاتی ہیں ۔وہاں جرائم برائے نام ہیں۔ شیطانی تہذیب کے مغربی ممالک اور امریکا میں سنگین جرائم کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔یہاں ایک تاریخی واقعہ بیان کرنا موقعہ کی مناسبت سے موضوع ہوگا۔کسی جریدے میں پڑھا تھا کہ امریکا کاکوئی صدر سعودی عرب دورے پر گیا۔ کہا کہ سعودی عرب میں انسانیت سوزسزائیں دی جاتی ہیں ۔ آپ کا معاشرہ وحشی لگتاہے۔ سعودی عرب کے بادشاہ نے کہا محترم ہم سخت سزائیاں اس لیے دیتے ہیں کہ جرائم کرنے والے عبرت پکڑیں اور ڈر و خوف کی وجہ سے سنگین جرائم نہ کریں۔ہمارے معاشرے میں سخت سزائیں دینے سے جرائم نہ ہونے کے برابر ہو جاتے ہیں۔ اس طرح ہم اپنے لوگوں کو سنگین جرائم سے بچا لیتے ہیں اور ہمارا معاشرہ آپ کے معاشرے سے زیادہ محفوظ، پر امن اور تہذیب یافتہ ہے۔ اس کے ثبوت کے لیے آپ اپنے ملک کے گزشتہ دس سال کے جرائم منگوا لیں اور میں بھی گزشتہ دس سال کے سعودی عرب میں جرائم کی تعداد منگوا لیتا ہوں۔دونوں ملکوں کے جرائم منگوائے گئے ۔ امریکا میں سعودی عرب سے نوے فی صد( ۹۰)زیادہ جرائم ریکارڈ کیے گئے تھے۔ سعودی عرب کے بادشاہ نے امریکی صدر سے کہا جناب ان جرائم کی شرح کے مطابق آپ کا معاشرہ وحشی ہے یا سعودی عرب کا معاشرہ؟ اب پاکستان کے معاشرے کی بات کرتے ہیں۔پاکستان کا معاشرے مغرب کے شیطانی معاشرے کی نکالی کرتا ہوا نظر آتا ہے جس سے پاکستان میں ایسے جرائم ہوتے ہیں۔پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ کے معززجج نے گستاخانہ مواد عمل در آمد ایک کیس کی سماعت کے دوران میں ریکارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہالی ووڈ کی وجہ سی جرائم ہوتے ہیں اور الزام مدارس پر لگا دیا جاتا ہے۔انٹرنیشنل گینگ سے کسی گھر کی بیٹی محفوظ نہیں۔جہاں قتل کیسے کرتے ہیں کرنے جہاز اغوا کرنے اور سنگین جرائم کے کرنے کے طریقے سکھائے جاتے ہیں۔ زوال پذیر عیسائی(مغربی) معاشرے کی نکالی کر کے پاکستانی معاشرہ بھی تباہ ہو گیا ۔تعلیمی اداروں میں فحش مواد کو فری ہینڈ دے رکھا ہے۔ قصور کے جاہل عمران نے تودور جہالیت کے زمانے کے جرائم سے بھی زیادہ گھنونا جرم کیا ہے۔ اسلامی تاریخ میں ہم پڑھتے آئے ہیں کہ عرب میں ظہور اسلام سے قبل لڑکیوں کو زندہ دفنا دیا جاتا تھا۔مگر قصور جیسے واقعات اس دور جہالیت میں بھی نہیں ملتے۔لہٰذا درندہ صفت ،انسان نماء سفاک بھیڑے عمران کو قصور میں ہی عام لوگوں کی موجودگی میں پبلک پلیس پر سنگ سار کیا جائے۔عام لوگ اس کو پتھر ماریں یہاں تک وہ جہنم رسید ہو جائے۔کیونکہ اس نے صرف محصوم زیب سے ہی نہیں بلکہ قصور کی کئی لڑکیوں سے ایساگھنونا فعل کیا ہے۔قصور میں اس سے قبل لڑکوں سے بھی زیادتی ہوئی تھی۔ اس سے کئی سال قبل لاہور میں اقبال نامی درندے نے سو(۱۰۰) سے زیادہ لڑکوں کے ساتھ قوم لوط فعل کیا تھا۔ وہ لڑکوں سے ایسا کرنے کے بعد انہیں تیزب کے ڈرم میں ڈال کر تحلیل کر دیتا تھا۔ اگر ان دو واقعات میں عبرت ناک سزائیں دی جاتی تو باقی مجرم اس سے عبرت حاصل کرتے اور ایسے وحشی واقعات کی روک تھام ہوتی۔ہماری پولیس کو سیاست دانوں نے عوام کی حفاظت کے بجائے اپنی ذاتی حفاظت پر لگایا ہوا ہے۔ ایک دن ہی پہلے سپریم کورٹ نے پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے بیٹے کے گھر سے سو کے قریب پولیس والے کو یہ کہہ کر ہٹانے کا حکم جاری کیا کہ ان کو عوام کہ حفاظت کرنے چاہیے اور سیاست دانوں کو اپنی حفاظت کرانی ہے تو پرائیویٹ سیکورٹی کا بندوبست کریں۔ اپنے گھروں کے سامنے سے عوام کو تکلیف پہنچانے والی رکاوٹیں بھی ہٹائیں۔ کچھ عرصۃ قبل سپریم کورٹ نے ایسے ہی احکا مات کراچی میں بلاول ہاؤس کے لیے بھی دیے گئے تھے۔محصوم زیب کو چھ دن پہلے اغوا کیا گیا۔زینب کے والدین عمرہ کرنے گئے ہوئے تھے۔ اہل محلہ چھ دن محصوم زینب کو تلاش کرتے رہے۔ پولیس نے چھ دن کوشش کے باجود زینب کو تلاش نہیں کیا۔ چھ دن بعدزینب کی لاش کچرے کے ڈھیر پر پڑی ہوئی ملی۔ قصور کے عوام نے زینب کے قاتل کو پکڑنے کے لیے مظاہرے کیے۔ الٹاپالیس نے مظاہرین پر گولیاں پرسا دیں۔پنجاب پولیس نے ماڈل ٹاؤن والا ظلم کا سین پھر ایک بار دہریا۔ دو مظاہرین کو شہید کر دیا اور کئی کو زخمی کر دیا اور درجنوں کو گرفتار کر لیا۔ جو ابھی تک جیل میں ہیں۔میڈیا میں کہا جا رہا کہ ملزم کو پولیس نے نہیں بلکہ محلے والوں نے پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا۔زینب کے وکیل آفتات باجوہ صاحب کہتے ہیں عمران کے علاوہ ایک اور مجرم کا بھی ڈی این اے ٹیسٹ میچ ہوا تھا۔ اس کو ابھی تک رفتار نہیں کیا گیا۔جی آئی ٹی کا پہلا سربرہ قادیانی تھا جس پر زینب کے والد نے اعتراض کیا تو اسے ہٹایا گیا۔ شاید اس لیے کہ ملک میں ہونے والے فسادات میں قادیانیوں کے بھی مولوث ہونے کے شواہد ملے تھے۔ جیسے پنجاب کے شہر گوجرہ کا واقعہ تھا۔شہباز شریف نے بڑی بہادری دکھاتے ہوئے پریس کانفرنس میں پولیس والوں کی تعریف کی۔ زینب کے دکھی والد کے سامنے تالیاں بجائیں گئی جس سے اس کے زخموں پر نمک چھڑکا کیا۔ اس پر کالم نگاروں نے کالم لکھے۔ سوشل میڈیا پر اعتراض کیا گیا۔ خصوصاًجب پریس کانفرنس میں زیب کے والد کے سامنے سے مائیک خود شہباز شریف نے ہٹا دیا اور ان کو بات تک نہیں کرنے دی۔وکیل آفتاب باجوہ کے مطابق محلہ قادرآ ٓبادمیں چار (۴)جنوری کو زینب کو اغوا کیا گیا اور اغوا کار نے پانچ(۵) جنوری کو میلاد میں شرکت کی۔ اس وقت محصوم زینب کس کی تحویل میں تھی۔ جی آئی ٹی کا طریقہ صحیح نہیں۔دو شہیدوں کے لیے حکومت پنجاب نے پیسے دینے جو اعلان کیا تھااب تک نہیں دیے گئے۔نہ ہی گرفتار لوگوں کو رہا نہیں کیا گیا۔ قصور میں جب پہلی لڑکی کے ساتھ زیادتی ہوئی تھی تو نواز شریف نے کچھ نہیں کیا۔لوگوں کو تشدد کر کے مرضی کے بیان لیے گئے۔زیب کے والد نے کہا تھا کہ ملزم سے میری ملاقات کرائی جائے۔ ابھی ملاقات نہیں کرائی گئی۔

ہمارے کہنے کے باوجود زینب کے جسم پر فنگر پرنٹ کے نشان نہیں لیے گئے۔میں پوسٹ کاسٹم رپورٹ پڑھ کر حیران ہو گیا۔سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں از خود نوٹس کی کاروائی کے لیے عدالت نے ٹی وی کے مالکان، ٹی اینکرز اورصحافیوں کو بلایا ہے تاکہ کیس میں سچائی تک پہنچا جا سکے۔ جیو کے حامد میر ، ملزم کے بنک اکاؤنٹ کا بتانے والے ٹی وی اینکر شاہد مسعود،اے آر وائی لاہور کے بیرو چیف بھٹی صاحبان اور دوسرے لوگ پیش ہوئے۔ شاہدمسعود سے دوسرے ٹی اینکر نہیں کہا کہ عدالت سے معافی مانگ لو۔ مگر شاہد مسعود اس پر راضی نہیں ہوئے اور کہا کہ اس کے پاس ثبوت موجود ہیں جو اس نے عدالت میں پیش بھی کیے۔

صاحبو! شکر کا مقام ہے کہ چیف جسٹس صاحب نے ازخوڈ نوٹس لیا۔ سپریم کورٹ تیزی سے اس کیس کو سن رہی ہے۔ سپریم کورٹ ہی پاکستان کے غریب اوربے بس دکھی عوام کا آخری سہارہ سے جس سے انصاف مل سکتا ہے۔ ورنہ اس سے قبل لڑکوں کی زیادتی والے کیس کا ابھی تک کچھ اتا پتہ نہیں۔ زینب کے کیس میں ملازم نے اعتراف کر لیاہے اس لیے اس کو فوراً آخری فیصلہ سنا کر قصور میں اسی کچرا کنڈی کے مقام پر پتھر پتھر مار مار کر عوام کے سامنے جہنم واصل کیا جائے۔تاکہ مجرم عبرت پکڑیں اور آیندہ بے گناہ بچیوں کے ساتھ ایسی درندگی نہ کریں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mir Afsar Aman

Read More Articles by Mir Afsar Aman: 938 Articles with 474323 views »
born in hazro distt attoch punjab pakistan.. View More
30 Jan, 2018 Views: 497

Comments

آپ کی رائے