تھر میں اب بھی موت کے سائے…… معصوم بچے کب تک مرتے رہیں گے؟

(عابد محمود عزام, Lahore)

 یوں لگتا ہے کہ بے حسی ہمارے عمومی مزاج میں شامل ہو گئی ہے۔ ملک میں آئے روز بہت سے افسوسناک واقعات پیش آتے ہیں، جن کے واقع ہونے کے بعد میڈیا اور عوام کا رویہ دیکھ کر چند روز تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ بہت جلد سب کچھ بدل جائے گا۔ کچھ روز ہر جانب اسی کا ذکر زبان زد عام رہتا ہے، لیکن رفتہ رفتہ نہ صرف اس کا تذکرہ ختم ہو جاتا ہے، بلکہ وہ معاملہ قصہ پارینہ بن جاتا ہے۔ تھرپارکر میں آئے روز بچوں کی اموات کا معاملہ بھی ایسی ہی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے، جہاں روز کچھ بچوں کی اموات کی خبر آتی ہے۔ حکومت کی عدم توجہ، قلت غذا اور سہولیات صحت کی عدم دستیابی کے سبب تھرپارکر میں برسوں سے موت کا رقص جاری ہے، لیکن تاحال اس کے سدباب کے لیے کچھ نہیں کیا گیا، جس کو صرف بے حسی ہی کہا جا سکتا ہے۔ ہر سال غذائی قلت اور سہولیات صحت کے فقدان کی وجہ سے جب تھر میں بچوں کی اموات میں اضافہ ہوتا ہے تو اس خبر کو میڈیا پر کافی ہائی لائٹ کیا جاتا ہے، جس کے بعد حکومت اس حوالے سے اقدامات کرنے کے اعلانات کرتی ہے، لیکن آہستہ آہستہ اس خبر کی اہمیت کم ہو کر میڈیا سے تقریبا غائب ہو جاتی ہے اور حکومت تو پہلے سے ہی ’’غائب‘‘ ہونے کے لیے تیار ہوتی ہے۔ اس طرح کچھ دنوں کے بعد میڈیا کے خاموش ہونے کی وجہ سے حکومت کی جانب سے بھی مکمل خاموشی چھا جاتی ہے۔ تھر میں ہر سال سیکڑوں بچے حکومتی نااہلی کے باعث اپنی جان جان آفریں کے حوالے کر دیتے ہیں، لیکن حکومت ان کے مصائب کا کوئی مستقل حل تلاش کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ سال گزشتہ تھر کے باسیوں پر قیامت ڈھا گیا تھا۔ حکومتی دعوؤں کے باوجود تھر میں غذائیت کی کمی اور دیگر امراض کے سبب 2017ء کا سال 445 بچوں کی جانیں نگل گیا تھا۔ محکمہ صحت تھرپارکرکے اعدادوشمار کے مطابق سال2017 میں سول ہسپتال مٹھی سمیت ضلع کے سرکاری ہسپتالوں میں غذائیت کی کمی، قبل از وقت پیدائش اور دیگرامراض کے سبب پانچ سال کی عمرسے کم کے445 بچے جاں بحق ہوئے، جس کی اہم وجہ مراکز صحت کی جانب حکومت کی توجہ نہ ہونا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ضلع کے سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی 220 آسامیاں خالی ہیں، ماسوائے سول ہسپتال کے ضلع کے کسی بھی سرکاری ہسپتال میں کوئی گائناکالوجسٹ نہیں، جبکہ تحصیل ہسپتالوں میں بھی صرف ایک ایک لیڈی ڈاکٹرز تعینات ہیں۔تھر کے باسی صحت کی سہولیات سے بالکل محروم ہیں۔ صوبائی حکومت نے گزشتہ کئی سالوں سے تھر میں ہونے والی ہلاکتوں سے کوئی سبق نہ سیکھا اور ایک مرتبہ پھر تھرپارکر میں حکومتی نااہلی، خوراک کی کمی، امراض کی بہتات اور طبی سہولیات کے فقدان کے نتیجے میں رواں ماہ کے دوران 40بچے موت کی وادی میں چلے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں تھر کے دیہی علاقوں میں قائم 204 ڈسپینسریز میں سے 183 کا سالانہ بجٹ جاری نہیں ہوا۔ محکمہ صحت تھر پارکر کے مطابق ضلع میں1سول اور 3 تحصیل ہسپتال ہیں، جبکہ 3 میٹرنٹی ہوم 297 سرکاری ڈسپنریاں، 31 بنیادی صحت مرکز ہیں، جن کی اکثریت کا بجٹ ہی منظور نہیں کیا جاسکا۔ تھر میں غذائیت کی کمی اور دیگر امراض سے بچے مر رہے ہیں اور حکمرانوں کو سب ٹھیک دکھائی دے رہا ہے۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ مجموعی صحت مراکز میں سے 40 فیصد بند اور دیگر غیر فعال ہیں۔ 6 رورل ہیلتھ سینٹر، 9بیسک ہیلتھ سینٹر، 2 ویم گھر گزشتہ پانچ سال سے بغیر بجٹ کے چل رہے ہیں، جس کے باعث علاقے میں بچوں اور دیگرافراد کی اموات میں کمی کے باعث تھر کے باسیوں کو مشکلات کا سامنا ہے، لیکن حکومت کی طرف سے کچھ اقدامات نظر نہیں آ رہے ہیں، بلکہ پیپلزپارٹی کے چیئرمین تو خود کو تسلی دیتے نظر آرہے ہیں۔ ایک طرف تھر میں بچوں کی اموات کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا، جبکہ دوسری جانب پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ٹوئٹر پیغام میں کہتے نظر آتے ہیں کہ سندھ خاص طور پر تھر میں بچوں کی اموات اور زچہ کی صورتحال ہمارے لیے سنجیدہ چیلنج تھے، لیکن اﷲ کا شکر ہے، 5 برسوں سے بچوں کی اموات کی شرح میں 50 فیصد کمی آئی ہے اور اب سندھ میں صورتحال پنجاب کے مقابلے میں بہتر ہے۔

تھر میں زندگی کو سسکنے، بلکنے اور دم توڑنے کے سیکڑوں بہانے میسر ہیں۔ غذائی قلت تو چہار سو موت کا خوفناک سایہ بنی ہی ہوئی تھی، بیماریوں اور سہولیات صحت کے فقدان کی وجہ سے بھی تھری بچے زندگی سے محروم ہورہے ہیں۔ تھر میں بچوں اور ماؤں کی اموات کے بڑے اسباب میں سے خوراک کی کمی اور طبی سہولیات کا فقدان ہے۔ صحت کے عالمی ادارے ڈبلیو ایچ او کی جانب سے کئی بار یہ کہا جاچکا ہے کہ تھر میں اموات میں اضافے کا تعلق عوام کا صحت کی سہولتوں تک عدم رسائی سے ہے۔ یہ امر باعث حیرت ہے کہ ہر سال اس صورتحا ل کاسامنا ہوتا ہے، اس کے باوجود اس سے نمٹنے کے لیے کوئی انتظامات نہیں کیے جاتے۔ تھر کے باسیوں کو ان مشکلات کا سامنا ایک دو سال نہیں ہوا، بلکہ برسوں سے وہ سامنا کر رہے ہیں اور کئی سال سے تو سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت ہے، ہر سال حکومت تھریوں کی مشکلات حل کرنے کے دعوے بھی کرتی ہے، لیکن عمل نہیں کیا جاتا۔ 2014میں تھرپارکر میں درجنوں بچوں کی ہلاکت پر صوبائی حکومت کی جانب سے مجرمانہ غفلت کے اعتراف کے بعد چیف جسٹس آف پاکستان نے اس واقعے کا ازخود نوٹس بھی لیا تھا، لیکن آج چار سال گزرنے کے بعد بھی تھر کے حالات جوں کے توں ہیں۔آج بھی موت کا عفریت تھرپارکر کے میں معصوم جانوں کونگل رہا ہے۔ لوگ صبح اپنے گھر کی میت اٹھاتے ہیں تو شام کو پڑوسی کے بچے کو کاندھا دیتے ہیں۔ یہ سب کچھ اسی دنیا میں ہورہا ہے جہاں دنیا بھر میں مختلف تنظیمیں لاوارث جانوروں کی جانیں بچانے، درختوں اور جنگلات کی حفاظت کے لیے تو سر توڑ کوششیں کر رہی ہیں، لیکن بدقسمتی سے یہاں صاحب اقتدار طبقے کو غذائی قلت اور سہولیات صحت کے فقدان سے مرتے انسانوں کی جانیں بچانے سے زیادہ اپنی کرسیاں اور اقتدار بچانے کی فکر دامن گیر ہے۔ تھر میں معصوم بچوں کی اموات حکومت کے لیے شاید صرف اعداد وشمار ہوں، مگر یہی تلخ زندگی گزارنا تھرکے غریب باسیوں کا مقدر ہے۔ تھرپارکر میں صاحب اقتدار طبقے میں احساس ذمے داری کا قحط حد درجہ شدید ہے، کیونکہ ان ہلاکتوں کی وجہ محض غذائی قلت، ضروریاتِ زندگی اور سہولیات صحت کا فقدان اور غربت ہی نہیں، بلکہ سیاسی ذمہ داروں کی مسلسل دانستہ بے رغبتی و بے اعتنائی ہے۔

تھر کے حالات مستقل اقدامات کے متقاضی ہیں۔ حکومت کو تھر کے عوام کو مصائب سے چھٹکارہ دلانے کے لیے ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جن سے وہاں کے عوام مستقل طور پر اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکیں اور غذائی قلت اور سہولیات صحت کے فقدان کے خوف سے آزاد ہوکر اپنی زندگی گزار سکیں۔ معصوم بچوں کو موت کے منہ سے نکالنا حکمرانوں ہی کی ذمے داری ہے، لیکن یہ اپنی ذمے داری سے پہلو تہی کرنے اور غذائی قلت کے اسباب کو ختم کرنے اور طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کی بجائے نت نئی تاویلیں کرنے میں مشغول ہیں۔ یہ صوبائی حکومت کی غفلت و کوتاہی کا شاخسانہ ہی تو ہے کہ تھریوں کو مسلسل غذائی قلت کا سامنا ہے اور سرکاری شفاخانوں میں عوام کو علاج کی سہولتیں میسر نہیں ہیں۔ شفاخانوں میں کوالیفائڈ ڈاکٹرز کی کمی ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہر روز کسی نہ کسی ماں کی گود اجڑ جاتی ہے۔ تھر معدنیات سے مالا مال علاقہ ہے، لیکن حکومت تھر کے عوام کی ترقی کے لیے کچھ نہیں کر رہی۔ اگر حکومت کچھ کر رہی ہوتی تو تھر میں آئے روز بچے نہ مرتے۔ تھر میں ہر سال غذائی قلت، مختلف مہلک بیماریوں اور مناسب علاج کی سہولت نہ ملنے کے سبب سیکڑوں بچے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں، لیکن اس کے باوجود ہمیشہ تھر کے علاقے کو نظر انداز کیا گیا اور اس علاقے کے مسائل کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کی جستجو نہیں کی گئی۔ حکومت میڈیا کی نشاندہی کے بعد خواب غفلت سے بیدار ہوتی ہے اور کچھ روز میڈیا کے سامنے ہلچل نظر آتی ہے۔ جب تک میڈیا تھر کے معاملے کو نمایاں کیے رکھتا ہے، حکومت بھی حرکت میں دکھائی دیتی ہے، لیکن میڈیا خاموش ہو جاتا ہے تو حکومت بھی تھر کے عوام سے کیے گئے تمام وعدوں کو بھول جاتی ہے۔ تھر میں معاملے کی سنگینی صرف بیڈ گورننس اور غیر سنجیدگی کی وجہ سے ہے۔ ورنہ اگر حکومت تہیہ کر لے تو تھر کے حالات کو بہتر انداز میں بدلنا ناممکن نہیں ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: عابد محمود عزام

Read More Articles by عابد محمود عزام: 869 Articles with 426046 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 Feb, 2018 Views: 398

Comments

آپ کی رائے