کشمیر کا نوحہ

(Akhlaq Khan, Dera Ismail Khan)

روز خون کی ندیاں بہتی ہیں ہر روز ہم نعشیں اٹھا اٹھا کر نڈھال ہو جاتے ہیں ۔مائیں ،بہنیں اوریہاں بسنے والی ہر آنکھ اشکبار رہتی ہے۔فضاماتم کناں رہتی ہے ۔سسکیاں ،آہیں ،دکھ ،غم ،آنسو اور درد کا ایساکونساحصہ ہے جو ہم نے سہا نہیں ۔صرف سانسوں کا عمل جاری ہے۔زندگی کہاں ہے بس ڈھونڈتے رہتے ہیں ۔کہیں جائے پناہ نہیں ۔ہمارے جینے پہ پابندی ہے۔گھٹ گھٹ کے مر مر کے ہم روز و شب گزارتے ہیں ۔تھکن ہی تھکن بوجھل بوجھل پن چہارسو چھایا رہتا ہے ۔خوشیاں روٹھے برسوں بیت گئے ۔آزادی کی جنگ لڑتے لڑتے ہمارے بچے ،ہمارے جواں ،ہمارے بوڑھے اور مائیں ،بہنیں ،بیٹیاں قربان ہوتے ہوتے ،لہولہان ہوتے ہوتے ہر کوئی دیکھ رہا ہے ،سن رہا ہے پڑھ رہا ہے مگر افسوس کوئی بولتا نہیں ۔کوئی بھی تو نہیں ۔
اے آزاد وطن میں رہنے والو!

گلہ تو ہمارا تم سے بھی ہے۔اک رشتہ ہمارا تم سے بھی ہے۔تم چاہو بھی تو وہ رشتہ توڑ نہیں سکتے ۔تعلق ایسا ہے ہمارا کہ چاہو بھی تو تم ہمیں چھوڑ نہیں سکتے ۔ہم تم ایک ہی اکائی ہیں ۔مسلمان ہیں بھائی بھائی ہیں ۔سب کچھ جان کر بھی تم انجان بن بیٹھے ہو۔کیا تم بھول گئے کہ آزادی کی جنگ تو ہم نے مل کے لڑی تھی ۔پھر آزادی حاصل کر کے تم ہمیں کیوں بھلا بیٹھے ہو۔یہ دوریاں یہ فاصلے کیوں پیدا کر دئیے تم نے۔ایسی کونسی ہم سے خطا ہوئی ایسا کونسا ہم سے گناہ ہوا کہ تم ہم سے سارے تعلق توڑ بیٹھے ہو۔پہلے دلوں سے دور کیا اب نصاب کی کتابوں سے بھی ہم فراموش ہو چلے ہیں ۔دشمنوں کے رحم و کرم پر ہمیں تم چھوڑ کر یہ کیوں بھول گئے کہ غلامی تو ہم نے اکٹھے گزاری تھی۔پھر کیسے تم میں یہ بے رخی ،بے حسی در آئی ۔کیا تم یہ بھول گئے کہ بابائے قوم نے کہا تھا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔شہ رگ کے بغیر جسم کیا معنی رکھتا ہے۔
اے آزاد وطن میں رہنے والو!
سن لو کہ آزادی کی جنگ ہم یونہی لڑتے رہیں گے ،کٹ مریں گے جھکیں گے نہیں ۔ڈرنا ہماری فطرت میں نہیں ہم کبھی ڈریں گے نہیں ۔

آزادی کی اس جنگ میں ہمارے اجداد کا خون شامل ہے۔اور یہاں بسنے والا ہر فرد جو دشمنوں سے بر سر پیکار ہے وہ مجاھد ہے۔ایسا مجاھد جو خون کے آخری قطرے تک لڑنا اپنے لیے باعث افتخار سمجھتا ہے۔شہادت کی موت ہر مسلمان کی آرزو وخواہش ہے۔اور ہر مسلمان شہادت کو فخر سے گلے لگاتا ہے۔دکھ تو ہمیں تم سے ہے جو سب کچھ جان کر بھی ہم سے نظریں چرائے بیٹھے ہو ہم تو صرف تم سے گلہ مند ہیں ۔

مگر یاد رکھو حساب تو تمہیں دینا پڑے گا ۔پوچھا تو تم سے بھی جائے گا دنیا کی عدالت میں نہ سہی ہمیشہ قائم رہنے والی عدالت میں تو جواب دو گے ؟اور دکھ تو یہی ہے کہ کیا جواب دو گے؟

آزادی تو ہمیں ملنی ہے اور یہ ہمارا ایمان ہے کہ اﷲ کی بارگاہ میں قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جاتیں ۔آج نہیں تو کل ہمیں ہماری قربانیوں کا ثمر ملے گا اسی امید اسی آس پہ ہماری جنگ جاری ہے اور جاری رہے گی کہ وہ کیا ہی کسی نے خوب کہا ہے
اہل جہاں کہتے ہیں جنت ہے کشمیر
جنت کسی کافر کو ملی ہے نہ ملے گی!
اے آزاد وطن میں رہنے والو!

اب بھی وقت ہے جاگ اٹھو!دشمن ہمارا ایک ہی ہے جو تم لاکھ چاہو بھی کبھی تمہارا دوست بن نہیں سکتا۔تم لاکھ ہمیں بھلا کر امن کی آشائیں جلاؤ،امن کے گیت گاؤ ،پیار کی پینگیں بڑھاؤ اس کا کام اسکی فطرت ڈسنا ہے وہ ہر حال میں تمہیں ڈسے گا اور ڈستا رہے گا۔اپنے ملکی حالات کو پہچانو،ہر طرف لگی ہوئی آگ اسی کی لگائی ہوئی ہے۔تمہارے ملک کے چند غدار اسی دشمن کے ہاتھوں میں کھلونا بن کر ناچ رہے ہیں اور انہی کے ہاتھوں وہ نفرتوں کا بیج بو کرتمہیں آپسمیں لڑارہا ہے ۔تمہیں تقسیم در تقسیم کرنے کے درپے ہے۔اب بھی وقت ہے سمجھ جاؤ ۔کھوٹے کھرے کو پہچانواور دشمن کی لگائی آگ کو بجھا کر ایک ہو جاؤ ۔ایک مٹھی بن کے جیواور دنیا پہ چھا جاؤ۔

ہم کل بھی تمہارے ساتھ تھے ہم آج بھی تمہارے ساتھ ہیں اور ہمیشہ تمہارے ساتھ رہیں گے ۔آزادی کی نعمت کو سمجھو اسکی قدر جانو،ہم آزادی کو ترس رہے ہیں دشمنوں سے بر سر پیکار ہیں اور تم آزاد ہو کر بھی دشمن کی چالوں کو نہ سمجھ کر ایک دوسرے سے الجھے ہوئے ہو۔کب سمجھو گے ۔جب پانی سر سے گزر جائے گا۔ہاتھ ہی ملتے رہ جاؤ گے ۔ہاتھ تو پھر بھی کچھ نہ آئے گا ۔خود پہ رحم کھاؤ اپنی آنے والی نسلوں پہ رحم کرو۔اور آپسمیں تفرقہ نہ ڈالو اور اﷲ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو۔اسی میں نجات ہے اسی میں بھلائی ہے۔یہ کشمیر کا نوحہ ہے وہ کشمیر جہاں لاکھوں شہداء خون کے نذرانے دے رہے ہیں ۔ظلم و ستم سہنے کے باوجود وہ پاکستان سے الحاق چاہتے ہیں ۔ہر جنازہ میں ہر جلسہ میں اور کھیل کے میدانوں میں وہ دشمن کی پرواہ کیے بغیر پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگاتے ہیں ۔آج 5فروری ہے آؤ سب مل کے کشمیر کی آزادی کے لیے یکجا ہو جائیں ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Akhlaq Khan

Read More Articles by Akhlaq Khan: 7 Articles with 4182 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 Feb, 2018 Views: 370

Comments

آپ کی رائے