سلمان مجاہد، خواتین سے زیادتی اور چار گواہوں کی شرط

(Saleem Ullah Shaikh, Karachi)
اگر چار گواہوں کی شرط عائد نہ کی جائے پھر معاشرے میں بے حیائی کے ساتھ ساتھ ایک انتشار بھی پیداہوگا، فاحشہ عورتیں اپنی مرضی سے بدکاری کرانے کے بعد لوگوں پرالزام لگاتی پھریں گی کہ انہوں نے ہمارے ساتھ زیادتی کی ہے۔ اس کے علاوہ چار گواہوں کی شرط خود خواتین کے تحفظ کی ضامن ہیں، کیوں کہ اگر چار گواہوں کی شرط عائد نہ کی جاتی تو آج معاشرے میں خواتین کا کوئی پرسان حال نہ ہوتا۔

ہمارے یہاں کا لبرل طبقہ جس طرح شعائر اسلام اور شرعی احکامات کا مذاق اڑاتا ہے ، اس سے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نعوذ باللہ خالق کائنات کی اس تخلیق میں کوئی سقم رہ گیا ہے اور یہ مغرب زدہ لبرل شاید اللہ تعالیٰ سے زیادہ علم رکھتے ہیں۔ قصور کی زینب قتل کیس کے بعد سوشل میڈیا پر کچھ اس طرح کی پوسٹس بھی سامنے آئیں کہ اسلام زیادتی کی شکار عورت سے چار گواہ طلب کرتا ہے جو کہ نا مناسب بات ہے اور یہ کہ زینب کے کیس میں ملزم گواہی سے نہیں بلکہ ڈی این ٹیسٹ سے پکڑا گیا ہے اس لیے اب علما کو چار گواہوں کی بحث چھوڑ کر سائنسی بنیادوں پر فتوے دینے چاہییں۔

پہلی بات یہ تو واضح کرتا چلوں کہ اسلام نے کبھی بھی جدید علم و فنون کی حوصلہ شکنی نہیں کی۔ مسلمان سائندانوں ، ریاضی دانوں، ماہرین نجوم ، ماہرین فلکیات اور ماہر اطبا و ماہرین طبعیات کی طویل فہرست اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اسلام جدید علوم و فنون حاصل کرنے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے ۔ یہ عیسائی پادری ہوا کرتے تھے جو نئے نظریات کو قبول کرنے میں تامل کرتے تھے، اسی لیے مغرب نے بالآخر مذہب بیزاری اختیار کی، اب وہی مذہب بیزار طبقہ بڑی ہوشیاری سے عیسائی پادریوں کی سابقہ تنگ نظری ، جدید علوم و فنون کی مخالفت کو اسلام اور علما کے کھاتے میں ڈال کر بغلیں بجا رہا ہے اور مغرب سے مرعوب زدہ طبقہ بز اخفش کی طرح ان کی ہاں میں ہاں ملا تا رہتا ہے۔

یہ ساری تمہید باندھنے کی وجہ ایم کیو ایم پاکستان کے رکن قومی اسمبلی سلمان مجاہد بلوچ کے حوالے سے ذرائع ابلاغ میں آنے والی یہ خبر ہے۔ خبر کے مطابق علینہ خان نامی خاتون نے گلشن اقبال تھانے میں سلمان مجاہد بلوچ کے خلاف زیادتی اور بلیک میلنگ کی درخواست درج کرائی ہے۔خاتون نے الزام عائد کیا ہے کہ سلمان مجاہد بلوچ نے انہیں پہلی بار 12 اگست 2014 کو پارلیمنٹ لاجز اسلام آباد میں زیادتی کا نشانہ بنایا اور خفیہ کیمرے سے ان کی ویڈیو بھی بنائی۔

ہم اس خبر کی تفصیل میں نہیں جارہے ۔ ہم یہاں بات کریں گے چار گواہوں کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے۔ ذرائع ابلاغ میں آنے والے تصاویر میں واضح طور پر نظر آرہا ہے کہ یہ معاملہ زیادتی یا زنا بالجبر کا نہیں ہے بلکہ یہ صریحاً زنا بالرضا کا معاملہ ہے۔ (یہاں پہلے یہ بات بتاتا چلوں کہ علمائے کرام جدید ٹیکنالوجی سے مستفید ہوتے ہیں اور وہ ان کے مطابق اپنے امور سر انجام دیتے ہیں۔ شرعی مسائل کے حل کے لیے علمائے کرام ڈی این اے کو معاون شہادت کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ اس کی مزید تفصیل علمائے کرام سے معلوم کی جاسکتی ہے۔) اب اگر صرف سائنس کو بنیاد بنایا جائے تو خاتون کا دعویٰ سچا ہوگا کیوں کہ ڈی این اے ٹیسٹ سے یہ ثابت ہوجائے گا کہ ان دونوں کے درمیان جسمانی تعلق قائم ہوا ہے۔ لیکن یہ تعلق زبردستی قائم کیا گیا ہے یا بالرضا ، اس کا فیصلہ نہیں کیا جاسکے گا۔

دراصل یہی وہ نکتہ ہے جس کی بنیاد پر اسلام نے چار گواہوں کی شرط عائد کی ہے۔ اگر چار گواہوں کی شرط عائد نہ کی جائے پھر معاشرے میں بے حیائی کے ساتھ ساتھ ایک انتشار بھی پیداہوگا، فاحشہ عورتیں اپنی مرضی سے بدکاری کرانے کے بعد لوگوں پرالزام لگاتی پھریں گی کہ انہوں نے ہمارے ساتھ زیادتی کی ہے، لوگوں کو مزید بلیک میل کیا جاتا رہے گا۔ دوسری جانب کوئی بھی سیاسی گروہ ، کسی مخالف گروہ کے قائد پر بہ آسانی زنا ، زیادتی کا الزام لگا کر اس کی ساکھ کو برباد کرتا رہے گا۔ اسی لیے خالق کائنات نے چار گواہوں کی شرط عائد کی ہے تاکہ معاشرے میں انتشار پیدا نہ ہو۔

اس کے علاوہ چار گواہوں کی شرط خود خواتین کے تحفظ کی ضامن ہیں، کیوں کہ اگر چار گواہوں کی شرط عائد نہ کی جاتی تو آج معاشرے میں خواتین کا کوئی پرسان حال نہ ہوتا، کوئی بھر فرد اپنی ناجائز خواہش پوری نہ ہونے پر، رشتہ نہ ملنے پر اطمنان سے کسی بھی لڑکی پر بدکاری اور فاحشہ ہونے کی تہمت لگا دیتا۔(جس معاشرے میں خواہش پوری نہ ہونے پر لڑکیوں کو قتل کردیا جائے، ان پر تیزاب پھینک دیا جائے، اس کی نسبت یہ کام تو بدرجہا آسان ہوجاتا۔) چار گواہوں کی شرط عائد کرکے اسلام نے عورتوں کو تحفظ فراہم کیا ہے کیوں کہ اگر کوئی فرد کسی خاتون پر الزام لگانے کے بعد چار گواہ پیش نہ کرسکے تو پھر اس پر حد قذف جاری کی جائے گی اور اس کی گواہی بھی قبول نہیں کی جائے گی۔

مغرب زدہ لبرل طبقات کی خدمت میں ہم یہی عرض کریں گے کہ مغربی مصنفین اور مستشرقین کی کتابیں پڑھنے سے پہلے قرآن کریم کا مطالعہ کریں، مغربی لابی کی بات سننے کے ساتھ ساتھ کبھی علما کرام سے بھی مکالمہ کریں ، جس چیز کے بارے میں آپ کے ذہن میں ابہام پایا جاتا ہے، اس کے بارے میں پہلے کوئی بات کہنے سے پہلے علما کرام سے بات کرکے دیکھیں تو شاید بہت ساری باتیں صاف ہوجائیں۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Saleem Ullah Shaikh

Read More Articles by Saleem Ullah Shaikh: 525 Articles with 1071994 views »
سادہ انسان ، سادہ سوچ، سادہ مشن
رب کی دھرتی پر رب کا نظام
.. View More
14 Feb, 2018 Views: 685

Comments

آپ کی رائے
asrafian loot gaeen koiloon per mohar.
By: jamil, karachi on Feb, 15 2018
Reply Reply
0 Like