پاکستان میں ٹیکسوں کی شرح میں ہوشربا اضافہ

(Dr M Abdullah Tabasum, )

پاکستان میں ٹیکسوں کی شرح میں ہوشربا اضافہ۔۔۔۔۔ ڈیزل کا نرخ55.09اور پیٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت 50.27روپے فی لٹر ہے،۔۔ یہ شرح بتا رہی ہے کہ حکومت پیٹرول کی مد میں اصل قیمت پر68 فیصد ٹیکس وصول کر رہی ہے۔۔۔۔۔ جو دنیا بھر میں انتہائی بلند سطح کی شرح رکھنے والے چند ملکوں میں سے ایک ہے۔۔۔۔بے لگام مہنگائی کے بھی اصل محرکات پیٹرولیم پرعائد ہونے والے ٹیکس اوربجلی و گیس کی قیمتوں میں بے ہنگم اضافہ ہیں ۔۔۔۔ملک کی20کروڑ سے زائد کی آبادی کا بڑا حصہ خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے عوام پر مشتمل ہے۔۔۔۔۔ مزید برآں رشوت اور بدعنوانی سے ہونے والے نقصانات بھی انہی کو بھگتنا پڑتے ہیں۔۔۔نجی اسکولوں کی مہنگی فیسیں ملک بھر میں عوام کے لئے بھی پریشانی کا باعث ہیں۔۔۔حکومت کے آخری ایام میں ہی کوئی عوام دوست فیصلے کئے جائیں ۔۔۔۔

گزشتہ دو دہائیوں کے دوران پاکستان میں ٹیکسوں کی شرح میں جس تیزی سے اضافہ ہوا ہے اس کی مثال ملک کی مجموعی تاریخ میں کہیں نہیں ملتی،قومی اسمبلی میں پیٹرول اور ڈیزل پر ہوشربا ٹیکسوں کا انکشاف کرتے ہوئے وزارت پیٹرولیم نے تحریری طورپر ایک سوال کے جواب میں ایوان کو آگاہ کیا ہے کہ ڈیزل کا نرخ55.09اور پیٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت 50.27روپے فی لٹر ہے، یہ شرح بتا رہی ہے کہ حکومت پیٹرول کی مد میں اصل قیمت پر68 فیصد ٹیکس وصول کر رہی ہے جو دنیا بھر میں انتہائی بلند سطح کی شرح رکھنے والے چند ملکوں میں سے ایک ہے۔ اس کے باوجود اوگرا اب بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بتدریج بڑھتے اضافے کو روکنے کے حق میں نہیں جبکہ ہمسایہ ملک افغانستان میں حکومت کی پیٹرولیم پرٹیکس وصولی کی شرح 20 اور بھارت میں 25 فیصد ہے، پاکستان میں گزشتہ 20 سال میں ہونے والی بے لگام مہنگائی کے بھی اصل محرکات پیٹرولیم پرعائد ہونے والے ٹیکس اوربجلی و گیس کی قیمتوں میں بے ہنگم اضافہ ہیں ملک کی20کروڑ سے زائد کی آبادی کا بڑا حصہ خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے عوام پر مشتمل ہے مزید برآں رشوت اور بدعنوانی سے ہونے والے نقصانات بھی انہی کو بھگتنا پڑتے ہیں، جس کے نتیجے میں سماجی بگاڑ تیزی سے بڑھ رہا ہے یہ صورت حال انتہائی تشویشناک اور خطرے کی گھنٹی ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ مہنگائی روکنے کے لئے سنجیدہ اقدامات اٹھائے جائیں جس کی شروعات پیٹرولیم اوربجلی گیس کی قیمتوں میں کمی سے کی جائے جملہ اشیاء و خدمات پرعائد بھاری ٹیکسوں اور ان کی شرح میں کمی لانے کی بھی ضرورت ہے اس کے لئے موثر منصوبہ بندی کے تحت ٹیکس نیٹ میں ضروری اضافہ کیا جائے یہ بات وثوق سے ،جا سکتی ہے کہ ٹیکس نہ دینے والوں کی تعداد موجودہ ٹیکس گزاروں سے کہیں زیادہ ہے،نجی اسکولوں کی مہنگی فیسیں ملک بھر میں عوام کے لئے یوں بھی پریشانی کا باعث ہیں جبکہ لیکن گرما کی تعطیلات میں پورے صوبہ سندھ ،پنجاب ،کے پی کے میں دو ماہ کی چھٹیوں سمیت تین ماہ کی پیشگی تعلیمی اور ٹرانسپورٹ فیسوں کی بیک وقت وصولی نے لوگوں کی زندگی اجیرن کردی ہے،ایک تازہ اخباری رپورٹ کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے ایک حکم کے تحت پورے صوبہ پنجاب میں نجی اسکولوں پر تین ماہ کی بیک وقت فیسوں کی وصولی پر پابندی عائد ہے،جسٹس علی اکبر قریشی کے اس فیصلے کی رو سے کوئی نجی اسکول ایک ماہ سے زیادہ کی پیشگی فیس وصول نہیں کرسکتا،پنجاب میں ایک اور عدالتی فیصلے کے تحت جون جولائی کی چھٹیوں میں اسکول وین کی فیس کی وصولی پر بھی پابندی لگائی جاچکی ہے،لیکن سندھ میں نجی اسکولوں کو من مانی کرنے کی کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے جس کی بنا پر بیک وقت تین ماہ کی تعلیمی فیس کے علاوہ جون جولائی میں ٹرانسپورٹ کے استعمال نہ ہونے کے باوجود ٹرانسپورٹ کی مد میں بھی تین ماہ کی فیس کی یکمشت ادائیگی پر والدین کو مجبور کیا جارہا ہے،جون جولائی میں اسکول وینیں بے کار کھڑی نہیں رہتیں بلکہ شادی بیاہ، باراتوں اور پکنک پارٹیوں کی شکل میں ان کا کاروبار جاری رہتا ہے لہٰذا ٹرانسپورٹ فیس وصول کیے جانے کا قطعی کوئی جواز نہیں جبکہ تین ماہ کی تعلیمی فیس پیشگی وصول کرنے کے بجائے ایک ایک ماہ کی پیشگی فیس وصول کرکے نجی اسکول بآسانی اپنا مسئلہ بھی حل کرسکتے ہیں اور طلبا اور ان کے والدین کو بھی پریشانی سے نجات دلاسکتے ہیں۔ حکومت سندھ کو مزید کسی تاخیر کے بغیر پورے صوبے میں نجی اسکولوں کو تین ماہ کی تعلیمی اور ٹرانسپورٹ فیسیں اور دیگر اخراجات کی بیک وقت وصولی سے روک دینا اور اس حکم پر عمل درآمد کو بہرصورت یقینی بنانا چاہئے۔ علاوہ ازیں ملک بھر میں سرکاری اسکولوں میں ماضی کی طرح بہتر تعلیمی معیار اور تمام مطلوبہ سہولتوں کا اہتما م کرکے طلبا کو نجی اسکولوں کی خالصتاً کاروباری ذہنیت کا شکار ہونے سے بچانے کا بندوبست بھی عوام کا بنیادی حق ہے،چھوٹے صوبوں کو ہمیشہ شکایت رہی کہ پنجاب کے وزیر اعظم کے خلاف پنجابی جنرل۔ پنجابی جج ایکشن نہیں لیتے۔ اس وقت دیکھیں کہ پنجاب کے جج پنجاب کے طاقت ور خاندان کے خلاف فیصلے دے رہے ہیں، نیب بھی سب سے زیادہ کارروائیاں پنجاب میں کررہا ہے،چھوٹے صوبے اب اس کارروائی کی تعریف نہیں کررہے،ستم ظریفی یہ ہے کہ بلوچستان،سندھ اورکے پی کے قوم پرست پنجاب کی لیڈر شپ کے ساتھ ہیں میاں نواز شریف نے مزاحمت کرکے صرف پنجاب کے دلوں میں ہی نہیں دوسرے صوبوں کے دلوں میں بھی جگہ بنالی ہے،لیکن مقصود جب اوّل و آخر صرف تالیاں بجوانا ہو۔ نعرے لگوانا ہو تو جھوٹ بھی بولناپڑتا ہے، شیخی بھی بگھارنا پڑتی ہے، اس سب کچھ کا دعویٰ کرنا پڑتا ہے جس کا عشر عشیر بھی نہیں کیا ہوتا،یہ سب کررہے ہیں ہر طرف ہورہا ہے،پہلے یہ جلسوں میں ہوا کرتا تھا۔ بیانات میں،اب یہ کم بخت ٹویٹ ہاتھ لگ گیا ہے۔ بیٹھے بیٹھے اس پر انگلیاں چل جاتی ہیں۔ آپ نہ بھی چاہیں کمپیوٹر از خود ایسے الفاظ آپ کے سامنے لے آتا ہے کہ آپ کے وفادار درباری، خوشامدی بھی کیا ذخیرہ الفاظ استعمال کرتے ہوں گے جہازی سائز کے اشتہارات میرے اور آپ کے ٹیکسوں کی رقم سے اپنی تصویروں کے ساتھ۔ایسے میں ضروری نہیں کہ ملک واقعی ترقی کررہا ہویہ تو اﷲ تعالیٰ نے بھی کہا ہے کہ انسان کے لیے وہی ہے جس کے لیے کوشش کی جائے۔ نتیجہ بھی اس کا نکلتا ہے۔ جس کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں۔ کوشش ہی صرف تالیاں بجوانے کے لیے کی جارہی ہے، تو تالیاں ہی بجیں گی، میں بھی جب یہ الفاظ رقم کررہا ہوں، میری خواہش بھی یہی ہے کہ کچھ تعریفی ایس ایم ایس آجائیں۔ ایک دو ای میل چلی آئیں۔ بازار سے گزر رہا ہوں یا مسجد میں نماز ادا کررہا ہوں تو دل میں یہ انتظار ہوتا ہے کہ کوئی آکر کہے آج کا کالم آپ کا بہت اچھا تھا۔لیڈر خود اپنی تعریف کرتا ہے، کہا ہے کہ میں ایک نظریہ بن گیا ہوں،کسی کا کہنا ہے۔ مجھ سے پہلے کسی نے کرپشن کے خلاف بات ہی نہیں کی تھی۔ کوئی دعویٰ کرتا ہے کہ ہم جب چاہیں وفاقی حکومت گراسکتے ہیں۔اپنی اپنی پارٹی کی مدح سرائی ہوتی ہے۔ اپنے قائد کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملائے جاتے ہیں اپنے ادارے کی ثنا خوانی ہورہی ہے، مملکت کی بات کوئی نہیں کرتا حالانکہ اﷲ تعالیٰ نے ہمیں غیر معمولی عظیم مملکت عطا کی ہے، جس کی جغرافیائی حیثیت بالکل منفرد۔ جنوبی ایشیا کے لیے ہم دروازہ۔ وسطی ایشیا کے لیے ہم راہداری۔ مشرق وسطیٰ کے لیے ہم راستہ۔ قدرت کی دوسری بڑی عنایت، ہماری نوجوان آبادی ایک اندازے کے مطابق 15سے 30سال کی عمر کے توانا پاکستانی 60فی صد کے قریب ہیں۔ ہم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلائیں گے، معدنی دولت بے حساب، اس حسین سر زمین کو اﷲ تعالیٰ نے چاروں بلکہ کچھ زیادہ ہی موسم عطا کیے ہیں، ہماری اس عظیم وطن میں ہر قسم کے زمینی مناظر موجود ہیں،میدان، سرسبز وادیاں۔ خشک پہاڑ، ہرے بھرے کوہسار، دریا، سمندر،سینکڑوں میل لمبی ساحلی پٹی۔اٹھ ہزار سال پرانی تہذیب، ڈیڑھ ہزار سال سے اسلام کی آغوش۔ انتہائی محنتی ہم وطن۔ مشکلات برداشت کرنے والے،صابر شاکر بزرگ، نوجوان، مائیں، بہنیں، سب دن رات جدو جہد میں مصروف، تعریف کے قابل ہے یہ زمین،لائق مدح ہیں اس کے بیٹے، لیکن اس کی تحسین بہت ہی کم سننے میں آتی ہے،ادارے، اداروں کے سربراہ سب اپنی تعریف کررہے ہیں، ہر روز یہ اپنے ہی ادارے ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہوجاتے ہیں، اپنی اچھائی،باقی سب کی برائی، ایسے ایسے دعوے کہ رزقِ حلال تو صرف وہ ادارہ کھاتا ہے، باقی سب بد عنوانیوں میں ملوث ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ ہم سے زیادہ کوئی طاقت ور نہیں۔یہ بھلادیا جاتا ہے کہ مقابلہ آپس میں نہیں ہے، مقابلہ دوسری قوموں سے ہے۔ سامنا ہمسایہ ملکوں کا کرنا ہے اور یہ مقابلہ اکیلے اکیلے نہیں، سارے ادارے مل کر کریں گے، دوسرے بہت تیزی سے آگے نکل رہے ہیں۔ ہم آپس کے مقابلے اور دوسرے کو نیچا دکھانے کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے ہیں۔سارے ادارے اپنی اپنی حدود میں رہ کر طے شدہ اصولوں اور قوانین کے مطابق اپنے فرائض انجام دیں گے،تب ہی من حیث القوم ہم آگے بڑھ سکیں گے۔ ترقی یافتہ قوموں کی صف میں اپنا مقام بناسکیں گے،اگر کوئی ادارہ واقعی اپنا کام ذمہ داری سے انجام دے رہا ہے تو وہ کسی دوسرے پر یا قوم پر احسان نہیں کررہا ہے۔ اپنا فرض ادا کررہا ہے، اس میں بڑائی اور تعلّی کی کوئی گنجائش نہیں ہے،اس میں کوئی تنازع یا دو رائے نہیں ہوسکتی، ایک جمہوری ملک میں سب سے بالاتر پارلیمنٹ ہے،وہاں اس ملک کے اصل مالکوں یعنی عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوکر آنے والے بیٹھتے ہیں قانون بناتے ہیں، انہیں قانون سازی کا اختیار بھی ہے اور یہ جانچنے کا بھی کہ ان قوانین پر عمل درآمد ہورہا ہے یا نہیں۔جو ادارے یا افراد قانون کی تعمیل نہیں کرتے ہیں۔ ان کے خلاف کارروائی کا اختیار بھی پارلیمنٹ کو ہے،لیکن سب سے زیادہ ضروری تو یہ ہے کہ پارلیمان کے ارکان خود ملک کے قوانین کی پابندی کریں،صرف اس لیے قانون سے بالاتر نہیں ہوسکتے کہ وہ ووٹ لے کر یہاں پہنچے ہیں، ووٹ کو یقیناََ عزت ملنی چاہئے، لیکن سب سے زیادہ ووٹ کی عزت کا مظاہرہ ووٹ لینے والے کو کرنا چاہئے، وہ اس طرح کہ وہ ووٹ دینے والے کو الیکشن کے دن کے بعد بھول نہ جائیں، ووٹر کی عزت کریں گے تو ووٹ کو بھی عزت ملے گی،اداروں کو مقابلہ کرنا ہے تو انہیں اپنی کارکردگی کا مقابلہ ترقی یافتہ ملکوں کے متعلقہ اداروں سے کرنا چاہئے، پارلیمنٹ اپنے گریبا ن میں جھانکے برطانیہ،فران،ڈنمارک،اسرائیل،انڈیا کی پارلیمانوں کی کارگزاری دیکھے،عدلیہ، امریکہ،برطانیہ،انڈیا، فرانس، جرمنی کی عدالتوں کے فیصلے اور مقدمات کی سماعت کی مدتیں دیکھے۔ ذیلی عدلیہ جہاں عوام کی اکثریت مسائل سے دوچار ہوتی ہے وہ برطانیہ، فرانس، کینیڈا، امریکہ، بلجیم کی ذیلی عدالتوں کی کارروائیاں دیکھے۔ ہماری فوج امریکہ، برطانیہ، جرمنی، ترکی، کینیڈا کی فوج سے اپنا موازنہ کریں۔ اسی طرح میڈیا آپس میں مقابلے اور ایک دوسرے پر الزامات کی بجائے امریکہ، برطانیہ، جرمنی، ناروے کے میڈیا کو دیکھے کہ وہ عوام کے جاننے کے حق کو کس طرح ادا کررہے ہیں،70سال سے تالیاں بجوائی جارہی ہیں، نعرے لگوائے جارہے ہیں،اب وقت آگیا ہے کہ الگ الگ تالیاں بجوانے کی بجائے سب ادارے مل کر آگے قدم بڑھائیں کہ دُنیا عش عش کر اُٹھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr M Abdullah Tabasum

Read More Articles by Dr M Abdullah Tabasum: 63 Articles with 27637 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
19 Feb, 2018 Views: 402

Comments

آپ کی رائے