کاش میں وہ نیکی نہ کرسکا

(Qazi Israil, )

ہر انسان کی زندگی ایک مستقل کتاب ہے اسی وجہ سے اﷲ پاک نے ہر انسان کے ساتھ فرشتے مقرر کیے ہوئے ہیں جو ہر انسان کی دوکتابیں بناتے ہیں ۔

اچھائی والی اور برائی والی ۔ہرانسان کا مزاج مختلف ہے ۔دو بھائی بھی ہوں توان کے مزاج بھی جدا جدا ہوتے ہیں ۔حضرت آدم علیہ السلام کا ایک بیٹا قابیل حسد کی آگ میں جلا تو خود اپنے ہاتھوں سے اپنے بھائی حضرت ہابیل کو شہید کر دیا ۔دوبیماریاں انسان کے اندر بہت بری ہوتی ہیں

1۔تکبر ، 2۔حسد

ان دوبیماریوں کو خود بندہ ختم کرسکتاہے ورنہ دنیاوآخرت دونوں میں نقصان اٹھاتاہے میری زندگی میں ہمیشہ کوشش یہی رہی ہے کہ اﷲ کی مخلوق کی خدمت کی جائے اور بالخصوص سفید پوش لوگوں کی ۔سفید پوش لوگ وہ ہوتے ہیں جو ہر قسم کے لوگوں کے سامنے اپنی حالت بیان نہیں کر سکتے اور اگر کسی سے سوال کرنا ہی پڑے تو چاروں سمت نظر اٹھا کر دیکھتے ہیں کہ ہمیں کوئی دیکھ تو نہیں رہا۔ہماری بات کوئی سن تو نہیں رہا۔ایسے لوگوں کے احوال کو اﷲ ہی جانتا ہے یا اﷲ پاک کسی اﷲ والے کو بتا دیتے ہیں جو ایسے لوگوں کے درد ودکھ میں شریک ہوتے ہیں ۔ہر انسان کی زندگی میں عجیب وغریب واقعات آتے رہتے ہیں اور کچھ واقعات تو ایسے ہوتے جو زندگی میں ایک ہی مرتبہ پیش آتے ہیں مثلاً ایک شخص اپنی گاڑی پر جا رہاتھا راستے میں ایک شخص سڑک کے کنارے کھڑا یہ کہہ رہا تھا ،اﷲ والو! مجھے سخت تکلیف ہے یا مجھے ہسپتا ل لے جاؤ ،یا گاڑی کا کرایہ دے دو!

گاڑی والے نے کہا کہ اب لوگوں کی عادت ہو چکی ہے سوال کرنے کی یہ کہہ کر چلا گیا ،پانچ منٹ کے بعد جب یہ شخص واپس آیا تو وہ سوال کرنے والا شخص سڑک کے کنارے اﷲ کو پیار اہوچکا تھا ۔اب یہ منہ میں انگلیاں ڈال رہا تھا اور رو رہا تھا اور یہ آواز لگا رہا تھا ’’کاش میں یہ نیکی نہ کرسکا ‘‘اب یہ موقع پھر کب ملے گا۔۔۔۔

ایک دوسرا شخص اپنا حال یوں بیان کرتا ہے کہ میں رات کو سونا چاہتا تھالیٹا مگر نیند نہیں آرہی تھی کروٹیں بھی بدلتا رہا اچانک دل میں خیال آیا اٹھااور گاڑی کی چابی لی دروازہ کھولاگاڑی چلائی اور گھومنے کے لیے نکل پڑا۔ کچھ ہی دور گیاتو ایک مسجد کا مین دروازہ کھلا تھا دل میں خیال آیا کہ چلو نماز ہی پڑھ لوں ،اندر داخل ہواتو کیا دیکھتا ہے کہ ایک نوجوان آدمی نماز پڑھ رہاہے نماز مکمل کر کے سلام پھیرا تو اپنے رب سے رازونیاز کے ساتھ دعائیں مانگ رہاہے اور رخسار پہ آنسوؤں کی لڑی بنی ہوئی ہے یہ شخص اس کے قریب گیا اور سلام وکلام کے بعد اس سے کہا کہ تمہارا کیا راز ہے اور کیا مسئلہ ہے ؟کہ اس وقت جاگ رہے اور اس انداز میں دعائیں کر رہے ہو۔

اس نے کہا کہ صبح میری اہلیہ کا آپریشن ہے اور میرے پاس اس کے لیے کوئی رقم نہیں اور ڈاکٹروں نے دس ہزار کا خرچ بتایا ہے اس شخص نے دس ہزار روپیے اس ضرورت مند کو دیے تواس شخص نے اﷲ پاک کا شکر ادا کیا ۔رقم دینے والے نے اپنا ایڈریس کارڈ اسے دینا چاہا کہ جب بھی آپ کو رقم کی ضرورت ہومجھے بتانا میں آپ کی ضرورت پوری کرونگا اس نے کارڈ لینے سے انکار کر دیا اور کہا :میری ضرورتوں کو پوری کرنے والا میرے حال سے واقف ہے وہ وقت پر ضرورت پوری کر دیتاہے ۔

ہماری زندگی کے ہمسفر ،ہماری زندگی میں لاتعداد لوگ سفید پوش شریک سفر رہے ایک منظر قارئین کرام کی نظر کیا جارہاہے کہ ایک مرتبہ ایک بڑی عمر کی مائی صاحبہ تشریف لائیں جو اپنے بزرگوں کی طرف سے ایک وقت کروڑ پتی تھیں بلکہ حکمرانوں کی اولاد میں سے تھیں انہوں نے آکر اپنا حال سنایا پسِ منظر اور پیشِ منظر دیکھ کر کہامیری دو بچیوں کی شادی ہے اور دونوں کی ایک ہی دن رخصتی ہے اور میرے شوہر کے فوت ہوئے دس سال بیت چکے ہیں حالات بدل گئے پس اب غربت نے ہمارے گھر کو اپنا گھر بنالیا ہے اور ہم نے اپنا حال کسی کے سامنے بیان نہیں کیا اور بیان بھی نہیں کرنا چاہتے صرف جائے نمازاور دودوعدد بستر اور چند ضروری چیزیں لے کر رب کا حکم بجا لانا چاہتے ہیں ،ہم نے موصوفہ کے حالات جب سنے تو عرض کیا میں اپنے چند دوستوں سے گزارش کروں گا جو آپ کی قسمت میں ہوا وہ آپ کو پیش کردیا جائے گا ۔تین دن کے بعد جو کچھ ہم سے ہوسکا ان کے حوالے کر دیا ،مائی صاحبہ نے بہت دعاؤں سے نوازا اور اپنی بچیوں کو امن وامان اور دعاؤں کے ساتھ موصوفہ نے رخصت کر دیا۔

اﷲ پاک کا کروڑ مرتبہ شکر اداکرتے ہیں کہ ہم تو اس قابل نہیں لیکن ساتھیوں کے اعتماد اور تعاون کی وجہ سے یہ مرحلہ بھی طے ہوگیا ۔

پانچ سال کے بعد مائی صاحبہ پھر تشریف لائیں تو سخت بیمار تھیں اور فرما رہی تھیں ،سخت تکلیف ہے مگرکیاکروں کہ علاج کے لیے رقم ہی نہیں ہے اور نہ ہی گھر میں کھانے کے لیے کچھ ہے ۔ہم نے عرض کیا جو کچھ اﷲ نے چاہا آپ کے ساتھ تعاون کریں گے اور ساتھیوں سے بھی تعاون کی درخواست کریں گے ،اﷲ پاک نے احسان کیا موصوفہ کی ضرورت کے لیئے مہربانوں نے تعاون کردیا مگر جو موبائل نمبر مائی صاحبہ نے دیا وہ باربار ملانے کے باوجود نہ مل سکا ،عید کے دوسرے دن نمبر ملا تو جواب دیا گیا کہ موصوفہ تو وصال فرما چکی ہیں ہمیں بڑا افسوس ہوا کہ ’’کاش میں وہ نیکی جلدی نہ کرسکا‘‘ میں فوراًان کے کرائے کے مکان پر گیا ان کی جو امانت میرے پاس تھی میں نے ان کے ورثاء کے حوالے کی اور ساتھ ہی یہ کہا کہ اب موصوفہ تو نہیں ہیں آپ ہی وصول کریں اور وراثت میں تقسیم کریں انہوں نے کہا کہ مرحومہ پر جو قرض تھا وہ بھی اد اکرنا ہے میں نے کہا کہ بہت اچھا یہ سب سے بہتر ہے ۔رقم تو ان کے حوالے کر دی لیکن دل پر جو مائی صاحبہ کے وصال کی چوٹ لگی اور بروقت ان کے ساتھ تعاون نہ کرسکا ،کاش کہ میں بروقت یہ رقم ان کی خدمت میں پیش کرلیتا اور وہ اپنے لیے دوائی وغیرہ خرید لیتی ۔

قارئین کرام :اسی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ نیکی کرنے میں دیر نہیں کرنی چاہیے شاید آپ کو دوبارہ نیکی کا موقع نہ مل سکے ۔اﷲ پاک کا کروڑ مرتبہ شکر کہ لاتعداد سفید پوشوں کی ایک لائن ہمارے دل و دماغ میں نقش ہے جن کے ساتھ دوست واحباب کی مدد سے تعاون کیا جاتاہے ۔ہماری دعاہے کہ اﷲ پاک ہمارے ان دوستوں وخیرخواہوں کو یہ سلسلہ ہمیشہ جاری وساری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے اور دونوں جہانوں میں سرخروفرمائے (آمین بحرمۃ سیدالانبیاء والمرسلینﷺ)

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Qazi Israil

Read More Articles by Qazi Israil: 38 Articles with 19983 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
20 Feb, 2018 Views: 322

Comments

آپ کی رائے