ضرورت صرف رخ تبدیل کرنے کی!

(Ilyas Katachi, Karachi)

بسم اﷲ الرحمن الرحیم

پاکستان اور بھارت دونوں کرکٹ کے فائنل میں پہنچ چکے تھے،بے چینی سے میچ کا انتظار ہو رہا تھا ، تبصروں و تجزیوں کا بازار گرم تھا ، بڑی بڑی اسکرین لگائی جا رہی تھیں ، آتش بازی کا سامان تیار تھا ، مخصوص ٹی شرٹ کا کاروبار عروج پر تھا ، اپنے پسندیدہ کھلاریوں کی تعریفوں کے پل باندھے جا رہے تھے، ان کو مختلف القابات سے نواز جارہا تھا ،میچ والے دن روڈیں سنسان تھیں ، اسکولوں میں حاضری نہ ہونے کے برابر تھی ، دفتروں سے لوگ غائب تھے ، پوری قوم گویا کہ ایک ہی کام میں لگی ہوئی تھی ، میچ شروع ہوا ، خوب ہلا گلاہوا ، سنسنی خیز لمحات آئے،کئی دل کے مریضوں کو اسپتال لے جایا گیا ، لوگوں نے منتیں مانناشروع کر دیں ، کھیل کے آخری لمحات تک سنسنی برقرار رہی ۔۔۔ یک دم خاموشی جھا گئی ، چہرے مرجھا گئے ، ٹی وی اسکرین کو فورًا بند کر دیا گیا ، جن کھلایوں کو آسمان کی بلندی تک لے جایا گیا تھا یک دم زمین پر پٹک دیا ، الزامات لگنا شروع ہو گئے ، میچ فکسینگ کی باتیں ہونے لگیں ، سمجھ دار لوگوں نے کہا کہ کھیل کو کھیل کی حد تک رکھا جائے ، ہار جیت تو ہوتی رہتی ہے ، لیکن جذبات میں گڑی قوم کو کون سمجھائے ۔ اگر معاملہ اس کے برعکس ہوتا ،میچ جیت بھی جاتے تو وقتی خوشی کے ساتھ کیا حاصل ہوتا ؟جس کے لئے اس قدر وقت کو ضائع کر کے اپنا نقصان کیا ۔اس عظیم نقصان پر سنجیدہ طبقہ پریشان ہے ،اس قوم کو کیا ہو گیا ہے کہ ایک کھیل کی خاطر یہ اپنا ہی نقصان کر رہی ہے۔

لیکن اس کو ہم اگر ایک دوسرے زاویے سے دیکھیں تو اس میں بھی ایک مثبت پہلو نظر آتا ہے،جب بھارت سے زور آزمائی ہوتی ہے تو پوری قوم ایک ہو جاتی ہے ، اگر اسی جذبے کو اگر وسعت دی جائے اور صرف کرکٹ نہیں بلکہ ہر شعبے میں بھارت سے مقابلے کی ٹھان لی جائے تو ہر فرد جو جس شعبے میں ہے اپنا کردار ادا کر سکتا ہے ، کرکٹ میں تو گیارہ افراد کے علاوہ باقی سب تماشائی ہوتے ہیں ، لیکن اگر ہر شعبے والا یہ خیال کرے کہ مجھے اپنے شعبے میں بھارت کو ہرانا ہے۔۔۔تو یہ جذبہ ہم کو ترقی ڈلائے گا ، جسے بھارت نے اٹیم بم بنایا تو ہمارے سائنس دانوں نے بھی اٹیم بم بنا کر دنیا کو حیران کر دیا ، ایسا ہی جذبہ تعلیم کے میدان میں ہونا چاہئے کوئی یہ نہ کہے کہ بھارت میں تعلیم اچھی ہے ، تعلیم سے وابستہ افراد اس میچ میں بھارت کو شکست دینے کی کوشیش کریں۔ کچھ مخصوص علاج کے لئے ہمارے لوگوں کو بھارت کے ویزے کی بھیک مانگنی پڑتی ہے، علاج معالجہ سے منسلک افراد اس کو ایک چیلنج سمجھیں اور بھارت کی اجارہ داری کو ختم کریں۔ تجارت میں بھارت ہم سے آگے ہے، تاجر حضرات اپنی ذمہ داری کو محسوس کریں اپنا معیار ، مارکیٹینگ وغیرہ پر توجہ دے کر بھارت سے مقابلہ جیتنے کو کوشیش کریں ۔ ایک اور میچ بھی برآمدت بمقابلہ درآمدت جاری ہے ، اس میں بھی ہم کو زبردست خسارے کا سامنا ہے ، اس عظیم نقصان کو ختم کرنے کے لئے تاجر و صنعت کار کے ساتھ ساتھ ہر فرد اس مقابلے میں اپنے آپ کو شریک سمجھے درآمدی اشیاء کا استعمال کم سے کم ہو کہ

میچ جیتنے کے لئے مشقت تو برداشت کرنی ہی پڑتی ہے، کرکٹ میچ میں صرف تماشائی بن کر اربوں کا نقصان کر لیتے ہیں، اگر ملکی اشیاء استعمال کرنے میں ہر فرد اپنا کچھ حصہ ڈال دے تو درآمد کے اسکور کو آسانی کے ساتھ کم کیا جا سکتا ہے۔ برآمدت میں اضافے کے لئے بہترین حکمت عملی کے ساتھ تاجر حضرات خریداروں کا اعتماد حاصل کریں،ذاتی مفاد سے ہٹ کر اجتماعی مفاد کو مدنظر رکھیں، اپنے اندر جذبہ اور تجاویز کے لئے ہفت روزہ شریعہ اینڈ بزنس کا مطالعہ مدد گار ثابت ہو گا۔

ہماری قوم میں بڑی صلاحیت ہے ہم اس لائق ہیں کہ ورلڈ چیمپین بن سکیں، فی الحال بھارت کو ہی ٹارگیٹ کر کے اس سے ہر شعبے میں سبقت لے جانے کی کوشیش کریں، اور جس شعبے میں پیچھے رہ جائیں تو ایسا ہی افسوس اور صدمہ ہو جیسا کرکٹ میچ ہارنے کا ہوتا ہے ، اور جس شعبے میں آگے نکل جائیں تو انکی حوصلہ افزائی ایسی ہی ہو جیسی کہ جیتنے والی ٹیم کی ہم کرتے ہیں، ضرورت صرف رخ تبدیل کرنے کی ہے یہ ہی جذبہ ہمیں مثالی قوم بنا دے گا۔۔۔ ان شاء اﷲ تعالی

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ilyas Katachi

Read More Articles by Ilyas Katachi: 39 Articles with 22008 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Feb, 2018 Views: 715

Comments

آپ کی رائے
A wonderful article (!ضرورت صرف رخ تبدیل کرنے کی) by Ilyas from Karachi suggesting a competitive spirit to be displayed by every Pakistani in various. I am sure if we act upon your advice, we, as a nation, can do wonders. Many of the problems affecting our development can be overcome by the antidome recommended by Mr. Ilyas. Thanks.
By: sarwar, lahore on Mar, 24 2018
Reply Reply
0 Like
Nice
By: Jawed, Karachi on Feb, 26 2018
Reply Reply
0 Like