شطرنج ایک قدیم اور پرانا کھیل ہے۔

(Sadia Khan, Lahore)

شطرنج ایک قدیم اور پرانا کھیل ہے۔ شطرنج کو بادشاہوں کا کھیل بھی کہاجاتا ہے۔ اس کو چت رنگا بھی کہا جاتا ہے۔ جوکہ بعد میں تبدیل ہو کر شطرنج بن گیا تھا۔ شروع میں یہ کھیل راجا مہاراجہ اور شہزادے کھیلا کرتے تھے۔ عام لوگوں میں یہ کھیل مقبول نہیں تھا۔ اور لوگ اس کے بارے میں کم ہی جانتے تھے۔ آج ہم آپ کو اس کھیل کی تاریخ اور یہ کھیل سب سے پہلے کہاں پہ کھیلا گیا ۔ اس کے بارے میں بتائیں گے اور یہ بھی بتائیں گے کس طرح اس کھیل کے ذریعے تمام ملکوں سے غلہ کا صفایا گیا گیا۔ شطرنج کا کھیل چھٹی صدی عیسوی میں برصغیر میں ایجاد ہوا ۔ برصغیر میں 13سو سال پہلے گپتا خاندان کی حکومت قائم تھی اور اس وقت کا بادشاہ کھیل کھیلنے میں بہت زیادہ دلچسپی رکھتا تھا۔ اس بادشاہ نے اپنی ریاست میں اعلان کروایا کہ وہ پرانے کھیلوں سے بہت تنگ آچکا ہے ۔ اب کوئی بھی جو نیا کھیل متعارف کروائے گا اس کو منہ مانگا انعام دیا جائے گا۔ بہت سے لوگوں نے اپنے اپنے کھیل متعارف کروائے لیکن بادشاہ اُن تمام کھیلوں سے مطمئن نہ ہوسکا تب پڑوسی ملک سے ایک ریاضی دان جس کا سیسا تھا اس نے شطرنج کا کھیل متعارف کروایا۔ اور تب وہ شطرنج لے کر بادشاہ کے پاس حاضر ہوا اور اس نے بادشاہ کو شطرنج کے بارے میں بتایا شطرنج کے بارے میں جان کر بادشاہ بہت خوش ہوا اور تب بادشاہ نے سیا سے پوچھا بتاؤ کیا مانگتے ہو سیانے کچھ دیر سوچنے کے بعد کہا حضور چاول کے چند دانے بادشاہ نے کہا کیا مطلب چاؤل کے چند دانے مانگو کیا مانگنا ہے۔ سیسانے کہا آپ میرے شطرنج کے فارمولے کے مطابق تمام خانے چاؤلوں کے ساتھ بھر دیں ۔ بادشاہ نے پوچھا کون سا فارمولا ؟ سیسانے کہا پہلے دن آپ مجھے شطرنج کے پہلے خانے میں چاؤل کا ایک دانہ رکھ دیں اس سے اگلے دن آپ دوسرے خانے میں چاؤل کے دودانے یعنی پہلے دن سے دوگنا چاؤل رکھ دے دیں۔ اور اسی طرح اس سے اگلے دن تیسرے خانے میں دوسرے خانے سے دوگنا چاؤل رکھ کر دے دیں ۔ اور اس طرح آپ روز پہلے خانے سے دوگنا کرتے جائیں ۔ جب تک 64خانے پورے نہ ہوجا ئیں بادشاہ نے سیسا کی یہ بات سن کر زور دار قہقا لگایا اور سیا کے بیوقوفوں والے مطالبے کو قبول کر لیا اس طرح ایک ایسی کھیل شروع ہوئی جس سے مائیکرو سوفٹ جیسی کمپنیوں نے جنم لیا۔ بظاہر یہ دیکھنے میں آسان سا کام نظر آتا ہے لیکن یہ کام سب سے زیادہ پیچیدہ ہے، آج ساڑھے 3ہزار سال گزرجانے کے بعد بھی شطرنج کے اس 64خانوں کو چاؤلوں سے بھرنا ممکن نہیں ہے۔ پہلے دن بادشاہ نے شطرنج کے پہلے خانے میں چاؤل کا ایک دانہ رکھا اور اُٹھا کر سیا کو دے دیا۔ اور سیساچلا گیااور پھر اسی طرح دوسرے دن چاؤل کے دو دانیسیسا کو دے دئیے۔ اور اسی طرح روزبہ روز یہ تعداد بڑھتی گئی اور اس طرح شطرنج کی پہلی قطار میں 128چاؤلوں کے دانے ہوگئے اور آہستہ آہستہ ان کی تعداد روز بہ روز بھرنے لگی اور اس وقت بادشاہ کو اندازہ ہوگیا کہ وہ کس مشکل میں پھنس چکا ہے۔ بادشاہ اور اس کے سارے وزیر روز بیٹھ کر چاؤلوں کے دانے گنتے رہتے تھے۔ شطرنج کے تیسری قطار پر پہنچ کر۔ چاؤلوں کی تعداد بڑھنے کی ساتھ بادشاہ کو اپنے ساتھ اور لوگ درکار ہونے لگے۔ اور سیساکو چاؤل اُٹھانے کے لئے لوگ درکار تھے۔ اور اسی طرح چاؤل دیتے دیتے ملک سے چاؤل ختم ہونے لگے اور تب بادشاہ نے دوسرے ملکوں سے ریاضی دان بلوا کر پوچھا کے شطرنج کے 64خانوں کے لئے کتنے چاؤل درکار ہوں گے اور ان کے لئے کتنے دن چاہئے ہوں گے۔

بادشاہ کے ریاضی دان کافی دنوں تک بیٹھے رہے ،دن اور چاؤلوں کی تعداد کے بارے میں حساب نہیں کرسکیں ۔ یہ اندازہ ساڑھے تیں سال پہلے Billgates نے لگایا تھا۔ Billgates کاخیال ہے کہ اگر ہم 1کے ساتھ 19صفر لگائیں تو شطرنج کے 64خانوں میں کتنے چاؤل آئیں گے اس کا اندازہ لگاسکیں گے۔ Billgates کا کہنا ہے کہ اگر ہم ایک بوری میں ایک ارب چاؤل بھر دیں تو ہمیں چاؤل پورے کرنے کے لئے 118ارب بوریاں درکار ہوں گی۔ چاؤلوں کی اتنی تعداد کو گننے اور چاؤلوں کو شطرنج پر رکھنے اور اٹھانے کے لئے ڈیڑھ ارب سال چاہئے ہوں گے اگر آپ بھی اس کی تعداد کے بارے میں حساب لگانا چاہئے گے تو عام کیلولیٹر سے حساب نہیں لگا سکیں گے اس کے لئے آپ کو کمپیوٹر کا استعمال کرنا پڑے گا۔ بادشاہ نے شطرنج کی چوتھی قطار میں پہنچ کر ہی سیسا کو گرفتار کروادیا تھا کیونکہ چوتھی قطار پر پہنچ کر ملک سے چاؤل ختم ہوگئے تھے۔اور لوگوں کے پاس کھانے کے لئے کچھ بھی نہیں بچا تھا۔ اور بادشاہ نے غصے میں آکر شطرنج بنانے والے کا سر قلم کروادیا تھا۔ اس طرح شطرنج کو بنانے والا تو مار گیا لیکن شطرنج ابھی بھی باقی ہے۔ اسی طرح شطرنج برصغیر سے ایران ، بغداد ، سپین ، یورپ چلی گئی اور اب یہ کھیل دنیا بھر میں کھیلی جاتی ہے۔ شطرنج کے بارے میں کہا جاتا ہے یہ کھیل سیاست جیسی ہے جس میں پیادے سے لے کر بادشاہ تک تمام کردار موجود ہوتے ہیں ۔ لیکن اس میں جج موجود نہیں ہوتا ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sadia Khan

Read More Articles by Sadia Khan: 2 Articles with 1121 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 Feb, 2018 Views: 663

Comments

آپ کی رائے