حوا کی بیٹی بنی میں آدم کو وجود میں لانے کے لئے!

(Tasmeena Idrees, Karachi)

دنیا بھر میں 8 مارچ کو عالمی یوم خواتین منایا جاتا ہے۔ اس موقعے پر عالمی سطح پر مختلف تنظیموں ، اداروں اور این جی اوز کے ذریعے تقاریب کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ جن میں رنگ و نسل اور مذہب و ثقافت کی تفریق کے بغیر خواتین شرکت کرتی ہیں۔

خواتین کے عالمی دن کا تاریخی طور پر جائزہ لیا جائے تو اسکا آغاز جنوبی امریکہ اور یورپ میں مزدور تحریک سے ہوا۔ جب 1908 میں کپڑے کی فیکٹری میں کام کرنے والی خواتین نے انکا حق نہ ملنے پر فیکٹری مالکان کے خلاف آواز اٹھائی، جسکے نتیجے میں 28 فروری 1909 کو باقاعدہ طور پر خواتین کا دن منایا جانے لگا۔ بعد ازاں اسے 8 مارچ میں بدل دیا گیا۔ گویا 8 مارچ کا دن خواتین کے حقوق کا تعین کرتا ہے اور اس دن انکے حقوق کے لۓ بڑے بڑے دعوے کئے جاتے ہیں۔

زمانۂ اسلام سے قبل عورتوں کے حقوق پر نظر ڈالیں تو زمانۂ جاھلیت میں صنف نازک کو مساوی حقوق تو دور کی بات، وہ عورت کا وجود ہی برداشت نہیں کرتے تھے اور بیٹیوں کو پیدا ہوتے ہی زمین میں زندہ گاڑ دیا جاتا۔ جب اسلام کی صبح نور طلوع ہوئی ہر طرف کفر اور ظلم و ستم کا اندھیرا بھی ختم ہو گیا اور عورتوں کو اسلام کی برکت سے نئی پہچان ملی کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف عورتوں کے مساوی حقوق مقرر کئے بلکہ انکو عزت و تکریم بخش کر ساری دنیا کو یہ بتا دیا کہ صنف نازک کی بے حرمتی نہ کی جائے۔ کیونکہ عورت کے سارے روپ مقدس ہیں۔ جب وہ بیٹی ہوتی ہے تو اپنے والدین کے لئے جنت کے دروازے کھول دیتی ہے۔ جب وہ بہن ہوتی ہے تو اپنے بھائی کا مان ہوتی ہے۔ جب بیوی بنتی ہے تو شوہر کا آدھا دین مکمل کر دیتی ہے۔ وہ جسکے بارے میں اقبال نے کیا خوب کہا!
'وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ'

جب کائنات کی تصویر میں سارے رنگ وجود زن سے جلوہ گر ہیں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آج جدید ٹیکنالوجی کے زمانے میں وجود زن کو اسکے تمام حقوق حاصل ہیں یا نہیں؟؟

بنیادی طور پر ہمارا یہ معاشرہ مرد کا ہے اگرچہ اونچی سطح پر عورت کو اسکے سارے حقوق حاصل ہیں لیکن جب نچلی سطح پر دیکھیں تو یمارا ملک جسے اسلامی جمہوریہ پاکستان کہا جاتا ہے ، جو ملک اسلام کے نام پر بنا اس ملک میں بھی عورت کو پیر کی جوتی سمجھا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں اکیسویں صدی میں بھی مختلف رسوم و رواج کے نام پر خواتین کے استحصال کا سلسلہ جاری ہے۔ کہیں اپنی پسند کا اظہار کرنے پر غیرت کے نام پر اس کا قتل کر دیا جاتا ہے۔ کہیں عورت سے چھٹکارہ پانے کے لئے چولہا پھٹ جاتا ہے تو کہیں بے خوف و خطر تیزاب پھینک کر اسکا چہرہ بگاڑ دیا جاتا ہے اور ظلم لی حد تو یہ ہے کہ یہ ظالم افراد سینہ چوڑا کر کے پھرتے ہیں انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔

اندرون سندھ میں کاروکاری کے نام پر خواتین کو موت کی وادیوں میں دھکیل دیا جاتا ہے تو پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں ونی اور سوارہ جیسی بے رحم رسومات کے تحت کم عمر لڑکیوں کے حقوق پامال کئے جاتے ہیں۔

وہ حوا کی بیٹی جو آدم کو وجود میں لانے کا سبب ہے دیہات میں اس پر تعلیم کے دروازے بند ہیں۔ جبکہ جب ایک لڑکی تعلیم حاصل کرتی ہے تو وہ اپنی پوری نسل کو تعلیم یافتہ بنا دیتی ہے۔ لیکن ہمارے ہاں کہیں اسکول و کالج نہیں تو کہیں والدین غیرت کے نام پر بچیوں کو گھر سے نہی نکالتے جبکہ تعلیم انکا بنیادی حق ہے، پھر بھی اس سے منہ موڑ کر کم عمری میں لڑکیوں کی شادی کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔

ترقی پذیر ممالک کے ایک تجزیے کے مطابق، مردوں کے زیر اثر معاشرے میں ایسی خواتین جو قدرتی طور پر بانجھ پن کی بیماری میں مبتلا ہوتی ہیں سب سے زیادہ استحصال کا شکار ہوتی ہیں۔ اس صورتحال کا سب سے افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ ان معاملات میں دخل اندازی کرنا اور اپنی رائے کا اظہار کرنا خاندان تو خاندان سارا معاشرہ اپنا بنیادی حق سمجھتا ہے۔ اولاد نہ ہونے کی وجہ چاہے مرد ہی کیوں نہ ہو پھر بھی عورت کو ہی ذمےدار ٹھہرایا جاتا ہے۔

مرد کی خواہش یہی ہوتی ہے کہ عورت اس سے ایک قدم پیچھے ہی رہے۔ یہ ہمارے معاشرے کا مائنڈ سیٹ ہے، جسک ابھی تک حقوق نسواں کی تحریک تبدیل نہ کر سکی۔ کیونکہ ہمارے معاشرے میں ایسے لوگ ہیں جو صنفی تفریق کو بڑھاتے ہیں اگرچہ عورت کی آزادی اسکی حدود کے اندر ہی اچھی لگتی ہے لیکن اس تفریق کی بدولت ہماری خواتین آج بھی اپنے حقوق حاصل کرنے سے ناقاصر ہیں۔ اللہ کے حبیب نے تو عورتوں کو جائیداد میں برابر کا حصہ دار بنایا لیکن آج ہم شریعت کو اپنے مطلب کے مقاصد کے لۓ تو استعمال کر لیتے ہیں لیکن یہ باتیں ہمیں نظر نہیں آتی۔

حقوق نسواں کی جدوجہد ایک مستقل جنگ ہے۔ جس میں پاکستان کی کئی قابل فخر خواتین اپنا کردار بخوبی ادا کر رہی ہیں۔ ہم ابھی منزل پر نہیں پہنچے ہمارا سفر ابھی جاری ہے اور یہ سفر ہم جب تک جاری رکھیں گے جب تک معاشرے میں خواتین کے بارے میں پائی جانے والی امتیازی سوچ کا خاتمہ نہ ہو جائے۔

ہماری خواتین کو چاہئیے کہ وہ اپنی آزادی کا درست استعمال کریں۔ اپنے حقوق کسی کو سلب نہ کرنے دیں۔ یہ عورت ہی تو ہے جو ظلم کے سامنے سینہ سپر ہوتی ہے۔ جرأت اظہار کرتی ہے۔ جہاں مرد دم سادھ لیتے ہیں وہاں خواتین آواز اٹھاتی ہیں۔
~میں سرفراز ہوں تاریخ کے کرداروں میں
میں رہی شعلہ نوا، شام کے درباروں میں
قدر یوسف کی زمانے کو بتائ میں نے
تم تو بیچ آئے اسے مصر کے بازاروں میں!!

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tasmeena Idrees

Read More Articles by Tasmeena Idrees: 3 Articles with 1989 views »
Humanitarian.. View More
07 Mar, 2018 Views: 589

Comments

آپ کی رائے
خواتین کے حقوق کے حوالے سے ایک جاندار تحریر ہے تمام ہی مسائل کا احاطہ اچھے انداز دے کیا گیا ہے اللہ کرے زور قلم اور زیادہ
By: Prof. Dr Rais Ahmed Samdani, Karachi on Mar, 13 2018
Reply Reply
2 Like