مسلمان اپنی پہچان سے نہ صرف دور جا چکے ہیں بلکہ اپنی شناخت بھی کھو دی ہے

(Ata Ur Rehman Noori, India)

انسانی دنیا میں ایک مسلمان کو پہچاننا مشکل کام ہو گیا ہے ۔آخر وہ کون سے اوصاف وخصائص ہیں جن کی بنیاد پر بے ہنگم بھیڑ میں بھی مسلمان اپنی انفرادی وممتاز شان وشوکت کے ساتھ پہچانا جا سکے؟سچ تو یہ ہے کہ آج کے ماحول میں مسلمان کی پہچان مشکل سے مشکل ترین ہوتی جا رہی ہے۔اسلام نے جو احکام وضوابط بیان کیے تھے ہم اس سے کوسوں دور جا چکے ہیں اور ہمیں اس کا احساس تک نہیں۔اگر مجمع کثیر میں یہ سوال قائم کیا جائے کہ مسلمان ہونے کی کیا پہچان ہے؟مسلم شخص کی شناخت کیاہے ؟تو شاید یہی جواب ملے گا کہ مختلف رسومات کا پابند،مخصوص لباس پہنے ہوئے،داڑھی رکھے ہوئے اور ناف بریدہ شخص کو مسلمان کہاجاتا ہے ۔خود مسلمانوں کی یہی سوچ بن چکی ہے کہ اسلام نے جو اعمال ومعمولات عطا کیے ہیں صرف ان پر کاربند ہوجانا ہی مسلمان ہونے کے لیے کافی ہے۔شاید اسی لیے شاعر مشرق ڈاکٹرا قبال علیہ الرحمہ نے کہا تھا ؂
یہ شہادت گہ الفت میں قدم رکھنا ہے
لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا

اوپر بیان کی ہوئی شناخت بھی کچھ حد تک ہمارے لیے تسلی بخش تھی مگر اب کے مسلمان رسومات کی پابندی ،اسلامی لباس، داڑھی اور روز مرہ کی سنتوں کو بھی ترک کر چکے ہیں۔ہم اپنی پہچان سے نہ صرف دور جا چکے ہیں بلکہ ہم نے اپنی شناخت کھو دی ہے ۔باطنی اور اخلاقی اعتبار سے تو ہم پہلے ہی پست ہو چکے تھے اب ظاہری اعتبار سے بھی بے چہرہ بن گئے ہیں۔گلیوں اور شاہراہوں پر اَتی کرمن کرنا،پان تمباکو اور گٹکا کھا کر سرِراہ تھوکنا،اپنے دروازے کا کوڑا کرکٹ پڑوس میں ڈھکیل دینا،جھوٹ بولنا،کاروبار میں مکروفریب سے کام لینا،وعدہ خلافی کرنا،اپنے بہن بھائیوں کی ترقی دیکھ کر حسد کرنا،سنیما گھروں میں قطاریں لگانا،،لڑائی جھگڑا مارپیٹ کرنا،مسلم بھائیوں پر ظلم ہوتا دیکھ کر بھی خاموش تماشائی بنے رہنا،سڑکوں پر گاڑیاں چلاتے وقت مسافروں کو تکلیف پہنچانا،حقو ق اﷲ اور حقوق العباد سے انحراف کرنا وغیرہ۔اور بھی ایسی کئی رذیل خصلتیں اور حرکتیں ہیں جو مسلمانوں کی شناخت بن چکی ہیں۔

کچھ حساس طبیعت کے افراد اسی پر خوش ہے کہ پچاس فی صد مسلمان فرائض وواجبات کے پابند ہیں،ہماری اکثریت نماز جمعہ کی پابند ہے،عیدالفطرپر کچھ لوگ اسلامی لباس زیب تن کر لیتے ہیں اور عیدالالضحیٰ پر بہت سارے لوگ سنت ابراہیمی ادا کر لیتے ہیں۔تاریخی حقائق وقرائن کی روشنی میں دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ مذکورہ چیزیں مسلمانوں کے اوصاف تو ہو سکتے ہیں مگر مسلمان کی پہچان ہر گز نہیں۔مسلمان کسی سے نہیں ڈرتا سوائے اﷲ کے،آج مسلمان خشیت الٰہی سے پیدل ہوکر ہر کسی سے ڈرے اور سہمے ہوئے ہیں،مسلمان نرم دل ہوتا ہے ،آج ہمارے دل پتھر سے زیادہ سخت ہو چکے ہیں،مسلمان متحد ہوتا ہے آج ہم ٹکڑوں میں تقسیم ہو چکے ہیں،مستشرقین نے مسلمان کی شناخت یہ بتائی ہے کہ جس راہ سے مسلم کا گذر ہو جائے اس شاہراہ پر تکلیف دہ چیز ہو ہی نہیں سکتی مگر آج ہمارا سراپا لوگوں کے لیے تکلیف دہ بنا ہوا ہے۔مسلم وہ ہوتا ہے جو اپنے دشمن کو کمزوری اور بیماری میں دیکھ کربڑھ کراس کی مدد کرتا ہے ،اس کابوجھ اپنی پیٹھ پر لاد کراس کے گھر تک پہنچاتا ہے مگر آج کے نوجوان اپنے ہی ماں باپ کی خدمت سے کوسوں دور ہیں،مسلم وہ ہوتا ہے جو پڑوسیوں کی جانب سے دی جانے والی قصداً تکلیف پر بھی صبر کرتا ہے ،مسلم وہ ہے جس کے ہاتھ،زبان اور شر سے دوسرا محفوظ رہے،مسلم وہ ہوتا ہے جو رات کی تاریکی میں کسی مکان سے اندھیرے کے سبب بچے کے رونے کی صدا سُن کر اپنے گھر کا چراغ اسے سونپ آتا ہے تاکہ بچہ روشنی دیکھ کر خاموش ہو جائے،مسلمانوں کی شناخت ان کی پاکیزہ نگاہیں تھیں،بیت المقدس کی فتح پر یہودیوں نے اپنی نوجوان حسین لڑکیوں کو برہنہ صف آرا کھڑا کر دیا تھا ،اﷲ پاک انوار کی رحمتیں نازل کرے ان مجاہدین کی تربتوں پرجو نظریں جھکائیں گزر گئے اور مسجد اقصیٰ میں سجدۂ شکر ادا کیا،آج غیرقوم تو دور مسلم بہن بیٹیوں کی عصمت مسلم محلوں میں محفوظ نہیں ہے۔(اﷲ اکبر) جب تک ہم سچے مسلمان تھے ہمارے ایک خط پر دریائے نیل سے سَونتے پھوٹتے تھے،لق ودَق صحراؤں کی وسیع وعریض وادیاں سمٹ جاتی تھیں،بلند وبالا پہاڑ سرنگوں ہوجاتے،دریا راستہ فراہم کرتے ، شیر راستہ بتاتے اور پیر میں چُبھے کاٹنے کو دور کرنے کے لیے آسمان سے فرشتہ تشریف لاتا۔مگر جب سے ہم نے اپنی مرضی کا اسلام جینا شروع کر دیا ہمارے سروں کا تعمیر ہوا مینار بلند سے بلند تر ہوتا جا رہا ہے،ہمیں نہ صرف خاک وخون میں نہلایا جا رہا ہے بلکہ ہم ہی ظالم بھی ہے اور ہم ہی دہشت گرد بھی۔اﷲ کی وسیع وعریض سرزمین جیسے مسلمانوں پر تنگ ہو گئی ہے اور ہم اس بات پر خوش ہے کہ ہمارے جلسوں،اجتماعوں اور جلوسوں میں لاکھوں کی تعداد میں مسلمان جمع ہوجاتے ہیں،ریلیوں میں بھی ہزاروں کا ہجوم ہوتا ہے جس کے سربراہان میمورنڈم دے کر،فوٹو کھچوا کر، اخبارات میں نیوز شائع کرواکر اور سوشل میڈیا پر سستی شہرت حاصل کرکے ریلی کا مقصد ہی بھول جاتے ہیں،آج دین داری کی بھی بزنس کی طرح تشہیر کی جارہی ہے ،جب کہ ہماری شناخت یہ تھی کہ ہم ایک ہاتھ سے خیرات دیتے تو دوسرے کو خبر نہیں ہوتی۔مگر اب ہم اخلاقیات سے دور ہوکر ظاہرداری کی طرف تیزی سے بڑھ رہے ہیں جس کے سبب حلال وحرام کی تمیز،اچھے اور بُرے میں امتیاز اور سچ وجھوٹ کے درمیان حائل پردہ چاک ہوچکا ہے اور ہماری شناخت انتہائی مخدوش ہوچکی ہے ۔ذرا ٹھنڈے دل سے سوچئے تو سہی آخر ہماری شناخت ہے کیا ؟ہماری اصل پہچان کیا ہے ؟آخرہم کب تک خوش ہوتے رہیں گے اخلاق واوصاف سے عاری بھیڑ کو جمع کر کے ؟کیا مخصو ص لباس پہن کر ،اسلامی نام اور داڑھی رکھ کر حرام خوری کرنا،قتل و غارت گری کا بازار گرم کرنا،جھوٹ فساد بولنا،اتحاد پارہ پارہ کرنااور اسلام کو بدنام کرنا جائز ہے ؟

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ataurrahman Noori

Read More Articles by Ataurrahman Noori: 535 Articles with 409604 views »
M.A.,B.Ed.,MH-SET,Journalist & Pharmacist .. View More
14 Mar, 2018 Views: 585

Comments

آپ کی رائے