بچے ہمارے عہد کے

(Sidra Subhan, )

 چائینئز بچے انتہائی خوبصورت ہوتے ہیں، اتنے پیارے کہ اگر کسی کو بچے پسند نہ بھی ہوں تو بھی بے اختیاری میں ان پر حد درجہ پیار آجاتا ہے۔ لیکن چائنہ میں اس بات کو انتہائی ناگوار تصور کیا جاتا ہے کہ کوئی بچے کو پیار کرے، اسے ہاتھ لگائے یا اسے کوئی چیز کھلائے۔میرا اکثر سکول جاتے ہوئے ان معصوم پھولوں کے نرم گالوں کو چھونے کو دل کرتا ہے جیسے ہم پاکستا ن میں اپنے بچوں کیساتھ کرتے ہیں، لیکن پھر یہاں کا معاشرتی لحاظ آڑے آجاتا ہے اور کبھی لحاظ ختم کرنے کو دل بھی کرے تو اکثر ولدین کے سنجیدہ تاثرات مجھے روک دیتے ہیں یا پھر والدین پاس نہ بھی ہوں تو بچے خود اس قدر تیز ہیں آپکو ـ Hello سے آگے کچھ کہنے کا موقع ہی نہیں دیتے، یا تو خود بھاگ جاتے ہیں اور یا آپکو بھگا دیتے ہیں۔

اسکی دو وجوہات ہیں، ایک تو یہ کہ انکی غھٹی میں لحاظ ، شرم اور محبت جیسی اجزاء نہیں ڈالی جاتیں، یہ من کے اس قدر سچے ہوتے ہیں کہ آپکو کہیں بھی، کبھی بھی، کچھ بھی سنا دیتے ہیں، انکی تربیت ہی ایسی کی جاتی ہے کہ یہ زیادہ دیر تک اپنے ماں باپ تک کو برداشت نہیں کر سکتے۔کسی چچا، ماما اور رشتہدار کو تو پھرخاطر میں ہی نہیں لاتے۔ لوگ انکو بد تمیز بھی کہتے ہیں اور دنیا کے شرارتی ترین بچے بھی یہی ہوتے ہیں۔ جبکہ ہمارے ملک میں معاملہ اسکے برعکس ہے۔ وہاں بچوں کو پڑھائی سے زیادہ تمیز سکھائی جاتی ہے۔ بچہ کتنا ہی ٹیلینٹڈ کیوں نہ ہو، لیکن اگر وہ بدزبان اور بد تمیز ہے تو کوئی اسکو منہ نہیں لگاتا۔ جس وجہ سے اسکی شخصیت کے دو روپ سامنے آتے ہیں ایک میں شرافت دکھاتا ہے جبکہ دوسری میں اسکا تخرییبی پہلو نمایاں ہوتا ہے۔ وہ ہمیشہ دوسرے پہلو کو چھپاتا پھرتا ہے اور جہاں موقع ملے وہاں اپنی تخریب کاریوں سے خود کو اور دوسروں کو تکلیف پہنچاتا رہتا ہے۔میں جب شروع میں آئی تھی تو مجھے یہ بچے کافی بد اخلاق لگے تھے لیکن ابھی سوچتی ہوں کہ شاید یہی وہ طریقہ ہے جس سے ہم اپنے بچوں کی بہتر تربیت کر سکتے ہیں اور انہیں اپنے مسائل خود حل کرنے کا موقعہ دے سکتے ہیں۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ یہ بچے ٹیکنالوجی میں بہت آگے ہیں۔ یہ تمام بچے ایک خاص قسم کی گھڑی پہنتے ہیں جس میں سم بھی ڈالی جاتی ہے۔ سکول سے چھٹی کے بعد تمام بچے اپنی گھڑی نماموبائیل سے اپنے والدین کو کال کرتے یا انکی کال کا جواب دیتے ہیں اسطرح وہ جہاں کہیں بھی ہوں والدین سے رابطے میں رہتے ہیں۔ ایسی گھڑی نما موبائیلز میں نے پاکستان میں بھی کافی دیکھے لیکن مجھے لگا یہ صرف انٹلی جنس والوں کے کام ہی آسکتے ہیں۔ مجھے یاد ہے جب میرے چھوٹے بھائی نے ابو سے ضد کر کے یہ گھڑی لی تھی اور آکہ مجھے دکھائی تو میں نے اس پر غصہ بھی کیا تھا کہ آپکو اسکی کیا ضرورت ، لیکن یہاں آکر جب اسکا اصل مصرف سمجھ آیا تو لگا ان سب سے زیادہ ضرورت تو پاکستان میں ہے۔ اگر ہمارے بھی سکول یہی گھڑیاں پہن کر جاتے تو والدین کو لمحہ لمحہ خبر رہتی لیکن ہمارے والدین کو تو پتہ بھی نہیں ہوتا کہ انکے بچے کہاں ہیں اور سکول یا کھیل کے نا م پر کیا کر رہے ہیں۔انہییں انٹرنیٹ، اور دوسری تمام ایپلیکیشنز مہیا کر دی جاتی ہیں۔ یہ موویز، گانے اور کارٹونز سب دیکھنے میں آزاد ہوتے ہیں۔ ہم ایک فیملی کے لنچ پر گئے، انکی چار سالہ بیٹی اس مہارت سے پیانو بجا رہی تھی اور اتنی رفتار سے کمپیوٹر پر ٹائئپنگ کر رہی تھی کہ میں حیران رہ گئی۔ اتنے سال ٹائیپنگ کے باوجود میری اتنی سپیڈ نہ بن سکی جتنی اس بچی کی تھی۔ اسکی ماں پرافیسر تھیں اور وہ بتا رہی تھیں کہ جب مجھے کوئی ٹائیپنگ کروانی ہو یا ڈیزائینگ کرنی ہو تو اپنی چار سالہ بیٹی سے کرواتی ہوں۔ اور ہماری طرف بچے کمیوٹر کو ہاتھ نہیں لگا سکتے ، دسویں جماعت کا بچہ بھی اگر کمیوٹر کی فرمائش کرتا ہے تو ہمیں لگتا ہے کہ پڑھائی کے نام نجانے کیا کر بیٹھے ۔ اسکے ساتھ ہی ساتھ وہ مہمانوں کے سامنے اس قدر اعتماد اور جرات سے شرارتیں کر رہی تھی اور والدین دیکھ کر انجوائے کر رہے تھے جبکہ ہم پاکستانی بچوں کو سب سے زیادہ مہمانوں کے سامنے ہی ڈانٹتے ہیں جس سے انکا حوصلہ اوراعتماد ٹوٹ کر رہ جاتا ہے۔ ۔ ہمارا یہی عدم اعتماد انہیں ہم سے دور اور گمراہ کرتا جاتا ہے۔ وہ تمام درندے جنہوں نے معصوم بچوں کا بچپن چھین لیا، یقیننا انکا بچپن بھی محرومیوں اور بد اعتمادیوں کے سائے تلے گزرا ہو گا جنکا بدلہ وہ ان بچوں کی صورت میں معاشرے سے لے رہے ہیں۔

پاکستان وہ واحد ملک نہیں جہاں ہمیں اخلاق اور انسانیت سے گرے ہوئے سانحات سننے کو ملتے ہیں بلکہ چائینہ، امریکہ ار یورپ میں بھی یہ بیماری عام ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ انہوں نے اسے بیماری سمجھ کر اپنے معاشرے کی حفاظت کیلیئے عملی اقدامات کیے ہیں جبکہ پاکستان میں اسے بیماری تسلیم ہی نہیں کیا گیا، اور جس بات کو تسلیم ہی نہ کیا جائے اسکا تدارک بھلا کیسے ہو گا اسیلیئے نہ تو ہمارے ملک میں میں کوئی سوشل سائنٹسٹ ہے جو کہ اس بات پر ریسرچ کرے کہ آخر بد فعلی کے بعد مارنے کی کیا تک بنتی ہے؟ کیا پیڈوفایل اور زناکارمیں کوئی فرق ہے اگر ہے تو اسے مٹانے کے لیے معاشر اور حکومت کچھ کر سکتی ہے؟ خداراہ! اس معاملے کو ایک جرم نہیں بلکہ ایک بیماری کی صورت میں لیں، کیا زینب کے مجرم کو سر عام پھانسی دینے سے مزید ایسے واقعات دم توڑ سکتے ہیں؟ اور کیا اس تمام معاملے میں سارا قصور ریاست اور عدلیہ کا ہے؟ کیا والدین بذات خود اس میں شریک نہیں ہیں؟ہماری قوم بہت ہی جذباتی ہے، یہ چاہتی ہے کہ ساری زندگی جذبات کی رو میں گزار دے لیکن اپنے کنارے لگنے کا کوئی انتظام نہ کرے۔ یہ ٹھیک ہے کہ حفاظت کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے اور انصاف بھی وہیں سے ملتا ہے لیکن ہم ہمیشہ اپنی کوتاہیاں بھی ریاست کے حصے لکھ نا ٹھیک نہیں۔ سوشل سائنسز معاشرے کا ایک بہت اہم اور مثبت علم ہے اور یہی معاشرتی کمزوریوں کی نشان دہی کر سکتا ہے باقی ممالک میں اس پر بہت زور دیا جاتا ہے لیکن ہمارے ملک میں جو مکتب فکر رائج ہے اسکے مطابق یہ صرف کند ذہن بچوں کے پڑھنے کی چیز ہے جسے بدلنے کی ضرورت ہے، ہمیں اپنے معاشرے میں سوشل سائنسز کو عام کنا ہے تاکہ یہ اندازہ ہو کہ اس بیماری کا محرک اور علامات کیا ہیں اور انکا تدارک کیسے ممکن ہے ۔ عدلیہ اور شرعیت اس بیماری کے متعلق کیا کہتی ہیں؟ کافی ساری جگہوں پر میں نے اس بیماری کو لیکرمذہب کی تحقیر ہوتے ہوئے دیکھی ہے کہ اگر تو شریعت اسکا فیصلہ کرے گی تو کیا نتائج ہونگے جو کہ واقعی بہت اہم نکتہ ہے جسے واضح کرنااشد ضروری ہیاسلیئے جید علمآء کرام کو بھی اس معاملے کی نزاکت کو سمجھ کر کوئی بیان دینا چایئے۔ اور آخر میں ہم عوام، جنکے ہاتھ میں ہی اپنی بقا ہے سب سے پہلے ہمارے ہر بچے کی کلائی پر گھڑی نما موبائیل باندھنا چاہیئے تاکہ وہ ہر وقت ہم سے رابطے میں رہ سکیں ہمیں اپنے اور اپنے بچوں کے شعور کو اجاگر کرنابہت ضروری ہے، شرم و حیا ہمارے معاشرے کی پہچان ہے لیکن اگر اسی وجہ سے کوئی باحیا سے بے حیا ہو جائے تو ضروری ہے کہ ہم اور ہمارے بچے کھل کر میدان میں آئیں اور اپنا بھر پور دفاع کرہیں۔ ہمیں سمجھنا چاہیئے کہ بچے پیار کیلیئے ہوتے ہیں اور ان پر پیا ر کسی کو بھی آسکتا ہے لیکن بچوں کا منہ پھٹ ہونا بھی بہت ضروری ہے کیونکہ حساس اور خاموش بچے ہی پہلا شکار ہوتے ہیں۔تہذیب ہماری پہچان ہے اور بچوں کا باتہذیب اور اخلاق یافتہ ہونا بہت ضروری ہے لیکن بسا اوقات ہمارے بچے بآخلا ق ہونے کی کوشش میں اپنی صلاحیتوں کی نفی کر جاتے ہیں۔ہم اپنے رویوں سے بھی اپنے بچوں کو خود سے دور کر دیتے ہیں جسکی وجہ سے انکا اعتماد بکھر جاتا ہے ہمیں انکا اعتماد بحال کرنے کیلیئے بچوں کو سہولیات اور ٹیکنالوجی سے آراستہ کریں انہیں اپنے حق میں بولنا سکھائیں،یہ نیا دور ہے جو اپنے ساتھ بہت سی نئی بیماریاں اور مشکلات لایا ہے اسلیئے اپنے بچوں کو خطرے سے نمٹنا سکھائیں انہیں پولیس اور عدالتی معلومات دیں، اور انکی کمزوریوں کو نشانہ بنا کر سب کے سامنے انکی تذلیل نہ کریں، مجرم کو سخت سے سخت سزا ضرور دیں لیکنتاکہ ہم ہمارے بچے اور ہمارا ملک مزید بدنامی اور نقصان سے بچ سکے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sidra Subhan

Read More Articles by Sidra Subhan: 18 Articles with 11557 views »
*Hafiz-E-Quraan

*Columnist at Daily Mashriq (نگار زیست)

*PhD scholar in Chemistry
School of Chemistry and Chemical Engineering,
Key Laborator
.. View More
15 Mar, 2018 Views: 419

Comments

آپ کی رائے