فبائی الاء ربکما تکذبان

(Mona Shehzad, Karachi)

اللہ کی نعمتیں اور رحمتیں بے شمار ہیں. ہم انسان ہر وقت اس نعمت کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں جو ہمارے پاس نہیں ہوتی ہے. جو نعمت پاس ہے اس کا شکر منہ سے مجال ہے جو نکل آجائے. قرآن پاک میں جابجا انسان کے ناشکرے ہونے کا،جلدباز ہونے کا اور جھگڑالو ہونے کا ذکر نظر آتا ہے. مگر ہم غور و غوث کہاں کرتے ہیں. ابھی پچھلے ہفتے مجھے ہلکا سا فلو ہوا ہے. کینیڈا کے موسم میں فلو کولڈ کے نام سے جانا جاتا ہے. یہ موسم سرما کی سوغات ہے. ہر سال کنیڈئن حکومت اس کے کنٹرول کے لئے لاکھوں ڈالر اس کی ویکسین کی تیاری پر لگاتی ہے. پھر یہ ویکسین مفت میں تمام عوام الناس کو اکتوبر کے آخری ہفتے سے لگانی شروع کر دی جاتی ہے. ہم بھی ہر سال کی طرح اس کو لگواتے ہیں. لہذا کولڈ کو ہم نے موسمی جانا اور اپنی نوکری اور گھر گرہستی میں بخار کے باوجود جتے رہے. تین دن گزرنے کے بعد احساس ہوا کہ معاملہ کچھ اور ہے. کیونکہ بخار، کهانسی اور سینے کا درد جان نہیں چھوڑ رہا تھا. لہٰذا کام کے بعد ڈاکٹر صاحب کے کلینک میں پہنچے. اپنی باری کا دو گھنٹے بیٹه کر انتظار کیا. ڈاکٹر صاحب نے معائنے کے بعد خبر سنائی؛ "مجھے اندیشہ ہے کہ تمہیں نمونیا کا اٹیک ہوا ہے. اس لئے بہتر ہے کہ اینٹی بائیوٹک کا کورس شروع کر دیا جائے. اس نے دوائی لکھ دی اور ہم دوائی لے کر گھر آگئے.

گهر آکر میاں اور بچوں کو خبر سنائی اور آرام کی نیت سے کمرے میں آکر دراز ہوگئ. اچانک خیال کا رخ کسی عقل والے کی بات کی طرف مڑ گیا. کہیں میری نظر سے گزرا تھا :
کہ آنکھ میں بینائی، جسم میں صحت، دماغ میں خیال یہ بھی رزق کی قسمیں ہیں. "

میری آنکھیں آنسوؤں سے بهر گئیں، عاجزی کا تو یہ عالم ہے کہ خود سے سانس لینے کے لیے محتاج ہوں .ایک معمولی سی بیماری نے مجھے پچھاڑ دیا. میں اس سوچ میں گم ہو گئی کہ فبائی الاء ربکما تکذبان کا حق کبھی ہم ادا کر پائینگے. ہمارے پاس جو نعمت ہے اس کے لیے اللہ کے احسان مند ہم نہیں ہوتے. جو نعمت ہمارے آپ کے کسی بهائی کے پاس اس کے لیے جلتے کلستے ہیں. دل میں چاہتے ہیں کہ یہ نعمت یا تو ہمیں مل جائے ورنہ اس سے بھی چهن جائے. فنا کی حقیقت یہ ہے کہ خاک کے پتلے نے خاک میں مل جانا ہے. رہے گا نام اللہ.

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mona Shehzad

Read More Articles by Mona Shehzad: 168 Articles with 175236 views »
I used to write with my maiden name during my student life. After marriage we came to Canada, I got occupied in making and bringing up of my family. .. View More
16 Mar, 2018 Views: 342

Comments

آپ کی رائے