شہسوار دہشت اور بیچاری حور العین ۔ ۔ ۔ ۔

(Qasim Raza Naqvi, Nairobi)

محترم قارئین میرا آج کا موضوع ذرا معمول سے ہٹ کر ہے، اس سے پہلے کہ میں آج کے موضوع پر مزید بات کروں اپنے بارے میں مختصراً عرض کرنا چاہوں گا۔ میں ایک عام سا مسلمان ہوں، جو خداوند تعالی کی وحدانیت، اسکے رسولؐ کی نبوت اور اہلِ بیت مطھر کی محبت پر یقین کامل رکھتا ہوں۔ میں کوئی مولانا، عالم یا شیخ نہیں ہوں، اگر مجھ سے کوئی غلطی سرزد ہو جائے یا کسی نوجوان بھائ کی دل آزاری ہو تو درگزر کا خواہاں ہوں۔

دوستو آج کل تمام دنیا میں جنت کی لوٹ سیل چل رہی ہے، مسلمان تو مسلمان کفار بھی اپنا حصہ بڑھ چڑھ کر ڈال رہے ہیں خواہ شام، یمن، عراق ہو، یا افغانستان و پاکستان بے گناہ اور معصوم لوگوں کے خون سے کھلے عام ہولی کھیلی جارہی ہے، عورتوں کی بے حرمتی، بچوں کا قتل عام فریضہ اول سمجھ کر ادا کیا جا رہا ہے، آج کا یزید بے خوف و خطر دنیا کو پراگندہ کر رہا ہے ۔ ہمارے مسلما ن بھائی اپنے دنیاوی آقاءوں کی خوشنودی کے لئیے اپنے فرائض بڑی تندہی سے سر انجام دے رہے ہیں ، اور ہمارے نوجوان بھائیوں کو شہادت کا خواب دکھا کر اس مفادات کی جنگ کا حصہ بنا رہے ہیں۔

آئیں ذرا شہادت کا مطلب سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں،میں نے اپنی سی تحقیق کرنے کی کو شش کی ہے اور کچھ اسلامی علماء کے ساتھ مشورہ کیا جو کہ پیش خدمت ہے

لفظ "جہاد" سے شہادت کا تصور ہے. اسلام میں، شہید ایک ایسا شخص ہے جو واقعات پر گواہی دیتا ہے (خاص طور پر صبر، قربانی اور جدوجہد)۔ سادہ الفاظ میں خداوند تعالیٰ کی وحدانیت کا انکار کرنے والوں، ظلم کرنے والوں، اللہ تبارک وتعالی کے احکامات کی حکم عدولی کرنے والوں کے خلاف جنگ کرتے ہوئےمظالم برداشت کرنےاور اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے کا نام شہادت ہے۔

شہادت کا مقصد صرف جنت کا حصول ہر گز نہیں، اصل مقصد اپنے پروردگار کی خوشنودی کا حصول ہے۔

امام علیؑ کا قول ہے

میں جنت کے شوق میں عبادت نہیں کرتا، کیونکہ یہ تجارت ہے
نہ ہی میں دوزخ کے خوف سے عبادت کرتا ہوں، کیونکہ یہ غلامی ہے۔
میں اس لئے عبادت کرتا ہوں کہ میرا اللہ عبادت کے لائق ہے۔

آج کل شہادت کا مطلب جنت کا حصول اور حور العین سے ملاقات ہے، یہی وہ سب سے بڑا مقصد ہے جو ہمارے نوجوانوں کوخود کش دھماکوں، معصوم اور بے گناہ لوگوں کے کشت و خوں پر اکسا رہا ہے۔
. دہشتگردی کی جدید لیبارٹری میں، مردوں کو یقین ہے کہ وہ جنت میں داخل ہو جائیں گے اور جنت کے انعامات میں 72 حور العین کے حقدار قرار پائیں گے . بے چاری حورالعین !

آئیں ذرا حور العین کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔

حور لفظ حوراء کی جمع ہے، اس کے لفظی معنی دودھیا رنگت کی خوبصورت عورت کے ہیں، اسی طرح عین کے معنی خوبصورت آنکھیں ہیں۔ سو ہم کہ سکتے ہیں کہ حور العین کا مطلب خوبصورت اور مکمل عورتیں ہیں جو کہ اہل جنت کی ساتھی مقرر کی جائیں گی۔ حور العین کی تعداد کے بارے کچھ اختلاف پایا جاتایے، کچھ علماء انکی تعداد 70 بتاتے ہیں اور دو دنیاوی خواتین موجودہ ازواج میں سے جنھیں باقی خواتین پر فضیلت حاصل ہوگی۔

سو سارا جھگڑا انھی بہتر عورتوں کا ہے، ان کے چکر میں روزانہ 72 ہزار گھر اجڑ جاتے ہیں۔ کچھ دوست تو یہ بھی کہتے ہیں سارا قصور ہی عورت کا ہے، یہ ہمیں بہکا دیتی ہے۔

جی درست فرمایا یہ اسی عورت کا قصور ہے جو ماں بن کر آپ کو نو ماہ اپنے شکم میں رکھتی ہے پھر تمام عمر زمانے کی دھوپ چھائوں سے بچانے کی تگ و دو میں لگی رہتی ہے اور بڑھاپے میں آپ کے آرام میں مخل ہوتی ہے ،مرنے کے بعد کے جھنجھٹ الگ سے ۔ اسی طرح بہن بن کر تمام عمر آپ کی کامیابی کی دعائیں کرتی رہی کبھی آپ کی غلطیوں کے عوض ونی کی گئ تو کبھی آپ کی نام نہاد عزت و غیرت کی خاطر قتل ، بیوی بن کر آپ کے آرام و سکون کا خیال رکھا آپ کی پسند و نا پسند کو اپنایا، ہر دکھ سکھ میں آپ کا سایہ بن کر کھڑی رہی، اور تمام ظلم و ستم بغیر اف کیئے سہ گئ۔ بیٹی بن کر ساری عمر باپ ہونے کا قرض ادا کرتی رہی حتیٰ کہ جنازے کے بعد جب بیٹے بیٹھے جائیداد کا حساب کر رہے تھے تو یہ بیٹھی سورہ یسین کی تلاوت جی بالکل یہ اسی سلوک کی مستحق ہے۔

میرا تمام دوستوں سے سوال ہے جب دنیا میں ہمیں عورت نے سب سے زیادہ ستایا پھر ہم جنت میں اسی کے خواہاں کیوں اسی کی خاطر بم باندھ کر اس امید پر عازم جہنم ہونے کیلئے بے قرار ، شاید میرے کسی دوست کے پاس اس کا جواب نہیں ہے۔ اوہ ہاں شاید اسی لئے ہمارے چند ہونہار سپوت خود کش دھماکے کرکے جلد از جلد اس عظیم دشمن کو سزا دینے کے لئے بیتاب ہیں۔

میں اکثر سوچتا ہوں جنتی مرد کے لئیے تو بہتر حوروں کا وعدہ ہے کیا جنتی عورتیں بھی اسی انعام کی حقدار قرار پائیں گی یا اس حقیقی دنیا میں بھی مرد کا کھلونا بن کر رہ جائیں گی۔

شاید ڈاکٹرعلامہ اقبال اس تلخ حقیقت کو بھانپتے ہوئےضربِ کلیم میں یہ شعر لکھنے پر مجبور ہوئے تھے


میں بھی مظلومیِ نسواں سے ہوں غمناک بہت

نہیں ممکن مگر اس عقدہ مشکل کی کشود!


عورت خداوند تعالیٰ کا عظیم تحفہ ہے اس کی عزت کریں بحیثیت ماں، بیوی، بیٹی اور بہن۔

اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو! !!!

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Qasim Raza Naqvi

Read More Articles by Qasim Raza Naqvi: 39 Articles with 26781 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Mar, 2018 Views: 630

Comments

آپ کی رائے
Bechari Aurat
By: Khola, Leeds, UK on May, 24 2018
Reply Reply
0 Like
Good Article!
By: Kamran, Karachi on May, 24 2018
Reply Reply
0 Like
Mullay to khud 72 kay chakar mein hain woh kya karein gay...............
By: Khan, Faisalabad on May, 24 2018
Reply Reply
0 Like
72 hooron key chakar ney to nojawano ki barbadi kar di hay, ulma should play their role to explain true spirit of 72 hoors.
By: Nazia, Lahore on May, 24 2018
Reply Reply
0 Like