خودکشی یا قتل؟

(Mona Shehzad, Calgary)

میں نے کچھ دن پہلے سوشل میڈیا پر ڈپٹی کمشنر سہیل احمد ٹیپو کی پنکھے سے جھولتی بے جان لاش دیکھی. پھر اس کی زندگی سے بهرپور مسکراتی ہوئی تصویر بھی دیکھی. پتہ نہیں کیوں مجھے اس کا چہرہ ایک بزدل آدمی کا چہرہ نہیں لگا. مجھے وه ایک سچے اور ایماندار شخص کا چہرہ لگا. میری ذاتی زندگی میں ٹیپو سلطان مرحوم ہمیشہ ایک آئیڈیل رہے ہیں.ان کا قول کہ
"شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے. "
میرا گمان نہیں مانتا کہ جس شخص کے نام کا حصہ ہی ٹیپو اور احمد ہو وہ ایسی بزدلی کرسکتا ہے.
پھر سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر اس نے خودکشی کی تو اپنے ہاتھ خود کیسے باندھے؟
یہ ایک ایسا معمہ ہے کہ جس کا جواب پولیس اور اعلی حکام کے پاس ہونا چاہیئے.
کچھ لوگ دفتری معاملات میں ذہنی دباؤ کو اس کا مورد الزام ٹهرا رہے ہیں.میرا سوال تو پھر بھی یہی ہے کہ یہ کیسی نوکری ہے جو ایک شخص کو اس حد تک ذہنی طور پر دیوالیہ کردیتی ہے کہ وہ اپنی جان خود لے لیتا ہے. کیوں ہمارے ملک میں سٹریس کنٹرول مینجمینٹ کے کورسز نہیں کروائے جاتے؟
کیوں ماہرین نفسیات سے ان لوگوں کی assessment نہیں کروائی جاتی جن کی نوکریاں ذہنی دباؤ والی ہیں؟ وطن عزیز میں جہاں نوجوان نوکری نہ ملنے پر خودکشیاں کر رہے ہیں وہاں پر اب نوکری کرنے والے شریف اور قاعدے قانون کی پابندی کرنے والےکی زندگی بھی ایسی جہنم بنادی جاتی ہے کہ وہ موت کو سکون کی آرامگاه سمجھتے ہوئے اسے گلے لگا لیتا ہے.
مجھے اس بات کا سراغ نہیں ملتا کہ ماں باپ کا ایک ہونہار سپوت جس نے ان کی خوشی کے لیے سی ایس ایس کا امتحان پاس کیا وہ کب زہنی طور پر اتنا کمزور اور اکیلا ہوگیا کہ اس نے ماں باپ، دیگر رشتوں کی محبت سب سے بڑه کر اللہ اور اس کے رسول کی محبت سے منہ موڑ لیا. ایسی کیا صورتحال تھی کہ ایک شیر جوان نے موت کو گلے لگا لیا. یہ خودکشی ہے یا قتل؟ ان بوڑھے ماں باپ کو کون انصاف دلانے گا یا لوگ کچھ دنوں بعد اس تابندہ چہرے والے کو بھی بهول جائنگے؟
اگر یہ خودکشی کا بھی کیس ہے تب بھی میں تو اس کو قتل ہی کہونگی. کیونکہ ایک شخص کو تنہا چھوڑ دینے میں سب لوگ زمہ دار ہیں. یہ کیسے لوگوں کی بستی ہے جس میں رہنے والے ایک دوسرے کے حالات سے بے خبر ہیں. اس خون ناحق کے دهبے تو پھر سب کے دامن پر ہیں.

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mona Shehzad

Read More Articles by Mona Shehzad: 168 Articles with 175555 views »
I used to write with my maiden name during my student life. After marriage we came to Canada, I got occupied in making and bringing up of my family. .. View More
29 Mar, 2018 Views: 346

Comments

آپ کی رائے