جامعہ نعمانیہ رضویہ میں علامہ خادم حسین خورشیدالازہری کاخطاب

(Muhammad Siddique Prihar, Layyah)

گزشتہ چھ دہائیوں سے لیہ شہرکے گنجان آبادمحلہ شیخانوالہ کی خوش نصیب گلی میں واقع مدرسہ جامع نعمانیہ رضویہ میں قوم کے نونہالوں کوحفظ قرآن پاک اور درس نظامی کی تعلیم سے مزیّن کیاجارہا ہے۔ صوفی باصفا صوفی حامدعلی رحمۃ اللہ علیہ یہاں علم کی شمع کوروشن کیاجومسلسل علم کے متلاشیوں کومسلسل روشنی دے رہی ہے۔صوفی حامدعلی رحمۃ اللہ علیہ کے شجرعلم سے استفادہ کرنے والوں کی تعدادہزاروں میں ہے۔اس مدرسہ سے فیض یاب حفاظ کرام اورعلماء کرام ملک بھرمیں دین اسلام اورفروغ عشق رسول میں اپنانمایاں کرداراداکررہے ہیں۔ تمام طلباء کی خوراک ورہائش کاانتظام مدرسہ کی طرف سے ہی کیاجاتاہے۔اس مدرسہ کے معلمین ومدرسین بڑی محنت، انتہائی توجہ، مشفقانہ رویہ کے ساتھ طلباء کوقرآن پاک کی تعلیم سے آراستہ کررہے ہیں۔جامعہ نعمانیہ رضویہ کے تمام معلمین میں یوں تو کئی خوبیاں پائی جاتی ہیں۔علامہ قاری ممتازاحمدباروی حافظ قرآن بھی ہیں اورقرآن پاک کے بہترین قاری بھی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں خوب صورت اخلاق کے ساتھ ساتھ سحرانگیزاورپرسوزآوازسے بھی نوازاہے۔ قاری ممتازاحمدباروی صاحب جب قرآن پاک کی تلاوت کی سعادت حاصل کرتے ہیں توسننے والے چاہتے ہیں کہ قاری صاحب قرآن پاک کی تلاوت کرتے رہیں اورہم سنتے رہیں۔ قاری ممتازاحمدباروی عالم دین بھی ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کوجوہرخطابت بھی خوب عطاء کیاہے۔جب بھی خطاب کرتے ہیں علمی اورمدلل خطاب کرتے ہیں۔نقابت کرنے میں بھی قاری صاحب اپنی مثال آپ ہیں۔اللہ تعالیٰ نے قاری صاحب کوفن شاعری کااسلوب بھی دے رکھا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدح بھی لکھ رہے ہیں۔ دیگرمدرسین علامہ شبیرالحسن باروی، علامہ محمداشرف مظہری، مولانامظفرحسین باروی اپنی مثال آپ ہیں۔ اس درس گاہ میں طلباء کی کردارسازی پربھی توجہ دی جاتی ہے۔ ہفتہ میں ایک دن بزم حامدیہ منعقدکی جاتی ہے۔اسی مدرسہ میں ہرسال رجب المرجب کی سترہ تاریخ کوصوفی حامدعلی رحمۃ اللہ علیہ اورعلامہ محمداقبال باروی رحمۃ اللہ علیہ کاایک روزہ عرس مبارک بھی منعقد کیا جاتاہے۔ جس میں حفظ قرآن اوردرس نظامی مکمل کرنے والے طلباء کی دستاربندی بھی کی جاتی ہے۔ عرس مبارک میں جیّد علماء کرام خطاب کرتے ہیں۔ اس سال بھی سترہ رجب المرجب کو جامعہ نعمانیہ رضویہ لیہ میں صوفی حامدعلی رحمۃ اللہ علیہ اورعلامہ محمداقبال احمدباروی رحمۃ اللہ علیہ کاسالانہ ایک روزہ عرس مبارک منایا گیا ۔ عرس مبارک کی آخری نشست بعدنمازعشاء منعقدہوئی۔عرس مبارک کی اخری نشست سے چیئرمین وحدت اسلامی انٹرنیشنل علامہ خادم حسین خورشیدالازہری نے خطاب کیا۔علامہ خادم حسین خورشیدنے عرس مبارک کی آخری نشست سے خطاب کرتے ہوئے جودعائیہ کلمات کہے اس سے ان کے اندازخطابت کی جھلک واضح دکھائی دیتی ہے۔ان کے دعائیہ کلمات ہی بتارہے تھے کہ وہ امت مسلمہ کے بارے میں کتنے فکرمندہیں۔ وہ مسلمانوں کے دلوں میں عشق رسول موجزن بھی دیکھناچاہتے ہیں اوران کے کردارکوبھی سنوارناچاہتے ہیں۔علامہ خادم حسین خورشیدالازہری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام پاکیزہ دین ہے۔ کعبہ تعمیر کرتے ہوئے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعامانگی ’’ اے ہمارے رب ان میں سے اپنارسول مبعوث فرما جوتیری آیات کی تلاوت کرے، انہیں علم وحکمت کی تعلیم دے اورانہیں پاک وصاف کرے ‘‘ پاکیزگی جسم کی بھی ہوتی ہے اورروح کی بھی۔ یہ پاکیزگی ایمان ،عقیدے اورعمل کی بھی ہوتی ہے۔ اسلام میں ان تمام پاکیزگیوں کی طرف توجہ دی گئی ہے۔نمازکی شرائط میں جسم، جگہ اورلباس کی پاکیزگی شامل ہیں۔عبادات سے پہلے، طہارت، وضواورغسل اس بات کاثبوت ہیں کہ اسلام میں پاکیزگی پرکتنی توجہ دی گئی ہے۔ ان کاکہناتھا کہ دین اسلام سے وابستگی ہی عزت کاباعث ہے۔ہم عزت ووقاراقتدار، کرسی، جائیداد، مال ومتاع، سرمایہ، جاہ ومنصب میں تلاش کرتے ہیں۔یہ سب چیزیں تواللہ تعالیٰ کی طرف سے نعمت بھی ہیں اورآزمائش بھی۔ حقیقی عزت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی غلامی میں ہے۔ دامن مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وابستہ ہوجائیں تواس دنیامیں بھی حقیقی عزت ملتی ہے اورمحشرکے دن بھی عزت ملے گی۔ اسلام میں نہ صرف زندہ لوگوں کوعزت دی گئی ہے بلکہ اس دارفانی کوچھوڑ کرجانے والوں کوبھی عزت واحترام کے ساتھ سپرخاک کیاجاتاہے۔ جب بھی کوئی مسلمان فوت ہو جاتاہے تواس کوغسل دیا جاتاہے،اس کوپاک وصاف کفن پہنایا جاتاہے، اس کانمازجنازہ اداکیاجاتاہے، اس کے لیے دعائے مغفرت کی جاتی ہے، ا س کے ایصال ثواب کے لیے قرآن خوانی، قل خوانی، دسواں، بیسواں، تیسواں، چالیسواں اورجمعرات کے نام سے ایصال ثواب کی تقاریب منعقدکی جاتی ہیں۔ اس کو قبرستان میں دفن کرنے کے لیے بارات کی صورت میں لے جایاجاتاہے۔اسے عزت کے ساتھ سپردخاک کیاجاتاہے۔کسی اورمذہب اورطبقہ کے لوگ اپنے مرُدوں کواتنی عزت نہیں دیتے۔علامہ خادم حسین خورشیدکہتے ہیں کہ اسلام کی یہ کوالٹی ہے کہ اس کوجتنادبایاجائے یہ اتناہی بڑھتااورپھیلتاہے۔اسلام دنیامیں تیزی سے پھیل رہا ہے۔ نائن الیون کے بعدجس منصوبہ بندی کے تحت اسلام کوٹارگٹ کیاگیا ہے۔ اسلام کودہشت گردمذہب اورمسلمانوں کودہشت گرد ثابت کرنے کاکوئی حربہ نہیں چھوڑاگیا۔ دنیابھرکی عوام میں اسلام کے خلاف نفرت پھیلانے کاکوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیاگیا۔ عالمی طاقتوں اورمیڈیاکی اسلام مخالف مہم کاہی یہ اثرہواکہ غیرمسلم عوام کواسلام میں دل چسپی پیداہوئی ، انہوں نے اسلام کامطالعہ کرناشروع کردیا ، اسلام کامطالعہ کرنے کے بعد وہ اسلام کی طرف راغب ہونے لگے ہیں۔عالم اسلام کی بے حسی پرتبصرہ کرتے ہوئے ان کاکہناتھا کہ طیب اردوان کے سواکسی بھی اسلامی ملک کے سربراہ کاکردارقابل تعریف نہیں ہے۔ اس وقت مسلمانوں کی حالت زار، اسلامی ممالک کے سربراہوں کی بے حسی کودیکھاجائے توعالم اسلام کی بے بسی پرافسوس ہوتاہے۔مسلمان ممالک مل کرمشترکہ دشمن کامقابلہ کرنے کی بجائے ایک دوسرے سے برسرپیکارہیں۔مسلمان ملکوں سے دشمنیاں اوراسلام کے دشمنوں کے ساتھ دوستیاں کی جا رہی ہیں۔علامہ صاحب کہتے ہیں کہ کفرکاسب سے بڑاٹارگٹ مدارس ہیں ۔ مدارس کے خلاف اب تک جوپروپیگنڈہ کیاجارہا ہے وہ سب کواچھی طرح معلوم ہے ۔ مدارس کی کردارکشی کرنے کاکوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیاجاتا۔کفرکے اس پروپیگنڈہ کاہمارے اپنوں نے بھی بھرپورساتھ دیا۔کفرکی مدارس کے خلاف مہم کے بعد مدارس میں طلباء کی تعدادمیں اضافہ ہی ہواہے۔علامہ صاحب کہتے ہیں کہ کفراسلام پرڈائریکٹ نہیں ان ڈائریکٹ حملہ کرتاہے۔ کفراسلام پرحملہ کرنے کے لیے مسلمانوں کے غداروں کوخریدکرتاہے، ان کے ذریعے مسلمانوں کے جذبہ عشق رسول اورعقیدے پرحملے کراتاہے۔کبھی وہ ملعون قادیانی کوسامنے لے آتا ہے توکبھی دہشت گردی کے خلاف جنگ شروع کردیتاہے۔ کبھی وہ مدارس کوٹارگٹ کرتاہے توکبھی مسلمان ممالک کی حکومتوں کونشانے پرلے لیتاہے۔صوفی حامد علی رحمۃ اللہ علیہ ، علامہ مولانامحمداقبال احمدباروی کے عرس مبارک کی آخری نشست سے خطاب کرتے ہوئے علامہ خادم حسین خورشیدالازہری نے کہا کہ مسلمانوں میں رسول اکرم، نورمجسم، شفیع معظم، رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت ختم کرنے کے لیے کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری ہورہی ہے۔کفراسلام اورمسلمانوں کوبدنام کرنے پرتلاہواہے۔کفراسلام کوبدنام کرنے کے لیے کیاکیانہیں کررہا عالمی حالات وواقعات سے آگاہی رکھنے والے اس کواچھی طرح جانتے اورسمجھتے ہیں۔ان کاکہناتھا کہ حکمرانوں کے درکے چکرلگانے والاعالم دین نہیں ہوسکتا۔قصورسمیت ملک کے مختلف شہروں میں کم سن بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات پراظہارخیال کرتے ہوئے علامہ خادم حسین خورشیدنے کہا کہ باکردارعوامی نمائندوں کوہی منتخب کرناچاہیے۔ جب ووٹ بدکردارکودیاجائے گاتوقوم کی بچیوں کی عزت کیسے محفوظ رہے گی۔انہوں نے کہا کہ ہوٹلوں، چوراہوں، بسوں، ٹرینوں میں لکھاہواہے کہ مذہبی گفتگوکرنامنع ہے۔ علامہ صاحب نے سوال کیا کہ کیایہ امریکہ، اسرائیل یاانڈیا ہے جویہاں مذہبی گفتگوکرنامنع ہے۔ملک میں مذہبی گفتگوپرپابندی افسوس کامقام ہے۔مذہبی گفتگوپرپابندی کے ذریعے عوام کواسلام سے دورکرنے کی کوشش ہورہی ہے۔اس کوشش کاآغازمساجدمیں فائرنگ اورخون ریزی کے واقعات سے کیاگیاتھا۔انہوں نے کہا کہ ایم این اے کوتیسراکلمہ نہیں آتا اوروزیرکوسورۃ اخلاص نہیں آتی تواس میں اسلام کاکیاقصورہے۔انہوں نے بلدیاتی امیدواروں کے انٹرویوکااحوال سناتے ہوئے کہا کہ ایک امیدوارسے پوچھاگیا تجھے دعائے قنوت یادہے، امیدوارنے جواب دیا جی یادہے، سے کہا گیاسناؤ، امیدوارنے سورۃ اخلاص سنادی،انٹرویولینے والے نے کہا کہ یہ پہلاامیدوارہے جسے دعائے قنوت یادہے۔یہ سب اسلامی تعلیمات کی ترویج واشاعت پرتوجہ نہ دینے کانتیجہ ہے۔یہ مسلمانوں کواسلام سے دور کرنے کارزلٹ ہے۔ ہم اسلام کوکتنی اہمیت دیتے ہیں۔ اس کااندازہ اس سے لگائیں کہ سکول کی ٹیوشن پڑھانے والے کوتومنہ مانگی فیس ایڈوانس دی جاتی ہے، جب کہ قرآن پاک پڑھانے والوں کوپانچ سوروپے ماہانہ دیتے ہوئے بھی بوجھ محسوس ہوتاہے۔سکولوں میں دنیاوی کتب پڑھانے والے توہزاروں روپے تنخواہ لے رہے ہیں اورسکول کے بچوں کوقرآن پاک پڑھانے والے معلم کوماہانہ پانچ سوروپے بھی حکومت کی طرف سے نہیں دیے جاتے۔انہوں نے کہا کہ ختم نبوت قانون پرڈاکہ ڈالا گیا۔ تمام ممبران اسمبلی اس پرخاموش رہے،ختم نبوت حلف نامہ میں ترمیم کرتے وقت کسی ممبراسمبلی نے احتجاج نہیں کیا۔انہوں نے واضح اعلان کیا ہمیں ایسے ممبران اسمبلی قبول ہیں جوایوانوں میں ناموس رسالت کاتحفظ کریں۔علامہ صاحب نے کہا کہ الیکٹرانک اورسوشل میڈیا اسلام کے خلاف استعمال ہورہا ہے، انہوں نے سوشل میڈیاپروائرل ایک ویڈیوکااحوال سناتے ہوئے کہا کہ مسلمان سمیت دیگرمذاہب کے افرادآپس میں گفتگوکرتے ہیں اور مسلمان کولاجواب کردیتے ہیں۔اس کاجواب دیتے ہوئے ان کاکہناتھا کہ قوم نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے پانی مانگا اورصحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھی پانی مانگا۔ فرق یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہیں چل نہیں گئے، کسی پتھرپرعصا نہیں مارا، ایک پیالے میں دست مبارک ڈالاتوانگلیوں سے پانی کے فوارے جاری ہوگئے سیکڑوں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے خوب سیرہوکرپیا۔انہوں نے کہا کہ مدارس کے طلباء کوحقارت سے نہ دیکھاکرو۔ چٹائیوں پربیٹھ کرقرآن پاک پڑھنے والوں کی وجہ سے ہی ملک قائم ہے۔علامہ خادم حسین خورشیدنے کہا کہ حکمرانوں کی بیٹی ملالہ ہے۔ قوم کی بیٹی عافیہ صدیقی اوربیٹاممتازقادری ہے۔ملالہ نے پاکستان اوراسلام کے بارے میں جوکچھ بھی کہا ہے اس سے یہ اندازلگانامشکل نہیں کہ وہ کس ایجنڈے پرکام کررہی ہے۔ایک گولی کالگ جاناکوئی بہادری نہیں ہے۔اس نے کون ساایساکارنامہ انجام دیا ہے جومغربی میڈیاکی آنکھوں کاتارابن گئی۔مغرب والے کسی کوایسے ہی آنکھوں پرنہیں بٹھاتے۔قوم کی بیٹی توعافیہ صدیقی ہے جوگوانتاموبے جیل میں سزاکاٹ رہی ہے۔قوم کابیٹا توممتازقادری ہے جس نے ناموس رسالت پراپنی جان بھی قربان کردی۔قوم کابیٹاتوطالب علم اسفندیارہے۔ جس نے جان پرکھیل کردہشت گردکوقابوکرتے ہوئے جام شہادت نوش کرکے سکول ، اساتذہ اورطلباء کودہشت گردی سے بچالیا، قوم کی بیٹیاں توآرمی پبلک سکول کی وہ ٹیچرز ہیں جنہوں نے طلباء وطالبات کودہشت گردوں سے بچاتے ہوئے شہادت پائی۔قوم کی بیٹی تووہ سکول ٹیچرہے جوخود توسلنڈرپھٹنے کی وجہ سے سکول وین کولگنے والی آگ میں خودتوجھلس کرشہیدہوگئی لیکن طلباء کوآگ سے بچالیا۔ان کاکہناتھا کہ افغانستان میں مدرسہ پربمباری سے سوسے زیادہ بچے شہیدہوئے اورشام میں چارسوبچوں نے جام شہادت نوش کیا۔ملالہ کوایک گولی لگنے پر شور مچانے والامیڈیا ان بچوں کے اجتماعی قتل عام پرکیوں خاموش ہے۔علامہ صاحب کہتے ہیں کہ محراب ومنبرسے عوام کارابطہ توڑنے کی کوشش ہورہی ہے ۔ مساجد سے لاؤڈ سپیکروں کااتاراجانا اورصرف ایک سپیکرکی اجازت دینا اسی کاتسلسل ہے۔علامہ خادم حسین خورشیدالازہری کہتے ہیں کہ اسلام میں طے شدہ امورکی من پسندتشریح کرنے والے دانشوراس وقت میڈیاکے ہیروہیں۔ اسلام کے طے شدہ اصول وضوابط میں سے ایسے دانشوربعض اصول وضوابط کواس وقت کی ضرورت قراردے کرموجودہ دورمیں ان امورسے انکاری ہیں۔انہوں نے مغرب میں مدرڈے ، فادرڈے منانے پرتبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مغربی معاشرہ میں لوگ بوڑھے والدین کوبوجھ سمجھ کرانہیں اولڈہومزمیں چھوڑ آتے ہیں۔ سال میں ایک باران کوملنے جاتے ہیں ، انہیں تحفے وغیرہ دیتے ہیں۔ اس دن کوانہوں نے مدر ڈے اورفادرڈے کانام دے رکھا ہے۔ علامہ خادم حسین خورشیدنے کہا کہ جس معاشرے میں والدین کوسال میں ایک دن ملے ایسے معاشرے پرلعنت ہے۔ یہ مذہب اسلام کاہی امتیازہے کہ مسلمان کاہردن مدرڈے اورفادرڈے ہے۔ مسلمان معاشروں میں والدین کوبوجھ نہیں سمجھاجاتا بلکہ ان کی خدمت کرنے کو سعادت مندی سمجھاجاتاہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Siddique Prihar

Read More Articles by Muhammad Siddique Prihar: 335 Articles with 150513 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
10 Apr, 2018 Views: 411

Comments

آپ کی رائے