شہروں کی بڑھتی آبادی

(Dr Ch Tanweer Sarwar, Lahore)

گاؤں میں بہتر سہولتیں نہ ہونے کی وجہ سے لوگ شہروں کا رخ کرتے ہیں اگر ریاست گاؤں میں ہر طرح کی سہولت بہم پہنچا دے تو لوگوں کی گاؤں سے شہر کی جانب نقل وحمل کو روکا جا سکتا ہے ابھی بھی کئی گاؤں میں صحت جیسی سہولتیں میسر نہیں ہیں اس کے علاوہ روزگار کے مسائل الگ سے ہیں گاؤں میں ابھی بھی کئی کئی گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہو تی ہے اس کے علاوہ گاؤں سے شہر تک آنے کے لئے ٹرانسپورٹ کی سہولت بھی نہیں ہے کچی سڑکیں ہیں اگر کسی مریض کو شہر تک لے کر آئیں تو پہنچتے پہنچتے وہ راستے میں ہی دم توڑ جاتا ہے لیکن اس کے بر عکس شہر میں ہر شہری کو صحت جیسی سہولتیں میسر ہیں چند فاصلوں پر بڑے بڑے ہسپتال ہیں پکی اور کشادہ سڑکیں ہیں روزگار کے مواقع حاصل ہیں شہر میں انڈسٹری ہونے کی وجہ سے زیادہ تر لوگ ان میں ملازمت کرتے ہیں ایک سروے کے مطابق بڑے شہروں کی آبادی میں اضافہ دیکھا گیا ہے جن میں پشاور،لاہور ،کراچی،گوجرانوالہ،راولپنڈی اور فیصل آباد خاص طور پر شامل ہیں اگر آبادی اسی تناسب سے بڑھتی رہی تو کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے آبادی کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے وسائل کو بھی بڑھانا ہو گا تا کہ دونوں کے درمیان ایک تناسب رہے اگر کسانوں کو گاؤں کی سطح پر بہتر سہولتیں مہیا کر دی جائیں تو وہ بہتر اجناس کی پیداوار کو بڑھا سکتے ہیں جو نہ صرف کسان کی خوشحالی ہو گی بلکہ پاکستان کے لئے بھی مفید ہو گا لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود اپنی خوراک کا ایک بڑا حصہ دوسرے ممالک سے درآمد کرتا ہے کیونکہ پاکستان میں ہر سال زرعی زمینوں کی تعدا د میں کمی واقع ہو رہی ہے ان میں سے زیادہ تر زمینیں بہتر دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے بنجر ہو رہی ہیں یا وہ سیم تھور زدہ ہیں اور کچھ زمینوں کو رہائش کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے اگر یہی حال رہا تو آنے والے وقتوں میں ہمیں خوراک کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے اس کے لئے ہمیں ابھی سے سوچنا ہو گا اور اس کے بہتر حل کے لئے زرعی ماہرین کی خدمات حاصل کرنی ہوں گی تا کہ کم رقبہ سے ہم زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کر سکیں تا کہ مستقبل میں ہمیں خوراک کا مسئلہ درپیش نہ ہو اس کے علاوہ ہمیں اپنی آبادی پر بھی کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے تا کہ مزید مسائل گھمبیر نہ ہوں ہمیں زرعی مسائل کے ساتھ ساتھ اپنے معاشی مسائل کی طرف بھی توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے ایک اندازے کے مطابق پاکستان کی آبادی میں ہر سال ساٹھ لاکھ افراد کا اضافہ ہو رہا ہے لیکن اس کے بر عکس ہمارے وسائل نہیں بڑھ رہے ہیں کیا ان ساٹھ لاکھ افراد کے لئے تعلیم،صحت اور دوسری بنیادی ضروریات زندگی موجود ہیں یقیناً ہمارا جواب نفی میں ہی ہو گا اگر ہم نے اس مسئلہ کو سنجیدگی سے نہ لیا تو آنے والے سالوں میں ہمیں خوراک کی کمی کا سامنا ہو سکتا ہے جس سے صورت حال بگڑ جائے گی آبادی میں اضافہ مہنگائی کا بھی سبب بنتا ہے آبادی میں اضافہ بے روزگاری میں اضافہ ہے آبادی میں اضافہ سے خطرناک جرائم بھی جنم لیتے ہیں آبادی میں اضافے سے غربت میں اضافہ ہوتا ہے پاکستان میں آبادی کا بڑھنا مزید معاشی مسائل پیدا کر رہا ہے یہاں پر بنیادی سہولتوں کا پہلے سے فقدان ہے آبادی پر کنٹرول کرنے کے لئے لوگوں کو تعلیم یافتہ بنانا ہو گا ان میں شعور پیدا کر نا ہو گا کہ وہ افراد میں اضافہ کی بجائے اپنے طرز زندگی کو بہتر بنانے کے بارے میں سوچیں تا کہ ہر ایک کا معیار زندگی بہتر ہو سکے ۔شہروں کی آبادی میں اضافے کا سبب بھی یہی اسباب ہیں اگر گاؤں کی سطح پر بنیادی سہولتیں دے دی جائیں اور ان کے لئے معقول بندوبست کر دیا جائے تو ان کی ہجرت کو روکا جا سکتا ہے خاص کر ایسے گاؤں جو کسی بھی بڑے شہر کے قریب ہیں ان کو زیادہ مراعات دی جائیں تا کہ وہ شہر کا رخ نہ کریں کیونکہ شہروں میں گاؤں کی نسبت سہولتیں زیادہ ہیں اس لئے لوگ بہتر مستقبل کے لئے شہر کا رخ کرتے ہیں ہمیں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم پاکستان کے ہر شہری کے لئے یکساں مواقع فراہم کریں تا کہ ہمارے شہروں کے ساتھ ساتھ ہمارے گاؤں بھی آباد رہیں اور گاؤں سے ہونے والی نقل مکانی کو بھی روکا جا سکے گاؤں کی سطح تک وسائل پہنچانا ہر ریاست کا فرض ہے شہریوں کی جان و مال کی حفاظت بھی ریاست کا اولین فرض ہے ریاست کو چاہیئے کہ گاؤں کی سطح پر نوجوانوں کے لئے فنی تعلیم کا بندوبست کیا جائے تا کہ وہ بہتر روزگار حاصل کر سکیں اور اپنے غریب کنبے کا پیٹ بھر سکیں اسی طرح لڑکوں کے ساتھ ساتھ لڑکیوں کے لئے گاؤں کی سطح پر تعلیم اور ہنر کے سکول قائم کئے جائیں تا کہ وہاں کی کمیونٹی کو فوائد حاصل ہوں اور شہروں کی جانب بڑھتے سیلاب کو روکا جا سکے اگر ہم آج شہروں کا جائزہ دس سال پہلے کے شہر سے کریں تو آج کا شہر پھیل چکا ہے اور کئی کئی میلوں پر محیط ہو چکا ہے ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لئے گھنٹوں لگتے ہیں آج کے شہر گنجان آباد ہیں اور کہیں بھی تل رکھنے کی جگہ نہیں ہے بازاروں میں چلے جائیں یا بس کے اڈوں پر چلے جائیں ہر طرف لوگوں کا ایک جم غفیر نظر آتا ہے ہمیں شہروں کی اس بڑھتی آبادی پر نظر رکھنی ہو گی تا کہ آنے والے وقتوں میں ہم ہر شہری کو مناسب سہولتیں دے سکیں ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: H/Dr Ch Tanweer Sarwar

Read More Articles by H/Dr Ch Tanweer Sarwar: 287 Articles with 1339241 views »
I am homeo physician,writer,author,graphic designer and poet.I have written five computer books.I like also read islamic books.I love recite Quran dai.. View More
12 Apr, 2018 Views: 1254

Comments

آپ کی رائے