کلچرل سیکرٹری

(Tanvir Sadiq, Lahore)

کہتے ہیں کہ ایک شخص کسی ہوٹل میں گیا۔ میز پر بیٹھ کر اس نے بڑی رعونت سے بیرے کو بلایا۔ کھانے کا آرڈر کیا اور انتظار کرنے لگا۔تھوڑی دیر میں کھانا آگیا۔کوئی نقص نہ ہونے کے باوجود اس نے خوامخواہ کھانے میں کئی نقص نکالے۔ بیرے کو بلا کر سرزنش کی اور پھر مزے لے کر کھانا کھاتا رہا۔کھانا کھانے کے بعد اس نے بل منگوایا۔ بیرا بل لے کر آیااور میز پر ان کے سامنے رکھ کر چلا گیا۔ انہوں نے تفصیل سے بل کو دیکھا، جمع تفریق چیک بھی کی اور ہر طرح سے مطمن ہو کر بل ادا کرنے کے لئے جیب میں ہاتھ ڈالا۔اسی لمحے ان کے چہرے کا رنگ پوری طرح بدل گیا۔جیب میں پرس موجود نہیں تھا۔بڑا مشکل لمحہ تھا۔اب انہوں نے بیرے کو آواز دینے کی بجائے اس کا انتظار کرنا مناسب سمجھا۔ کچھ ہی دیر میں بیرہ واپس بل لینے کے لئے ان کے پاس موجود تھا۔بڑی عاجزی سے وہ گویا ہوئے۔ بھائی میں آپ کا مستقل گاہک ہوں۔ بیرے نے سر ہلایا ، جی میں جانتا ہوں۔ پھر بولے ، میں ہفتے میں دو یا تین دفعہ ْضرور اس ہوٹل میں کھانا کھاتا ہوں۔بیرے نے پھر سر ہلایا ، مجھے پتہ ہے جناب۔دونوں نے ایک دوسرے سے مسکراہٹوں کا تبادلہ کیا۔ وہ صاحب تھوڑے بیرے کے قریب ہوئے اور راز دارانہ لہجے میں کہنے لگے، بھائی غلطی سے پرس گھر بھول آیا ہوں،ایک آدھ دن میں یہاں سے گزرتے بل ادا کر جاؤں گا، کوئی ہرج تو نہیں۔میں جاسکتا ہوں بالکل کوئی ہرج نہیں۔آپ جا سکتے ہیں۔بیرے نے جواب دیا، مگر جانے سے پہلے آپ کو تھوڑی سی تکلیف کرنا ہو گی۔وہ کیا، انہوں نے پوچھا۔ جہاں آپ بیٹھے ہیں اس کے بالکل پیچھے دیوار پر اوپر بل کی رقم اور اس کے نیچے اپنا نام اور پتہ لکھ دیں ۔ گھبرا کر بولے ، یہاں تو میرے بہت سے جاننے والے آتے ہیں وہ یقیناً میرا لکھا ہوا پڑھیں گے جو میرے لئے خفت کا باعث ہو گا۔ بالکل نہیں، آپ فکر نہ کریں وہ کچھ نہیں پڑھ سکیں گے، مگر کیسے ، سامنے لکھا ہو اور وہ نہ پڑھ سکیں گے۔انہوں نے پوچھا۔ جواب ملا، جب تک آپ پیسے لے کر واپس نہیں آئیں گے آپ کا کوٹ اس عبارت پر لٹکا رہے گا۔ کوئی کیسے دیکھ پائے گا۔

یہ واقعہ یا لطیفہ میں عرصے سے سنتا آیا ہوں اور جب بھی سنتا ہوں تو مجھے یہ اپنی زندگی سے جڑا ہوا محسوس ہوتا ہے۔محمود بھائی میرے گھر سے کچھ ہی فاصلے پر رہتے تھے۔سکول میں مجھ سے دو سال سینئر تھے۔ کالج بھی ہم سے پہلے پہنچ گئے۔ خود نمائی کے بڑے شوقین تھے۔ کالج سے واپس آ کربلیزر پہنے گلی محلوں میں گھومتے رہتے۔ان دنوں سردیوں میں کالج میں بلیزر کا کوٹ پہننا لازمی ہوتا تھا۔ وہ کالج سے آ کر بھی نہ اتارتے تھے تاکہ لوگوں کو پتہ چلے کہ کالج میں پڑھتے ہیں۔بہر حال دو سال کے وقفے سے میں بھی کالج میں تھا۔شائد 1967کی بات ہے میں ایف ایس سی کے پہلے سال میں تھا۔ کہ محمود بھائی آئے۔ نوجوان تیار ہو جاؤ تمہیں لیڈر بنا دینا ہے۔ میں نے حیران ہو کر پوچھا، وہ کیسے۔ کل بتاؤں گا۔ محمود بھائی بی ایس سی کے طالب علم اور مجھ سے سینئر تھے۔ غلط کیسے ہو سکتے تھے۔ خوش ہوا کہ کوئی نئی چیز ہونے جا رہی ہے۔

اگلے دن محمود بھائی پھر آئے اور بتایا کہ طلبا کی فلاح کے لئے انہوں نے ایک بہت بڑی تنظیم بنائی ہے، ہزاروں طلبا کو اس کی ممبر شپ دی گئی ہے مگر اس کی قیادت کا حق وہ کسی دوسرے کو نہیں صرف اپنے ذاتی دوستوں کو دیں گے ۔ خود تو وہ لیڈرہیں ہی،اس تنظیم کے صدر۔پھر انہوں نے اس تنظیم کا تازہ چھپا ہوا پیڈ نکالا۔ کل سات عہدیدار تھے۔ ان سات عہدیداروں میں مجھ ناچیز کا نام بھی شامل تھا۔ بقول محمود بھائی میں اس بہت بڑی تنظیم کا کلچرل سیکرٹری تھا۔ یہ کلچرل سیکرٹری کیا ہوتا ہے، میں سوچنے لگا۔ ایک بات اس وقت تک بہت سنی تھی کہ سکھوں اور ہمارا کلچر ایک ہے ۔ میں کلچر کو سمجھنے کے لئے بڑی دیر تک سکھوں اور اپنے لوگوں میں مماثلت تلاش کرتا رہا مگر کچھ سمجھ نہ آیا۔ ہم ٹاٹ سکولوں میں پڑھنے والوں کا یہ المیہ ہے کہ چیزوں کو بہت پہلے جان جاتے ہیں اور سمجھ بہت دیر بعد آتی ہے۔ خصوصاً انگریزی کی بڑے بڑے لفظ گھوٹ پہلے لیتے ہیں اور سمجھتے بہت بعد میں ہیں۔ کلچر جو بھی ہو بعد کی بات ہے خوشی تو یہ تھی کہ میں ہزاروں طلبا کا نمائندہ کلچرل سیکرٹری تھا۔

شام کو محمود بھائی دوبارہ ملے۔ کہنے لگے کل سہ پہر تین بجے بڑی زور دار پریس کانفرنس کر رہا ہوں۔ تم میرے ساتھ بیٹھو گے۔صاف ستھرے اور بہترین کپڑے بلکہ سوٹ پہن کر میرے ساتھ چلنا ہے۔ریگل چوک سے ہائیکورٹ کو آتے ہوئے دائیں طرف کلاسیک سے کچھ آگے گارڈینیا ریسٹورنٹ ہوتا تھا۔ تین بجے سے کچھ پہلے ہم بڑی شان سے گارڈینیا کے ہال میں داخل ہو رہے تھے۔ محمود بھائی نے پہلے سے سارا انتظام کیا ہوا تھا۔ ایک بڑی میز لگی تھی ایک طرف پانچ کرسیاں لگی تھیں اور سامنے صحافیوں کے لئے بیس کے قریب کرسیاں تھیں۔ُریس ریلیز تیار تھی صحافیوں کو وہ دے دی گئی۔ تصویریں اتارنے کے لئے اس کاغذ کا کچھ حصہ محمود بھائی نے پڑھا۔ سوال جواب ہوئے۔ کچھ کے جواب ٹھیک تھے اور کچھ آئیں بائیں شائیں۔ پھر چائے کا دور چلا اور صحافی رخصت ہو گئے ۔

میں بھی جانا چاہتا تھامگر محمود بھائی کچھ الجھے الجھے پھر رہے تھے۔ کچھ دیر بعد پتہ چلا کہ صحافی توقع سے زیادہ آنے کے سبب بل زیادہ بن گیا ہے اور محمود بھائی اس کا کوئی حل ڈھونڈھ رہے ہیں۔محمود بھائی میرے پاس بھی آئے کہ کچھ پیسے ہیں تو نکالو۔ ان دنوں میٹرک میں مجھے دس روپے مہینہ ملتے تھے۔ ایف ایس سی میں شاید پندرہ ہو گئے تھے۔ میں نے جیب میں ہاتھ ڈالا اور موجود آٹھ آنے بڑی شان سے نکالے۔ محمود بھائی نے وہ جھپٹنے کے بعد کہا ، دو روپے ابھی کم ہیں۔ کسی دوسرے کی جیب میں کوئی رقم نہ تھی۔ مجبوری میں محمود بھائی نے اپنا کوٹ ہوٹل والوں کے سپرد کیا اور ہم یرغمال لوگ گھروں کو لوٹ آئے۔ اس کے بعد اس کلچرل سیکرٹری نے بہت کوشش کی کہ اپنے صدر صاحب سے ملاقات ہو مگر صدر صاحب کبھی نظر نہ آئے البتہ ان کے کوٹ کی داستان میں علاقے میں بڑی دیر تک ہر بچے کی زبان پر رہی۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tanvir Sadiq

Read More Articles by Tanvir Sadiq: 442 Articles with 230034 views »
Teaching for the last 46 years, presently Associate Professor in Punjab University.. View More
18 Apr, 2018 Views: 309

Comments

آپ کی رائے