اداروں سے سیاست کا خاتمہ

(RIAZ HUSSAIN, Chichawatni)
جب تک اداروں سے سیاست ختم نہیں ہوتی، اس وقت تک ایک عام کو میرٹ اور ڈی میرٹ سے نہیں نکالا جا سکتا۔ عام کی آدمی کی زندگی دن بدن اجیرن ہو تی جائے۔ اگر ہم قومی اداروں میں سیاسی اثر ختم کرنے میں کامیات ہو جاتے ہیں تو پاکستان دنیا کا وہ ترقی یافتہ ملک ہو گا جس کی کہیں بھی مثال نہیں ملے گی۔ سیاست کے اثرات سے پاک ادارے عام آدمی کے لیے بھی وہی کچھ کریں گے جو وہ اشرافیہ ، وڈیرے یا دیگر ایسے عوامل کے لیے کرتے ہیں۔ اس طرح عام اور خاص آدمی ایک ہی صف میں کھڑے ہو جائیں۔ ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز۔

دنیا میں کوئی بھی ایسا ملک نہیں جو پلیٹ میں رکھ ملا ہویا آزادی حاصل کی ہو۔ ہر آزاد ہونے والے ملک نے اپنی آزادی کے لیے کتنی قربانیاں دیں اس کی قیمت یا قدر وہ لو گ ہی جانتے ہیں جو لوگ قوم بن جاتے ہیں۔کیونکہ آزادی کسی نظریہ اور مشن کے تحت ہی حاصل کی جاتی ہے اگر کوئی نظریہ نہ ہوتو آزادی نہ ممکن ہے۔ آزادی ہمیشہ قربانی مانگتی ہے۔علامہ اقبال ؒ کا خواب دیکھنا قائد اعظم ؒ کا اس خواب کی تعبیر بن کر اپنا کلیدی رول ادا کرنا اور آخرکار آزادملک کا قیام ہونا ۔ دوستو! یہ ملک پاکستان ہمیں تھالی میں رکھ کر نہیں ملا یہ واحد ملک ہے جس کے لیے دنیا کی سب سے بڑی ہجرت کرنا پڑی، اسے حاصل کرنے کے لیے کم و بیش دس لاکھ جانوں کا نذرانہ دیا ۔ دو قومی نظریے سے حاصل کیے جانے والا ملک آج نظریہ ضرورت میں تبدیل ہو کر رہ گیا۔ لمحہ فکریہ ہے ۔آخردو قومی نظریہ سے نظریہ ضرورت میں کیونکر تبدیل ہوا۔ اس نظریہ کو تبدیل کرنے کی کیوں ضرورت محسوس ہوئی؟ کہیں ایسا تو نہیں اشرافیہ نے اپنی ہوس، زر، اثاثوں کو بچانے کے لیے جمہوریت کا راگ الاپ کر بے مقصد جمہوریت کی طرف لے جانے کے لیے نظریہ ضرورت کا نام دے دیا؟ کبھی میری باری اور کبھی آپ کی باری۔جس ملک میں باری ، باری کام شروع ہو جائے وہاں کی قوم کا مقدر ترقی کی بجائے پستی بن جاتا ہے ۔ آج پاکستان کا سروے کرکے دیکھو غربت، ذہنی غربت ، پسماندگی ، ناخواندگی ، اخلاق کا گر جانا، احساس کا ختم ہوجانا، معاشرتی برائیوں کا عروج پکڑ جانا، چوری اور ڈکیتی کی وارداتوں کا عام ہو جان،یہ سب کیا ہے؟آج پاکستان کو معرض وجود میں آئیے ہوئے 70برس ہو چکے ہیں۔ہم پھر غلامی کی زندگی کیوں گزارنے پر مجبور ہیں؟وڈیرہ شاہی کم ہونے کی بجائے بڑھ رہی ہے۔ غریب ،غریب تراور امیر ، امیر ترآخر ایسا کیوں ہے؟ کہاں کمی رہ گئی؟ کیا استاد اپنا رول ادا نہیں کر سکا؟ کیا اسلام کے نام پر بننے والے مدارس اپنے کردار ادا نہیں کر پائے ؟ لیکن جب ان سے سوال کیا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں ہم نے اپنا کردار نیک نیتی سے ادا کیا تو پھر افسوس یہ ہے کہ کمی کہاں رہ گئی؟ اب اس کمی کا ذکر کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ اپنی اپنی صفائی پیش کرنے کے لیے سب کے پاس کوئی نہ کوئی دلیل یا منطق ضرور ہے۔اگر جان کی امان پاؤں تو بس اتنا ہی کہنے کا حوصلہ رکھتا ہے ! جناب چیف جسٹس صاحب اللہ نے آپ کو بہترین موقع دیا ہے اور پھرجب آپ نے ایسی الجھی ہوئی جمہوریت ، کرپشن، بے راہ روی سے دوچار سسٹم کو چھیڑ ہی لیا ہے تو میرا بھی یہ ایک کھلا خط آپ کی خدمت میں پیش خدمت ہے۔ جناب چیف جسٹس صاحب جس ملک میں 70سال سے لاء اینڈ آرڈر صرف اور صرف غریب کے لیے ہی رہ جائے اور اشرافیہ کے گھر کی لونڈی بن جائے تو پھر آپ جس کو ہاتھ ڈالیں گے ایسے دھمکی آمیز فون کالز، پریس کانفرنس، زمین تنگ کر دینے کی دھمکیاں، یا پھر ریٹا ئر ہو جانا ہے ہم نے ہمیشہ ہی رہنا ہے، کیونکہ یہ کہنے والے موت کو بھول چکے ہیں، اسلامی سزاؤں کو غیر انسانی سزائیں کہنا وغیرہ وغیرہ یہ سب ہو گا کیونکہ ان سب کو گارڈ فادر بھی تو ۔۔۔۔۔ بنایا ہے۔ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے، آقائے دو عالم سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت طیبہ ، خلفائے راشدین کی زندگیاں آپ کے سامنے ہیں۔ پاکستان کے بانی قائد اعظم ؒ کا کردار اور دیگر اہم شخصیت کی زندگی کھلی کتاب کی طرح آپ کے سامنے ہیں، ، اللہ کے لیے اب ہر اس سرکاری ملاز م سے احساب لینے کا وقت آگیا جس نے بھی اپنی بے لگام حرص ، طمع اور ہوس جیسی لعنت کو کم کرنے کی بجائے غریبوں کا خون پی کر پورا کیا،آ پ حوصلہ کریں قانون کو سب کے لیے ایک کر جائیں، اس سے ناصرف کرپٹ مافیا، ، بیورو کریٹس اور اقرا پروری جیسی برائیوں سے نجات ملے گی بلکہ ایک تندرست معاشرہ کی بنیاد رکھی جائے گی۔ اسی طرح تمام اداروں کو سیاست کے چنگل سے آزاد کروایا جائے کیونکہ تمام ادارے اشرافیہ اور سیاست کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے آج ہر عام آدمی پریشان دکھائی دیتا ہے۔ کیونکہ پبلک ڈیلنگ والے ادارے سیاستدانوں کی مٹھی میں ہیں ۔ یہ فرعون اور خد ا بن کر فیصلے کرتے ہیں۔ جناب عالیٰ آپ راقم سے زیادہ علم رکھتے ہیں۔ محترم چیف جسٹس صاحب جب تک اداروں سے سیاست ختم نہیں ہوتی اس وقت تک میرٹ ڈی میرٹ ہی رہے گا، گارنٹی دیتا ہوں دنیا اِدھر ہی اُدھر ہو جائے میرٹ پر کچھ بھی نہیں ہوگا۔ آخر میں اگر آپ سب مل کر اس بحران سے نکل جاتے ہیں توٹھیک ، معذرت کے ساتھ، ایک پروپوزل ہے، کہوتو لکھ کر پلان بنا کر ارسال سکتا ہوں یا پھر آپ اور تینوں مسلح افواج کے چیف کی موجودگی میں اگر چند منٹ دیں تو سب کے سامنے پیش کرسکتا ہوں گو کہ یہ پلان ایک رات میں سب کچھ نہیں ٹھیک کر پائے گاالبتہ یہ ضرور ہے 95فیصد ملک کو اندرونی خدشات، اخلاقی برائیوں، ڈی میرٹ کو میرٹ پر ، اشرافیہ سے چھٹکار ہ ممکن ہو جائے گا یہی اس قوم کی اولین ترجیح ہے، اس تحریر میں راقم سے کوئی غلطی ہو گئی ہو تو معذرت ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہوں کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کو امن کا گہوارہ بنا دے اور قانون کی بالاد ستی قائم ہو جائے یہ قانون غریب اور امیر سب کے لیے ایک جیسا ہو جائے اور چھوٹے سے بڑے تک احتساب ہو۔ آمین ثم آمین۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: RIAZ HUSSAIN

Read More Articles by RIAZ HUSSAIN: 117 Articles with 63422 views »
Controller: Joint Forces Public School- Chichawatni. .. View More
19 Apr, 2018 Views: 429

Comments

آپ کی رائے