تیزاب گردی کے بڑھتے واقعات

(Dr Ch Tanweer Sarwar, Lahore)

حال ہی میں ایک تیزاب گردی کا واقعہ ہو جس کے مطابق گجرات یونیورسٹی کی ایم ایس سی کی طالبات پر تیزاب پھینکا گیا جس سے وہ بری طرح جھلس گئی ہیں ڈاکٹروں کے مطابق ان کی حالت تشویش ناک ہے اس طرح کے واقعات پہلے بھی کئی بار ہو چکے ہیں لیکن افسوس کہ ان واقعات پر قابو نہیں پایا جا سکا۔تیزاب کی کھلے عام فروخت بھی ایک سوالیہ نشان ہے ایسی چیز جس سے کسی کو خطرہ لاحق ہو اس کی فروخت پر مکمل پابندی ہونی چاہیئے تا کہ کوئی بھی اسے بآسانی حاصل نہ کر سکے اب اس واقعہ میں ماموں اور اس کے بیٹے نے یہ خوفناک جرم کیا ہے خبر کے مطابق بتایا گیا ہے کہ گاؤں چنن کے علاقے کی تین طالبات گجرات یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھیں ان میں دو سگی بہنیں اور ایک ان کی سہیلی تھی جو بس کے انتظار میں کھڑی تھیں کہ ملزمان موٹر سائیکل پر آئے اور ان تینوں پر تیزاب پھینک دیا تیزاب پھیکنے کی وجہ رشتہ سے انکار تھا جس کا ملزمان کو رنج تھا کیا ہم معمولی معمولی باتوں پر اس حد تک جا سکتے ہیں کیا ہم ذہنی طور پر اتنے پست ہو چکے ہیں کہ ہماری سوچ کا دائرہ کار صرف اور صرف بدلہ لینا ہی ہے ہم چھوٹی چھوٹی باتوں کو اپنی انا کا مسئلہ بنا لیتے ہیں اور کسی کی جان تک لینے سے باز نہیں آتے اور یہ انتہائی عمل کر گذرتے ہیں میں اس پر پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ ہم میں برداشت کا مادہ ختم ہو تا جا رہا ہے جو ہمارے معاشرے کے لئے انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے ہمیں اپنی تعلیمات پر توجہ دینی ہو گی کہ ہم سے کہاں غلطی سر زد ہو رہی ہے خدارا چھوٹی چھوٹی باتوں کو نظر انداز کر دیا کریں خود بھی خوش رہیں اور دوسروں کی خوشیوں کا بھی خیال رکھیں پنجاب میں خواتین پر تششدد ،تیزاب پھینکنا اور پٹرول سے آگ لگانے کے واقعات کئی باررونما ہوچکے ہیں جو ہماری ذہنی سوچ اور پسماندگی کا منہ بولتا ثبوت ہیں ایسے افراد یقیناً ذہنی مریض ہوتے ہیں ان کے علاج پر خصوصی توجہ کی ضروت ہے تا کہ ان واقعات پر قابو پایا جا سکے اس کے علاوہ ایسے انتہائی قدم اٹھانے والوں کے لئے سخت سے سخت سزا تجویز کی جائے تاکہ کسی کو دوبارہ ایسا قدم اٹھانے کی جرات نہ ہو تیزاب کی فروخت کے لئے لائسنس کو یقینی بنایا جائے تاکہ اس کی فروخت ہر ایک کی پہنچ سے دور ہو اس کے لئے تیزاب بیچنے والوں کو پابند بنایا جائے تا کہ پھر کوئی ایسا واقعہ رونما نہ ہو سکے ۔ہمیں کوئی حق نہیں کہ ہم کسی کی زندگی کو ایک لحمہ میں خراب کر دیں یقیناً ایسے لوگوں کے لئے سخت سزا ئیں نافذ کرنے کی ضرورت ہے تا کہ دوبارہ کوئی ایسی حرکت نہ کر سکے واقعہ کے مطابق تین طالبات جو گجرات یونیورسٹی میں ایم ایس سی کی طالبات ہیں ان میں سے دوبہنیں آسیہ اور سائرہ آپس میں سگی بہنیں ہیں اور ایک انکی سہیلی ہے تیزاب سے تینوں کو شدید نقصان پہنچا ہے واقعہ کے مطابق تیزاب پھینکنے ولا ان بچیوں کا سگہ ماموں ہے جس کا نام عبدلقدیر ہے جسے مقامی پولیس نے گرفتار کر لیا ہے اب ایسے شخص کو کسی صورت رہائی نہیں ملنی چاہیئے جتنی سخت سزا اس کو دی جائے گی وہی بہتر ہو گی کیونہ اگر ایسے ملزمان کے ساتھ نرمی برتی گئی تو آنے والے وقتوں میں ایسے کئی واقعات ہوں گے جنہیں روکنا نا ممکن ہو جائے گا اس لئے کسی بھی ایسے واقعہ جس سے کسی کی جان کو خطرہ لاحق ہو چھوڑا نہیں جا سکتا ۔پتانہیں ہمارا معاشرہ ایسا سنگدل معاشرہ کیوں بنتا جا رہا ہے مسلمان ہونے کے ناطے بھی ہم رحم ،صبر اور معاف کرنے کی سکت نہیں رہی اس کی بڑی وجہ ہمرا اسلام کی تعلیمات سے دوری ہے ہم قران کو کو نہ تو پڑھتے ہیں اور نہ ہی اسے کھبی سمجھنے کی ضرورت محسوس کی ہے یہی وجہ ہے کہ ہم ذہنی پسماندگی کا شکار ہو کر ایسے واقعات کے مرتکب ہو جاتے ہیں مذہب اسلام ہمیں صبر اور شکر کا درس دیتا ہے جس کو ہم نے بھلا دیا ہے غصہ آنا اور غصہ کی حالت میں اس قدر حرکت کا سرزد ہو جانا کسی بھی شخص اور معاشرے میں بڑھتا عدم توازن کو ظاہر کرتا ہے ہم میں برداشت ختم ہو چکی ہے قرانی تعلیمات سے ہم سب کو روشناس کرانے کی ضرورت ہے اس کے لئے ہم سب کا فرض ہے کہ اپنی اپنی جگہ ہم مل کر کوشش کریں اور ہر گاؤں اور محلہ میں مسجدوں میں مولوی حضرات ایسے خطبات دیں جن سے ایسے لوگوں کی اصلاح ہو سکے ہمیں اپنے معاشرے کو اپنی بہن،بیٹی،بیوی اور ماں کی عزت کرنے کا سبق دینا ہو گا کیونکہ اب تو ایسے واقعات بھی ہو رہے ہیں کہ خونی رشتے ہیں اپنوں کی قتل میں ملوث پائے جاتے ہیں اس کی کئی وجوہات ہیں لیکن سب سے بڑی وجہ تعلیم کی کمی ہے جس کی وجہ سے ہم اپنے خونی رشتوں کا تقدس بھی بھول گئے ہیں۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: H/Dr Ch Tanweer Sarwar

Read More Articles by H/Dr Ch Tanweer Sarwar: 287 Articles with 1340730 views »
I am homeo physician,writer,author,graphic designer and poet.I have written five computer books.I like also read islamic books.I love recite Quran dai.. View More
23 Apr, 2018 Views: 348

Comments

آپ کی رائے