بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو اُجاگر کرنا

(Shoukat Ullah, Banu)

اکثر اوقات یہ سننے میں آتا ہے کہ محکمہ تعلیم وہ شعبہ ہے جہاں سب سے زیادہ چھٹیاں ہوتی ہیں لیکن ہم یہ سوچنے سے قاصر ہوتے ہیں کہ آخر اتنیچھٹیاں کیوں دی جاتی ہیں اور ان کا مقصد کیا ہے۔ در حقیقت اس کا بنیادی مقصد بچوں کو طویل مصروفیات میں وقفہ فراہم کرنا ہوتا ہے تاکہ وہ ذہنی و جسمانی دباؤ سے چھٹکارا حاصل کر کے اپنی کاکردگی میں نکھار پیدا کرسکیں۔ ان چھٹیوں کے علاوہ سکول بچوں کے میں تخلیقی صلاحیتیں پیدا کرنے کی غرض سے ہم نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں کا اہتمام بھی کرتے ہیں جن سے تخلیقی صلاحیتوں میں اضافہکے ساتھ ساتھ نصابی سرگرمیوں میں بھی دل چسپیپیدا ہوتی ہے۔

گزشتہ دنوں دی سٹی سکول بنوں برانچ کے زیر اہتمام یوم ِ والدین کے حوالے سے سالانہ تقریب منعقد ہوئی۔اس تقریب کے مہمان خصوصی ڈسٹرکٹ پویس آفیسر صادق بلوچ تھے۔ اس کے ساتھ سابق ہیڈ مسٹریس دی سٹی سکول وحیدہ ظفر اور کثیر تعداد میں والدین نے شرکت کی۔تقریب کا باقاعدہ آغاز سورت البقرۃ کی آخری تین آیات کی تلاوت ، انگریزی ترجمے اور مفہوم سمجھنے کے لئے مظاہراتی پیش کش کے ساتھ ہوا۔ ادارہ کے سرپرست نے مختصر الفاظ میں مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آج کا پرگرام بچوں کی صلاحیتوں کے نام ہے جنہوں نے نہایت محنت اور لگن سے خاکے اور ڈرامے تیار کئے ہیں۔ تقریب میں نرسری جماعت سے لیکر جماعت ہشتم تک کے بچوں نے مختلف آئٹم پیش کیے۔ رنگ برنگے کپڑوں میں ملبوس نرسری اور کنڈر گارٹن کے بچوں نے مہمان خصوصی اور دیگر مہمانان گرامی کے لئے ویلکم سانگ (Song ) پیش کیا۔ بچوں کا آپس میں ربط دیدنی تھا جس پر ہال میں موجود تمام سامعین نے دل کھول کر داد دی۔اس کے بعد جماعت اول کے بچوں نے معذور بچوں کے حوالے سے دل موہ لینے والا خاکہ پیش کیا۔ جس کا مو ٹو تھا کہ ہم معذور نہیں بلکہ تعلیم ہمارا بھی حق ہے ۔ہسٹری ڈیپارٹمنٹ کے بچوں نے مغلیہ دور کی یاد تازہ کی۔اکبر بادشاہ اور بیربل کے کردار نہایت جاذب اور مکالمے مسحور کُن تھے۔ اس کے بعد ننھے منھے بچوں نے سنڈریلہ اور سپر مین کے کرداروں کو اُجاگر کیا۔انگلش ڈیپارٹمنٹ کے بچوں نے ناول پَرل کا تھیم پیش کیا جب کہ چائلڈ لیبر کے سنگین مسئلہ کو اُردو ڈیپارٹمنٹ نے اُجاگر کیا جو ہمارے حکمرانوں کے لئے لمحہ ٔ فکریہ سے کم نہ تھا۔ بقولِ شاعر۔
افلاس نے بچوں کو بھی تہذیب سکھا دی
سہمے ہوئے رہتے ہیں شرارت نہیں کرتے

موجودہ دور میں موبائل فون کے بڑھتے ہوئے استعمال سے متعلق ’’اپنی تباہی ‘‘ کے عنوان سے خاکہ بھی تقریب کا حصہ تھا۔جس میں اَسّی کی دہائی کا موازنہ اکیسویں صدی کی دوسری دہائی کے ساتھ کیا گیا تھا۔اَسّی کی دہائی میں جب بچے روتے تو والدین اُن کو چوسنی اور ٹافیاں دے کر چُپ کرواتے اور ا َب موبائل فون تھما دیتے ہیں۔سیلفیوں کے مقابلوں میں اکثر و بیشتر افراد اپنی جانوں سے چلے جاتے ہیں۔ آخر میں ایم بی بی ایس ، ایم سی پی ، بی ڈی ایس ، ایل ایل بی ، پی ٹی سی ، ایم ایڈ اور بی ایڈ کی ڈگریوں کے حامل ’’ڈاکٹر ککو ‘‘ کو دکھایا گیا جو مریض کے لئے اتنی دوائیاں تجویز کرتا ہے کہ بے چاری ماں ’’مرتا کیا نہ کرتا ‘‘ کے مصداق اپنے اکلوتے بیٹے کے لئے بیس ہزار کی دوائیاں خرید لیتی ہے۔تقریب کا اختتام قومی ترانے پر ہوا۔ اس سے قبل مہمان خصوصی نے اساتذہ اور بچوں میں تعریفی اسناد اور میڈلز تقسیم کرتے ہوئے کہا کہ اپنے بچوں کے مستقبل پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیئے ۔اُن کے بہترین مستقبل کے لئے اچھی تعلیمی درس گاہ کا انتخاب اولین ترجیح رکھیں اور مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ بنوں کی سر زمین پر ایسے سکول موجود ہیں جو بچوں کی نصابی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ہم نصابی سرگرمیوں کا اہتمام کرتے ہیں۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shoukat Ullah

Read More Articles by Shoukat Ullah: 202 Articles with 128482 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Apr, 2018 Views: 725

Comments

آپ کی رائے