تجدید عہد کا دن

(Nabiha Arshad, Lahore)
قرار دادِ پاکستان میں ہماری زندگی کا شباب، ہماری آزادی کا طوفان، ہمارے دلوں کے ارمان، ماضیءمرحوم کی روایات ، ہمارے حال کی کہانی اور ہمارے مستقبل کی درخشانی جلوہ گر تھی۔

گردشِ زمانہ کے چند حسین لمحے ایسے ہوتے ہیں جو کاروانِ اقوام کا رُخ موڑ دیتے ہیں اور اپنے طور پر وقت اور زمانہ کی گردش کو روک کر اسے امر کر دیتے ہیں۔ ایسا ہی ایک دن اور حسین لمحہ 23 مارچ 1940 ء کا ہے۔ جب مسلمانوں نے تحریک پاکستان کی پُر پیچ مسافت طے کرتے ہوئے، اپنے محبوب قائد کی قیادت میں مینارِ پاکستان کے پُر وقار تاریخی مقام پر ایک متفقہ قرارداد منظور کی، جسے عرفِ عام میں قرار دادِ پاکستان کہا جاتا ہے۔

اس دن ہماری بہارِ زیست کا وہ سنگِ بنیاد رکھا گیا تھا جس کی تہہ میں دس کروڑ مسلمانوں کی امنگیں اورآرزوئیں انگڑائیاں لے کر بیدار ہو رہی تھیں۔

قرار دادِ پاکستان میں ہماری زندگی کا شباب، ہماری آزادی کا طوفان، ہمارے دلوں کے ارمان، ماضیءمرحوم کی روایات ، ہمارے حال کی کہانی اور ہمارے مستقبل کی درخشانی جلوہ گر تھی۔ اس دن باطل قوتوں کے منہ پر وہ تھپڑ رسید کیا گیا تھا کہ جس کی آواز سات سمندر پار سنی گئی تھی۔

23 مارچ کا دن ہم سب کے لیے تجدید عہد کا دن ہونا چاہیے۔ یہ دن محض خوشیاں منانے کا نہیں ، بلکہ خود کے محاسبے کا دن ہے۔ یہ دیکھنے کا دن ہے کہ ہم نے جو وعدے اپنے اللہ اور خلقِ خدا سے کیے تھے ان پر ہم کس قدر پورا اُترے ہیں؟ قرآنی قانون کا یہاں کتنے فیصد حصہ کا نفاذ کیا گیا ہے؟ آزادی کی نعمت عوام کے حصے میں کس قدر آئی؟ جمہوریت کو کتنا فروغ حاصل ہوا؟ معاشرے سے برائیاں کس قدر ختم ہوئیں اور قومی حیثیت سے ہم دنیا میں کس مقام پر کھڑے ہیں؟

یہ دن ہم سے تقاضا کر تاہے کہ پاکستان کی بنیاد جس نظریہء حیات پر رکھی گئی تھی اسے حیاتِ ملی کا دستورالعمل بنایا جائے۔موجودہ حالات کے تناظر میں وطن عزیز میں قومی یکجہتی ، امن عامہ اور استحکامِ پاکستان کی اشد ضرورت ہے۔ ہر پاکستانی شہری خواہ وہ کسی بھی فرقہ، مسلک یا صوبے سے تعلق رکھتا ہو اُسے قومی یکجہتی اور ملی یکسوئی کو پارہ پارہ کرنے والی منفی قوتوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہو گا۔ ہمیں اس مقصد میں کامیابی اور کامرانی حاصل کرنے کے لیے ایثار، قربانی اور جان کا نذرانہ دینے سے بھی دریغ نہیں کرنا چاہیے۔ آئیے ! آج ہم سب مل کر یہ عہد کرلیں کہ اپنے ملک کی سلامتی کے لیے مخلصی کا ثبوت دیتے ہوئے ہر مشکل کا سامنا کریں گے۔ اپنی تمام تر صلا حیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے پاکستا ن کی فلاح و بہبود کے لیے کوشاں رہیں گے اور اس کی دن دگنی رات چوگنی ترقی کے لیے محنت کریں گے اور پاکستانی شہری ہونے کی حیثیت سے بھرپور ذمہ داری کا ثبوت دیں گے۔ انشاء اللہ
؎ اس کو حق ہے چمن میں رہنے کا جو اپنے خوں سےآرائشِ بہار کرے

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Nabiha Arshad

Read More Articles by Nabiha Arshad: 16 Articles with 10680 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Apr, 2018 Views: 340

Comments

آپ کی رائے