گدھا ، نائب تحصیلدار اور مقبوضہ کشمیر کے انسان

(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
عملی زندگی میں اتنا بوجھ ہم پر پڑ گیا کہ یوں لگا کہ ہم گدھے ہی ہیں غم روزگار اور غم خاندان کو اپنے اوپر اتنا لادلیا کہ ایسا لگا کہ جیسے سارے جہاں کا بوجھ ہم نے ہی اٹھایا ہوا ہے اور اسی بوجھ کے تلے ہم اپنے آپ کو گدھا ہی محسوس کرتے رہے خیر اس معاملے میں گدھا ایک لحاظسے ہم سے بہتر ہی تھا کہ کہیں اگر کوئی چیز گدھے کو بری بھی لگتی ہے یا بوجھ اٹھانے سے انکار کردے تو کسی کی ہمت نہیں کہ اس پر بوجھ لے جائے ورنہ پھر گدھا لات مارتا ہے اور اپنے جذبات کا اظہار کرتا ہے لیکن ایک ہم کہ جذبات کا اظہار لات کے بجائے چیخ و پکار سے کرتے ہیں-لیکن بوجھ پھر بھی اٹھاتے ہیں.

گدھے گدھے ہوتے ہیں اور ان سے ہمیشہ بوجھ ڈھونے کا کام لیا جاتا ہے یہ بات ہم بچپن سے سنتے آرہے ہیں گدھا گاڑیوں میں سامان بھی لاتے اور لے جاتے دیکھا گدھے کی بے عزتی بھی دیکھی اس کی ٹھکائی بھی ہوتی دیکھی . یہ واحد جانور ہے جسے دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں بوجھ اٹھانے والے اس شریف جانور کی نہ تو کوئی عزت ہے اور اس کیساتھ کتنا ظلم ہوتا ہے لیکن یہ بچپن کی باتیں ہیں.. پھر..

عملی زندگی میں اتنا بوجھ ہم پر پڑ گیا کہ یوں لگا کہ ہم گدھے ہی ہیں غم روزگار اور غم خاندان کو اپنے اوپر اتنا لادلیا کہ ایسا لگا کہ جیسے سارے جہاں کا بوجھ ہم نے ہی اٹھایا ہوا ہے اور اسی بوجھ کے تلے ہم اپنے آپ کو گدھا ہی محسوس کرتے رہے خیر اس معاملے میں گدھا ایک لحاظسے ہم سے بہتر ہی تھا کہ کہیں اگر کوئی چیز گدھے کو بری بھی لگتی ہے یا بوجھ اٹھانے سے انکار کردے تو کسی کی ہمت نہیں کہ اس پر بوجھ لے جائے ورنہ پھر گدھا لات مارتا ہے اور اپنے جذبات کا اظہار کرتا ہے لیکن ایک ہم کہ جذبات کا اظہار لات کے بجائے چیخ و پکار سے کرتے ہیں-لیکن بوجھ پھر بھی اٹھاتے ہیں.

کچھ عرصے سے ہمارے ہاں ایک نیاکلچر فروغ پا رہا ہے جس میں اپنے مخالف کو گدھا کہنے کا رواج عام ہوتا جارہا ہے اب سمجھ میں نہیں آتا کہ کہنے والوں کا مقصد مخالفین کیلئے بوجھ لانے والا گدھا ہوتا ہے یا اس کے پاس دماغ نہیں ہوتا والا مطلب ہوتا ہے لیکن جب بھی کسی سیاستدان یا حکومت میں آنیوالے پارٹی سے بات کی جاتی ہے تو جواب ملتا ہے کہ پہلے والے گدھے تھے ان کے پاس دماغ نہیں تھا اور گدھوں کی طرح چلتے رہے اسی وجہ سے سب کچھ خراب ہے یہ الگ بات کہ ان کے بعد آنیوالے بھی اسی حکومت کے لوگوں کو گدھوں سے تشبیہ دیتے ہیں سمجھ میں نہیں آتا کہ ان میں جھوٹا کون ہے او ر سچا کون ہے لیکن ایک بات کی سمجھ ضرور آتی ہے کہ گدھے پاکستان کے عوام ہی ہیں کہ ان لوگوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں ٹیکسوں کی مد سے لیکر زندہ باد اور مردہ باد تک کیلئے ، جس طرح گدھے کو چلانے والے کو پیسے ملتے ہیں اور گدھا صبح و شام صرف گھاس کے چکر میں گدھوں کی طرح کام کرتا ہے.

ایک بات حقیقی گدھوں اور پاکستانی گدھوں ، سوری ، پاکستانی عوام میں مختلف ہے کہ گدھا ڈھینچو بھی کرسکتا ہے لیکن پاکستانی عوام اس کے مقابلے میں آوے آوے ، جاوے جاوے اور سڑک پر ڈانس کرسکتی ہیں اگر میری بات سے کسی گدھے ، سوری دوست کی دل آزاری ہوئی ہو تو معذرت خواہ ہوں ، لیکن ایک بات یاد رکھئیے گدھے برا نہیں مانتے-

بات گدھوں سے نکل کر کہاں تک پہنچ گئی کچھ عرصے سے ہم یہ بھی سنتے تھے کہ گدھوں کا گوشت بیچا جارہا ہے لاہور اور کراچی میں ٹکا ٹک کی ڈیمانڈ تو بہت زیادہ ہے اب اس میں کتنی حقیقت ہے یہ اللہ ہی جانتا ہے کہ گدھوں کا گوشت بازار میں فروخت ہوتا ہے اخبارات میں اس بارے میں خبریں بھی چھپی ہیں اور الیکٹرانک میڈیاو سوشل میڈیا پر تصاویر بھی گردش کرتی رہی ہیں. لیکن ایک بات یقینی ہے کہ گدھے ، سوری عوام اگر گدھوں کا گوشت بھی کھاتی ہے تو انہیں مزہ بھی آتا ہوگا کیونکہ جس طرح ہمارے ہاں لوگ اپنے مردہ بھائی کا گوشت غیبت میں کھاتے ہیں یقیناًاس پر مزے بھی لیتے ہیں اس لئے گوشت یا تو اپنے جیسوں کا کھا لے تو اس مزہ بھی آتا ہے یا پھر مخالف کا ، لیکن ایک بات یقینی ہے کہ ہم جنس کا گوشت کھانے کا مزہ ہی بالکل ایسا ہی ہوگا .

سکول کے زمانے میں جغرافیہ نامی کتاب میں پڑھتے تھے کہ ایسٹ انڈیا نامی کمپنی مدراس کے راستے تجارت کے نام پر ہندوستان میں داخل ہوگئی اور پھر بعد میں انہوں نے پورے ہندوستان پر قبضہ کرلیا قسمت کی بات کہ ہم نے دو سال قبل وہ قلعہ اور ساحل بھی دیکھ لیاجہاں پر گورے ایسٹ انڈیا کی آڑ میں ہندوستان میں داخل ہوگئے تھے کسی زمانے کا مدراس اب چنائی شہر ہے.ایسٹ انڈیا کمپنی کی آمد شائد ہمارے پردادا نے دیکھی ہوگی انہوں نے بھی شائد ٹھمکے لگائے ہوگے کہ تجارت بڑھے گی ہم خوشحال ہونگے لیکن پھر..

لیکن اب ہم نے چینی قوم کو سی پیک کی آڑ میں پاکستان میں داخل ہوتے دیکھ لیا جس طرح ایسٹ انڈیا کی آمد کے موقع پر لوگوں نے دھمال ڈالا تھا ابھی ہم بھی یہاں دھمال من الحیث القوم ڈال رہے ہیں شائد سو سال بعد ہماری ہی نسل کے لوگ کتابوں میں پڑھیں کہ چینی سی پیک کے ذریعے پاکستان میں داخل ہوئے .. چھوڑیں جی .. ان باتوں پر ہماری ناک کوئی چپٹی نہ کرے.اپنی بات سوری ..گدھوں کی بات کرتے ہیں..

بات گدھوں سے نکل کر کہیں اور نکل گئی جس گدھے کی وجہ سے ہم نے گدھوں پر لکھنے کا سوچا وہ مقبوضہ کشمیر میں نائب تحصیلدار کے امتحان کیلئے گدھے کو ایڈمشن سلپ جاری کرنے کا ہے جس میں بتایا گیاہے کہ مقبوضہ کشمیر میں نائب تحصیلدارکے امتحان کیلئے ایک گدھے کو ایڈمشن کارڈ جاری کیا گیا ہے ایڈمشن کارڈ پر گدھے کا نام بھور گدھا جبکہ تصویر بھی پرنٹ کی گئی ہے .اس سے قبل مقبوضہ کشمیر میں ایک گائے جو جبکہ مغربی بنگال میں ایک کتے کو بھی ایڈمشن کارڈ جاری کیا گیا.نائب تحصیلدار کے امتحان کیلئے ایڈمشن فارم جاری ہونا الگ بات لیکن ہم حیران ہیں کہ اس گدھے نے کن گدھوں کیساتھ پڑھا ہوگا. کسی تکنیکی غلطی سے گدھا بن گیا. یہ وہ سوال ہے جس کے بارے میں خبر جاری کرنے والی ایجنسی نے کچ نہیں کہا. خیر گھر میں ہمیں بھی اللہ مغفرت نصیب کرے والد کہا کرتے تھے کہ تم گدھے کے گدھے ہی رہو گے. اب پتہ نہیں کہ ان کا یہ بیانیہ محبت کا تھا یا انہوں نے مجھ میں بوجھ اٹھانے یا عقل کی کمی دیکھ لی تھی. خیر چھوڑیں.

ہم بھارت کے زیر انتظام مقبوضہ کشمیر کے سلیکشن بورڈ کی انتظامیہ کو داد دیتے ہیں کہ انہوں نے گدھوں سے بوجھ کے بجائے لکھنے لکھانے والا کام لینے کا آغاز کیا ہے ساتھ ہی اس گدھے کوخراج تحسین بھی پیش کرتے ہیں کہ اس کی وجہ سے اب گدھوں کی بھی اتنی اوقات بن گئی. اب ہمارے پڑوسی ممالک کے لوگ یہ بھی دنیا بھر کو دکھائیں گے کہ ہم نے گدھوں سے لکھنے لکھانے کا کام بھی لینا شروع کردیا ہے کیونکہ ہمارے ہاں جمہوریت ہے .ویسے جس دیس میں گائے ماں اور کتے مقدس بن جائے تو پھر وہاں گدھے ہی نائب تحصیلداربنیں گے سو ہمارے ملک کے گدھوں سوری عوام کی طرف سے گدھے کو مبارکباد اور ہم ہندوستان کے زیر قبضہ مقبوضہ کشمیر میں گدھوں کی عزت افزائی پر ان کیلئے نوبل پرائز کا بھی مطالبہ کرتے ہیں لیکن ساتھ ہی یہ مطالبہ یھی کرتے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں جتنے انسان ہیں ان سے کم از کم انسانوں والا رویہ اپنا یا جائے وہ گدھے تو نہیں کہ جو آپ کہیں گے وہ مانیں گے سو انہیں بھی آزاد چھوڑئیے.

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Musarrat Ullah Jan

Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 328 Articles with 175879 views »
40 year old working journalist from peshawar , attached with National & international media. as photojournalist , writer , blogger, VJ also.. View More
29 Apr, 2018 Views: 646

Comments

آپ کی رائے