ڈپریشن

(Ayesha Saeed, Karachi)
زندگی ہر انسان کےلیئے پہولوں کی سیج نہیں ہوتی ہے۔کچھ لوگ بغیر محنت کئے سب کچھ پا لیتے ہیں اور کچھ لوگ سب کچھ کرنے کے باوجود زندگی کی خوشیوں کو حاصل نہیں کر پاتے۔اس طرح کی صورتحال میں لوگ ڈپریشن کا شکار ہونے لگتے ہیں۔
اگر ہم لوگ صرف دس منٹ بھی اپنے اندر کی آواز کو سنیں تو آہستہ آہستہ ہی سہی لیکن ڈپریشن کا مرض کم ہو جائے گا۔

زندگی ہر فرد کے لئے پھولوں کی سیج نہیں ہوتی۔کچھ لوگ بغیر محنت کئے سب کچھ پا لیتے ہیں اور کچھ لوگ محنت کرنے کے باوجود زندگی کی خوشیوں کو حا صل نہیں کر پاتے۔جب ایسی صورتحال در پیش آتی ہےتو لوگ خدا سے شکوہ کرنے لگتے ہیں۔کوئ بہی فرد ایک لمحے کے لئیے بہی یہ نہیں سوچتا کہ کیا میری دعا میں تاثیر نہیں ہے۔عام طور پر لوگ کہتے ہیں کہ میرے مقدر میں ایسا لکھا تھا لیکن لیکن ایسا کہتے ہوئے کوئ بھی ایک لمحے کے لئےیہ نہیں سوچتا کہ کیا پتا اللہ مجھ سے میری کسی بات پر ناراض ہے۔

ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم لوگ تمام زندگی صرف شکوہ کرنے میں گزار دیتے ہیں یا نہ ملنے والی چیزوں کو یاد کرکے کڑ ھتے رہتے ہیں۔ہم خدا سے، لوگوں سے شکوہ کر تے ہیں لیکن ایک لمحے کے لئے بھی اپنے گریبان میں نہیں جہانکتے کہ کہیں میں غلطی تو نہیں کر رہی یا کر رہا ہوں۔آج کل کے جدید دور میں ہم زمانے کے ساتھ چلنے کے لئے ہم اپنے اپنے مذاہب سے دور ہوتے جارہے ہیں۔جسکی وجہ سے ڈپریشن کا مرض بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ہمارےمعاشرے میں ہر دوسرا بندہ ڈپریشن کا شکار ہو رہا ہے۔اسکی سب سے بڑی وجہ مذہب سے دوری ہے۔جب کوئی فرد مذہب سے دور ہوتا ہے تو وہ خود سے بھی دور ہوتا چلا جا تا ہے ۔ایسی صورتحال میں اس انسان کو اپنے ضمیر کی آواز سنائی نہیں دیتی۔

مشاہدے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دنیا میں لاکھوں ،کروڑوں لوگ ڈپریشن کا شکارہیں۔لوگ ڈپریشن کو دور کرنے کے لئے لاکھوں کی دوائیاں کھاتے ہیں لیکن یہ لوگ صرف دس منٹ اگر اپنے ضمیر کی آواز کو سنیں تو انہیں مایوسی کے دورے نہ پڑیں۔

آئے ہم جدید دور کے ساتھ ساتھ مذہب کو بھی لےکر چلیں تا کہ ہم اپنے ضمیر کی آواز کو سن سکیںاور ہمیں مایوسی کے دورے نہ پڑیں۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ayesha Saeed

Read More Articles by Ayesha Saeed: 2 Articles with 996 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
01 May, 2018 Views: 394

Comments

آپ کی رائے