اور بھی غم ہیں سیاست کے سوا

(عابد محمود عزام, Lahore)

کچھ روز پہلے ایک ہم جگہ چند دوست بیٹھے تھے۔ سب ہی مختلف اخبارات کے کالم نگار اور سوشل میڈیا یکٹیویسٹ ہیں۔ معاشرے میں فروغ پاتی نفرتوں سے متعلق بات چھڑی تو سب نے اتفاق کیا کہ معاشرے میں نفرت کو پروان چڑھانے میں سیاست کا اہم کردار ہے۔ سیاسی رہنما جلسوں میں اپنے کارکنوں کے سامنے مدمقابل جماعت کے رہنماؤں کے خلاف نفرت انگیز اور اشتعال انگیز باتیں کرتے ہیں، ان کے کارکنان بھی ان کی پیروی کرتے ہوئے مخالف جماعت اور مخالف رہنماؤں سے نفرت کرتے ہیں۔ یہی رویے معاشرے میں نفرت کو پروان چڑھا رہے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ سیاست پر کم سے کم بات کی جائے، تاکہ معاشرے میں نفرت نہ پھیلے، لیکن الیکٹرانک میڈیا سے لے کر پرنٹ میڈیا تک، پرنٹ سے لے کر سوشل میڈیا تک ہر جگہ زیادہ تر سیاست ہی موضوع بحث ہوتی ہے، جس کی وجہ سے دیگر بہت سے اہم ایشوز نظر انداز ہو جاتے ہیں۔ ہر وقت ہر جگہ صرف سیاست پر ہی بات سننے سے یوں لگتا، جیسے ملک میں صرف سیاست ہی بڑا مسئلہ ہے، اس کے علاوہ کوئی مسئلہ ہے ہی نہیں، حالانکہ معاشرے میں ان گنت اہم مسائل ہیں، جن کو اجاگر کرنا ملک و معاشرے کی بہتری کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ خصوصاً لکھاریوں کی ذمہ داری ہے کہ سیاست سے ہٹ کر ایسے دیگر ایشوز پر بھی لکھیں، جن پر اکثر توجہ نہیں دی جاتی۔

پاکستان ایک فلاحی اور آئیڈیل ریاست کے طور پر قائم کیا گیا تھا، لیکن بہت سے مسائل پاکستان کے فلاحی مملکت بننے کی راہ میں حائل ہیں۔ کسی قوم کی ترقی کا سب سے اہم سنگ میل اس کی اخلاقی حالت ہوتی ہے۔ اگر کسی معاشرے کی اخلاقی حالت آئیڈیل ہو تو اس قوم کا ترقی کرنا یقینی ہے۔ معاشرے میں قول و فعل کے تضاد، دھوکا دہی، مکر و فریب، غذائی اشیاء اور دواؤں میں ملاوٹ، ذخیرہ اندوزی، کم تولنا، جھوٹ بولنا، وعدہ خلافی، رشوت، چور بازاری، دوسروں کے مال و اسباب پر ناجائز قبضوں اور دیگر بہت سے ایسے اخلاقی رزائل ہیں، جن کی موجود گی میں کوئی قوم خواہ کتنے ہی علوم سے بہرہ ور ہو، کتنے ہی وسائل سے مالا مال ہو اور کتنی ہی افرادی قوت کی حامل ہو، ترقی سے ہمکنار نہیں ہو سکتی۔ ان مسائل کی وجہ سے قوموں کا زوال یقین ہوتا ہے۔ ایسی اخلاقی برائیوں میں نیچے سے لے کر اوپر تک ہم سب لوگ ملوث ہوتے ہیں۔ اس حوالے سے بھی لکھنا چاہیے کہ کس طرح ہم سب اپنی اخلاقی تربیت کرکے معاشرے کو آئیڈیل بنا سکتے ہیں۔

معاشرے میں انتہائی پسندی و جارحانہ سوچ بھی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ لوگ اپنی رائے کے علاوہ کسی کی بات سننا بھی برداشت نہیں کرتے۔ زبردستی سب پر اپنی ہی رائے مسلط کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اگر کسی کی رائے پسند نہ آئے تو اس کے خلاف دشنام طرازی شروع کردی جاتی ہے، یہ سراسر انتہاپسندی ہے۔ ہر انسان اپنی رائے اپنانے میں آزاد ہے۔ کسی پر اپنی رائے مسلط نہیں کی جاسکتی۔اس حوالے سے بھی لکھنا چاہیے کہ دوسرے شخص کی رائے کا احترام کس طرح کیا جاتا ہے اور اپنی غلط یا صحیح رائے کو دوسرے پر مسلط کرنا ہی انتہاپسندی ہے۔ معاشرے میں فرقہ واریت بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ مختلف مسالک کے لوگوں میں نفرتیں پائی جاتی ہیں۔ تقریباً ہر فرقہ و مسلک کے لوگ اپنے علاوہ دیگر تمام مسالک کو صفحہ ہستی سے حرفِ غلط کی طرح مٹا دینے کی تمنا رکھتے ہیں۔ جو دین معاشرے میں محبت پیدا کرنے کے لیے آیا تھا، مفاد پرست لوگ اس محبت کے دین کے ذریعے نفرتیں پھیلا رہے ہیں۔ تمام فرقوں میں نفرتیں ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا کے لکھاریوں کو اس حوالے سے بھی لکھنا چاہیے کہ تمام مسالک کے لوگ ایک دوسرے کا دل سے احترام کریں۔تمام فرقوں کے لوگ اپنی شاخت اپنے مسلک کے بجائے اسلام کے ساتھ کروائیں۔ اگر ہم مزاج اور زاویہ نگاہ میں اعتدال لائیں اور خندہ پیشانی، برداشت ، مذہبی رواداری اور تحمل و بردباری کو اپنائیں تو تضاد اور مخاصمت کی فضا کی جگہ باہمی موافقت و یگانگت اور محبت و مروت ہماری زندگیوں میں آجائے گی اور بہت سے مسلکی فروعی اختلافات کافی حد تک کم ہو سکتے ہیں۔ معاشرے میں لسانی، صوبائی، قومی اور علاقا ئی تعصبات بھی ہیں۔ ان تعصبات کو ختم کرنے کی سعی کرنی چاہیے۔ اس حوالے سے لکھنا چاہیے کہ تمام پنجابی، سندھی، بلوچی، پٹھان اور مہاجر خود کو صرف پاکستانی کہلوانے پر فخر محسوس کریں اور تمام تعصبات کو اپنے پاؤں تلے روند کر ذاتی مفادات کو ملک اور قومی مفادات پر قربان کردیں۔

معاشرے میں ناانصافی و ظلم و ستم کا راج بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔اکثر کمزور، مظلوم اور طاقتور، ظالم ہوتا ہے۔ ظلم کی وجہ سے قومیں تباہ و برباد ہوجاتی ہیں۔ لکھاریوں کو اس حوالے سے بھی لکھنا چاہیے کہ کسی بھی علاقے میں کسی بھی برادری، کسی بھی صوبے، کسی بھی علاقے کے کسی بھی شخص کے ساتھ ناانسافی ہو، اس پر ظلم ہو تو سب کو متحد ہوکر اس ظلم کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔ ملک میں کرپشن و بدعنوانی بھی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ اس میں صرف اعلیٰ حکام ہی ملوث نہیں، بلکہ نیچے سے لے کر اوپر تک تقریباً ہم سب لوگ ہی ملوث ہوتے ہیں۔ جس کا جہاں بس چلتا ہے، بدعنوانی کرتا ہے۔ اس پر لکھنا چاہیے کہ کس طرح ہم سب لوگ خود کو بدعنوانی سے بچاکر ملک و معاشرے کو سنوار سکتے ہیں۔ معاشرے میں جنسی جرائم بڑھتے جارہے ہیں۔ آئے روز اس حوالے سے تکلیف دہ خبریں آتی ہیں، روز کوئی جان جنسی درندوں کی بھینٹ چڑھ جاتی ہے، اس کے اسباب پر غور کر کے اس کی روک تھام کے لیے بھی لکھا جاسکتا ہے۔

کتاب کی اہمیت پر بھی لکھا جاسکتا ہے۔ کتاب سا ہمارا رشتہ دن بدن کمزور ہوتا جارہا ہے۔ مطالعہ کا ذوق ختم ہوتا جارہا ہے، حالانکہ جس قوم پرکتابوں کی حکمرانی ہو، وہی قوم دنیا پر حکمرانی کرتی ہے۔ جو قوم کتابیں پڑھنا اور ان سے محبت کرنا سیکھ جاتی ہے، وہ دوسروں سے آگے نکل جاتی ہے۔ جو اقوام علم وکتب کے اعتراف عظمت میں بخیل نہیں ہوتیں اور مطالعہ کتب کی عادت اپنا لیتی ہیں، وہ زندگی میں فتح و ظفرکی حقدار ہوتی ہیں۔ یورپ کے بعض ملکوں میں صرف کتابوں کو پروموٹ کرنے کے لیے تحریکیں چلائی گئیں۔ بحیثیت مجموعی ہم نے کتاب سے دوری اختیار کی تو آج حالات سب کے سامنے ہیں کہ عالم اسلام کی تنزلی کا شروع ہونے والا سفر بہت تیزی کے ساتھ پستی کی جانب رواں دواں ہے اور دور دور تک عالم اسلام کی اس تنزلی کو بلندی میں بدلنے کے امکانات موہوم دکھائی دیتے ہیں۔ ہمیں بھی دنیا میں بلند مقام حاصل کرنے کے لیے کتاب سے اپنے تعلق کو مضبوط کرنا ہوگا۔

درختوں کی اہمیت پر لکھا جاسکتا ہے۔ درختوں کی کمی کی وجہ سے خطرناک موسمی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں۔ گلوبل وارمنگ کی وجہ درختوں کی کمی ہے۔ گلوبل وارمنگ کی وجہ سے کرہ ارض کے درجہ حرارت میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ درخت جانداروں کے لیے قدرت کا انمول تحفہ ہیں، جو نہ صرف ہمیں آکسیجن فراہم کرتے ہیں، بلکہ ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے میں بھی معاون ثابت ہوتے ہیں۔ زلزلے اور سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچاؤ اور زمین کے کٹاؤ کو روکنے کا اہم ذریعہ بھی ہیں اور شجرکاری گلوبل وارمنگ کے اثرات زائل کرنے کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ ان کے علاوہ بھی بہت سے مسائل ہیں، جن پر لکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: عابد محمود عزام

Read More Articles by عابد محمود عزام: 869 Articles with 419976 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 May, 2018 Views: 483

Comments

آپ کی رائے