ذرا سوچیں! معاشرے کی درجہ بندی

(Riaz Hussain, )

شام غروب ہونے کو تھی میں تنہائی میں اپنا ماضی ٹٹول رہا تھا ، کتنی خوبصورت شام تھی ، پرندے اپنے اپنے گھروں کو واپس جا رہے تھے سورج اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمکنے کے بعد غروب ہو رہا تھا۔ ہلکی ہلکی ہوا چل رہی تھی۔ کچھ چھوٹے چھوٹے بچے اپنے ماضی ، مستقبل اور حال سے بے خبر کاغذوغیرہ یا لکڑیوں کو کاٹ چھانٹ رہے تھے۔ لیکن میں نہ جانے کس سوچ میں غرق ہو کر اپنا ماضی لے کر بیٹھ گیا ، شائد اس لیے کہ میں ایک دیہاتی گھرانے سے تھا ، یا ایک اچھے ادارے میں جاب کر چکا تھا ، یا پھر ارد گرد کے ماحول نے سوچنے پر مجبور کر دیا تھا۔ اپنے ہوش سنبھالنے سے لے کر حال کا وقت ایک فلم کی طرح دماغ میں گھو م گیا مگر کوئی خاص جواب نہ ملا ۔ سوال کیا تھا کہ ہم مسلمان ہونے کے باوجود معاشرتی درجہ بندی کی گہرائیوں میں کیوں دھنسے جا رہے ہیں۔ یہ حقیقت سچ ہے کہ سب لوگوں کا طرز زندگی ایک جیسا نہیں ہے اور نہ ہی ہوسکتا ہے لیکن پھر ایک مسلم معاشرہ ہونے کی حیثیت سے کم از کم معاشرتی فاصلے تو کم ہونے چاہیں لیکن یہ فاصلے دن بدن زور پکڑتے جا رہے ہیں۔ جاگیردارانہ ، وڈیرہ ازم، بادشاہت جیسے موذی مرض سے نجات پانے کے لیے دو قومی نظریہ پیش ہوا، پھر پاکستان وجود میں آیا لیکن افسوس جس نظریہ کے تحت اس وطن عزیز کو لاکھوں قربانیاں دینے کے بعد حاصل کیا آخر ان کا ثمر کہاں؟ ماضی قریب میں جائیں تو بڑی مشکل سے پورے دیہات میں ایک TVہوا کرتا تھا سب بچے اس گھر میں اکٹھے ہو کر بچوں کی کہانیاں یا ڈ رامے دیکھتے لیکن جیسے جیسے میڈیا عام ہوتا گیا معاشرتی فاصلے بڑھتے گئے تواس سے یہ ثابت ہوا کہ میڈیا نے اپنا رول ادا کیا مگر منفی انداز میں ، ماڈرن ماحول دکھایا، رہن سہن کے طریقے کو جدت بخشی، جس سے روز گار نے زور پکڑا اور ایک مقابلہ شروع ہو گیا۔ دوسری طرف یہی میڈیا دن رات معاشرہ کو ایک کرنے کے دعوے کر رہا ہے۔ ہم سب یہ کہتے ہیں کہ پردہ سکرین انسانی دماغ پر نسبتاً زیادہ اثر کرتا ہے بجائے اس کے کہ کوئی اس کو بات سنائے وغیرہ وغیرہ۔ تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر ہمارے اندر ایک مثبت سوچ کیوں بیدار نہ ہوسکی؟ آج سیاسی ، عدالتی ، صحت، تعلیمی اداروں کو دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ ہم سب کہاں کھڑے ہیں؟ رمضان مبارک کا مہینہ شروع ہوا TVچینلز پر مختلف پروگرام شروع ہوئے ، بے بہا انعامات سے لوگوں کو نواز ا گیا بہت اچھی بات، خوشی کی بات ، لوگوں کو لاکھوں مالیت کے انعامات مل گئے، گاڑی، فریج، AC اوون، موٹر سائیکلز ، سونا اور نہ جانے کیا کیا انعامات کی صورت میں بانٹا گیا ، کمپنیوں کی اشتہار بازی ہو گئی۔ بڑے جوش و خرش کے ساتھ یہ پروگرام اپنے اختتام کو پہنچے کچھ ابھی چل رہے ہیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ اے میڈیا والو! معاشرے اور پاکستان کو یکجہتی کا راگ الاپنے والو! اگر آپ کو اﷲ تعالیٰ نے یہ موقع دیا ہے تو کبھی تو سوچو! کہ جتنے لوگ آپ کے TVشومیں ٹکٹ لے کر آتے ہیں ان کا کس کلاس سے تعلق ہے ؟ ان میں تقریبا ً80فیصد پہلے ہی ایلیٹ کلاس سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں۔ لیکن جو لوگ اس پہنچ اور سہولت سے کوسوں دور ہیں ان کے لیے کیا کیا؟ چند ایک گھرانے TVپر لا کر سر خرو ہو گئے نہیں! بلکہ لوگوں کو مایوس کیا ۔ ایک مہینے میں 29 پروگرامon airگئے۔ ایک انتہائی مہنگے اور خوبصورت سیٹ پر پروگرام لائیو چلائے گئے ، اس بابرکت مہینے میں کم از کم 10 پروگرام باہر ان لوگوں کے درمیان بھی کر لیتے جو ٹکٹ نہیں لے سکتے ، جن کو اس میں شمولیت کا علم نہیں یا جن کے پاس اپنے پیٹ کا دوزخ بھرنے کی فکر لگی ہوئی ہے۔ ان کے درمیان جاتے ان میں بھی خوشیاں بانٹتے ان کے طرز زندگی یا بودو باش میں رہتے ہوئے پروگرام ترتیب دیتے ان کو بھی انعامات سے نوازتے ، یہ بھی ٹھیک ہے کہ وہ فریج، ACیا دیگر مہنگے اپلائنسز کو کیسے استعمال میں لاتے ، بجلی جیسی ناپیدا چیز کا بل کیسے ادا کرتے، وہ ایک آپشن موجود تھا جو انعام لینا چاہے تو انعام لے ورنہ ا اس کے عوض اس کی قیمت یا پھر وہ خود اس کو سیل کرکے اپنی زندگی کو بہتر کر لیتا ، اپنے بچے کی فیس ادا کرلیتا، اچھے ڈاکٹر کے پاس اپنا یا اپنے والدین کا علاج کروالیتا، اچھا کاروبار کرلیتا، عید پر اپنی خوشیاں سمیٹ لیتا ، بیٹی کی شادی میں مدد ہو جاتی ، میرا سوال ہے ان کمپنی اور TVمالکان سے کہ ایسا ممکن نہیں تھا کہ ان کو بھی خوشیوں میں شامل کرتے، ان کا جواب ہوگا نہیں ہم نے تو ایسے لوگوں کو پروگرامز میں ایسے لوگوں کو شامل کیا ہے۔میرا سوال ہے کہ جن لوگوں کو شامل کیا ہے ان کو انگلی پرشمار کیا جاسکتا ہے جبکہ اس کے برعکس جو کھاتے پیتے گھرانوں کے یا ایلیٹ کلاس کے لوگ تھے ان کو بھی انگلیوں پر گِن کر دکھاؤ جنہوں نے شرکت کی، میری آپ سے لڑائی نہیں بس ایک درخواست، التجااور التماس ہے کہ پلیز معاشرے میں اتنا فاصلہ نہ رکھو کہ سنوارنے کی بجائے بگاڑ پیدا ہو جائے جبکہ TVہی ہمیں بتاتا ہے کہ کتنے غریب اور غربت کی لیکر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ اس سے نا صرف میڈیا کا رول بہت بہتر اور متاثر کرے گا بلکہ بھائی چارہ قائم میں سنگ میل ثابت ہوگا۔ کدورتیں ختم ہونگی، محبتیں بڑھیں گی۔ لیکن میڈیا نے ان لوگوں تک رسائی نہیں کی، ان کو ان کے حال پر رہنے پر مجبور کردیا ، تو رویے سے ہم نے کونسا رول ادا کیا معاشرے کو یکجا کرنے کا یا معاشرے میں درجہ بندی کا، اس پر ذراسوچیں اور اپنی رائے سے آگاہ کریں۔ آن لائن آرٹیکل/کالم دینے کا قطعاً یہ مطلب نہیں کہ واہ واہ بلکہ اپنے اپنے انداز میں اپنی آرا سے آگاہ کرنا مقصود ہوتا ہے شائد میری اس سوچ یا پیغام سے کوئی بہتر ہو سکے ۔ آؤ مل کر فیصلہ کریں کہ ہم سب نے معاشر ے کو یکجا کرنا ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: RIAZ HUSSAIN

Read More Articles by RIAZ HUSSAIN: 117 Articles with 63656 views »
Controller: Joint Forces Public School- Chichawatni. .. View More
03 May, 2018 Views: 548

Comments

آپ کی رائے