راه حق

(Mona Shehzad., Calgary.)

آج شافعہ بے چینی کا شکار تھی. وه کمرے میں بے تابی سے چکر پر چکر لگا رہی تھی. بیچ بیچ میں وہ خودکلامی بھی کرتی تھی. اس کو دیکھ کر کوئی بھی کہہ سکتا تھا کہ وہ دماغی مریضہ ہے. اس کی حالت کے ذمہ دار پچھلے مہینے کے واقعات تھے. وه ایک ہنس مکھ ،شوخ و شنگ لڑکی تھی. مگر ایک دن ایک ایسا طوفان اس کی زندگی میں آیا جس نے اس کے قدم اکھاڑ دیے.

شافعہ کراچی یونیورسٹی میں ایم اے انگریزی کی طالبہ تھی. ایک دن یونیورسٹی سے نکلتے وقت شہر میں فسادات پھوٹ آئے. ایک مشہور سماجی شخصیت کا قتل شافعہ نے اپنی آنکھوں سے ہوتے دیکھا. تمام عینی شاہدین فٹا فٹ تتر بتر ہوگئے. جو لوگ موقعہ واردات پر رہ گئے تھے پولیس اور رینجرز کے آنے پر وہ بھی منکر ہوگئے کہ انہوں نے کچھ دیکھا ہے. مگر شافعہ نے عینی گواہ بننے کی حامی بھر لی. مجمع میں لوگ اس کو ترحم آمیز نظروں سے دیکھ رہے تھے . کچھ بزرگوں نے آگے بڑھ کر اس کو منع کرنے کی کوشش بھی کی. مگر شافعہ ایک حق پرست اور سچ گو لڑکی تھی. اس کی روح ایک انسانی زندگی کا اس عبرتناک طریقہ سے ضائع ہوجانے پر نوحہ کناں تھی. اس نے حق کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا.

آنے والے دن اس کے لیے ایک بھیانک خواب جیسے ثابت ہوئے. اس کو پولیس والے وقت بے وقت تھانے بلا لیتے. اسے اور اس کے گھر والوں کو جان سے مارنے کی دھمکیاں ملنے لگئی تھیں. پرسوں ایک موٹر سائیکل سوار نے اس کے منہ پر تیزاب پھینکنے کی کوشش کی. کل صبح شافعہ کی کورٹ میں گواہی تھی. اس کے گھر والے اس کو گواہی بدل دینے کے لیے زور لگا رہے تھے .شافعہ ایک کشمکش کا شکار تهی. اچانک اس کے زہن میں ایک آیت گونجی؛
یا ایها الذین امنوا کونوا قوامین بالقسط شھدآء للہ ولو علی انفسکم اوالوالدین والاقربین ان یکن غنیا او فقیرا فاللہ اولی بھما فلا تتبعوا الھوی اَن تعدلوا و ان تلوااوتعرضوا فان اللہ کان بما تعملون خبیرا۔ النساء ۱۳۵

مفہوم : اے لوگو! جو ایمان لائے ہو ، انصاف کے علمبردار اور خدا واسطے کے گواہ بنو اگرچہ تمہارے انصاف اور تمہاری گواہی کی زد خود تمہاری اپنی ذات پر یا تمہارے والدین پر یا رشتہ داروں پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو ۔ فریق معاملہ خواہ مالدار ہو یا غریب ، اللہ تم سے زیادہ ان کا خیر خواہ ہے ۔ لہذا اپنی خواہش نفس کی پیروی میں عدل سے باز نہ رہو ۔ اور اگر تم نے لگی لپٹی بات کہی یا سچائی سے پہلو بچایا تو جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو

اللہ کو اس کی خبر ہے ۔
اس کے ذہن اچانک ایک فیصلہ پر پہنچ کر مطمئن ہوگیا. اس نے راه حق کا راستہ چنا تها. چاہے اس میں اس کی جان ہی کیوں نہ چلی جائے. اس نے نجات کا راستہ چن لیا تها.
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mona Shehzad

Read More Articles by Mona Shehzad: 168 Articles with 178263 views »
I used to write with my maiden name during my student life. After marriage we came to Canada, I got occupied in making and bringing up of my family. .. View More
03 May, 2018 Views: 361

Comments

آپ کی رائے