یوم مزدور تو منا لیا……مزدور کو حقوق کب دیں گے؟

(عابد محمود عزام, Lahore)

ہر سال کی طرح امسال بھی دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی یکم مئی کو عالمی یوم مزدور منایا گیا۔ اس موقع پر ملک بھر میں عام تعطیل کا اعلان بھی کیا گیا، جس کی وجہ سے تمام اسکول اور سرکاری ونجی دفاتر بند رہے۔ مزدور کے حقوق، اس کے مسائل، ان کا حل، لیبر قوانین پر عملدرآمد، مزدوروں کا معاشی تحفظ وغیرہ کے متعلق سیمینارز، کانفرنسز وغیرہ منعقد کی گئیں۔ محنت کشوں کے عالمی دن کے موقع پر صدر پاکستان ممنون حسین نے پیغام دیتے ہوئے کہا کہ آج کا دن محنت کشوں کے حقوق کے تحفظ کی علامت کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس دن یہ عہد دہرایا جاتا ہے کہ محنت کش قومی ترقی و خوشحالی کے لیے اپنی ذمہ داری پوری نیک نیتی اور ایمان داری سے ادا کرے گا اور آجر ریاستی و غیر ریاستی، ہر سطح پر محنت کش کے حقوق کی ادائیگی یقینی بنائے گا۔ میں آج کے دن کی مناسبت سے نہ صرف اپنی قوم بلکہ عالمی برادری کو یہ بتاتے ہوئے مسرت محسوس کرتا ہوں کہ اس سلسلے میں حکومت پاکستان کی تمام تر پالیسیاں اسی سنہری اصول پر استوار ہیں جن کا تحفظ ریاست کا آئین کرتا ہے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے محنت کشوں کے عالمی دن پر پیغام دیتے ہوئے کہایکم مئی ترقی میں مزدوروں کے کردار کے اعتراف کا دن ہے۔ صحت مند، خوشحال، تعلیم یافتہ کارکن ہی ملک کو ترقی سے ہمکنار کر سکتے ہیں۔ حکومت محنت کشوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔ ملک بھر میں یکم مئی کو مزدور رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ مزدور کی ماہانہ اجرت 15 ہزار روپے سے بڑھا کر30 ہزار روپے مقرر کی جائے۔ مزدوروں کی بہبود سے متعلق جو قوانین فرسودہ ہوکر ناقابل عمل بن چکے ہیں، ان میں نئے حالات کے مطابق مرکزی اور صوبائی حکومتیں ترامیم کریں۔ ورکرز ویلفیئر فنڈ میں پڑے160 ارب روپے کی رقم کو مزدوروں کی بہبود پر خرچ کرنے کے لیے نئے قومی بجٹ میں بھی کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔ ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹ کے لیے مزدور کی عمر ساٹھ سال سے کم کرکے55 سال مقرر کی جائے، تاکہ اس کی زندگی میں کبھی وہ اس فنڈ سے پنشن لے بھی سکے، یہ ماہانہ پنشن بھی کم از کم 15 ہزار روپے مقرر کی جائے۔

1886 میں یکم مئی کے دن امریکا کے شہر شکاگو کے مزدور، سرمایہ داروں اور صنعت کاروں کی جانب سے کیے جانے والے استحصال پر سڑکوں پر نکلے تھے، لیکن پولیس نے اس پرامن جلوس پر فائرنگ کرکے سیکڑوں مزدوروں کو ہلاک اور زخمی کردیا، جبکہ درجنوں کو اپنے حق کے لیے آواز بلند کرنے پر پھانسی دے دی گئی تھی، لیکن یہ تحریک ختم ہونے کی بجائے دنیا بھر میں پھیلتی چلی گئی جو اب بھی جاری ہے۔ یکم مئی کو ہر سال یہ دن اس عہد کے ساتھ منایا جاتا ہے کہ مزدوروں کے معاشی حالات تبدیل کرنے کے لیے کوششیں تیز کی جائیں۔ پاکستان میں قومی سطح پر یوم مئی منانے کا آغاز 1973 میں پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں ہوا۔ گزشتہ کئی برسوں سے دنیا بھر میں یکم مئی کا دن مزدوروں کے عالمی دن کے طور پر منایاجاتا ہے، لیکن محنت کشوں کے مسائل کے حل کے لیے اس قدر سنجیدہ کوششیں نہیں کی گئیں جس قدر ہونی چاہیے تھیں۔ یکم مئی کومزدوروں کی ہر گزرتے دن کے ساتھ خراب تر ہوتی حالت پر صرف بیان بازی کی حدتک ازالہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ قراردادیں پیش ہوتی ہیں اور بھلا دی جاتی ہیں۔ مزدوروں کی معاشی بدحالی کا رونا رویا جاتا ہے۔ مزدوروں کا عالمی دن کارخانوں ، کھیتوں کھلیانوں ،کانوں اور دیگر کارگاہوں میں سرمائے کی بھٹی میں جلنے والے کروڑوں محنت کشوں کا دن ہے اور یہ محنت کش انسانی ترقی اور تمدن کی تاریخی بنیاد ہیں۔المیہ یہ ہے کہ اس دن بھی پوری دنیا میں بالخصوص تیسری دنیا کے ممالک میں محنت کش استحصال کا شکار ہیں۔ پاکستان کی 6کروڑ سے زائد لیبر فورس میں سے صرف 2.8فیصد یونین سازی کے حق سے بہرہ مند ہے۔ ان میں پبلک سیکٹر کا حصہ 65فیصدسے زائد ہے۔ اگر پبلک سیکٹر کو نکال دیا جائے تو پرائیویٹ سیکٹر میں منظم مزدوروں کی تعداد ایک سے 1.5فیصدتک رہ جاتی ہے۔ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں سے ہے جنہوں نے بین الاقوامی ادارہ محنت آئی ایل او کے 28ویں کنونشن پر دستخط اور ان کی توثیق کی ہے، لیکن اس پر عملدرآمد بالکل نظر نہیں آیا۔

حکومت کی جانب سے غیر ہنر مند مزدور کے لیے مقرر کردہ کم از کم تنخواہ 15000روپے ماہانہ ہے جو کہ آج کی ہوش ربا مہنگائی میں انتہائی قلیل ہے، لیکن یہ بھی 90 فی صد سے زاید ہنرمند مزدوروں کو بھی میسر نہیں۔ اوقات کار جو کہ آٹھ گھنٹے روزانہ ہیں اور لازم ہفتہ وار چھٹی بھی قانون میں درج ہے، لیکن ان پر شاذ ونادر ہی عمل ہوتا ہے۔ مزدوروں کی اکثریت 12سے14گھنٹے کام کرتی ہے اور ہفتہ وار چھٹی خال خال ہی ہوتی ہے۔ اسی طرح محنت کش عورتوں کی منظم اور غیرمنظم شعبے میں شمولیت تیزی سے ہو رہی ہے۔ سرمایہ داروں کے لیے بچوں سے سستی محنت پر بڑھتی ہوئی بازپرس اور تنقید کے بعد محنت کش عورتیں سستی محنت کا سب سے بڑا ذریعہ بن گئی ہیں۔ یوم مزدور پر لمبی چوڑی تقریریں کرنے والے حکومتی بااختیار افراد صرف مزدور کی کم از کم تنخواہ میں 4 افراد کی فیملی تو کجا 2 افراد کے ماہانہ اخراجات کا بجٹ بناکر دکھادیں۔ مزدور اس وقت تک خوشحال نہیں ہوسکتا، جب تک سیاست میں سے سرمایہ داروں کا عمل دخل ختم نہیں ہوجاتا اور ایسا فی الوقت کوئی امکان نظر نہیں آتا کہ مزدورں کے جائز حقوق انہیں مل سکیں۔ مزدور ہونا جرم بن چکا ہے۔ مزدور یونین کے نام پر کام کرنے والے افراد بھی دکھاوے کی حد تک مزدور حقوق کی باتیں کرتے ہیں۔ مزدوروں کی فلاح میں اگر حکومت، مزدور یونینیں، این جی اوز اگر واقعتاً مخلص ہیں تو عملی بنیادوں پر ان قوانین کو نافذ کرنا ہوگا جوکہ مزدور پالیسیوں میں درج ہیں۔

حکومت کی طرف سے یکم مئی کو ملک بھر میں یوم مزدور تو منایا جاتا ہے، لیکن مزدوروں کے ساتھ نہ تو حکومتی سطح پر انصاف کیا جاتا ہے اور نہ ہی ان کی نمائندگی کرنے والی لیبر یونینز ان کے حقوق کے لیے آخری حد تک کوششیں کرتی ہیں۔ اس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے کہ مزدور کی حالت ہر گزرتے دن کے ساتھ خراب تر ہوتی چلی جارہی ہے۔ کئی لیبرقوانین اور پالیسیاں تشکیل دی گئیں، لیکن نتیجہ صفر ہے۔ قیام پاکستان کے بعد اب تک چھ لیبر پالیسیاں بنیں۔ پہلی لیبر پالیسی 1955ء میں، دوسری 1959ء، تیسری 1969ء، چوتھی 1972ء، پانچویں 2002ء اور چھٹی لیبر پالیسی 2010ء میں بنائی گئی۔ یہ پالیسیاں صرف کاغذی کارروائیاں ثابت ہوئیں۔ تمام قوانین اور پالیسیوں کی تشکیل کا مقصد تو مزدور کی فلاح و بہبود ہے، لیکن آج حالات ہم سب کے سامنے ہیں کہ مزدور گردے اور بچے فروخت کرنے پر مجبور کردیا گیا ہے اور سرمایہ دارانہ نظام نے ملک پر اپنے پنجے گاڑھ لیے ہیں۔ ملک میں تمام پالیسیاں ملک پر قابض سرمایہ داروں کے تحفظ میں ہی بنائی جاتی ہیں۔ جب تک ملک کی پالیسیاں اس سرمایہ دار طبقے کی مفاد میں بنتی رہیں گی، تب تک مزدوروں کا استحصال ہوتا رہے گا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: عابد محمود عزام

Read More Articles by عابد محمود عزام: 869 Articles with 419384 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
05 May, 2018 Views: 1152

Comments

آپ کی رائے