انسانی اسمگلنگ پر قابو پایا جاسکے گا؟

(عابد محمود عزام, Lahore)

پاکستان میں آئے روز انسانی اسمگلنگ کے تلخ واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔ انسانی اسمگلنگ کے واقعات میں بڑی تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور دیگر جرائم کی طرح انسانی اسمگلنگ کا گھناؤنا کاروبار بھی عروج پر ہے۔ خاندان کی معاشی بہتری اور آنکھوں میں روشن مستقبل کے سہانے خواب سجائے بیرون ملک جانے والے لوگ ایسے ایجنٹوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں جو انہیں بھاری رقم کے عوض بہتر مستقبل کا خواب دکھا کر پرخطر اور غیر قانونی طریقے سے بیرون ملک لے جانے کے لیے اپنے جالوں میں پھنسالیتے ہیں اور پھر اکثریت منزل مقصود پر پہنچنے سے پہلے ہی موت کے منہ میں پہنچ جاتی ہے۔ لیبیا اور تربت میں موت کو گلے لگانے والے افراد اس کی مثالیں ہیں، جنہیں انسانی اسمگلنگ کے ذریعے بیرون ملک لے جایا جارہا تھا۔ اگرچہ حکومت پاکستان انسانی اسمگلنگ میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کر رہی ہے، لیکن اس دھندے میں اتنے بڑے لوگ ملوث ہیں کہ ان پر قابو پانا آسان کام نہیں ہے۔ گزشتہ روز ایف آئی اے اور اے این ایف کی الگ الگ کارروائیوں میں انسانی اسمگلر سمیت 7روٹ ایجنٹ گرفتار کیے گئے اور ان سے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔ ایف آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر نے میڈیا کو بتایا کہ طاہر منیب یوسف عرف جارج نے لوگوں کو یورپ اور امریکا بھجوانے کے لیے لاہور چمبرز آف کامرس میں اپنی 2 کمپنیاں رجسٹرڈ کرا رکھی تھیں، جن کی مدد سے خود کاغذات تیار کرواتا اور لوگوں کو کاروباری شخصیات بنا کر بیرون ملک خصوصاً یورپ اور امریکا بھجوانے کا دھندہ کرتا تھا۔ ملزم عرصہ دراز سے سپین میں مقیم ہے اور لوگوں کو اپنے بیرون ملک ہونے پر متاثر کر کے لوٹتا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ امجد حسین نامی ملزم سادہ لوح شہریوں کو لیبیا ملازمت دلوانے کا جھانسہ دے کر لاکھوں روپے سے محروم کر چکا ہے۔ گرفتار ملزمان میں سلمان فرخ لوگوں کو سپین بھجوانے کا جھانسہ دے کر لاکھوں روپے سے محروم کر چکا ہے۔ ملزم مہر عرفان جعلی کاغذات پر سپین سے بے دخل ہونے پر گرفتار کیا گیا ہے۔ ملزم مزمل حسین شہری مرزا ارشد بیگ کو باہر بھجوانے کا جھانسہ دے کر رقم وصول کرتا ہوا رنگے ہاتھوں پکڑا گیا ہے۔ ڈپٹی ڈائریکٹر چوہدری محمد احمد نے میڈیا کو بتایا کہ حج عمرہ کے سیزن میں گلی محلوں میں قائم خود ساختہ ایجنٹوں سے شہریوں کو خبردار رہنے کی ضرورت ہے۔ شہریوں کو سستے پیکیج پر حج و عمرہ کے لیے بھیجنے کی پرکشش پیش کش کرنے والے فراڈ گروپوں میں جن سے لوگوں کو خبردار رہنا چاہیے، انہوں نے کہا کہ صرف ان ایجنٹوں سے جوع کرنا چاہیے جن کے شہر کے مختلف علاقوں میں باقاعدہ دفاتر قائم ہیں اور وہ لائسنس یافتہ ہیں۔

بین الاقوامی سطح پر اسمگلنگ ایک منظم اور بھیانک جرم ہے، اس جرم سے کسی قسم کا فائدہ حاصل کرنا یا کسی قسم کی معاونت کرنا بھی جرم ہے۔ بہتر معاشی مستقبل، غربت کی وجہ سے اکثر لوگ بیرون ملک جانے کی کوششیں کرتے ہیں۔ ایجنٹس نیٹ ورکس ان کو قانونی طریقے سے باہر لے جانے کی بجائے غیر قانونی طریقوں سے سرحد عبور کرانے کا انتظام کرتے ہیں اور اس انتظام کرنے پر بھاری رقوم بھی حاصل کرتے ہیں۔ غیر قانونی سرحد عبور کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد راستے میں ہی یا تو گرفتار ہوجاتی ہے یا پھر سرحدی فوجیوں کی گولیوں کا نشانہ بن جاتی ہے۔ انسانی اسمگلنگ کا آغاز کئی دہائیوں قبل 50 کے عشرے میں بے ضرر اور قانونی طریقے سے ہوا تھا اور یہ سلسلہ ضلع جہلم، تحصیل کھاریاں، ضلع گجرات وغیرہ میں پھیل گیا۔ 60، 70 کے عشرے میں بیرون ملک جانے والوں نے جرمنی اور دیگر یورپی ممالک کا رخ کیا۔ 90 کی دہائی میں مہاجرین کا یورپ میں داخلہ مشکل ہوگیا، جس کے بعد پاکستانی نوجوانوں نے ایران، ترکی اور پاکستان میں موجود انسانی اسمگلروں کا سہارا لیا۔ کئی دہائیوں تک غیر قانونی تارکین وطن، زمینی اور سمندری راستوں کے بجائے بذریعہ ہوائی سفر یورپ جاتے رہے، بعد ازاں 90 کے عشرے میں کچھ یورپی ممالک نے ہوائی سفر کے حوالے سے سختی کردی، جس کی وجہ سے لوگ زمینی سفر کو ترجیح دینے لگے۔ غیر قانونی تارکین وطن کی بڑی تعداد کا تعلق پنجاب سے ہوتا ہے جن میں زیادہ تر افراد غیر تعلیم یافتہ یا کم تعلیم یافتہ ہوتے ہیں جن کی عمر 15 سے 40 سال تک ہوتی ہے اور ان کا تعلق دیہات یا نیم شہری علاقوں بالخصوص ضلع گجرات اور منڈی بہاؤالدین سے ہوتا ہے۔ دیہی آبادی سے تعلق رکھنے والے افراد انتہائی خطرناک سفر کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ان افراد میں بیرونی دنیا کو دیکھنے کی خواہشات بھی زیادہ ہوتی ہے جس کی وجہ سے اسمگلرز کے لیے یہ افراد آسان ہدف ہوتے ہیں۔ معاہدے کے تحت ایجنٹس اس کام کے لیے 4 لاکھ سے 7 لاکھ فی کس تک کا معاوضہ وصول کرتے ہیں۔ معاہدے کے تحت انہیں ایران اور ترکی کے زمینی راستے سے یونان پہنچانے کی 3 کوششیں کی جاتی ہیں اور اس کے بعد اس کام میں ملوث دیگر ایجنٹس غیر قانونی مہاجرین کو یورپ کے دیگر علاقوں تک لے جاتے ہیں۔

ذرایع کے مطابق ہر سال 30 سے 40 ہزار پاکستانی براستہ بلوچستان اور ہوائی سفر سے غیرقانونی طریقے کو اپناتے ہوئے یورپ میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں اور ان کی منزل ترکی، روس، وسطیٰ مغربی ممالک ہوتے ہیں۔ زیادہ تر غیر قانونی تارکین وطن پاک ایران سرحد پر ہی گرفتار کرلیے جاتے ہیں اور متعدد ایران میں داخل ہوتے ہی پکڑے جاتے ہیں۔ ایف آئی اے کے ریکارڈ کے مطابق گزشتہ برس 26 ہزار پاکستانیوں کو ایران نے بے دخل کیا۔ بلوچستان کے راستے یورپ میں داخل ہونے کے لیے متعدد راستے اختیار کیے جاتے ہیں۔ ایک راستہ کراچی براستہ آر سی ڈی ہائی وے، تافتان اور پھر ایرانی شہر زاہدان سے ترکی کی سرحد پر نکلتا ہے، دوسرا راستہ کراچی سے سستان، بلوچستان سے ہوتے ہوئے لسبیلہ اور کیچ اضلاع تک نکلتا ہے۔ اس کے علاوہ کوئٹہ سے مغربی بلوچستان کے سرحد علاقے تافتان اور ماسکیل یا راجے والا روٹ ہے۔ دوسری جانب ایک سمندری راستہ بھی ہے جس کے لیے پہلے کراچی سے کوسٹل ہائی وے کے ذریعے ضلع گوادر اور وہاں سے مکران پہنچا جاتا ہے۔

پاکستان میں اس گھناؤنے دھندے سے ایک ہزار سے زائد کریمنل نیٹ ورک منسلک ہیں۔ حکومت اور انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے متعلقہ ادارے بھی ان جرائم پیشہ لوگوں پر ہاتھ ڈالنے سے قاصر ہیں۔ ایف آئی اے ڈائریکٹر اور دیگر اہلکاروں کے مطابق مشتبہ افراد کے خلاف درج متعدد مقدمات پیسوں کی لین دین پر رضامندی کے بعد ختم کردیے جاتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ یہ افراد قانون کی گرفت میں آنے سے بچ جاتے ہیں، تاہم دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ ایف آئی اے اہلکار اپنے ریجنل دفاتر میں اسمگلروں کو دیگر راستے دکھانے کے لیے ڈیل کرتے ہیں۔ حتیٰ کے ایسے ملزمان جنہیں گرفتار کرکے عدالتوں میں پیش کیا جاتا ہے اور سزائیں سنائی جاتی ہیں، انہیں جرمانے سے زائد کبھی کبھار ہی بڑی سزائیں دی جاتی ہیں۔اس جرم میں ملوث ملزمان کے خلاف ایمیگریشن آرڈیننس 1979 کے تحت 17 سے 22 تک کی دفعات کے تحت مقدمات درج کیے جاتے ہیں، ان دفعات کے تحت ملزمان کو 5 سال تک کی سزا (اور ایک ہی جرم میں دوبارہ گرفتاری کی صورت میں 7 سال تک کی سزا) یا جرمانہ یا پھر دونوں سزائیں دی جاسکتی ہیں۔ ایف آئی اے کے ریکارڈ کے مطابق اکتوبر 2017 تک ایک ہزار 8 سو 98 انسانی اسمگلنگ میں ملوث مجرموں کو سزائیں سنائی گئیں جن میں سے ایک ہزار 2 سو 45 افراد کو صرف جرمانے کی سزا دی گئی، جبکہ دیگر 653 مجرموں میں سے 97 فیصد افراد کو ایک سال سے بھی کم عرصے کے لیے قید کی سزا دی گئی۔ رواں ماہ اپریل میں قومی اسمبلی سے ملک میں انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے پہلا خصوصی قانون اسمگلنگ مائیگرینٹس بل 2018 پاس ہوا، جس کے مطابق اس عمل میں ملوث افراد کو کم سے کم 3 سال کی سزا اور 5 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا جائے گا، جبکہ اگر اس عمل میں کسی کے جان جانے اور معذور ہونے کا خطرہ ہو تو پھر اس میں مجرموں پر مزید سنگین پابندیاں عائد کی جائیں گی۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: عابد محمود عزام

Read More Articles by عابد محمود عزام: 869 Articles with 417363 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
07 May, 2018 Views: 353

Comments

آپ کی رائے