حقوق نسواں

(Ayesha Ahmed, Lahore)

میرے ہاتھوں سے اور میرے ہونٹوں سے خوشبو جاتی نہیں
کہ میں نے اسم محمدﷺ کو لکھا بہت اور چوما بہت
آپﷺ کی آمد سے قبل عربوں کے حالات زندگی
آج سے تقریبا پندرہ سوسال پہلے عرب پہ چھایا جاہلیت کا اندھیرا ان کے اخلاقی انحطاط کی عکاسی کرتا تھا۔عرب معاشرہ تمام اخلاقی برائیو ں سے لبریز تھا۔ا۔عربوں کی اخلاقی ابتری کا یہ حال تھا کہ شراب نوشی عام تھی۔اور ہر گھر میں شراب پی جاتی تھی۔شراب کے باقاعدہ پیمانے بنائے ہوئے تھے۔اور مر د اور عورتیں مل کر شراب پیتے تھے۔،جوا،ڈاکہ زنی،زنا سر عام کیا جاتا تھا۔،غلاموں اور لونڈیوں کی تجارت عروج پر تھی۔،جھوٹ،غیبت،چوری چکاری، عام تھی۔سود کا کارابار بڑے فخر سے کیا جاتا تھا۔پروفیسر ڈاکٹر مدثر احمد میرِ حجاز میں لکھتے ہیں۔
"سود خوری کا رواج بھی عام تھا۔یہ سود خوری کا طریقہ اہل عرب میں یہودیوں سے آیا
جو غریب کسانوں اور مزدوروں کو سود پر قرض دیتے تھے۔جبکہ بعد میں سود خوری کا سلسلہ
پورے میں رائج ہوگیا۔سود کی مختلف صورتیں تھیں،ایک صورت یہ تھی کہ سود خور جنس کے
وعدہ پر قرض دیتا اور اگر مقررہ وقت پر قرض ادار قرض کے عوض پوری جنس ادا نہ کر سکتا
تو ماہوار مدت بڑھا دیتا ،لیکن ساتھ ہی جنس کی مودار بھی بڑھا دیتا،اس طرح نہ ختم ہونے
والا سلسلہ شروع ہوجاتا۔"
عورت کی حثیت ایک غلام کی سی تھی۔جسے جب چاہا اپنا لیا اور جب چاہا چھوڑ دیا۔عورت مرد کی ملکیت تھی۔وہ اسے مار سکتا تھا،چھوڑ سکتا تھا۔اور جوئے میں ہار سکتا تھا۔اور شوہر کے مرنے کے بعد یا تو اسے زندہ جلا دیا جاتا تھا یا وراثت کی طرح بیٹوں کے پاس چلی جاتی تھی۔وہ اسے غلام بنا کر رکھتے یا بیچ دیتے،۔بیٹی قابل نفرت تھی۔بیٹی کی پیدائش پر باقاعدہ سوگ منایا جاتا تھا۔اور بیٹی کو زندہ زمین میں گاڑھ دیا جاتا تھا۔اسی سلسلے میں قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے۔
"اور زندہ گاڑھی ہوئی بیٹی سے پوچھا جائے گا وہ کس جرم میں ماری گئی۔
میر حجاز میں مصنف لکھتا ہے۔
"جس کے ہاں بیٹی پیدا ہوتی وہ معاشرہ میں منہ چھپائے پھرتا تھا۔
وہ خیال کرتا بیٹی بڑی ہو کر کسی دوسرے کے گھر چلی جائے گی اور کوئی
فرد ا س کا داماد کہلائے گا۔جو ان کے لیے معیوب تھا۔دوسری وجہ
غربت تھی،جس کی وجہ سے وہ اپنی بیٹی کی پیدائش اور پرورش کو
معاشی بوجھ خیال کرتے تھے۔

بت پرستی عام تھی۔آگ،لکڑی اور پتھروں کی پوجا کی جاتی تھی۔صرف خانہ کعبہ میں تین سو ساٹھ بت تھے،جن کو خدا مانا جاتا تھا اور انہی بتوں سے مدد مانگی جاتی تھی۔اور ان پرچڑھاوے چڑھائے جاتے تھے۔اور کے سامنے سجدہ کیا جاتا تھا۔قتل و غرات عام تھی۔معمولی بات پہ جنگ چھڑ جاتی تھی۔انسانی جان کی کوئی اہمیت نہ تھی اور انسانی خون پانی کی طرح بہایا جاتا تھا۔حلال ار حرام کی کوئی تمیز نہیں تھی۔غرض کوئی ایسی برائی نہ تھی جو عربوں میں نہ موجود ہو۔ہر طرف کفر و شرک کا اندھیرا چھایا ہوا تھا۔اور عرب معاشرہ پستی کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوبا ہوا تھا۔یسا لگتا تھا کہ دور دور تک امید کی کوئی کرن نہیں ہے جو عرب معاشرے کو تاریکیوں سے نکال سکے۔جو انہیں شیطان کے راستے سے ہٹا کر رحمان کے راستے پر لے جائے۔اور صرف ایک خدائے بزرگ و برتر کی بندگی پہ ان کو آمادہ کر سکے۔جو ان کو بتا سکے کہ صرف ایک اﷲ کی عبادت ہی انہیں سیدھے راستے پر چلا سکتی ہے۔لیکن عرب لوگ اس حقیقت کو تسلیم کرنے پر تیار نہیں تھے۔بقول اقبال
قوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دے
دہر میں اسم محمد سے اجالا کر دے

آپﷺ کا ظہورِ مبارک
پھر رحمت خدا وندی جوش میں آئی۔اﷲ کو عربوں کی اخلاقی پستی پہ رحم آگیا۔اور بارہ ربیع الاول کوسرور کونین،شاہ انبیا۔سید المرسلین۔خاتم الانبیا دنیا میں تشریف لائے۔اور پورے عرب میں نور ہی نور پھیل گیا۔قیصر و کسری کے محل ہیبت سے ہلنے لگے۔بادشاہوں کے دل دہلنے لگے۔مہ خانے مٹ زمین بوس ہو گئے۔پیمانے گلیوں میں بہہ گئے۔ظلمت کے بت پاش پاش ہو گئے۔بنتِ حوا کے سر پہ چادر آگئی۔بدکاری مٹی میں دفن ہو گئی۔سود خور ی مٹ گئی۔قتل و غارت رک گئی۔اور چار سو امن و سلامتی ہو گئی۔اور توحید کی روشنی چار سو چھا گئی۔اور عورت کو باعزت مقام عطا کیا گیا۔
اسلام کی شاعت اور انسانی حقوق۔
کسی بھی معاشرے کی ترقی کا راز وہاں بسنے والی انسانی حقوق کی حفاظت پر منحصر ہے۔اور کامیاب معاشرے وہی ہوتے ہیں جہاں انسانوں کے تمام بنیادی حقوق کی حفاظت کی جائے،ترقی یافتہ معاشروں پر نظر دوڑائیں تو وہاں بنیادی انسانی حقوق پر بہت زور دیا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ جب نبی پاک ﷺکو جب بعثت سے سرفراز کیا گیا تو ساتھ ہی انسانی حقوق و فرائض سمجھا دیے گئے،آپ ﷺ نے لوگوں کو حقوق ااﷲ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد پورا کرنے پر زور دیا گیا۔جس میں آپﷺ نے ہر فرد کو اس کی زندگی میں آنے والے دوسرے افراد کے حقوق ادا کرنے کا حکم دیا گیا۔جسے حقوق العباد کہا جاتا ہے ،یعنی جس فرد کا جو حق ہے ،اسے وہ حق دیا جائے۔بہن بھائی،والدین،رشتے دار،دوست،پڑوسی،اساتذہ،کارباری افراد،ہم سفر،بیوی،شوہر،غلام،لونڈی اور دیگر ماتحت اور اپنے سے بالا سب لوگوں کے حقوق مقرر فرمائے ہیں،اور انہیں بجا لانے کا حکم دیا ہے۔آخری خطبہ حجتہ الوداع میں آپﷺ نے جامع اور مفصل انداز میں حقوق اﷲ اور حقوق العباد کی تشریح کی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ کے بنیادی انسانی حقوق میں اس خطبہ کو نمایاں مقام دیا گیا ہے۔

حقوق نسواں
وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے سازسے ہے زندگی کا سوز دروں
(اقبال)
عورت کیا ہے؟؟؟
عورت محبت ہے۔جس کی وجہ سے کائنات کا حسن ہے۔
عورت پھول ہے۔جس کی وجہ سے گلشن مہکتے ہیں۔
عورت سراپا رحمت ہے۔جس سے گھر میں برکت ہوتی ہے۔
عورت چاند ہے جو مرد کو روشن کرتا ہے۔
عورت کہکشاں ہے جو اولاد کوجوڑے رکھتی ہے۔
بابا اشفاق احمد لکھتے ہیں
"آپ عورت کے ساتھ کتنی بھی عقل و دانش کی باتیں کر یں؟کیسے بھی دلائل کیوں نہ دیں
اگر اس کی مرضی نہیں ہے تو وہ اس منطق کو کبھی نہیں سمجھے گی۔اس کے ذہن کے اندر اپنی منطق
کا ڈرائینگ روم ہوتا ہے جسے اس نے اپنی مرضی سے سجایا ہوتا ہے۔اور وہ اسے روشن کرنے
کے لیے باہرکی روشنی کی محتاج نہیں ہوتی۔اس لیے وہ کسی عقل و دانش اور دلائل کے معاملے
میں مانگے کی روشنی کی محتاج نہیں ہوتی،اس نے جو فیصلہ کر لیا ہوتا ہے وہی اس مسئلے کا واحد
اور آخری حل ہوتا ہے۔

عورت جب پیدا ہوتی ہے تو کوئی اس کی پیدائش پر خوشی نہیں مناتا۔لیکن پھر بھی وہ تمام عمر لوگوکو خوشیاں دینے میں گزار دیتی ہے۔جب ماں اور باپ کے گھر ہوتی ہے تو ماں باپ اور بھائیوں کی خدمت میں اپنی آدھی گزار دیتی ہے۔شادی کے بعد شوہر کی خدمت کرتی ہے اور ماں بننے کے بعد اپنی ساری زندگی اولاد کے سکھ اور چین پر گزار دیتی ہے۔صبح سے رات گئے تک کولہو کے بیل کی طرح کام کرتی ہے اور عزت اسے پھر بھی نصیب نہیں ہوتی۔لوگ کہتے ہیں عورت کو سمجھنا مشکل ہے،حالانکہ ہ وہ سب کو سمجھتی ہے،لوگ کہتے ہیں عورت بے عقل ہوتی ہے،ساتھ ہی یہ کہا جاتا ہے کہ بچے کے لیے پہلی درسگاہ ماں کی گود ہے۔اگر بچہ پڑھ لکھ کر بڑا افسر بن جائے تو کہا جاتا ہے کہ اچھے باپ کی اولاد ہے اور اگر بچہ غلط راستے پر چلا جائے تو کہا جاتا ہے ماں نے تربیت اچھی نہیں کی۔غرض ہر طرف عورت ہی بدنام ہے۔
اسلام نے عورت کو بہت سے حقوق دیے ہیں۔اور مغربی دنیا میں اسلام کے حوالے سے جو غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں ان میں ایک یہ بھی ہے کہ جنت صرف مردوں کے لیے ہے۔یہ غلط ہے ،ان باتوں کی تردید
قرآن پاک میں ان آیات سے کی گئی ہے۔


"اور جو کوئی نیل عمل کرے گا ،خواہ وہ مرد ہو یا عورت
شرط یہ ہے کہ وہ مومن ہو۔اسے ہم دنیا میں پاکیزہ
زندگی بسر کروائیں گے۔اور آخرت میں ایسے لوگوں
کے اجر ان کے بہترین اعمال کے مطابق بخشیں گے۔
ان آیات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اسلام میں مرد و عورت کی کوئی تفریق نہیں ہے۔ دونوں کو ایک جیسے حقوق حاصل ہیں،عورت کو چادر اور چار دیواری کا تحفظ دے کر اسے ہوس زدہ نظروں سے محفوظ کر دیا گیا ہے۔اسے مرد کی بے لگاما خواہشات کو بھی روکا گیا ہے اور نکاح جیسے مقدس رشتے کی بنیاد رکھی ہے۔جسے مرد اور عورت ایک مظبوط رشتے میں بندھ جاتے ہیں،مغرب کی طرح بے لگام جنسی خواہشات کی تکمیل کے لیے مادر پدر آازدی نہیں دی،جسے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔اور بے راہ روی پیدا ہوتی ہے،ان تمام معاشرتی برائیوں سے بچنے کے لیے شادی کو لازمی قررار دیا ہے۔

اسلام میں عورت کا مقام
اسلام ویسے تو تمام انسانوں کو یکساں بنیادسی حقوق فراہم کرتا ہے لیکن حقوق نسواں یعنی عورتوں کے حقوق پر سب سے زیادہ زور دیتا ہے۔،جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے کہ آپﷺ کی آمد سے قبل عورت کی زندگی جانوروں سے بھی بدتر تھی۔لیکن اسلام کی آمد کے ساتھ ہی عورت کی تقدیر بدل گئی۔اسے بھی مرد کے برابر سمجھا جانے لگا۔اسے بتایا گیا کہ وہ انسان ہے۔وہ بھی تمام بنیادی حقوق رکھتی ہے جو ایک مرد کو حاصل ہیں،عوت کو ماں،بیٹی،بیوی اور بہن کا رتبہ دے کر اس کے ھقوق ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دئے گئے ہیں۔آخری خطبہ حجتہ الوداع میں آپﷺ نے عورتوں کے حقوق کے بارے میں فرمایا۔
"دیکھو! تمہارے اوپر تمہاری عورتوں کے کچھ حقوق ہیں۔اسی طرح ان پر تمہارے حقوق واجب ہیں۔
عورتوں کے ساتھ بہتر سلوک کرو،کیونکہ وہ تمہاری پابند ہیں۔اور خود وہ اپنے لیے کچھ نہیں کر سکتیں۔لحاظہ
ان کے بارے میں اﷲ سے ڈرو کہ تم نے اﷲ کے نام پر حاصل کیا ہے ۔"
اس خطبہ میں نبی پاک ﷺ نے عورت کے حقوق کی بات کر کے اسے معاشرے میں ایک اعلی مقام عطا کر دیا۔آپﷺ نے فرمایا۔
"میں تم لوگوں پر دو کمزوروں کے حقوق کی ادائیگی کے بارے میں سختی کرتا ہوں۔
یتیم کا حق
عورت کا حق
قرآن اور احادیث میں بار بار عورتوں کے حقوق کے بارے میں بیان کیا گیا ہے۔اس لیے کہ یہ مظلوم اور کمزور ترین طبقہ ہے۔اسلام نے عورت کو وہ تمام جائز حقوق دیے جو اس کا حق تھا۔وہ تمام حقوق جو مرد کو حاصل تھے۔تعلیم کاحق،معاشی خود مختاری کا حق،باعزت زندگی گزارنے کا حق،پسند کی شادی کرنے کا حق،مرضی سے جینے کا حق۔غرض عورت کو استحصال سے نجات دلائی۔
آیے اب عورت کے ان تمام رشتوں پرایک نظر ڈالتے ہیں۔
عورت بحثیت ماں
خالق کائنات نے عورت کو تخلیق کا کام سونپ کر اسے بہت ہی معتبر بنا دیا ہے۔ماں کے قدموں کے نیچے جنت رکھ کر اسے ایک نہایت اعلی اعزاز سے نوازا گیا ہے۔ایک حدیث میں ارشاد ہوتا ہے۔
"جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے"۔
بقول شاعر
چوم لوں تیرے پاؤں پلکوں سے ماں
اشکوں سے آنکھوں کو باوضو کر کے۔
عورت کے لیے یہ رتبہ کسی اعزاز سے کم نہیں ہے۔کہ خالق کائنات نے اسے اپنے ساتھ تخلیق کے سفر میں شریک کیا۔اور اسلام ہی وہ واحد دین ہے جس نے عورت کو اتنا اعلی مقام دے کر اس کی عزت کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا گیا۔سبحان اﷲ کیا رتبہ پایا ہے عورت نے۔اسلام نے اسے معراج کے بلند راستے تک پہنچا دیا ہے۔اور عورت کی اتنی تکریم دنیا کے کسی مذہب نے نہیں کی۔حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں ۔ایک آدمی نے آپ ﷺ سے پوچھا،یا رسول اﷲ ﷺ میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے؟آپ ﷺ نے فرمایا۔
تمہاری ماں،پھر پوچھا کون ہے؟آپ ﷺ نے فرمایا تمہاری ماں
پھر عرض کی کون ہے؟ آپ ﷺ نے پھر فرمایا تمہاری ماں،اس نے
پھر پوچھا کون ہے ،آپ ﷺ نے فرمایا تمہارا باپ۔

عورت بحیثیت بیوی
ہمارے نبی پاک ﷺ دنیا کے سب سے اچھے باپ اور شوہر ثابت ہوئے۔اور قیامت تک کے انسانوں کے لیے ایک پیغام چھوڑ گئے کہ عورت کمتر نہیں ہے،بلکہ اسکا بھی ایک اپنا مقام ہے۔حضرت خدیجہ ؓ سے آپﷺ کی شادی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ بیوہ یا طلاق یافتہ سے شادی کرنا کوئی معیوب بات نہیں۔اور نہ ہی اپنے سے بڑی عمر کی عورت سے شادی کرنا کوئی برائی ہے۔نبی پاک ﷺ نے حضرت خدیجہ ؓ کے ساتھ نہایت خوشگوار ازدواجی زندگی گزاری۔
ایک صحابی نے عرض کیا ،یا رسول ﷺ بیوی کا شوہر پر کیا حق ہے؟
آپ ﷺ نے فرمایا۔
"جب تو کھائے،اس کو بھی کھلائے،جب تو کپڑے پہنے اس کو بھی پہنا
اس کے منہ پر مت مار،اس کو گالیاں مت دے،اور نہ اس کو چھوڑ مگر گھر میں
(یعنی ذرہ سی ناراضگی میں اسے ماں ،باپ کے گھر نہ چھوڑ کر آئے۔)


اور بطور شوہر ان کو وہ مقام عطا کیا جسکا تعین اﷲ پاک نے کیا تھا۔اور آپ ﷺ نے حضرت خدیجہ ؓ کی موجودگی میں دوسری شادی نہیں کی اور بارہا آپ ﷺ نے آپ ؓ کی خوبیوں کا ذکر فرمایا۔اور دنیا کو یہ بتایا کہ بیوی سے محبت کرنا شوہر کا فرض ہے اور شوہر کی محبت حاصل کرناعورت کا حق ہے۔نبی پاک ﷺ اپنی تمام ازواج مطاہرات سے محبت کرتے تھے۔اور ان کے درمیان عدل و انصاف کے پہلو کو ملحوظ خاطر رکھتے۔یہی وجہ تھی کہ نبی پاک ﷺ کی ازدواجی زندگی نہایت کوشگوار رہی ۔کیونکہ آپ ﷺ نہ صرف اپنی بیویوں کو عزت و احتراام دیتے تھے بلکہ ان سے برملا پیار کا اظہار بھی کرتے تھے۔اس لیے کہ آپ ﷺ یہ دکھانا چاہتے تھے کہ عورت کا بھی باعزت مقام ہے۔لیکن آج کے معاشرے میں بیوی سے محبت کرنے والے کو طرح طرح کے طعنے دیے جاتے ہیں۔لیکن بیوی سے محبت کرنا میرے نبی پاک ﷺ کی سنت ہے۔جو آج کے مسلمان مردوں کے لیے مشعل راہ ہے۔وہ مرد جو یہ کہتے ہیں کہ دوسری شادی ان کا حق ہے ،اور سنت بھی ہے تو میرے بھائیو ! یاد رکھیے گا کہ ہمارے نبی پاک ﷺ نے اپنی پہلی زوجہ مبارک ضحرت خدیجہ ؓ کی زندگی میں دوسری شادی نہیں کی تھی۔یہ میاں اور بیوی کے درمیان محبت کی لازوال دستان تھی۔جس سے قیامت تک لوگ رہنمائی حاصل کرتے رہیں گے۔دوسری شادی بلاشبہ مرد کا حق ہے
لیکن اپنے اس حق کا صحیح استعمال کرنا بھی مرد کی ذمہ داری بھی۔اگر کوئی بیوہ یا طلاق یافتہ ہے تو اس سے شادی کرنے کو ترجیح دی جائے۔وہ بھی اس صورت میں جب آپ انصاف کے تقاضے پورے کر سکتے ہوں۔اس لیے پہلی بیوی کو بھی وہی رتبہ اور مقام دیں جو اس کا حق ہے،ورنہ اﷲ کی نظر میں آپ مجرم ہوں گے۔ایک حدیث میں ہے ۔
آپﷺ نے فرمایا۔
"اگر کسی شخص کی دو بیویاں ہیں اور وہ ان کے درمیان
عدل و انصاف نہ کرتا ہو تو قیامت کے دن اس کے
جسم کا آدھا مفلوج ہوگا۔

عورت بحیثیت بہن
اسلام سے قبل عورت کو وراثت میں حصہ نہیں دیا جاتا تھا۔بلکہ بھائی ہی وراثت کا حقدار ٹھہرتا تھا۔لیکن اسلام م نے اسکا وراظت میں حصہ مقرر کیا۔بہن بھائی کی جاگیر نہیں بلکہ اس کی دوست اور ہم درد ہے۔اور بہن بھائی کے مقدس رشتے کی بنیاد پیار اور محبت پر رکھی گئی ہے۔بھائی بہنوں کا خیال رکھتے ہیں،ان کی عزت کرتے ہیں۔ان کا دکھ سکھ بانٹتے ہیں۔ان کی چھوٹی چھوٹی خواہشات پوری کرنے میں خوشی محسوس کرتے ہیں۔اسلام کی آمد سے قبل بہن اور بھائی میں محبت کا کوئی تصور موجود نہ تھا۔لیکن اسلام نے اس خوبصورت رشتے کو محبت کی بنیاد فراہم کر کے اسے مظبوط بنا دیا ہے۔
حضرت علی ؓ فرماتے ہیں۔
"جب تم اپنی بہن کے گھر جاؤ تو اپنی بساط کے مطابق
ٍٍٍٍ کچھ لے جاو۔کیونکہ تمہاری بہن کا تم پر حق اسے والدین
کی وراثت سے ملا ہے۔اور انتہائی بدقسمت ہے وہ شخص
جس کی بہن ناراض ہو۔اس کی یا اس کی بہن کی موت
واقع ہو جائے۔اور اﷲ کا شکر ادا کرتے رہو کہ اس نے
تمہیں یہ پاکیزہ رشتہ عطا کیا ہے۔اور تمہارے دکھوں
کا سہارا عطا کیا ہے۔
بطور بہن اسے وراثت میں حق دیا گیا ہے جو کہ زمانہ جاہلیت میں نہیں دیا جاتا تھا۔بلکہ ساری کی ساری جائداد بھائی کے پاس چلی جاتی تھی۔اور شادی کے بعد اسے جائداد میں کوئی حصہ نہیں دیا جاتا تھا۔

عورت بیٹی بھی ہے
"اور زمین اور آسمان کی بادشاہت اﷲ ہی کے لیے ہے
وہ جسے چاہتا ہے بیٹے عطا کرتا ہے،جسے چاہتا ہے بیٹیاں
عطا کرتا ہے،جسے چاہتا ہے بیٹے اور بیٹیاں دونوں عطا کرتا
ہے اور جسے چاہتا ہے بے اولاد رکھتا ہے۔بے شک وہ ہر
چیز پہ قادر ہے۔"،
(سورہ الشوری)
بیٹی رحمت کا دروازہ
بخشش کا ذریعہ
جہنم کی ڈھال ہوتی ہے
نبی پاک ﷺکے ظہور سے قبل زمانے کو زمانہ جاہلیت کہا جاتا ہے۔اور اس دور میں عربوں کی ۔سیاسی،سماجی،معاشی ،معاشرتی اور اخلاقی حالت ناگفتہ تھی۔ ان میں تمام خلاقی اوع سماجی برائیاں پائی جاتی تھیں۔اور ان معاشرتی برائیوں میں سب سے زیادہ نقصان عورت کا ہوتا تھا۔ڈاکٹر مڈثر احمد اپنے کتاب میرِ حجاز میں لکھتے ہیں۔
"اسلام سے قبل عورت کا کوئی مقام نہیں تھا۔عورت جانور کی طرح تھی۔مردپر شادیوں کی کوئی پابندی نہیں تھی
اور نہ ہی عورت کو چھوڑنے کے لیے انہیں کسی وجہ یا عذر کی ضرورت تھی۔عورت کو وراثت میں کوئی حق نہیں دیا
جاتا تھا۔باپ کی وفات کے بعد سوتیلی مائیں بیٹے کی بیویاں بن جاتی تھیں۔لوگ اپنی بیٹیوں کو برا خیال
کرتے تھے۔اور بیٹی کو پیدا ہوتے ہی زندہ دفن کر دیتے تھے۔جس کا ہاں بیٹی پیدا ہوتی وہ معاشرے میں
منہ چھپائے پھرتا تھا۔"
اس کے علاوہ بیوی کو جوے میں ہارنے کا رواج عام تھا۔غررض عورت کی حیثیت ایک غلام کی سی تھی۔اسے بیچنا اور خریدنا عربوں کے لیے معمولی بات تھی۔یہی وجہ تھی کہ عورت ایک پسا ہوا اور مظلوم طبقہ تھا۔جس کو کوئی باعزت مقام دینے کو تیار نہیں تھا۔

نبی پاک ﷺ اپنی تمام بیٹیوں اور بالخصوص حضرت فاطمہ ؓ سے بے پناہ پیار کرتے تھے۔جب بھی آپ ؓ تشریف لاتیں تو آپ ﷺ فرط محبت سے کھڑے ہوجاتے اور اپنی چادر مبارک بیٹھنے کے لیے بچھا دیتے۔(سبحان اﷲ)اور آپﷺ نے حضرت فاطمہ ؓ کو جنت کی عورتوں کا سردار قرار دے کر عورت کے مقام و مرتبے کا تعین کر دیا۔ اور اسے ایک بلند مقام پر پہنچا دیا۔اس سے آپ بیٹی کے مقام کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کائنات کے والی نے بیٹی کا باپ ہونے کو فخر قرار دیا ۔آپ ﷺ نے فرمایا۔
ـ"عورت کے لیے یہ بہت ہی مبارک ہے کہ اس کی پہلی اولاد بیٹی ہو۔


جس شخص کی بیٹیاں ہوں ،اسکو برا مت سمجھو،اس لیے کہ میں بھی بیٹی
کا باپ ہوں۔

جب کوئی لڑکی پیدا ہوتی ہے تو اﷲ فرماتا ہے کہ اے لڑکی! تو زمین
میں اُتر میں تیرے باپ کی مدد کروں گا۔ـ"
(سبحان اﷲ)
ٰؓبیٹیاں سب کے مقدر میں کہاں ہوتی ہیں
اﷲ کو جو گھر ہو پسند ، وہاں ہوتی ہیں
صرف یہی نہیں بلکہ ہمارے پیارے نبی ﷺ اپنی بیٹیوں کی اولاد سے بھی بے حد محبت کرتے تھے۔اسے اندازہ لگائیں کہ ہمارے نبی پاک ﷺ کی زندگی میں بیٹی کی کیا اہمیت ہے۔
ایک اور جگہ آﷺ نے فرمایا
" جس کسی نے دو لڑکیوں کی پرور ش کی یہاں تک کہ وہ بالغ ہوگئیں
،"انگشت شہادت اور درمیانی انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے
آپ ﷺ نے فرمایا،"تو میں اور وہ اس طرح جنت میں ہوں گے۔

آگے چل کر رحمت العالمین فرماتے ہیں۔
"جس کسی کے ہاں بیٹی ہو،او ر وہ اسے خوب ادب اور اخلاق سکھائے
اور اسے تعلیم دینے کی کوشش کرے اور اس کے لیے آرام وآسائش
پیدا کرے تو وہ بیٹی اسے دوزخ کی آگ سے بچائے گی۔

نبی پاک ﷺ اپنی اولاد سے بھی بہت پیار کرتے تھے۔آپ ﷺ کی صرف بیٹیاں تھیں اور بیٹے بچپن میں ہی فوت ہوگئے تھے۔اور نبی پاک ﷺ کی نسل بی بی حضرت فاطمہ ؓ سے آگے بڑھی اسکامقصد دنیا کو ئی دکھانا تھا کہ نسل بیٹے سے ہی نہیں بلکہ بیٹی سے بھی بڑھ سکتی ہے،یہی وجہ ہے کہ آج اسلام کا نام حضرت فاطمہ ؓ کے گھرانے کی بدولت ہی چمک رہا ہے۔اس لیے بیٹی کا باپ ہونا شرم کی بات نہیں ہے۔

بہت چنچل بہت خوشنما سی ہوتی ہیں بیٹیاں
نازک سا دل رکھتی ہیں خاموش سی ہوتی ہیں بیٹیاں
بات بات پر روتی ہیں نادان سی ہوتی ہیں بیٹیاں
ہے رحمت سے بھرپو ر اﷲ کی نعمت ہیں بیٹیاں
گھر بھی مہک اٹھتا ہے جب مسکر اتی ہیں بیٹیاں
ہوتی ہیں عجیب سی کیفیت جب چھوڑ کر جاتی ہیں بیٹیاں

آج کی عورت اور ہمارا معاشرہ۔
آج پھر وہی دور ہے،عورت مرد کے جبر کا شکار ہے،اسے پاؤں کی جوتی خیال کیا جاتا ہے۔اسے تمام بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے۔تعلیم اس کے لیے ضروری نہیں سمجھ جاتی۔حالانکہ احادیث میں متعد بار عورت کی تعلیم پر زور دیا گیا ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا۔
ــ"علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔"
ہمارے معاشرے میں یہی سوچ پائی جاتی ہے کہ عورت نے کونسا نوکری کرنا ہے؟ گھر اور بچے ہی سنبھالنے ہیں۔حالا نکہ یہ خیال غلط ہے،ایک عورت کی تعلیم کئی نسلیں سنوار دیتی ہے۔لیکن افسوس آج کے دور میں اسلام کی تعلیما ت کو نظر انداز کر کے عورت کا نا صرف جذباتی استحصال کیا جا رہا ہے بلکہ اسے جسمانی اذیت بھی دی جا رہی۔عورت کو صرف شو پیس کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔کبھی اس کو ونی کر دیا جاتا ہے،کبھی اسے اجتماعی زیادتی کا شکار بنایا جاتا ہے۔کبھی اسے کلبوں میں نچوایا جاتا ہے اور کبھی اسے بازار حسن کی زینت بنا دیا جاتا ہے،اگر وہ اپنی مرضی سے کوئی باعزت نوکری کرنا بھی چاہے تو مرد ایسا کرنے نہیں دیتا،بلکہ اس کا جینا دو بھر کر دیتا ہے۔اگر وہ مجبوری میں گھر سے نوکری کرنے نکلتی بھی ہے تو مرد کی ہوس بھری غلیظ نظریں اس کا تعاقب کرتی رہتی ہیں۔
وہ معزز تھے زمانے میں مسلمان ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآن ہو کر
کیسا معاشرہ ہے جونام تو سلام کا لیتا ہے لیکن اپنے بنائے ہوئے انسانی قوانین کی پیروی کرتا ہے۔اور اﷲ پاک کے بنائے ہوئے قوانین کی صریح نافرمانی کرتا ہے۔ہم عورت کو بازار کی زینت تو بنا سکتے ہیں ،اسے عزت نہیں سے سکتے۔کائنات کا نظامرعورت کے بغیر نہیں چل سکتا۔دنیا کا کوئی کام عورت ک بغیر مکمل نہیں ہے۔اگر عورت نہ ہوتی تو یہ کائنات نہ ہوتی۔قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے۔
ـ"عورتوں کے حقوق مردوں پر اسی طرح ہیں جس طرح مردوں کے حقوق
عورتوں پر ہیں۔اور مردوں کو عورتوں پر (فضیلت) ایک درجہ حاصل ہے۔"

قرآن پاک کی اس آیت کا مفہوم بہت واضح ہے۔کہ مردوں کو جسمانی ساخت اور کمانے کی وجہ سے عورتوں پر فضیلت حاصل ہے لیکن آج کے جاہل معاشرے میں اس کا مفہوم غلط لیا جاتا ہے۔اور عورت کو نہایت کم تر سمجھا جاتا ہے۔حالانکہ متعدد بار قرآن و حدیث میں مردوں اور عورتوں کے یکساں حقوق کا بیا ن آیا ہے۔ "اﷲ تعالی نے سب سے پہلے عورت کو اعزاز دیا برابری کے ساتھ آدم ؒ کے ساتھ جنت میں رکھا،سورہ بقر ہ میں اﷲ تعالی بیان فرماتے ہیں۔
"اور پھر ہم نے آدم سے کہا کہ تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہیں گے"
ٓٓٓایک حدیث میں ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا۔
"ساری دنیا سرمایہ ہے اور دنیا کا بہترین سرمایہ نیک عورت ہے"۔

کیا عمدہ باتیں میرے نبی پاک ﷺ نے فرمائی ہیں کہ آپ ﷺ نے عورت کے ہر روپ کو سراپا محبت خیال کیا اور ایک شوہر اور باپ کی حثیت سے عملی طور پر عورت کو عزت دے کر دنیا کے سامنے مثال قائم کی کہ عورت بھی ایک انسان ہے اور اسے بھی باعزت زندگی گزارنے کاحق ہے۔کیا آج کے مسلمان اچھے باپ اور شوہر ہیں؟،کیا ہم لوگ نبی پاک ﷺ کی زندگی سے کچھ سیکھتے ہیں،کیا ہم ویسا بننے کی کوشش کرتے

ہیں جیسا ہمارے نبی پاک ﷺ ہمیں دیکھنا چاہتے تھے؟کیا ہم بیوی کو اسکا جائز مقام اور بیٹی کو اس کے تمام جائز حقوق دیتے ہیں؟۔جسکا جواب ہمارے پاس نفی میں ہے۔اگر ہم ایک اچھا اسلامی معاشرہ قائم کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں آپ ﷺ کی تعلیمات پہ عمل کرنا ہوگا۔ہمیں اس بے دین ہوتے معاشرے میں اسلام کی صحیح روح کو زندہ کرنا ہوگا۔اور اسلام کی تعلیمات کو نافذ کرنے کے عملی اقدامات اٹھانے ہوں گے
اور عورت کو وہ تمام جائز حقوق دینے ہوں گے جسکا حق اسے ہمارا دین دیتا ہے۔یہی سیدھا راستہ ہے،یہی رب کائنات کی بندگی کا راستہ ہے۔۔
کی محمدﷺ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
اﷲ پاک ہم سب کو قرآن پاک اور سنت رسول ﷺ کی تعلیما ت کی پیروی کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
یہ عورت اب محکوم نہیں یہ ہمت سے محروم نہیں
تاراج ہوئیں اندھی رسمیں جب تھیں ہم اوروں کے بس میں

ہم مان ہیں دھرتی ماتا کی اوتار پیغمبر داتا کی
ہم اوروں کی جاگیر نہیں اب پیروں میں جاگیر نہیں
اب جگ کا ہم پر راج نہیں ہم بے بس اور محتاج نہیں
جو رستم شیر جیالے ہیں جو غیرت ہمت والے ہیں
جو دھرتی کے رکھوالے ہیں سب اپنی گود کے پالے ہیں
(اختر قزلباش)
ختم شد
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ayesha Ahmed

Read More Articles by Ayesha Ahmed: 9 Articles with 4619 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 May, 2018 Views: 526

Comments

آپ کی رائے