’’جنگ ستمبر کی یادیں‘‘

(Muhammad Amjad, Rawalpindi)

جنگ ستمبر پاکستان کی قومی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل رکھتی ہے۔ 6ستمبر 1965ء کو پاکستان کے ازلی دشمن بھارت نے اپنی عددی طاقت کے زعم میں ہماری سرحدوں کو پامال کرنے کی کوشش کی تھی تاہم اسے اس وقت مایوسی اور شدید سبکی کا سامنا کرنا پڑا جب ہماری مستعد اور چاق چوبند مسلح افواج نے نہ صرف اس کی پیش قدمی کو روکا بلکہ اسے واپس بھاگ جانے پر مجبور کر دیا۔ وہ لمحات ہماری تاریخ کے روشن ستارے بن گئے جنہیں دیکھ کر آج بھی ہم ولولہ تازہ حاصل کرتے ہیں۔ جنگ کے وہ سترہ دن ہماری ملی یکجہتی، جذبہ ایمانی اورجرات و بہادری کے وہ نقوش کہلائے جنہوں نے آنے والے مشکل حالات اور چیلنجز میں ہمیں روشنی اور رہنمائی کے ساتھ ساتھ امید و حوصلہ عطا کیا۔قوم اور افواج پاکستان نے خود پر جذبہ ستمبر طاری کرکے ہر قسم کے حالات کا کامیابی سے مقابلہ کیا اور سرخرو ہوئے۔بھارت نے متعدد مرتبہ ہماری سرحدوں پر اپنی افواج کو جمع کیا مگر افواج پاکستان کے جذبہ ایمانی اور عوام کے جوش نے انہیں ناکام و نامراد لوٹنے پر مجبور کردیا۔ پھر دشمن نے ہمیں دہشت گردی اور تخریب کاری ایسے ہتھکنڈوں سے بھی نقصان پہنچانے کی کوشش کی تاہم ہماری بہادر افواج اورپرعزم قوم نے اپنی روایات کے مطابق دہشت گردوں کو جس طرح شکست دی ہے ، وہ پوری دنیا کے لیے ایک روشن مثال ہے۔ ان تمام کامیابیوں کے پس منظر میں یقینا افواج پاکستان کی روشن تاریخ اور اعلیٰ اوصاف کے حامل کردار ہیں جن کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ہماری افواج نے پاکستان کی سلامتی، سا لمیت اور آزادی پر کبھی آنچ نہیں آنے دی۔ ہماری قوم نے اپنے ان ہیروز کی قربانیوں کو ہمیشہ مقدم رکھا ہے۔ یہ بات بھی خوش آئند ہے کہ ہمارے شاعروں ادیبوں اور صحافیوں نے اپنی تحریروں میں جذبہ ستمبر کو زندہ و جاوید رکھ کر ان لمحات کو آج کی نسل تک پہنچایا ہے۔ یہ سلسلہ جاری ہے اور اس کی تازہ مثال معروف صحافی مدیر اردو ڈائجسٹ جناب الطاف حسن قریشی کی منظر عام پر آنے والی کتاب ’’جنگ ستمبر کی یادیں ‘‘ ہے جسے ان کے ہونہار پوتے ایقان حسن قریشی نے مرتب کیا ہے۔ یہ ان تحریروں کا مجموعہ ہے جو الطاف حسن قریشی نے جنگ 65ء کے دوران میں مختلف محاذوں پر پاک افواج کے کارناموں پر لکھیں۔ انہوں نے مختلف محاذوں کا خود دورہ کیا اوروہاں موجود افواج پاکستان کے دلیر افسروں کے بلند مورال اور جذبے کوضبط تحریر میں لاکر زندہ جاوید کردیا۔ انہوں نے مختلف محاذوں پر تعینا کمانڈروں سے ملاقات میں جنگ سے متعلق افواج پاکستان کی حکمت عملی اور کامیابیوں کو انہی کی زبانی انتہائی موثر ،دلچسپ اور جامع انداز میں بیان کیا ہے کہ قاری پوری کتاب کو ایک ہی نشست میں پڑھنے کے لیے بے تاب ہوجاتا ہے۔ اس کتاب میں جنگ کے محرکات کے علاوہ ازلی دشمن بھارت کی مکارانہ ذہنیت، اس کی پاکستان کے خلاف معاندانہ پالیسیوں اور چالوں کو بھی بے نقاب کیا گیا ہے تاکہ ہماری نوجوان نسل اس کے خبث باطن سے باخبر رہ سکے۔ کتاب میں جنگ 65ء کے دوران پاک فوج کے شیروں دلیروں کی بہادری، شاہینوں کی بلندی پرواز اور دوارکا کے فاتحین کو زبردست انداز میں خراج تحسین پیش کیا گیا ہے۔ بحیثیت مجموعی ’’جنگ ستمبر کی یادیں‘‘ ہماری قومی تاریخ کے ولولوں، جذبوں اور عزموں کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک لازوال کوشش ہے۔ آج جبکہ ہماری نوجوان نسل سوشل میڈیا کے چکر میں پھنس کر اپنے ذہنوں کو پراگندہ اور تھکا رہی ہے، ایسے میں جنگ ستمبر کی یادیں جیسی کاوشیں ان کے دل و دماغ اور جذبوں کو جلا بخشنے اور تھکے ذہنوں کوقومی جذبوں سے سرشار کرنے کا باعث ہوگی۔ ہمارے نوجوان ایسی کتابوں کا مطالعہ کرکے سوشل میڈیا استعمال کریں تو وہ اپنی اسلامی اور قومی تاریخ و روایات کے خلاف پراپیگنڈہ کا موثر جواب دے سکتے ہیں۔کتاب میں سینئر کمانڈروں نے جس طرح اپنے ماتحت افسروں ، جوانوں کے کارناموں کو پیش کیا ہے اس کی مثال شاید دنیا کی کسی فوج میں نہیں ملتی۔ یہاں میں ایک باب ’’اکھنور کے دروازے پر‘‘ کرنل (ریٹائرڈ) سردار احمد سے گفتگو پر مبنی اقتباسات بیان کرتا ہوں۔ جن سے ہمارے افسروں اور جوانوں کے درمیان لازوال تعلق و احترام کے ساتھ ساتھ ان کی وطن سے محبت اور قربانی کے لازوال جذبوں کی بھرپور عکاسی ملتی ہے۔ ۔۔۔:

ــ’’منصوبے کے مطابق تمام انتظامات مکمل کرلیے گئے تھے۔ میں نے سوچا جو فوجی زیادہ عمر کے ہیں یا جن کی عمر بہت کم ہے، انہیں ریزورو میں پیچھے رکھا جائے لیکن کوئی بھی پیچھے رہنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ ایک نو عمر فوجی نے آنکھوں میں آنسو لاتے ہوئے کہا: ’’سر! مجھے آگے جانے کی سعادت سے محروم نہ کیجئے، میں پلٹن کے بہت کام آؤں گا۔‘‘ میں انکار نہ کرسکا۔

اسی طرح آگے چل کر لکھتے ہیں:’’۔۔۔۔ میں جیپ پر اپنے ڈرائیور کے ہمراہ جارہا تھا۔ ۔۔ ہمیں خاص مقام پر ایک بہت ضروری کام تھا۔ واپس آنے لگے تب اس نے لجاجت آمیز لہجے میں کہا: ’’سر آپ جیپ چلائیے۔‘‘ خیال آیا، ڈرائیور بہت تھک گیا ہے۔۔۔۔ میں جیپ چلا کر منزل پر لے آیا۔ ہمیں اچانک اسی مقام تک پھر جانا پڑا۔ جاتے ہوئے ڈرائیور نے جیپ خود چلائی اور واپسی پر میرے حوالے کردی، میں پوچھا، ’’یہ کیا معاملہ ہے‘‘ ۔۔۔ بولا، ’’سر مجھے ایک خاص سمت سے دشمن کے فائر آنے کا خطرہ ہے۔ میں چاہتا ہوں اس طرف میں بیٹھوں، تاکہ اگر کوئی گولی آئے، تو مجھے نقصان پہنچے اور آپ محفوظ رہیں۔‘‘ یہ جانثاری کسی گہرے جذبے ہی سے پھوٹ سکتی ہے۔

ایک اور اقتباس میں ایک کمانڈر کے تاثرات کچھ یوں ہیں: ’’جنگ کے دوران میرے سامنے یہ حقیقت باربار آتی رہی کہ غلامی کی زنجیریں خون کی دھار ہی سے کٹ سکتی ہیں۔۔۔ اورپھر یہ سبق بھی سیکھا کہ پیش قدمی کرتے وقت دشمن کو سنبھلنے کا موقع نہیں دینا چاہئے اور اگر جنگ مدافعت میں لڑی جارہی ہو تو اس وقت تک پوزیشن نہیں چھوڑنی چاہئے جب تک ایک گولی بھی موجود ہو۔ جنگ اچھی تو نہیں، لیکن غلامی اور جنگ میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑے تو میں جنگ کو ترجیح دوں گا۔ ‘‘ کتاب میں اس طرح کے واقعات اور اقوال جابجا ملتے ہیں جو ایک قاری کے دل و دماغ کو جذبہ حب الوطنی سے سرشار کردیتے ہیں۔ کتاب کے جاذب نظر سرورق پر سورج کی تمازت میں میدان کارزار ہمارے غازیوں اور شہیدوں کے کارناموں کی بھرپورعکاسی پیش کرتا ہے۔ یقینا الطاف حسن قریشی نے ’’جنگ ستمبر کی یادیں ‘‘ لکھ کر اپنے قلم کی روشنائی سے قومی جذبوں کومزید تابناک بنا دیا ہے۔ کتاب عسکری موضوعات پر قلم اٹھانے والوں کے لیے بھی انتہائی معاون ہے ۔ میدان کارزار کی منظر کشی اور واقعات نگاری کے لیے وہ اس سے بھرپور استفادہ کرسکتے ہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Amjad Ch

Read More Articles by Muhammad Amjad Ch: 94 Articles with 44344 views »
Columnist/Journalist.. View More
14 May, 2018 Views: 251

Comments

آپ کی رائے