مغالطہ: عوامی مقبولیت

(ابنِ مُنیب, سویڈن)

فرض کریں کہ آپ کسی فیکٹری میں کام کرتے ہیں۔ آپ دیکھتے ہیں کہ اِس فیکٹری میں محنت کشوں کو اُجرت اور مراعات اُن کے اصلی حق سے بہت کم دی جا رہی ہیں اور اُن سے کام دگنا لیا جا رہا ہے۔ آپ اِس نا انصافی کی نوعیت پر فیکٹری مینجمنٹ کو درخواست لکھتے ہیں اور اپنے ساتھ کام کرنے والوں میں سے کچھ کو اِس سے آگاہ کرتے ہیں۔ اب آپ کے پیش کردہ نکات کا جواب دینے کی بجائے فیکٹری مینجمنٹ تمام مزدوروں کو اکٹھا کر کے اعلان کرتی ہے کہ ہماری مدِ مقابل فیکٹری کے مالک نے ہماری فیکٹری کے بعض لوگوں کو خرید لیا ہے تا کہ وہ یہاں کے کاموں میں رخنہ ڈالیں اور فیکٹری بند کروا دیں۔

بحث کی دنیا میں ہم بعض اوقات کسی کے دلائل کا جواب دینے کی بجائے کسی ایسی شے کو بیچ میں لے آتے ہیں جس سے سامعین کا (یا سامعین کی اکثریت کا) "جذباتی تعلق" ہوتا ہے یا جسے عوامی مقبولیت حاصل ہوتی ہے (بغیر باقاعدہ عقلی بنیاد کے) ۔ متعلقہ جذباتی تعلق محبت کا بھی ہو سکتا ہے، احترام کا بھی، اور خوف کا بھی۔ بحث میں ایسا کرنے کو انگریزی میں آرگومینٹَم اَیڈ پاپولَم کہتے ہیں اور اردو میں ہم اِسے "عوامی مقبولیت مغالطہ" کہہ سکتے ہیں۔

غور کریں تو اوپر بیان کی گئی صورتحال میں فیکٹری مزدوروں کا فیکٹری کے بند ہونے سے "خوف" کا تعلق ہے (روزی روٹی بند نہ ہو جائے)۔ پھر اِس بات کا بھی قوی امکان ہے کہ درخواست گزار کا اپنی عزتِ نفس سے گہرا جذباتی تعلق ہو گا (اکثر انسان یہ پسند نہیں کرتے کہ اُنہیں بِکاؤ یا منافق کہا جائے)۔ فیکٹری مینجمنٹ نے بڑی مہارت سے اِن دونوں کا استعمال کرتے ہوئے اصل اعتراضات کی جوابدہی سے خود کو بچا لیا ہے۔

عوامی مقبولیت اور جذبات کو استعمال کرنے والے بالعموم پراپیگنڈا کرنے کے ماہر ہوتے ہیں، اور بہت سے "عوامی" لیڈر اِس تکنیک کا استعمال کُھل کے کرتے ہیں۔ اِس کے علاوہ بہت سے معاشرے اپنے غلط رویوں کے تنقیدی جائزے کی حوصلہ شکنی کے لئے بھی اِس مغالطے کا استعمال کرتے ہیں (مثلاََ کسی قومی ادارے پر تنقید کرنے والوں کی تنقید کا جواب دینے کی بجائے اُنہیں ملک دشمن یا جذبہِ حُب الوطنی سے عاری قرار دے دیا جائے)۔ چنانچہ آئندہ کسی عوامی لیڈر کے نعرے، یا کسی مقرر کی جذبات بھری تقریر سنیں تو ضرور غور کریں کہ اُن کے ہاں دلائل بھی پائے جاتے ہیں یا وہ صرف عوام کے جذباتی تعلقات کو استعمال کر رہے ہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ibnay Muneeb

Read More Articles by Ibnay Muneeb: 54 Articles with 40389 views »
https://www.facebook.com/Ibnay.Muneeb.. View More
14 May, 2018 Views: 370

Comments

آپ کی رائے