عظمت اور برکت والا مہینہ

(Dr B.A Khurram, Karachi)
ماہ رمضان کا مہینہ بہت عظمت اور برکت والا ہے اﷲ تعالی فرماتے ہیں کہ رجب میرا مہینہ ہے ماہ شعبان حضور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کا مہینہ ہے اور ماہ رمضان میرے محبوب محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وسلم کی امت کا مہینہ ہے ماہ رمضان میں عبادت کا ثواب عام مہینوں کی نسبت کئی گنا زیادہ ہے کیونکہ ماہ رمضان رحمت ،مغفرت اور نجات کا مہینہ ہے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا’’یہ ایسا مہینہ ہے جس کا پہلا عشرہ رحمت درمیانی عشرہ مغفرت اور آخری عشرہ جہنم سے آزادی کا ہے ‘‘ قرآن پاک میں ارشاد باری تعالی ہے کہ ’’رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کے لئے ہدایت ہے اور اس میں ہدایت کی واضح اور حق و باطل سے جدا کرنے والی دلیلیں ہیں پھر تم میں سے جو شخص اس مہینے کو پائے تو اسے چاہئے کہ روزے رکھے‘‘(البقرہ185)۔

رمضان مبارک میں اﷲ تعالی نے قرآن پاک نازل کیا تاکہ لوگ فلاح پائیں اسی لئے اس مہینہ میں عبادت کا اجر بھی اﷲ نے بہت بڑا رکھ دیا ہمارے پیارے نبی محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ’’اس مہینہ میں چار چیزوں کی کثرت رکھو1۔کلمہ طیبہ2۔استغفار3۔جنت کی طلب 4۔جہنم کی آگ سے پناہ‘‘حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’جب رمضان کا مہینہ داخل ہوتا ہے تو آسمان کے دروازے (ایک روایت میں جنت کے دروازے اور دوسری روایت میں رحمت کے دروازے)کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور شیاطین کو زنجیریں پہنا دی جاتی ہیں ‘‘ایک اور حدیث میں ہے کہ ’’ رسولؐاﷲ نے فرمایا جن آدمیوں نے ایمان اور احتساب کے ساتھ روزے رکھے اس کے پہلے کے گناہ معاف کر دیے جائیں گے‘‘ حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ’’ رسولؐ اﷲ نے فرمایااﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کیونکہ روزہ میرے لیے ہے اورمیں ہی اس کی جزا دوں گا‘‘۔حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کرتے ہیں کہ’’ رسولؐاﷲ نے فرمایا رمضان میں اﷲ کی طرف سے ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ جو اس رات کی بھلائی سے محروم رہا وہ بس محروم ہی رہ گیا‘‘۔

ماہ رمضان کو دوسرے الفاظ میں صبر کا مہینہ بھی کہا جاتا ہے جس طرح صفائی نصف ایمان ہے اسی طرح روزہ نصف صبر ہے اور صبر کا اجر جنت ہے یہ ہمدردی اور غم خواری کا مہینہ ہے اس مہینہ میں مومن بندوں کے رزق میں فراخی اور اضافہ کیا جاتاہے حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے شعبان المعظم کی آخری تاریخ کو خطبہ دیتے ہوئے ماہ رمضان کی اہمیت کو اجاگر کیا آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایاکہ ’’لوگوتم پر ایک عظمت اور برکت والا مہینہ سایہ فگن ہو رہا ہے اس مبارک مہینہ کی ایک رات (شب قدر)ہزار مہینوں سے افضل ہے ‘‘شب قدر کیا ہے۔ شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے‘‘(القدر: 1تا3)اسی طرح قرآن پاک میں ارشاد باری تعالی ہے کہ ’’اے ایمان والوتم پر روزے فرض کئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم متقی ہو جاؤ‘‘سورۃ البقرہ آیت نمبر 183۔اﷲ تعالی نے اس مہینہ کو تمہارے لئے رحمت ،مغفرت،برکت اور عظمت والا مہینہ قرار دیا ہے اس ماہ میں اﷲ جنت کے دروازے کھول اور جہنم کے دروازے بند کر دیتا ہے اﷲ رب العزت فرماتے ہیں اس مہینہ میں میں اپنے بندے کے بہت قریب ہوتا ہوں کہ ہمارے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا ۔

ایک بار حضرت موسی علیہ سلام نے اﷲ سے پوچھا کہ یا اﷲ جتنا میں آپ کے قریب ہوں آپ سے بات کر سکتا ہوں اتنا کوئی اور آپ کے قریب ہے ۔۔؟اﷲ تعالی نے فرمایا کہ اے موسی!آخری وقت میں ایک امت آئے گی وہ امت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کی ہوگی اور اس امت کو ایک مہینہ ایسا ملے گا جس میں وہ سوکھے ہونٹوں ،پیاسی زبان ،خشک آانکھیں ،بھوکے پیٹ جب افطار کرنے بیٹھے گی تب میں ان کے بہت قریب رہوں گا موسی تمہارے اور میرے درمیان ستر پردوں کا فاصلہ ہے لیکن افطاری کے وقت اس امت اور میرے درمیان ایک پردے کا بھی فاصلہ نہ ہوگا اور جو دعا وہ مانگیں گے اسے قبول کرنا میری ذمہ داری رہے گی ۔۔۔ سبحان اﷲ ۔۔اس واقعہ سے بھی واضح ہوتا ہے کہ رمضان ہمارے لئے کتنی رحمتوں بھرا مہینہ ہے اﷲ تعالی فرماتے ہیں کہ اگر میرے بندوں کو معلوم ہوتا کہ رمضان کیا ہے تو سارے یہی تمنا کرتے کہ کاش سارا سال رمضان ہوتا اﷲ تعالی کی رحمتوں کو لوٹنے کا ہمیں سنہری موقع مل رہا ہے ہمیں اپنے خالی دامن کو رحمتوں سے بھر لینا چاہئے اﷲ تعالی ہمیں سنت نبوی صلی اﷲ علیہ وسلم پر عمل کرتے ہوئے اس مبارک مہینہ کے روزے رکھنے کی توفیق عطافرمائے آمین ثم آمین۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr B.A Khurram

Read More Articles by Dr B.A Khurram: 543 Articles with 225090 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 May, 2018 Views: 276

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ