روزانہ اربوں کھربوں نیکیاں کمائیں

(Rabi Ul Alam, )

ہماری خوش نصیبی ہے کہ ایک بار پھر ماہ رمضان المبارک کا مہینہ ہمارے پاس تشریف لے آیا۔ اس کی عظمتوں کے کیا کہنے ہیں یہ وہ مبارک مہینہ ہے کہ جس میں نیکیوں کا اجر بڑھا دیا جاتا ہےنفل کا ثواب فرض کے برابر اور فرض کا ثواب عام دنوں میں ادا کئے جانے والے ستر فرضوں کے برابر کردیا جاتا ہے۔ یہ مہینہ صبر کا ہے اور صبر کا ثواب جنت ہے۔ یہ مہینہ بھلائی اور غمخواری کا ہے اور اس مہینہ میں مؤمن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے۔ اس کے ابتدائی دس دن رحمت ، درمیانی دس دن مغفرت اور آخری دس دن جہنم سے آزادی کے ہیں۔

٭حدیث شریف میں آتا ہے کہ رمضان المبارک کے استقبال کے لئے سارا سال جنت کو سجایا جاتا ہے۔ (شعب الایمان) ٭ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر رات افطار کے وقت ساٹھ ہزار گناہگاروں کو دوزخ سے آزاد فرمادیتا ہے۔ (تفسیر درمنثور) ٭ اور ہر روز دس لاکھ گناہگاروں کو اور روزِ جمعہ اور شبِ جمعہ کی ہر ہر گھڑی میں دس دس لاکھ گناہگاروں کو جہنم سے آزاد کیا جاتا ہے۔ (کنزالعمال)

ماہ رمضان کیسے گزاریں؟
درج کی جانے والی باتوں پر اگر نیتِ صالحہ کے ساتھ عمل کرنے میں کامیاب ہوگئے تو یقین جانئیے کہ اس ماہ مبارک کی بابرکت ساعتوں کو یادگار بنانے اور اربوں کھربوں نیکیاں کمانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔
نمبر۱۔ از اول تا انتہا نمازِ با جماعت کا اہتمام کیجئے اور بالخصوص نمازِ فجر و عشاء بھی باجماعت ادا کیجئے۔ ٭نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے پانچ نمازیں فرض فرمائی ہیں جو ان کے لئے بہتر طریقے سے وضو کرے اور انہیں ان کے اوقات میں ادا کرے اور ان کے رکوع وسجود کو خشوع کے ساتھ پورے ادا کرے تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ کرم پر ہے کہ اسے بخش دے اور جو انہیں ادا نہیں کرے گا تو اللہ تعالیٰ کہ ذمہ اس کے لئے کچھ نہیں ۔ چاہے تو معاف فرمادے اور چاہے تو سزا دے۔ (سنن ابو داؤد حدیث نمبر ۴۲۴) ٭ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: منافقین پر سب نمازوں سے بھاری نماز فجر اور عشاء کی نماز ہے اگر جان لیتے کہ ان دونوں نمازوں میں کیا رکھا ہے تو ضرور حاضر ہوتے اگرچہ گھسیٹتے ہوئے آتے۔ (صحیح البخاری حدیث نمبر۶۵۷) ٭ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اگر لوگ جان لیتے کہ اذان اور پہلی صف میں کیا ہے (یعنی کتنا ثواب ہے) قرعہ اندازی کے علاوہ کوئی چارہ نہ پاتے تو ضرور قرعہ اندازی کرتے۔ (صحیح البخاری حدیث نمبر۶۱۵)

نمبر۲۔اللہ کے حکم (تو تم میں جو کوئی یہ مہینہ پائے تو ضرور اس کے روزے رکھے۔سورۃالبقرہ آیت نمبر ۱۸۵)پر عمل کرتے ہوئے مکمل روزے رکھئے کہ کوئی روزہ چھوٹنے نہ پائے۔ ٭ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: آدمی کے نیک کام کا بدلہ دس سے سات سو گنا تک دیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا سوائے روزے کے، کہ روزہ میرے لئے ہے اور اس کی جزاء میں خود دونگا روزہ دار میری وجہ سے اپنے کھانے اور اپنی شہوت سے دستبردار ہوتا ہے۔ روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں ایک افطار کے وقت اور ایک اپنے رب سے ملاقات کے وقت۔ روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک سے زیادہ پاکیزہ ہے۔(صحیح المسلم حدیث نمبر ۲۶۰۳) ٭ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے کسی رخصت اور مرض کے بغیر رمضان المبارک کا ایک روزہ چھوڑا وہ ساری زندگی کے روزے رکھے تب بھی اس کی کمی پوری نہیں کرسکتا۔ (جامع الترمذی حدیث نمبر ۷۰۱)

نمبر۳۔ پانچوں نمازوں کی مکمل رکعتیں پڑھنے کی کوشش کیجئے بالخصوص جمعۃ المبارک میں سنتیں اور نوافل کی جو رکعتیں ہوتی ہیں سب پڑھیں۔

نمبر ۴۔ پورے رمضان المبارک بلا عذرِ شرعی کےنمازِتراویح نہ چھوڑیں پورے رمضان مکمل تراویح ادا کریں۔

نمبر ۵۔ ماہِ رمضان کی ہر شب سحری کا وقت ختم ہونے سے قبل نمازِ تہجد ادا کریں۔ ٭ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:رات کے قیام (نمازِ تہجد) کو اپنے اوپر لازم کرلو کیونکہ یہ تم سے پہلے صالحین کا طریقہ اور تمہارے رب کی قربت (نزدیکی) کا ذریعہ ہے اور گناہوں کو مٹانے اور جسم سے بیماریاں دور کرنے کا سبب ہے۔ (طبرانی کبیر حدیث نمبر ۶۱۵۴)

نمبر ۶۔ دیگر نوافل مثلاً اشراق، چاشت اور اوابین ادا کرنے کا معمول بنا لیجئے۔

*ضروری ہدایت*
قضاء نمازیں نوافل سے اہم ہیں یعنی جس وقت نفل پڑھنا ہے ان کو چھوڑکر ان کے بدلے قضاء نمازیں پڑھے تاکہ بری الذمہ ہوجائے۔ البتہ نمازِ تراویح اور ۱۲ رکعتیں سنتِ مؤکدہ (۲ رکعت فجر کی، ۴ اور ۲ رکعت سنت ظہر کی، ۲ رکعت سنت مغرب کی اور ۲ رکعت سنت عشاء کی ) نہ چھوڑے اور ایسا بھی نہ ہو قضاء بھی نہ پڑھے اور نوافل بھی نہ پڑھے۔

نمبر۷۔ قرآن پاک کی تلاوت کیجئے یہ نیت کر لیجئے کہ اس ماہِ رمضان میں ایک قرآن پاک ضرور ختم کرونگا۔ ورنہ کم از کم روزانہ ۱۰ آیتیں تلاوت کرنے کا معمول بنا لیجئے۔ ٭ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے ایک رات میں ۱۰ آیتیں پڑھیں اسے غافلین میں نہیں لکھا جائے گا۔ (مستدرک حدیث نمبر ۲۰۸۵)

نمبر۸۔ روزانہ کم سے کم ۳۱۳ بار یا جس قدر زیادہ سے زیادہ ہو چلتے پھرتے درودِ پاک سے اپنی زبان کو معطر رکھیں نیز رمضان المبارک کے خاص اذکار بھی پڑھتے رہیں۔ ٭ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اس مہینے میں ۴ باتوں کی کثرت کرو۔ دو باتیں ایسی ہیں جن کے ذریعے تم اپنے رب کو راضی کرلوگے اور بقیہ دو سے بے نیازی نہیں ۔ وہ دو باتیں جن کے ذریعے تم اپنے رب کو راضی کرلوگے وہ یہ ہیں۔ ۱) لاالہ الا اللہ کی گواہی دینا۔ ۲) استغفار کرنا۔ اور بقیہ وہ دو باتیں جن سے تم کو بے نیازی نہیں۔ ۱) اللہ تعالیٰ سے جنت طلب کرنا۔ ۲) جہنم سے اللہ کی پناہ طلب کرنا۔ (صحیح ابن خزیمہ حدیث نمبر ۱۸۸۷)

نمبر ۹۔ اکثر اوقات باوضو رہنے کی کوشش کیجئے۔

نمبر ۱۰۔ آخری عشرے کی طاق راتوں ( ۲۱ویں، ۲۳ویں، ۲۵ ویں، ۲۷ ویں اور ۲۹ ویں شب ) میں شب بیداری کرکے شبِ قدر کو تلاش کرنے کی کوشش کیجئے۔ ٭ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے شب قدر میں ایمان اور ثواب کی نیت کے ساتھ قیام کیا ( یعنی عبادت کی ) اس کے پچھلے تمام گناہ بخش دیئے جائینگے۔ (صحیح البخاری حدیث نمبر ۲۰۱۴)

نمبر ۱۱۔ افطار کے وقت خصوصی دعاؤں کا اہتمام کیجئے کہ یہ دعا کی قبولیت کا وقت ہے۔ ٭ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : روزے دار کی دعا افطار کے وقت رد نہیں کی جاتی ۔ ( شعب الایمان حدیث نمبر ۳۹۰۴)

نمبر ۱۲۔ مندرجہ بالا اعمال پر عمل کرتے ہوئے تمام ظاہری وباطنی گناہوں سے بچنے کی بھرپور کوشش کیجئے بالخصوص جھوٹ ، غیبت، گالم گلوچ، ماں پاب کی نافرمانی، گانے باجے، فلمیں ڈرامے بالخصوص بے دینوں کی جانب سے کئے جانے والے خرافات سے بھرپور پروگراموں میں مصروف ہو کر اپنی عبادت کی روحانیت کو ضائع ہونے سے بچائیں۔ یاد رہے! اپنی خوشیوں میں غریبوں کو نہ بھولیں۔۔

فائدے کی بات: رمضان المبارک کے علاوہ عام دنوں میں بھی ان باتوں پر عمل کرنے کی کوشش کریں ان شاء اللہ ان پر عمل کرنے کی برکت سے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائینگے۔
اللہ تعالیٰ عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
از قلم: علامہ محمد ربیع العالم انصاری المدنی

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rabi Ul Alam

Read More Articles by Rabi Ul Alam: 15 Articles with 16115 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 May, 2018 Views: 440

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ