42لاکھ یتیم بچوں کے سفیر……

(Inam Ul Haq Awan, Islamabad)

وفاقی دارالحکومت کے مارگلہ روڈ پرواقع کمپلیکس پہنچا توتقریب میں پاکستان اور ترکی کے ترانے چل رہے تھے اور معصوم بچے جھومتے ہوئے ترکی اور پاکستان کی جھنڈیا ں لہراتے تویوں محسوس ہوتا گویا پاکباز فرشتے زمین پر اترآئے ہوں، یہ بزم ترکش این جی اوTikaاور الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان نے اورفن بچو ں کی اعزازمیں افطاروڈنرکی صورت سجائی تھی جس کے مہمان خصوصی پاکستان میں ترک سفیرمصطفےٰ یرداکل تھے۔ترکی کے صدررجب طیب اردوغان کی طر ح ان کی ٹیم کاہرممبربھی امت مسلمہ کا دردرکھنے والا ایک متحرک انقلابی اورانسانیت دوست ہے اس بات کااندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ چند ماہ قبل پاکستان میں بطورترک سفیر تعینات ہونے کے بعداس نوجوان مصطفےٰ یرداکل کی رہائش گاہ پر مہمان بننے والا سب سے پہلا وفدپاکستان کے ایک فلاحی ادارے کے اورفن بچے تھے ، ترک سفیراوران کی اہلیہ نے یتامیٰ کے اس وفد کا استقبال کیا اورکہا کہ یہ ہماری اورہمارے خاندان کی خوش قسمتی ہے او رہم اس پر فخرکرتے ہیں ۔ مذکورہ تقریب میں بھی اورفن بچے ترک سفیر کی گو دمیں تھے اوروہ ان سے انتہائی محبت اوراپنائیت کا مظاہرہ کررہے تھے ،9/11کے بعدعالمی حالات کے تناظر میں شدید سیکورٹی خطرات کے باوجود مصطفےٰ یرداکل بالکل دوستوں کی طرح پاکستانی کمیونٹی اوربچوں کے درمیان تھے۔اس موقع پر خطاب میں انھوں نے کہاکہ ترکی اورپاکستان کے جھنڈے لہراتے یہ خوبصورت بچے ہمارافخر اور ہمارے خاندان کا حصہ ہیں اورہم ان کا اسی طرح خیال رکھیں گے جیسے اپنے بچوں کا خیال رکھتے ہیں۔ یتیم بچوں کے شاندار مستقبل کے لیے الخدمت کی کاوشیں قابل تقلید ہیں،ہمارے آنے کا مقصد اپنے پاکستانی بہن بھائیوں اور دوستوں سے ملنا ہے،ترکی کے عوام پاکستانی عوام کو بہت پسند کرتے ہیں۔ ہم پاکستانی عوام کے مشکل دنوں میں ساتھ رہے اور رہیں گے ، ہم پاکستان کی معیشت کو ترقی کرتا دیکھنا چاہتے ہیں۔

صدرالخدمت فاؤنڈیشن پاکستان محمد عبدالشکوربظاہرایک بزرگ ہیں لیکن ان کے جذبے جوانوں کوبھی مات دیتے ہیں انسانیت کی فلاح وبہبود کیلئے فارن سے انتہائی اہم پوزیشن چھوڑ کرپاکستان آئے اورپھرخود کوانسانیت کی خدمت کیلئے وقف کردیا ،اس موقع پر انھوں نے تقریب میں آمد پرترک وزیر اعظم کے مشیرکامل گل عباس، ترک سفیر اور معزز مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مائیں اگر اپنے بچوں کی اچھی تربیت کریں گی تو وہ اچھے انسان بنیں گے۔ ہم یتیم بچوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتے ہیں اورالخدمت ہنر مند ماؤں کے لئے قرض حسنہ بھی فراہم کرے گی۔ ہم اﷲ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ آج ہم 10ہزارسے زائد یتیم بچوں کی کفالت کر رہے ہیں۔

موت برحق ہے قارئین کرام آپ تصورکرسکتے ہیں کہ خدانخواستہ آپ کی موت واقع ہوجائے اور پھولوں جیسے آپ کے پیارے بچے بے سہاراہوجائیں کوئی ان کا سہارابننے کیلئے تیارنہ ہواوربالآخروہ اپنے پیٹ کی آگ بجھانے کیلئے جرائم پیشہ عناصر کا شکاربنیں…… جی ہاں یہ تلخ حقائق ہیں پاکستان میں اس وقت 42لاکھ یتیم بچے ہیں جویقینا محرومیوں اورجرائم پیشہ عناصر کا شکارہیں ،معاشرے میں یتیم بچوں کے لیے کام کرنا اور انکی کفالت کا بیڑا اٹھانا کسی چیلنج سے کم نہیں ،لیکن ایسے حالات میں بھی کچھ ادارے اور فلاحی تنظیمیں پاکستان میں موجود ہیں جوان بچوں کا سہارابن کرانھیں گھرجیساماحول د ے کران کی پرورش کررہی ہیں ان میں الخدمت فاؤنڈیشن صف اول کی تنظیم ہے جواس وقت 10ہزاریتیم بچوں کی کفالت کررہی ہے ،یقینا ہم بہت تھوڑی سی مالی قربانی دے ان کے پہاڑجیسے بوجھ کوکم کرسکتے ہیں ، یتیموں کی کفالت تونبی ﷺ کوبہت ہی محبوب تھی فرمایا جس کا مفہوم یہ ہے کہ میں اوریتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں ایسے ہوں گے گویا دوانگلیاں ، توپھرہم نبی مہربان ﷺکی جنت میں قربت کوصرف اپنے تک محدودکیوں رکھیں ہم پاکستان کے 42لاکھ یتیم بچوں کی سفیربنتے ہوئے کم ازکم اپنے 10رشتے دار،دوست احباب کوبھی اس جانب متوجہ کریں اورانھیں بھی نبی اقدس ﷺکی جنت میں قربت کا موقع فراہم کریں ۔

کل کی بجائے آج ہی اس مشن کا آغازکریں ،الخدمت گھروں میں موجود بچے کے فی کس ماہانہ ا خراجات 3,500روپے اور سالانہ42ہزارروپے اداکررہی ہے ،جبکہ کاکول سطح کے ہاسٹل آغوش ہومز میں ایک بچے پر 10,000 روپے ماہانہ خرچ کررہی ہے۔مزید معلومات اوررہنمائی کیلئے 0800-44448اورزکوۃ ،صدقات وعطیات میزان بنک کے اکاؤنٹ نمبر 021-4010109869-9میں جمع ہوسکتے ہیں ،لیکن قارئین کرام میری گزارش ہے کہ اپنے قریب موجود الخدمت آفس یا اورفن آغوش سنٹرکا وزٹ ضرورکرلیں کیونکہ جہاں عین الیقین کے بعد جذبہ دوچند ہوجاتا ہے وہیں جب آپ کی فیملی ان یتیم بچوں کے ساتھ چند لمحات گزارے گی او رآپ ان کے سرپردست شفقت رکھیں گے تویقینا آپ ایک روحانی سکون اوروہ بچے بے حد خوشی محسوس کریں گے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Inam Ul Haq Awan

Read More Articles by Inam Ul Haq Awan: 2 Articles with 768 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 May, 2018 Views: 369

Comments

آپ کی رائے