ذرا سوچئیے

(محمد یوسف راهی, Karachi)

14 اگست 2018 کو الحمدالله همارا ملک پاکستان 71 سال کا هوجائے گا وه ملک جسے الله تبارک وتعالی نے همیں رمضان المبارک جیسے بابرکت مهینے میں اسلام کے نام پر عطا کیا اور عالم اسلام اسے اسلامی جمھوریه پاکستان کے نام سے جانتی اور پهچانتی هے بلاشبه اس ملک کو حاصل کرنے کے لئیے همارے اباؤ اجداد نے جو قربانیاں دی هیں وه تا قیامت تک آنے والے پاکستانیوں کے لئے ایک یادگار تاریخ هے اور هماری آج کی نسل اور اس کے بعد بھی آنے والی هر نسل کے هر بچے کو اس کا علم اور اس کی اهمیت کا بخوبی اندازه هونا چاهئیے اور یه همارا فرض هے که هم یه بات هماری آنے والی هر نسل تک منتقل کریں .

آج میں بھی اپنی زندگی کے کئی ماه وسال گزار کر جب اس ملک کی طرف دیکھتا هوں تو دل خون کے آنسو روتا هے اگر هم اپنے اپنے گریبان میں جھانک کر اپنے آپ سے هی یه سوال کریں که کیا هم نے اس ملک کو کچھ دیا هے تو هماری نظریں همارے سامنے هی شرم سے جھک جائیں گی ذرا سوچئیے پاکستان کے تین معتبر نام جس میں پاکستان کے پهلے وزیر اعظم اور پهلی بار پاکستان کا جھنڈه لهرا کر پاکستان زنده باد کا نعره لگانے والے جناب خان لیاقت علی خان صاحب کو بھرے مجمعے میں قتل کردیا جاتا هے لیکن مجرم کا آج تک پته نهیں بانی پاکستان جس نے همیں آزاد فضاؤں میں سانس لینے اور مذهبی آزادی دیکر پاکستان کی شکل میں یه ملک دیا جناب قائد اعظم محمد علی جناح جن کو آهسته آهسته زهر دیکر موت کی نیند سلادیا گیا لیکن مجرم کا آج تک پته نهیں اور بالکل اسی طرح مادر ملت بانی پاکستان کے همیشه شانه بشانه ساتھ چلنے والی بهادر اور نڈر خاتون محترمه فاطمه جناح کو بھی مروادیا گیا لیکن مجرم کا آج تک پته نهیں اور اس کے بعد سے لیکر آج تک اسی طرح قتل کئیے گئے سیاست دانوں ' معروف اور نامور لوگوں کی ایک طویل فهرست هے جن کے مجرموں کو آج تک منظر عام پر نهیں لایا گیا کیا اس لئیے هی اس ملک کو حاصل کیا گیا تھا اور اسے هی آزادی کهتے هیں ان 71 سالوں میں آج بھی همارے وزرأ کئی علاقوں میں سڑکوں کی تعمیر کا افتتاح یا هسپتالوں کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھتے هوئے خوش نظر آتے هیں جبکه ان 71 سالوں میں تو پورے ملک میں سڑکوں اور هسپتالوں کا جال بچھا هوا هونا چاهئیے, هم آج تک وڈیره شاهی اور ظالم زمینداری نظام کو بدل نهیں سکے , ایک طاقتور انسان کےاپنے سے کمتر پر ظلم و بربریت کی کهانی کو ختم کرنے میں هم بری طرح ناکام هوچکے هیں , کاروکاری کے جیسے جاهلانه رسم ورواج میں بےگناه عورتوں کی اموات کو هم آج تک ختم نهیں کرسکے , آج تک هماراکوئی بھی حکمران اس ملک میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کو ختم کرنے میں خاطر خواه کامیاب نهیں هوسکا , هم آج بھی پانی جیسی نعمت کی کمی کا شکار هیں اور آج بھی ملک کے کئی علاقے صاف پانی کی نعمت سے محروم هیں , هم آج تک اس ملک کے تعلیمی نظام کو ٹھیک کرنے میں کامیاب نهیں هوسکے اور همارا نوجوان اعلی تعلیم کے لئیے ملک سے باهر جانےکو ترجیح دیتا هے , هم اس ملک میں بیروز گاروں کو مناسب روزگار اور نوجوانوں کو بهتر ملازمت دینے میں بری طرح ناکام هوچکے هیں , امیر جو هے وه امیر سے امیر تر اور غریب اور غریب هوتا جارها هے , هر آنے والا حکمران اپنی جیب بھرنے اپنے خاندان اپنے عزیزواقارب اور اپنے دوستوں کو نوازتے هوئے اس ملک کی دولت کو دونوں هاتھوں سے لٹاتا هوا نظر آتا هے اور دنیا کے کئی ممالک میں جائدادیں بناکر عوام کا خون نچوڑتا هوا نظر آتا هے , کیا اس ملک کو ان مقاصد کے لئے حاصل کیا گیا تھا همارے یهاں کرپشن اور منی لانڈرنگ اتنی عام هوگئی هے که بڑے بڑے لوگوں کے لئیے یه کوئی بات هی نهیں هے .
لیکن ایک سوال یه هے که اس ملک کو دونوں هاتھوں سے لوٹا گیا اس ملک کی عوام کے محنت سے کمائے هوئے پیسے کو کتنی بیدردی سے بیرون ملک بھیج کر اپنی جائدادیں بنائی گئیں اس کے باوجود یه ملک اسی آب وتاب کے ساتھ اب بھی چمکتا پهلتا پهولتا اور کڑوڑوں عوام کو پال رها هے کیوں اور کیسے یه سوال کسی عام انسان کے ذهن میں نهیں آتا بلکه یه سوال ان کرپٹ اور عوام دشمن حکمرانوں کے لئیے سردرد بنا هوا هے جو یه سوچتے هیں که هم نے اس ملک کو تباه کرنے میں کوئی کسر نهیں چھوڑی لیکن یه ملک پهر بھی اتنی شان وشوکت سے چل رها هے آخر کیسے اور اسی لئیے وه اپنی حکومتوں کو نسل در نسل آگے بڑھاتے هوئے اپنے ناپاک عزائم میں مصروف نظر آتے هیں اور جب ان کا کوئی اپنا چاهے کتنا هی قریبی کیوں نه هو جب مخالفت میں آجائے تو اسے بڑی مهارت کے ساتھ راستے سے هٹادیا جاتا هے لیکن یه نادان کبھی بھی اس سوال کا جواب ڈھونڈ هی نهیں سکتے .

جب الله تبارک وتعالی نے ابلیس کو شیطان بنا یا تو اس نے الله سے ایک شرط رکھی که مجھے تو همیشه کے لئیے ختم نه کرنا بلکه قیامت تک مجھے رکھنا میں تیرے بندوں کو تیری عبادت سے روکوں گا انهیں بهکاؤں گا اور پهر دیکھوں گا که وه تیرے بتائے هوئے راستے پر چلتے هیں یا میرے اس خالق کائنات کو اپنے بندوں پر بڑا مان تھا اس لئے اس نے جلال میں آکر اسے لانت ملامت کرکے رهتی قیامت تک زنده رهنےکے لئے اجازت دے دی اور جب اس کی رحمت جوش میں آئی تو اس نے فرمادیا که تو میرے بندوں کو کتنا هی بھکا تا رهے لیکن جب میرا بنده صدق دل سے اپنے گناهوں کی معافی مانگے گا تو میں اسے معاف کردوں گا بخش دوں گا اور جب تک اس دھرتی پر میرا ایک بھی نام لیوا هوگا میں اس وقت تک قیامت برپا نهیں کروں گا تو میرے محترم پڑھنے والوں یه سب اس شیطان کے هی چیلے هیں جو الله کے بتائے هوئے راستے سے هٹ گئے هیں اور اس کے بتائے هوئے راستوں پر چل رهے هیں سرکار مدینه صلی الله علیه وآلیه وسلم کی حدیث کے مطابق ان لوگوں کے دلوں پر باری تعالی نے سیاح دھبه لگادیا هے جس کی وجه سے یه لوگ پتھر دل کے مالک هیں ان کے سامنے ان کے اپنے لوگوں کی بری طرح سے هونے والی اموات سے بھی ان کے دلوں پر کوئی اثر نهیں هوتا اور یه دولت کی حوس کے نشے میں مست رهتے هیں لیکن وه یه بھول گئے هیں که اس ملک میں آج بھی اس رب کے فرمان پر عمل کرنے والے لوگوں کی تعداد کم نهیں هے جن کی وجه سے یه ملک اسی شان شوکت سے پهلتا پهولتا رهے گا اور رمضان المبارک کے اس بابرکت مهینے میں افطاری کے وقت مختلف تنظیموں اور اپنی مدد آپ کے تحت شهر کراچی کے مختلف سگنل اور مصروف شاهراه پر ٹریفک میں پهنسے هوئے لوگوں کے لئے افطاری کا اهتمام کرنا کسی عام انسان کے بس کی بات نهیں بلکه یه صرف و هی لوگ کرسکتے هیں جن کو الله ان کاموں کے لئیے چن لیتا هے اور یه وه هی لوگ هیں جو اس رب کے فرمان پر عمل کرتے هیں شهر کی مختلف جامع مساجد میں هونےوالے تراویح کے روح پر اجتماع جهاں عورتوں کے لئیے بھی تراویح کا انتظام هوتا هے ان اجتماعات میں پانی کی ٹھنڈی بوتلوں کا انتظام کرنا بھی الله کے خاص بندوں کا هی کام هے اور یه بھی وه هی لوگ هیں جو الله کے فرمان پر عمل کرنے والے لوگ هیں اور یه لوگ یه بات بھی بھول گئے هیں که اس رب کی رسی بڑی ڈھیلی هوتی هے لیکن جب وه کھینچنے پر آتا هے تو پهر انجام بھی دنیا دیکھتی هے .
زرا سوچئیے الله تبارک وتعالی نے همارے ملک کو کتنی نعمتوں سے نوازا هوا هے اونچے اونچے پهاڑ لهلهاتے دریا خوبصورت سمندر زرخیز زمین هر قسم کےلزیز خوشبودار اور اعلی نسل کے پهل اور سبزیاں بقول علامه اقبال
نهیں ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم هو تو یه مٹی بهت زرخیز هے ساقی

میٹھی میٹھی بولی جانے والی مختلف علاقوں میں خوبصورت زبانیں اور هر وه نعمت جس کے لئیے دنیا کے بڑے بڑے ممالک ترستے هیں اور جن کی وجه سے پوری دنیا کی نظریں همیشه همارے ملک پرلگی هوتی هیں لیکن یه هماری بدقسمتی هے که پهر بھی ان 71سالوں میں هم نے اس ملک کے ساتھ وه انصاف نهیں کیا جو اس کا حق تھا اب بھی وقت هے اسلام کے نام پر قائم هونے اور رمضان المبارک کے بابرکت مهینے میں ملنے والا یه ملک اب بھی همارا منتظر هے صرف ایک دفعه اس ملک کی باگ دوڑ کرپشن سے پاک اسلامی قوانین پر عمل کرنے والے اور دیانتدار شخص کے پاس آجائے تو اب بھی یهاں وه سب کچھ هوسکتا هے جو 71 سالوں میں نه هو سکا جستجو اور محنت تو کرنے والے کرگئے لیکن اب هماری باری هے اور همیں اس ملک کو اب ترقی کی اس راه پر گامزن کرنا هوگا جو هر پاکستانی کی خواهش اور آرزو هے بقول شاعر
قائد اعظم کی امانت کهتےهیں هم جسے
ورثه یه اے مهرباں تیرا بھی هے میرا بھی هے
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: محمد یوسف راهی

Read More Articles by محمد یوسف راهی: 23 Articles with 12015 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 May, 2018 Views: 310

Comments

آپ کی رائے