ماں عظیم نعمت ، قدر کریں

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر: امبرین جاوید، کراچی
ہر انسان کی زبان پر ایک خوبصورت لفظ اور باوقار نام ماں ہے۔ جو امید اور محبت کی عکاسی کرتا ہے۔ ماں وہ ہستی ہے جس کی دعا آسمانوں تک جاتی ہے اور اگر بد دعا دے تو عرش کانپ اٹھے۔ ماں خدا کی طرف سے ہر انسان کے لئے ایک خوبصورت تحفہ ہے۔ خدا نے ماں کے دل میں وہ محبت ڈالی ہے جس کا نعم وبدل کسی سے نہیں مل سکتا نا کوئی دے سکتا ہے۔ ہم بازار سے دنیا جہاں کی چیزیں خرید سکتے ہیں مگر ماں جیسی نعمت کبھی کسی حال میں بھی اپنی تمام دولت کو دے کر بھی بازار سے نہیں لے سکتے۔
ماں اپنا سب کچھ اپنے بچوں کی خوشیوں کے لئے قربان کردیتی ہے۔ خود روتی ہے مگر اپنے بچوں کو ہنساتی ہے ۔ خود بلگتی ہے مگر بلاگنے والے بچوں کو پیار سے سمجھاتی ہے۔ ماں کا آنچل جب تک سلامت ہے۔

وہ اولاد کبھی ناکام نہیں ہوسکتی۔ ماں جنت کی طرف سے چلنے والی ٹھنڈی ہوا کا نام ہے جس کے پیروں تلے جنت رکھی گئی ہے۔ ماں اپنی اولاد کے لئے کڑوا گھونٹ پی لیتی ہے۔ ماں وہ ہے جو اپنی اولاد کو خوشیوں کے زیور سے آراستہ کرتی ہے۔ اگرغیر انسان کی صورت میں ماں ہے تو اس کی بھی محبت ایسی ہے کہ اپنے بچوں کو کبھی تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی ۔ اس کے بچے کی طرف اگر کوئی حملہ کرتا ہے تو خود ڈھال بن کر کھڑی ہوتی ہے۔ ماں اگر خود بھوکی ہے اور اسے ایک دانا بھی مل جائے تو وہ پہلے اپنے بچوں کو دیتی ہے ۔

جب ایک جانور ماں کی محبت شفقت ایسی ہے تو اشراف لمخلوقات ماں کی محبت کا عالم کیا ہوگا۔ اس کی رحمت کا عالم کیا ہوگا۔ اس کے پیار کا عالم کیا ہوگا۔ ماں اپنی اولاد کے لئے ہر دکھ تکلیف برداشت کرتی ہے اور اسے پال پوس کر بڑا کرتی ہے پھر بھی صلہ نہ ملنے پر وہ یہ نہیں کہتی میں نے احسان کیا ہے۔ تمہیں اتنا بڑا کیا قربانیاں رے کر۔ اپنا پیٹ کاٹ کر تمہارا پیٹ بھرا راتوں کی نیند قربان کر کے تمہیں سکون کی نیند سلایا۔ ماں یہ کبھی نہیں کہتی کیوں کہ وہ اپنی اولاد سے بہت پیار کرتی ہے بغیر کسی مفاد کے پالتی ہے۔ ماں کے لئے نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اگر میں نماز پڑھ رہا ہوتا اور میری ماں آواز دیتی تو میں نماز چھوڑ کر اپنی ماں کی بات سنتا‘‘۔

ماں ہمارے لئے تحفہ ہے تو ایک تحفے کی قدر کیسے کرنی چاہیے ، ہم بہتر جانتے ہیں۔ جب ایک بچہ بولنا شروع کرتا ہے تو ماں بہت خوش ہوتی ہے لیکن جب اولاد بڑی ہو کر ماں سے اونچی آواز میں بات کرتی ہے تو وہی خوش ہونے والی ماں سہم جاتی ہے کانپ اٹھتی ہے۔

میری سب سے التجا ہے جو تحفہ خدا کی طرف سے میسرہے اسے سنبھال کر رکھیں۔ اس کی خدمت کریں۔ جسے ہمارے بچپن میں ہماری ماں نے کی تھی ہم اس ماں کے دودھ کے ایک قطرے کا بھی حق ادا نہیں کر سکتے لیکن جہاں تک ممکن ہو اس ماں جیسی عظیم ہستی کو خوش رکھیں۔ جب تک ماں حیات ہے اس کی خدمت کر کے اپنی جنت کمالیں۔ اﷲ پاک سے دعا ہے کے سب کی ماؤں کو سلامت رکھے ۔جو مائیں اس دنیا سے فنا ہوگئی ہیں ان کے درجات بلند کرے۔(آمین)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1241 Articles with 519715 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 May, 2018 Views: 303

Comments

آپ کی رائے