ڈاکٹر عبدالحمید حامد۔ آدرش ۔ مزدور کو عزت دو

(Abdul Hameed Hamid, )

صبح کی نماز کے بعد حسب عادت چہل قدمی کے لیے گھر سے زرا دور کھیتوں کی جانب جاتی پختہ سڑک پر اپنی سوچوں میں الجھا ہوا جا رھا تھا جہاں ایک جاروب کش ہاتھوں میں بڑا سا جھاڑو تھامے شرفا ء کی پھیلائی غلاظت کو نہایت خلوص کے ساتھ اٹھا کر اپنی ریڑھی پر لاد رہا تھا ۔ میں جاروب کشسے دو ٖ فٹ کی دوری پر تھا کہ سامنے سے ایک نئے ماڈل کی قیمتی گاڑی جسکے بہت موٹے تائر تھے اتنی تیز رفتاری سے ہماری جانب بڑھی کہ میں اور خاکروب اسکی زد سے بچنے کے لیے ایک دوسرے سے ٹکرا گئے اور آنکھیں کھلیں تو ہم دونوں کے کپڑے کیچڑ اور بال مٹی سے بھر چکے تھے ۔مٰیری نگاہوں نے فراٹے بھرتی گاڑی کا تعاقب کیا تو اسکی اپنی اڑائی ہوئی دھول کی وجہ سے میں بشکل تمام اس کی پشت پر لگے پوسٹر پر بس اتنا ہی پڑھ پایا " مزدوروں کے عالمی دن پر مزدوروں کو سرخ سلام"اور اسی پوسٹر پر ایک نام بھی لکھا تھا جسکے ساتھ اسکی جماعت اور حلقے کا نام بھی امیدوار برائے کے ابتدائیے کے ساتھ موٹے حروٖ ف کے ساتھ نمایاں تھا ۔ خاکروب نے اپنے کپڑوں اور چہرے کی گر و اور کیچڑ کو نظر انداز کر کے میرے کپڑوں کو جھاڑنے کے لیے ہاتھ بڑھائے جنہیں روک کر میں نے اسکے دونوں ہاتھوں پر بوسہ دیا اور میری آنکھیں بھیگ گئیں جنھیں دیکھ کر اسنے بنا کچھ بولے اپنی دراز اور گھنی موچھوں اور آنکھوں کے مخصوص اشارے سے )جس سے اس علاقے کے لوگ خوب واقف ہیں (پوچھا چرس پیتے ہو ؟ میرے نفی میں ہلتے سر کو دیکھ کر اپنی انگلی کن پٹی پر رکھ کر اسے گھما کر آنکھوں کے اشارے سے پوچھا پاگل ہو؟ اس بار بھی نفی میں ہلتے سر کو دیکھ کر وہ جھنجلا گیا اور بولا بابو جی پھر تم کون ہو ؟ میں نے کہا میں اور تم ایک ہی طبقیکے لوگ ہیں ، صدیوں سے ایک دوسرے سے آشنا ہیں ہم تم غربت کی ایک ہی رسی میں جکڑے لوگ ہیں ، ہماری محنت اور پہچان استعمار اور فسطائیت کی بے رحم دھول میں گم ہو گئی ہے اور ظلم و جبر پر مبنی ناہموار معاشرے کے بے رحم جبڑوں نے جینے کے طریقوں کے ساتھ ساتھ ہماری انسانیت بھی نگل لی ہے اور گاڑی میں بیٹھے صاحب اور اسکے بچوں نے مجھے اور تجھے ہمارے لیے منائے جانے والے عالمی دن پر اپنے انداز سے سرخ سلام پیش کیا ہے ۔ میرے دوست یہ غربت اور افلاس کی دھول ہے جو میری اور تیری عمر کی تہوں میں جمی ہوئی ہے ، اسے ہم ہاتھوں سے صاف نہیںٖ کر سکتے جس پر اس نے میری بھیگتی آنکھوں میں گہری نظر ڈال کر اپنے ہاتھ میں سلگتے سگرٹ کا بہت ہی گہرا کش لگا کر سانس باہر کی طرف دھکیلی تو اسکی گھنی موچھوں سے دھنواں یوں نکلنے لگا جیسے گیلی گھاس کو آگ لگ گئی ہو اور سگرٹ میرے ہاتھ کی طرف بڑھا دیا جسے محسوس کر کے میں نے بھی اتنا ہی یا شاید اس سے بھی لمبا کشلیا جس سے سگرٹ اآخری ہچکیاں لینے لگا اور ہم دونوں نے حادثادتی بڑوں کی صدیوں سے اسی انداز میں ملنے والی مبارکباد اور انکی کھوکھلی شان و شوکت کو دھنوئیں کے ساتھ فضا میں اڑا کر ایک دوسرے کا ہاتھ تھام لیا۔

بڑھاپے کی دہلیزوں پر پہنچا ہوا آئزک (Aisak) اپنا لمبا جھاڑ و دائیں بغل میں دبا کر میرے ساتھ چلنے لگا اور کہنے لگا بابو جی میں روز آپ کو اس سڑک پر پیدل چلتے دیکھتا ہوں ، کئی بار میرا دل چاھا کہ آپ سے حال احوال پوچھوں مگر آپ اتنا مگن ہوتے ہیں کہ ۔۔۔وہ یہاں تک بولا تھا کہ میرا دوست گل خان جو اس لمحے ایک کھیت میں اپنے ہی ہاتھوں سے کھودی ہوئی مٹی کو بیلچے سے پاس کھڑی ٹرالی میں لا د رھا تھا کی آواز میرے کانوں میں گونجی ، ڈاکٹر صاحب میرے بھائی ۔، گل خان کا میرے نام کے ساتھ لگی دم سے مجھیمخاطب کرنے سے میرے ہاتھ کو مضبوتی سے تھامے آئزک کے مقدس ہاتھ کی انگلییاں سرکتی محسوس ہوئیں جنھیں میں نے گرمجوشی سے تھام کر اسکے چہرے کی جانب دیکھا جس پر موٹے موٹے آنسو یوں بہہ رھے تھے جیسے نیلے پتھر سے صاف پانی کے چشمے پھوٹتے ہیں اور وہ بے اختیار میرے سینے سے چمٹ گیا۔ اسکے مقدس جسم کے لمس سے مجھے احساس ہوا جیسے ہم دونوں کی محرومیاں اور بے بسیاں صدیوں بعد ملنے والے بچھڑے یاروں کی مانند رو رہی ہیں اور آنکھوں ہی آنکھوں میں نسل در نسل وراثت میں ملنے والی بھوک اور افلاس سے بغاوت پہ ایک دوسرے کو اکسا رھی ہیں مگر طبقاتی تعصب کا زھر جو ہمارے معاشرے کے رگ ہ پے میں سرائیت کر چکا اسکا ازیت ناک احساس بھی آئزک کے سینے سے میرے سینے میں نشتر کی طرح چبھ کر میری انسانیت کو اتناشرمسار کر رہا تھا کہ میں اسکے سینے سے الگ ہو کر آنکھ ملانے سے خوف زدہ تھا اسلیے دیر تلک اسی کے ساتھ چمٹا رہا تاوقتیکہ میرے یار گل خان نے آکر اسکے سینے سے الگ کر کے اپنے سینے سے نہیں چمٹا لیا ۔ سورج ابھی طلوع نہیں ہوا تھا مگر گل خان کا پورا جسم پسینے سے شرا بور تھا جسنے میرے کپڑوں پر لگی خشک ہوئی مٹی کو پھر سے کیچڑ میں بدل دیا ۔ صبح کے اس سہانے منظر میں بے تکلفی سے کھیت کی مٹی پر بیٹھنے لگا تو آئزک نے پھر ایک بار میری انسانیت کو شرمسار کر دیا جب اس نے اپنے عظیم سر سے سرخ پگڑی اتار کر میرے لیے زمیں پر بچھانا چاھی مگر میں نے اسے روک کر اسکی پوتر پگڑی کو اپنی آنکھوں اور چہرے پر پھیرکر اپنے کندھے پہ سجا لیا اور اپنے ساتھ گل خان کو بھی رلا دیا جو ایک طرف دوستوں کے حلقے میں آئزک کے اضافے پر خوش تھا تو دوسری جانب اپنے یاروں کی بھیگتی آنکھیں اسے مغموم کر رہی تھیں ۔ طلوع ہوتے سورج کی کرنیں مادر مہربان کی طرح ہمارے حاکموں کے گھروں کے ساتھ ساتھ ہم غریبوں پر بھی پڑنے لگیں جس سے ہمیں اپنے ہونے کا احساس ہونے لگا ۔ اس سے پہلے کہ ہم میں سے کوئی اپنا نوحہ شروع کرتا گل خان نے ہاتھ فضا میں بلند کیا او ر زور د ار آ واز میں بو لا ادھر ہی ا ٓ جاؤ ۔ مٰزدوروں کا ایک ٹولہ اپنی بغلوں میں درانتیاں دبائے سر پر سرخ پگڑیاں سجائے طلوع ہوتے سورج کی زرد روشنی میں ابھرا اور کچھ ہی لمحوں میں ہمارے بیچ آکر بیٹھ گیا ۔ گل خان نے میرا تعارف کروایا اور ہم ایک دوسرے کے ساتھ گل مل کر اپنے اپنے حصے کی سزاؤں اور انکی نوعیت و شدت کو بیان کرے لگے جو ہمارے انسان ہونے کی پاداش میں ہم کو صدیوں سے دی جا رھی ہیں اور نامعلوم کب تک دی جاتی رہیں گی۔گل خان نے پاس رکھے تھرمس سے چائے ڈل کر میرے ہاتھ میں تھمائی جو میں نے آئزک کی طرف بڑھا دی اس نے اگلے کو ا ور یوں وہ گھوم پھر کر دوبارہ میرے ہاتھ میں آ گئی ۔میں نے گل خان سے کہا تمہیں تو معلوم ہے میں خالی ہیٹ جائے نہیں پیتا اس لیے تم لوگ پیو میں ناشتے کے ساتھ پیوں گا ۔ درانتی والے مزدوروں میں سے ایک نوجوان جسکا کرب سب سے جدا تھا مجھے مخاطب کر کے کہنے لگا اگر آپ پسند کریں تو میں گھر سے کھانا لے کر آیا ہوں جو میری ماں مجھے روز دے کر بھیجتی ہے ، اسکی زبان سے ماں کا لفظ سنکر میرے ضبظ کے سارے بند ٹوٹ گئے اور آنسوؤں کا ایک سیلاب امڈ آیا کہ ماؤں کے بس مٰیں ہوتا تو وہ اپنے جگر کے ٹکڑوں کو کبھی اپنی مامتا کی گھنی چھاؤں سے باہر قدم نہ رکھنے دیتی ۔ میں نے اس نوجوان سے کہا کہ میرا گھر قریب ہی ہے میں گھر جا کر کھا لوں گا جبکہ تمہاری دوپہر نہ جانے کس کھیت میں ہو اس لیے ضد نہ کر و مگر وہ نہ مانا اور اپنی پوٹلی کھول کر اس سے ایک پراٹھا اور کالی مونگ کی دال میرے سامنے رکھ دی اور باقی لوگ گل خان کی جائے پینے لگ گئے ۔ میں نے پہلا لقمہ اپنی زبان پر رکھا تو اسکا ایک ایک زرہ حلال ہونے گی گواہی دے رھا تھا اور اسے دانتوں کے نیچے دبانے سے میری زبان لرز گئی اور حلق سے معدے تک جہاں سے گزرا میرے جسم کا ہر ایک حصہ اسکے زائقے سے مخمور ہونے لگا کہ اس میں اس نوجوان کی محنت کا رس عجیب و غریب زائقہ پیش کر رھا تھا ۔ نوجوان مجھ سے پوچھنے لگا آپ کتنا پڑھے ہوئے ہیں ؟ میں نے اداس مسکراہٹ کے ساتھ اس سے پوچھا پہلے تم بتاؤ تم کتنا پڑھے ہو۔ احساس محرومی کے کرب کو سنبھالا دیتے ہوئے بولا میں نے BA کیا ہوا ہے مگر و الد صاحب کے انتقال کی وجہ سے مزید نہیں پڑھ سکتا تھا ،نوکری کی بہت کوشش کی ،نہی ملی تو اپنے اور بہن بھائیوں کی خاطر ۔۔۔یہاں پہنچ کر وہ رک گیا اور میرے ہاتھ سے نوالہ زمیں پر گر گیا ۔اتنے میں سامنے سڑک پر ایک گاڑی آکر رکی جسکی جانب میرے قبیلے کے سارے مزدور دوڑ پڑ ے ۔گل خان یہ کہتا ہوا دوڑ پڑا کہ ڈاکٹر صاحب جانا نہی میں انکا سودا طے کروا کر واپس آتا ہوں ۔ امیں اور آئزک اپنے بھائیوں کی دیہاڑی کھری ہونے کی دعائیں مانگنے لگے جو مختصر سی بحث کے بعد میرے مزدور بھائیوں کے ساتھ دیہاڑی طے کرنے والے کے من پسند ریٹ پر طے ہو گیا اور بھوک و افلاس کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں صدیوں سے بھٹکنے والے میرے مزدور بھائی ایک ٹرالی میں سوار ہو کر مجھے ہاتھ کے اشارے سے الوداع کہتے ہوئے اپنی سرخ پگڑیاں ہوا میں لہراتے کسی انجانے کھیت کی جانب روانہ ہو گئے جہان کڑکتی دھوپ میں اپنا پسینہ پانی کی طرح بہا کر شام کو اپنے گھروں کا چولھا جلائیں گے۔ انکے چہروں کی شکستہ لکیروں نے میرے قلب و زہن میں ایسا محشر برپا کیا کہمیری روح کے ٹانکے ادھڑنے لگے ، میری بے چین سوچوں سے لہو کے فوارے ابلنے لگے اور احساس محرومی اور زیادہ گہرا ہونے لگا ۔ میرے زہن میں ایک ایک کر کے اپنیحکمرانوں کے بے حس چہرے آنے لگے جو ستر سالوں سے ہمار ا استحصال کر رہے ہیں مگر کسی کے بنجر زہن میں اتنا خیال بھی نہ آیا کہ ہر سال کروڑوں روپے حکومت کے خزانوں سے خرچ کر کے ائر کنڈیشنڈ عمارتوں میں بیٹھ کر جن مزدوروں سے اظہار یک جہتی کا دن مناتیہیں کم از یکم مئی کو ان کی دیہاڑی قومی خزانے سے ادا کر کے سال کے ایک دن انھیں چھٹی منانے دی جائے تا کہ انھیں اپنے انسان ہونے کا احساس تو ہو مگر مجھے خیال آیا کہ ہمارے رہنما تو آج کل ووٹر چاھے مر جائے ووٹ کو عزت دلانے میں مصروف ہیں یا پھر نیا پاکستان بنانے یا روٹی کپڑا اور مکان دینے یا ملک کو اسلام کا گہوارہ بنانے میں زمین و آسمان کے قلابے ملا رہے ہیں ۔ گل خان کا ایک طرف پڑا ہو ا جوتا تھرتھرانے لگا اور مجھے فکر لاحق ہوئی کہ اس میں شاید کوئی چیز گھس گئی ہو مگر اس نے مسکراہٹ کے ساتھ اپنے ربڑ کے جوتے سے فون نکالا کر ہاں کہا اور بقیہ گفتگو سمجھ نہیں آئی کیونکہ وہ پشتو میں تھی مگر کال منقطع ہونیکے بعد کچھ پریشان دکھائی دیا اور کہنے لگا " یار ڈاکٹر صیب تمہارے پاس انٹر نیٹ کی کوئی دکان ہے؟" میں نے اثبات میں سر ہلایا تو بولا " یار ہمار ا بیٹی کا فون تھا اسکو آج مزدور ڈے کا چھٹی ہے مگر سکول والوں نے بولا ہے کہ کل سب بچے یوم مزدور پر مضمون لکھ کے لاؤ" اور جیب سے پچاس کا نوٹ نکال کر میری طرف بڑھا تے ہوئے بولا آپ ہمار ا بیٹی کے لیے نیٹ سے اچھا سا مضمون نکال کر لے آنا ۔ میں گل خان کو نوٹ واپس جیب میں رکھنے کا اشارا کر کے اٹھ کھڑا ہوا اور اسکو آنکھ کے اشارے سے کہا ، تمہارا کام ہو جائے گا جسکی تصدیقی ضمانت اس نے ہاتھ کے اشارے سے پھر چاہی جو میں نے دے کر آئزک کی پگڑی کندھے پہ لٹکا کر واپسی کا سفر باندھ لیا ۔ ہم آئزک کی ریڑھی کے پاس پہنچے تو وہ کچرے سے لبا لب بھری پڑی تھی او ر ا سکے اوپر سرخ جھنڈا بھی لگا ہوا تھا ۔ گھر آکر گال خان کی بیٹی کے لیے مضمون لکھنے بیٹھ گیا جو شاید اب کالم بھی بن چکا ہے ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: DR ABDUL HAMEED HAMID

Read More Articles by DR ABDUL HAMEED HAMID: 14 Articles with 6373 views »
Professor Doctor of Biosciences, Quaid e azam University Islamabad.. View More
29 May, 2018 Views: 417

Comments

آپ کی رائے