ام الموئمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاکے فضائل

(Muhammad Siddique Prihar, Layyah)

کتاب ازواج انبیاء کے صفحہ چھپن پرلکھا ہے کہ حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ام الموئمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ تو مجھے خواب میں تین دن تک دکھلائی گئی۔میرے پاس ایک فرشتہ ریشم کے کپڑے میں تجھے لایا اوریہ کہتا کہ یہ آپ کی زوجہ ہے اورمیں تیرے چہرے سے پردہ ہٹاتا تووہ توعائشہ (رضی اللہ عنہا) تھیں۔تومیں یہ کہتا اگریہ خواب اللہ کی طرف سے ہے توپوراہوکررہے گا۔اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے خیر(بھلائی) کاارادہ فرمایا اورانہیں حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ بنانے کے لیے تیارکیا۔انہیں بلندمقام ومرتبہ عنائت فرمایااورحضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی والدہ کویہ کہہ کروصیت فرماتے کہ اے ام رومان عائشہ کواچھی تربیت دواوراس میں میراخیال کرو۔کتاب خاندان رسول کے صفحہ دوسوتہتر پرلکھا ہے کہ روایت میں آتا ہے کہ ام الموئمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی جانب نکاح کاپیغام حضرت خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہالے کرآئیں ۔انہوں نے حضرت ام رومان رضی اللہ عنہاسے ذکرکیاتوحضرت ام رومان رضی اللہ عنہانے کہا کہ ابھی ابوبکررضی اللہ عنہ گھرپرموجودنہیں وہ آتے ہیں تومیں ان سے بات کرتی ہوں۔حضرت سیّدناابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ تشریف لائے اورانہیں حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیغام کے متعلق علم ہوا توانہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوکرعرض کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے منہ بولابھائی بنایا ہے کیامنہ بولے بھائی کی بیٹی سے نکاح ہوسکتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایامنہ بولے بھائی کی بیٹی حرام نہیں ہے چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات سننے کے بعدحضرت سیّدناابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے حامی بھرلی۔کتاب ازواج انبیاء کے صفحہ چھپن پرہی لکھا ہے کہ جب مناسب وقت آیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اورحضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے عقد کر لیا اورچارسودرہم مہرمقررفرمایا ۔ اورحضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کواس رشتہ سے خوش نصیبی حاصل ہوئی اورانہیں بہترین چیزحاصل ہوگئی۔اسی کتاب کے اگلے صفحہ پرلکھا ہے کہ ہجرت کے دوسرے سال رمضان المبار ک میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی بدرمیں مددفرمائی اورمدینہ کی گلیوں اورمضافات میں اس عظیم نصرت کی خوشی دوڑگئی اورشوال کے مہینے میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا والدہ کے گھرسے بیت زوجیت میں منتقل ہوئیں۔کتاب ازواج انبیاء کے صفحہ ۴۵ پرلکھا ہے کہ حضرت عمروبن العاص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیایارسول اللہ لوگوں میں سے آپ کوکون زیادہ محبوب ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا عائشہ! عمرونے عرض کیااورمردوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس کاوالد(یعنی حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ)حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوائے پاکیزہ چیزوں کے کچھ پسندنہ فرماتے تھے اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی امت کے بہترین شخص اوربہترین عورت کو محبوب فرمایااورجوشخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ان دونوں محبوبوں سے محبت کرے گا وہ یقیناًاس لائق ہے کہ وہ اللہ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کوبھی محبوب ہو۔کتاب خاندان رسول کے صفحہ دوسوچوراسی پریوں لکھا ہے کہ حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن ام الموئمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا ۔ تم اپنے والدین سے مشورہ کرلوکیونکہ اللہ عزوجل نے مجھ پرسورۃ الاحزاب کی آیات نازل فرمائی ہیں جن میں اللہ عزوجل نے فرمایا ہے کہ ’’ اے میرے محبوب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اپنی بیویوں سے کہہ دیجئے کہ اگرتم کودنیاوی زندگی اوراس کی زینت وآرائش چاہیے توآؤمیں تم کورخصتی کے جوڑے دے کررخصت کردوں اوراگراللہ اوررسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اورآخرت پسندہے تواللہ عزوجل نے تم سے نیک عورتوں کے لیے بڑاثواب مہیا کررکھا ہے۔ام الموئمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے جب اللہ عزوجل کافرمان سنا توعرض کیا۔ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کواختیارکرتی ہوں۔حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب ام الموئمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کاجواب سناتوچہرہ مبارک پرخوشی کی لہر دوڑگئی۔ام الموئمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاسے مروی ہے فرماتی ہیں جب حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوحکم ہوا کہ اپنی بیویوں کواختیاردیں کہ وہ دنیاچاہیں تودنیالے لیں اورآخرت چاہیں توآخرت لے لیں توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سب سے پہلے مجھ سے فرمایا ’’ تمہیں ایک بات کہتاہوں اورتم اس کے جواب میں جلدی نہ کرنااورجب تک اپنے ماں باپ سے مشورہ نہ کرلو‘‘ ام الموء منین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں کہ حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جانتے تھے کہ میرے والدین کبھی بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوچھوڑنے کامشورہ نہ دیں گے اورپھرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اللہ عزوجل کا پیغام سنایا ’’ اے میرے محبوب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اپنی بیویوں سے کہہ دیجئے اگرتم کودنیاوی زندگی اوراس کی زینت وآرائش چاہیے توآؤمیں تم کورخصتی کے جوڑے دے کررخصت کردوں اوراگراللہ اوررسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اورآخرت پسندہے تواللہ عزوجل نے تم سے نیک عورتوں کے لیے بڑاثواب مہیا کر رکھا ہے۔‘‘ ام الموئمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں میں نے عرض کیااس میں کون سی ایسی بات ہے جس کامشورہ میں اپنے والدین سے کروں اورمیں چاہتی ہوں اللہ عزوجل کو، اللہ عزوجل کے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کواورآخرت کے گھرکواورپھرتمام ازواج مطہرات نے ایساہی جواب دیا ۔ فقر و قناعت کایہ عالم تھا کہ ام الموء منین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے گھرمیں سامان انتہائی مختصرتھا اورایک چارپائی، ایک چٹائی ،ایک تکیہ ،آٹااورکھجوررکھنے کے برتن، پانی کاایک برتن اورپانی پینے کے لیے ایک پیالہ تھا ۔رات کوچراغ جلانے کی بھی حیثیت نہ تھی۔اورآپ رضی اللہ عنہافرماتی تھیں کہ چالیس راتیں گزرجاتی ہیں اورگھرمیں چراغ نہیں جلتا۔کتاب ازواج انبیاء کے صفحہ ۶۷ پردرج ہے کہ ام الموئمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے اتنے فضائل ہیں جن کاشمارنہیں یہ ان سات افرادمیں شامل ہیں جن سے حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت زیادہ تعدادمیں مروی ہیں ۔انہوں نے براہ راست حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حدیث حاصل کی اورحضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فعلی سنتیں نقل کرنے میں ان کابڑاحصہ ہے اوراسی طرح ان کی تعلیم میں ۔اسی طرح ان کا حجرہ دنیامیں حدیث شریف کی تعلیم کاپہلامدرسہ شمارکیاجاتاہے۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے خودنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے برکتوں والاپاکیزہ علم حاصل کیا اوراسی طرح حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ ، حضرت عمررضی اللہ عنہ ،حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا، حضرت سعدرضی اللہ عنہ، حضرت حمزہ بن عمروبن الاسلمی رضی اللہ عنہ اورجدامہ بنت وہب رضی اللہ عنہ سے ان علوم کوحاصل کیا۔اورخودان سے ایک کثیرمخلوق نے جن کاشمارنہیں علم کی خوشہ چینی کی۔اسی کتاب ازواج انبیاء کے صفحہ ۸۷ پرہے کہ امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ نے ام الموئمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں لکھا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہا امت مسلمہ کی خواتین میں علی الاعلان سب سے زیادہ فقیہ تھیں۔اوریہ بات حقیقت پرہی مبنی ہے کیونکہ ان کی نشوونماسچائی کے گھرمیں ہوئی اورزندگی نبوت کے گھر میں گزری۔اوریہ نبوت کے صاف اورخالص چشمے سے سیراب ہوئیں۔اسباب نزول قرآن کواپنی آنکھوں سے دیکھا ،یہ الگ بات ہے کہ ان کے حجرہ میں وحی اترنے کی جگہ تھی۔تواس میں کوئی تعجب نہیں کہ وہ امت کی خواتین میں سب سے زیادہ فقیہ ہوں اسی وجہ سے ان کاعلم پھیلا اوران کافضل شہروں میں پھیلا اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرائض (وراثت ) سنن اورفقہ کی معرفت میں سب سے فوقیت لے گئیں۔امام مسروق رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا کہ کیاحضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرائض (وراثت ) کے مسائل بخوبی جانتی تھیں ۔توانہوں نے جواب دیا کہ قسم اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے مشائخ کوان سے وراثت کے مسائل پوچھتے دیکھا ہے۔اورحضرت عرہ بن زبیررضی اللہ عنہ (جوحضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے تھے ) کے بارے میں حضرت قبیہ بن نویب رحمۃ اللہ علیہ نے رشک کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھرمیں داخل ہونے میں ہم پرغلبہ رکھتے تھے اورحضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا لوگوں میں سب سے زیادہ عالمہ تھیں۔اسی حوالے سے کتاب خاندان رسول کے صفحہ دوسوچھیاسی پرلکھا ہے کہ ام الموئمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاکاعلمی مقام بے حدبلند ہے کیوں کہ ہربات کے بارے میں انہیں حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کاطرزعمل معلوم تھا۔حضرت عرہ بن زبیررضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے قرآن وحدیث، فقہ وتاریخ اورعلم الانساب میں ام الموئمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاسے بڑھ کرکسی کونہیں دیکھا۔جب کہ احنف بن قیس اورموسیٰ بن طلحہ رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ آپ رضی اللہ عنہاسے بڑھ کرہم نے کسی کوفصیح اللسان نہیں دیکھا۔حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے ام الموئمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے زیادہ بلیغ، فصیح اور تیزفہم کوئی خطیب نہیں دیکھا۔اسی کتاب کے اسی صفحہ پرلکھا ہے کہ کتب سیرمیں متعددروایات ایسی ملتی ہیں جن سے پتہ چلتاہے کہ ام الموئمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کودینی علوم کے علاوہ علم طب، تاریخ اورشعروادب پربھی دسترس حاصل تھی۔ام الموئمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہااحادیث بھی بیان کرتی تھیں اوراحادیث بیان کرتے وقت اس کے پس منظراوراسباب وعلل بھی بیان کرتی تھیں اورجوتوجیہہ آپ رضی اللہ عنہابیان کرتی تھیں اس کے لیے کسی تاویل کی ضرورت محسوس نہ ہوتی تھی۔اورآپ رضی اللہ عنہاہمیشہ حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کی حقیقی روح تک پہنچنے کی کوشش کرتی تھیں۔کتاب ازواج انبیاء کے صفحہ ۵۷پرلکھا ہے کہ برکت ام الموئمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاکی زندگی کے تمام ادوارمیں موجودرہی خاص طورپررسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ گزاری ہوئی زندگی میں انہیں عظیم شرف حاصل ہوااوروہ شرف حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اورآخری مرض میں ان کے حجرے میں ہوناجوتمام دوسری ازواج مطہرات کی اجازت کے ساتھ تھا۔انہوں نے اجازت دے دی۔تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جہاں پسندفرمائیں وہاں مقیم رہیں ۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نعمتوں اورشرف میں سے مجھے ایک شرف یہ نصیب ہواکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے حجرے میں میرے دن میں میرے سینے سے ٹیک لگائے ہوئے وصال فرمایااوراللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اورمیرے لعاب دہن کوجمع فرمادیا وہ یوں کہ میرے ہاں حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ (حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاکے بھائی) آئے ان کے ہاتھ میں مسواک تھی اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھ سے ٹیک لگائے ہوئے تھے میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسواک کی جانب دیکھ رہے ہیں تومیں سمجھ گئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسواک کرناچاہتے ہیں میں نے مسواک لی توہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوسخت محسوس ہوئی میں نے پوچھااسے نرم کردوں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اشارہ سے ہاں فرمایا تومیں نے نرم کرکے دی۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Siddique Prihar

Read More Articles by Muhammad Siddique Prihar: 335 Articles with 150321 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
29 May, 2018 Views: 433

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ