پر امن بقائے باہمی اور مسلم امۃ

(Asif Khurshid, India)

پر امن بقائے باہمی اور مسلم امۃ خالد بھٹہ
امن ہر ذی روح کی خواہش ہے ، سوائے ان کے جن کا دامن انسانیت سے خالی ہے،اس وقت حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں اگر کوئی بدامنی اور انتشار کا شکار ہے تو وہ مسلم ممالک ہیں ،اس کے باوجود دنیا میں اجتماعی طور امن کی خواہش بھی مسلمان ممالک میں ہی پائی جاتی ہے ، اس سلسلہ میں پاکستان کی کوششیں پوری دنیا کے سامنے ہیں۔دوست اسلامی ملک الجزائر کی ایک تنظیم کی تجویز پر اقوام متحدہ کا ساہل میں ایک دن پر امن بقائے باہمی کے لئے مختص کرنا بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے۔ اس برس یہ دن دنیا بھر میں پہلی بار منایا گیا ،اس موقع پر دیگر کے ساتھ ساتھ الجزائر کے صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کا پیغام بھی بہت اہم ہے، جس میں انہوں نے کہا کہ ’’آج ہم دنیا کے دوسرے ممالک کے ہمراہ عالمی یوم پر امن بقائے باہمی منا ر ہے ہیں۔ اور یہ بات ہمارے لیے کئی لحاظ سے اہمیت کی حامل ہے۔ اس کی پہلی وجہ یہ ہے کہ یہ دن شیخ خالد بن تونس الجزائری کی تنظیم عالمی علوی صوفی تنظیم کی تجویز پر منایا جا رہا ہے جو گزشتہ سال دسمبر کو جنرل اسمبلی نے منظور کی تھی۔ یہ اعلان الجزائر کی ان کوششوں کا اعتراف ہے جو وہ عالمی سطح پر پرامن بقائے باہمی کے لئے کر رہا ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ یہ اعلان ان اقدار کا آئینہ دار ہے جن پرہماری قوم یقین رکھتی ہے اور عالمی برادری کے ساتھ ان کو اپنانا چاہتی ہے۔تیسری بات یہ ہے کہ یہ اعلان ہمارے ملک اور اقوام متحدہ کی جانب سے مختلف معاشروں کے درمیان امن اور گفتگو کی سوچ کو آگے بڑھانے اور تفرقہ بازی کو ختم کرنے کا عکاس ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارا ملک تہذیبوں میں جنگ کے حامیوں اور شدت پسندوں کے بر خلاف ہمیشہ ان اعلیٰ اسلامی اقدار کا داعی رہا ہے جو صدیوں سے مختلف تہذیبوں اور ادیان کے درمیان گفتگو اور تعاون کی دعوت دیتے ہیں اور اسلام کے انہی اعلیٰ اقدار کی بدولت ہماری قوم دہشتگردی کے دلدل سے نکلنے اور امن اور قومی مصالحت کی وجہ سے اس پر قابو پانے میں کامیاب ہوئی ہے۔یہی اقدار وہ باب ہے جس میں دستور کے مطابق ملک کی عربی، اسلامی اور امازیغی شناخت ہے جس کو ہر طرح کے سیاسی مقاصد سے بالا تر رکھنے کی ضرورت ہے اور یہی ملک کی ترقی اور معاشرتی مساوات اور ترقی کی بنیاد ہے۔ یہی اقدار دوسروں کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کی بنیاد فراہم کرتے ہیں اور انہی کے ذریعے ہمارے ملک میں خواتین کے حقوق کو ترقی ملی ہے۔

ُ اس بارے میں آخری بات یہ ہے کہ تعلیمی نظام میں ایسی گہری اصلاحات کی ضرورت ہے جو اس ملک کی اعلی اقدار پر مشتمل ہوں، جس سے ایسے شہری پیدا ہوں جن کے دل میں ملک کی آزادی اور اس کے روشن مستقبل کی تعمیر کا جذبہ موجزن ہو اور سکول کی ذمہ داری ہے کہ وہ طلبہ کے ذہنوں میں دوسروں کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کے جذبے کو فروغ دے۔بین الاقوامی سطح پر الجزائر نے اسی اصول کی بنیاد پر امن، برداشت اور مختلف قوموں کے درمیان گفتگو کو فروغ دینے کے لئے دوسرے ممالک سے تعاون کیا ہے اور ہمارا ملک مختلف تہذیبوں کے درمیان گفتگو کی دعوت دینے والے اولین ممالک میں شامل ہے۔ اس طرح اس نے بین الاقوامی معاشرے کو تہذیبوں کے درمیان ٹکرا کے پرچارکوں کو روکنے میں مدد دی ہے۔ اسی لئے الجزائر نے اقوام متحدہ کے میثاق کو آگے بڑھانے کے لئے کام کیا ہے خواہ اس کا مقصد سیاسی نزاعات کو حل کرنا ہو یا اقتصادی تعلقات میں توازن پیدا کرنا۔

اس لئے ہمیں اس پر فخر ہونا چاہئے کہ ہم نے نصف صدی قبل بین الاقوامی سطح پر گفتگو کی دعوت دی جس کا مقصد اقوام عالم کے درمیان مکمل اور منصفانہ اقتصادی تعلقات قائم کرنا تھا۔چونکہ پوری دنیا 16 مئی کو پرامن بقائے باہمی کا دن پہلی بار منا رہی ہے، اس لئے الجزائر کو اس پر فخر ہے کہ اس کی تجویز کے لئے بقائے دوام لکھ دیا گیا ہے جس کا مقصد آنے والی نسلوں کو ایک ایسی دنیا کی تعمیر کا پیغام دینا ہے جس کی بنیاد برداشت، باہمی احترام اور یکجہتی پر ہو۔اس کے ساتھ ساتھ ہماری قوم کا فرض ہے کہ وہ اس میدان میں مزید آگے بڑھے اور اس اعلی سوچ کے ذریعے اسلام کے حقیقی اور خوبصورت تصور کا بہادری سے دفاع کرے اور اپنے شہدا کے پیغام کو عام کرے۔‘‘

الجزائر کے صدر بجا طور پر مستحق ہیں کہ ان کے پیغام کو عالمی سطح پر سراہا جائے ، ان کے اس پیغام میں سیکھنے اور کرنے کی بہت سی چیزیں ہیں خصوصاً پڑوسی ممالک سے تعلقات اور آئینی اصلاحاتکے حوالہ سے ان کی تجاویز اہم ہیں ۔ لیکن دیکگھا جائے تو یہ وہی پیغام ہے جو کئی مسلم ممالک کی جانب سے بار بار دہرایا جا رہا ہے ، جو اس امر کی علامت ہے کہ دنیا بھر کے مسلم ممالک کی خواہش امن کے سوا کچھ نہیں اور بد امنی ان پر بیرون سے مسلط کی جارہی ہے ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Asif Khurshid

Read More Articles by Asif Khurshid: 87 Articles with 33448 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 May, 2018 Views: 245

Comments

آپ کی رائے