جلے ہوئے دل کے پکوڑے‎

(Nabiha Arshad, Lahore)
زمرہ:سو لفظی کہانی

صباء کی شادی کے چھ ماہ بعد اس کے سسرال مںر پہلا رمضان المبارک آیا۔ اس نے سب کی خوشی اور چاہتں اکٹھی کرنے کی غرض سے بے تحاشا خدمات سرانجام دیں۔کھانے کھلانے اور پکانے کا شوق تو اسے تھا ہی، پھراُس نے ہر روز سحری و افطاری مںش نت نئے کھانے بنا بنا کر سب کو کھلائے۔ مگر اس کے سسرال والوں کا کہنا تھا کہ صباء کے ہاتھ مں ذائقہ تو بہت ہے مگرافطار میں اسپیشل پکوڑے بنانا اس کے بس کی بات نہیں!
صباء کو یہ بات انتہائی ناگوار گزری اور اس نے دل ہی دل میں سوچا کہ " میں اپنے جلے ہوئے دل کے پکوڑے بنا کر نہ کھلا دوں سب کو"

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Nabiha Arshad

Read More Articles by Nabiha Arshad: 16 Articles with 11121 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 May, 2018 Views: 369

Comments

آپ کی رائے