وطن کی مٹی گواہ رہنا۔۔۔(ایک سوال ایک امید )

(Riaz Hussain, Cheecha Watni)

’’اﷲ کی راہ میں جو مارے جاتے ہیں ان کو مردہ مت کہو، تم نہیں جانتے میرے پاس ان کا کیا درجہ ہے‘‘(القران) اس موقع پر میں شہداء ، غازیوں اور پاکستان کے سپوتوں کو سلام پیش کرتا ہوں جن کی بدولت آج یہ پاک سر زمین اندرونی اور بیرونی سازشوں کا قلع قمع کرتے ہوئے قائم و دائم ہے اور پاکستان کا ہر شہری بے فکر ہو کر اپنی نیند پوری کرتا ہے۔ آج 6ستمبر یوم دفاع بڑی دھوم دھام سے منایا جائے گا اس کی اہمیت، قدرو منزلت اور اس کی تقریبات منعقد کرنے یا کیے جانے کا کیا مقصد ہو سکتا ہے۔ آج مختلف تقریبات ، ٹی۔ وی شوزاور مختلف اداروں میں اس پر روشنی ڈالی جائے گی، اپنی پاک فوج کے حق میں قصیدے پڑھے جائیں گے لیکن آپ وزیر دفاع کے بارے میں کیا کہنا پسند کریں گے جس نے ایوان میں کھڑے ہو کر اس دن کی اہمیت کو کھو دیا وہ بیان انٹرنیشنل میڈیا پر بھی چلا ہوگا۔ 1965کی جنگ میں شہید ہونے والے خاندانوں ، جنگی محاذ سے سرخرو ہو کر غازی اور وہ غازی جو شہادت نہ پا سکے مگر معذورہو گئے تو ان پر اس بیان نے گہرے زخم کیئے ہونگے، ایسے بیان دینے سے پہلے کیا کبھی سوچا ہے؟ تو میں اس موقع پر اپنی پاک فوج کے سپہ سالار سے کہنا پسند کروں گا کہ ایسے نام نہاد وزیر کو سر عام لٹکایا جائے تاکہ جس نے جنگ میں اپنا خون دے کر ، اپنا آج قوم کے کل پر قربان کرتے ہوئے شہادت پائی ، ان کی روح کو سکون مل سکے۔ اﷲ کریم نے ان شہادتوں کو کسقدر اعلیٰ مقام سے نواز ا جس کی گہرائی کو سمجھنا قاصر ہے تو پھر ؟؟؟6 ستمبربھارت سے ہونے والی 1965کی جنگ بھارت کے ناپاک ارادوں اور جارحیت سے بھرپور منصوبہ بندی پر شروع ہوئی جس کا آغاز خود بھارت نے کیا کیونکہ مسلمان امن پسند قوم ہے لیکن جب بھارت نے پاکستان پر جنگ مسلط کر دی تو پاکستانی قوم نے چوڑیا ں نہیں پہن رکھی تھیں ۔ دشمن کا ڈٹ مقابلہ کیا آخر دشمن کو منہ کی کھانا پڑی اور بلا شرائط جنگ بندی کرنے پر مجبور ہو گیا ، جہاں پاکستانی فوج نے دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کیا وہاں ہر پاکستانی نے پاک افواج کے شانہ بہ شانہ مل کر لاتعداد قربانیاں دیں ان قربانیوں کو بھلایا نہیں جا سکتا ۔ آج کا دن تجدید عہد کا دن ہے، اپنے اپنے ضمیروں کو جنجھوڑنے کا دن ہے، ان سپوتوں کو یاد رکھنے اور ان کے نقش قدم پر چلنے کا دن ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وعدہ کرنا ہو گا کہ آئندہ بھی کوئی ملک پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھے گا تو اس کو 1965والا سبق سکھایا جائے گا۔ الحمدﷲ پاکستانی فوج دنیا کی بہترین فوج بلکہ سب سے برتر فوج ہے جو کسی بھی قسم کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے، آج بھی ایم ایم عالم جیسے پائلٹ ، میجر عزیز بھٹی شہید، لانس نائیک محفوظ شہید اور سپاہی مقبول جیسے جوان موجود ہیں ۔ آج بھی مائیں ایسے سپوتوں کو جنم دے رہی ہیں جو انشاء اﷲ آنے والے وقت کے سپہ سالار ہونگے جن کی ایک مثال جنرل قمر جاوید باجوہ صاحب پوری دنیا کے سامنے ہیں لیکن پھر بھی ۔۔۔۔۔۔معذرت کے ساتھ میرا یہ سوال ان سیاستدانوں اور مسلح افواج کے جرنیلوں سے ہے۔ آج پاکستان کو معرض وجود میں آئے 70برس ہونے کو ہیں لیکن اس ملک کی تقدیر کیوں نہ بدل سکی، حکومتیں آئیں ، تخت و تاج الٹے گئے، پاکستان دو لخت ہوگیا۔ پاکستان بننے کے بعد کتنی ماؤں نے اپنے بیٹوں کو شہدا کی موت میں قبول کیا؟ کتنی بہنوں نے اپنے اکلوتے بھائیوں کی میتوں کو اٹھایا؟ کتنی بیٹیاں بیوہ ہوئیں؟ کتنے گھروں کے چراغ گل ہو گئے ؟ کتنے گھروں کا ذریعہ معاش رک گیا؟ کتنے غازی واپس گھر کو لوٹے ؟ اور کتنے غازی معذوری کی حالت میں واپس آئے؟ تو پھر آج بھی پاکستان کسی مسیحا کی طرف کیوں دیکھ رہا ہے؟ ہم سے کہاں غلطی اور کوتاہی ہوئی؟ ہر دور نئی امنگوں اور امیدوں کے ساتھ شروع ہواکیا واقعتاً اس دور میں ملک پاکستان کے لیے ملک کے مہنگے ترین ایوانوں میں اپنی اپنی ذات کے علاوہ ملک اور اس کے جمہور کے لیے کوئی بحث نہیں ہے؟ کبھی نہیں۔ تو پھر اقتدار میں آنے والے ہی ایسے ہیں یا پاکستانی قوم ہی بیوقوف ہے۔جو ایک پیڈسٹل فین، ایک لوہا پگھلانے والی بھٹی، ایک منشی اور ایک کلرک سے دنیا کے چند امیرترین لوگوں کی فہرست میں شامل ہو سکتے ہیں تو پھر پاکستان کیوں نہیں؟اوتھ پریڈ(حلف برداری) توعہدہ سبنھالنے والے سب ہی کرتے ہیں، اﷲ اور اﷲ کے رسول کے احکامات اور وطن سے محبت کی قسم بھی کھاتے ہیں تو پھر وہ سب کہاں دفن ہو جاتا ہے۔ قسم پریڈ تو فوج میں بھی ہوتی ہے، تو اس قسم کی تشریح صرف فوجی ہی کیوں سمجھتے ہیں؟ کیا ہمارے سیاستدان سب ان پڑھ اور عقلی شعور سے فارغ ہوتے ہیں؟کیا ٹی وی پر بیٹھ کر بڑے بڑے ٹاک شوز میں کبھی اپنی اپنی لڑائی کے علاوہ وطن عزیز پاکستان کے لیے کوئی منصوبہ پیش ہوا، اگر ہوا تو وہ کامیاب کیوں نہ ہو سکا۔ اربوں کروڑوں تو خرچ ہو گئے پھر بھی کچھ نہ بن پایا۔ آخر اس کی وجہ کیا ہو سکتی ہے؟ یہ ملک کیسا ملک ہے کہ ایک چند ہزار روپے کا نادہندہ حوالات کی سلاخوں کے پیچھے ہوتا ہے اور کروڑوں اور اربوں کے نادہندہ وزیربن جاتے ہیں، اس سے صاف عیاں ہوتا ہے کہ اس ملک میں اچھے اور سچے لوگوں کی ضرورت نہیں یہ ملک صرف ڈاکوؤں اور لٹیروں کے لیے بنا ہے؟ اگر ایسے ہی ہے تو الیکشن سے پہلے بڑے بڑے ڈائیلاگ کیوں الاپے جاتے ہیں؟۔ کیا کوئی ایسی عدالت یا آئین پاکستان میں کوئی دفعہ یا شق نہیں کہ جو قوم سے جھوٹے وعدے کرکے ، قوم کو بیوقوف بنا کر اقتدارپر آتے ہیں ان کا کڑا احتساب ہو سکے۔ کیا ملک عظیم کی صرف پاک فوج ہی رہ گئی ہے جسے جس وزیر کا دل چاہے گالیاں بکنا شروع کردے اور جب برا وقت آئے تو پھر فوج کو ہی زر خرید غلام کی طرح استعمال کرنے کی کوشش کیوں کی جاتی ہے؟ پاک فوج کو چند فیصد بجٹ دینے کے بعد قوم کو یہ تاثر کیوں دیا جاتا ہے کہ پورا بجٹ فوج کھا جاتی ہے۔ فوج قوم کی ہڈیاں چوس رہی ہے۔ آخر ایسا کب تک ہوتا رہے گا اور ایوانوں میں وزیروں کے ذریعے جگ ہسائی ہوتی رہے گی؟ فوج کی قربانیوں کو گننا اب سیاستدانوں کے بس کی بات نہیں، اور نہ ہی ان کو گننے کی ضرورت ہے کیونکہ ان کا مقصد ہی شہید کے خون سے کھیلنا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان کا شاید ہی کوئی قبرستان ایسا ہو جہاں پاکستانی پرچم نہ لہرا رہا ہو یعنی شہید دفن نہ ہو۔ اگر پورے پاکستان میں سبز پرچم میں لپٹی ہوئی شہدا ء کی میتیں بھی ہمارے ضمیر کوجگانے میں کامیاب نہیں ہو سکیں تو پھر ہم کس مٹی کے بنے ہوئے ہیں ؟میں پوچھتا ہوں جب ایک شہید کی میت اس گھر میں جاتی ہے تو کتنے لوگ اس کے جنازے میں شامل ہوتے ہیں؟ صرف چند لوگ ، کیاہمیں شہید کے رتبے کا پتہ نہیں حال ہی میں لانس نائیک محفوظ شہید کی قبر مبارک کی منتقلی کی گئی اور سب لوگوں نے اپنی آنکھوں اور قوم نے کیمرے کی آنکھ سے دیکھا کہ وہ آج بھی اس شہید کی طرح ہے جس طرح ابھی چند سیکنڈ پہلے شہادت پائی۔ یا پھر ہمیں ایک کریمنل کے جنازے میں جانا زیادہ ضروری بتایا گیا ہے۔ ایک کریمنل بے موت مارا جائے تو علاقے بھر کی تمام بڑی بڑی شخصیات اس کے جنازے میں شامل ہوتی ہیں لیکن جب ایک شہید کا جنازہ پڑھا جائے تو اس کو یہ کہہ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے کہ ایک بے چارہ سپاہی بارڈر پر شہید ہو گیا ۔ کوئی بتا سکتا ہے آج تک جتنی بھی جھڑپیں یا جنگیں ہوئی ہیں ان میں سرخرو ہو کر غازی جب اپنے گھر یا شہر کو واپس آتے ہیں کتنے لوگ ان کے استقبال کو جاتے ہیں؟پھر وہ غازی جو معذوری کے ساتھ گھروں کو لوٹتے ہیں کتنے لوگ ہوتے ہیں جو ان کو کندھوں پر اٹھاتے ہیں؟ وہی چند دوست ساتھی رجمنٹ یا یونٹ کے لوگ۔صبح کھایا شام کو بھولنے والی پاکستانی قوم اس وقت ہر لیڈر کو بھو ل کر ایک جنرل قمر جاوید باجوہ پر تمام تر امیدیں لگائے بیٹھی ہے۔ جبکہ صوبائی پنچائتوں اور قومی پنچائت میں کتنے لوگ بیٹھے ہوتے ہیں وہ کس کام کے لیے؟ صرف قومی خزانے کو لوٹنے کی تراکیب سوچنے کے لیے ؟پنشن لینے، بلیو پاسپورٹ حاصل کرنے یا پھر بڑے بڑے پروٹوکول ۔ اگر اندرونی اور بیرونی معاملات کو صرف ایک جنرل قمر جاوید صاحب نے ہی دیکھناہے تو ان پنچائتیوں کے چناؤ کی ضرورت ہے۔ قوم کا اربوں روپیہ پانی کی طرح بہا دیا جاتا ہے۔ بہتر ہے کہ یہ چناؤ کیا ہی نہ جائے اس سے کچھ تو بوجھ کم ہوگا اپنے اپنے گھر کا بجٹ بیلنس کرنے کے لیے ایک وقت کا کھانا، اور فضول قسم کی خواہشوں اور ضرورتوں کو ترک کرنا پڑتا ہے۔ تو پھر یہ سینکٖڑوں کی تعداد میں پنچائیتی ایوانوں میں بیٹھ کر کونسا بجٹ بیلنس کر رہے ہیں؟ میڈیا دن رات کوئی نہ کوئی شہ سرخی بنا کر ، رنگ برنگے ٹاک شوز سے ہمیں مستفید کرتے رہتے ہیں، حتیٰ کہ صوبائی اور قومی اسمبلیوں کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔میری سید ھی سادھی قوم غور کرو کبھی مہنگے ایوانوں میں ملک یا اس میں بسنے والوں کے لیے کبھی کوئی قرارداد پاس ہوئی جس سے عام پاکستانی شہری کو تحفظ مل سکے۔ حال میں سیلاب نے بے پناہ لوگو ں کو متاثر کیا ، کیا ان غریب ارب پتی لیڈروں سے ہو سکا کہ ان سیلاب زدگان کے لیے دو دو ماہ کی تنخواہ دے دیتے ۔ اگر ایسا نہیں ہو سکتا تو پھر کس مرض کی دواہیں۔ میرا عاجزانہ سوال ہے کہ اگر جنرل صاحب وقت کے واحد سپہ سالار یا قومی لیڈ ر ہیں اور ان کی کارکردگی اٹھارہ کروڑ عوام کے دلوں میں گھر کر سکتی ہے تو پھر جو سیاسی پارٹیاں سالہا سال سے بر سر اقتدار چلی آرہی ہیں ان پر تا حیات پابندی لگا دینی چاہیے اور جنرل صاحب کی شخصیت ان کے سامنے بطور نمونہ رکھی جائے کہ جو لیڈر کم ازکم اس سپہ سالار جیسا جسمانی طور پر مضبوط اور ملکی سا لمیت کے لیے فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو تو آؤ ورنہ اس کو کال کوٹھڑی میں بند کر دیا جائے۔ اگر جان کی امان پاؤں توآخرمیں جنرل صاحب سے میری ایک درخواست ایک سوال ایک امید ہے کہ میں چھوٹا سا پاکستانی سپاہی ہوں ، محب وطن کہتے ہوئے ڈر لگتا ہے کیونکہ 70سال کی تاریخ بتاتی ہے جو بھی محب وطن ثابت ہو ا اسے کسی نہ کسی طرح فارغ کر دیا گیا، ابھی میں چندسال یا چند دن اور جینا چاہتا ہوں میں چاہتاہوں کہ ملک کے لیے کچھ نہ کچھ کر سکوں شائد میری تھوڑی سی کوشش کسی کو محب وطن بنانے میں کار گر ثابت ہو سکے۔ جناب عالیٰ یہ ایوانوں میں بیٹھے عوام کے منتخب نمائندے تو بے بس ہیں کہ ملک و قوم کے لیے کچھ کر سکیں۔ جنرل صاحب جاتے جاتے کم از کم ملک کو اس دور میں لے جائیں جس دور میں ایک روپے کا 100حصہ یعنی ایک ٹیڈی پیسہ بھی اپنی اہمیت رکھتا تھا، ملک پاکستان کا اندرونی انتظامی ڈھانچہ اس وقت کامیاب ترین ہوگا جب کسی کو تھانہ میں اپنی شکایت درج کروانے کے لیے کسی وڈیرے، ایم۔ این۔ اے ، ایم۔ پی۔ اے یا بااثر شخصیت کی ضرورت نہ پڑے اگر ایسا کرنے میں آپ کامیاب ہو جاتے ہیں تو سمجھ لیں کہ ملک کے انتظامی امور 50فیصد سلجھ گئے ، پھر جاتے جاتے ان لوگوں کے لیے بھی ایسی راہ متعین کرتے جائیں جس پر وہ جوان، سپاہی جس نے اپنی جوانی ملک کے لیے فوج میں لٹا دی اور جب واپس آتا ہے تو معاشرہ قبول کرنے سے انکار کردیتا ہے پھر اس کی چھیٹر ’’فوجی‘‘ کا لفظ بن کر تعاقب کرتا ہے۔ کبھی نچلی سطح پر آکر دیکھئے پلیز کتنی بیوائیں، کتنے یتیم بچے کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ایک مستند اور باعمل قانون کی ضرورت ہے ، صرف ایک بار قوم سے خطاب کی ضرورت ہے اس وقت پوری قوم آپ پر جان نچھاور کرنے کے لیے تیا رہے۔ اگر ایسا نہیں ہو سکتا تو پھر قوم سے خطاب کریں کہ میں ایسا نہیں کرسکتا ، وطن عزیز کا قانون مجھے اجازت نہیں دیتا لہذا ۔۔۔۔۔اﷲ آپ کا حامی و ناصر ہو۔ سر یقین جانیے ہمارے اندر کرپشن، ر شوت اس قدر سرایت کر چکی ہے کہ یہ خون کا حصہ بن چکی ہے وہ ادارے جو اس کی روک تھام کے لیے کروڑوں کے بجٹ سے چل رہے ہیں وہ بھی اسی بہتی گنگا میں بڑے آرام سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔ میری محب وطن قوم ہم علاقے کے چوہدری، وڈیرے، ایم۔پی۔اے یا ایم۔ این ۔ اے کے ہاتھوں یرغمال بن چکے ہیں اسکی چھوٹی سی مثال دیتا ہوں کہ اگر کسی بھی معاملے میں پولیس میں اپنی رپٹ درج کروانی پڑھ جائے یا کسی لڑائی میں سرکاری ڈاکٹر سے میڈیکل حاصل کرنا پڑے تو پھر کیا کچھ ہوتا ہے، کیا ڈاکٹر بغیر کسی سیاسی دباؤ کے میڈیکل جاری کرتا ہے؟ کیا تھانہ میں بغیر کسی سیاسی اثرو رسوخ کے سنی جاتی ہے تو پھر سوچو کب تک یہ سب چلتا رہے گا۔ اس میں پولیس کو میں ذمہ دار نہیں ٹھہراؤں گا کیونکہ ان کی باگ ڈور سیاسی لوگوں کے ہاتھ آ چکی ہے اس لیے سیاسی لوگ اپنی جائز یا ناجائز منوانے کے لیے ان کو استعمال کرتے ہیں اور پولیس والے وقت کے ہاتھوں اور وقتی ضروریات کے پیش نظر سیاسی لوگوں کے لیے کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، پولیس والے انسان ہیں لیکن ان کا ریموٹ کسی اور کے ہاتھ میں ہے۔ میری ہم وطن پاکستانیوں سے گزارش ہے کہ اس پر ضرور سوچیں ۔ شکریہ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: RIAZ HUSSAIN

Read More Articles by RIAZ HUSSAIN: 117 Articles with 63487 views »
Controller: Joint Forces Public School- Chichawatni. .. View More
06 Jun, 2018 Views: 432

Comments

آپ کی رائے