شعبہ تدریس، پیغمبرانہ پیشہ یا صِرف پیشہ

(Sufi nouman riaz, lahore)
تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کےلیے ہم سب کو کردار ادا کرنا ہو گا

'' فرد''کسی بھی معاشرے کی اکائی کی حیثیت رکھتا ہے اورسوسائٹی میں اخلاقی اور معاشی اقدار سے منسلک رویوں کی کامیابی کے حتمی نتائج کی بہتری کا دار ومدار در حقیقت اس سوسائٹی میں بسنے والے ہر ایک فرد کی انفرادی حیثیت میں بہترین تربیت پر ہوتا ہے، سماجی فلاح کے لیے ہر شخص انفرادی حیثیت میں جتنی کاوشیں کرتا ہے ، اس معاشرے میں اجتماعی طور پر اتنی منظم اور خوبصورت زندگی کا ظہور ممکن ہوتا ہے ۔

خالق لم یزل نے انسان کو اس وسیع و عریض کائنا ت میں اپنا خلیفہ مقر ر کرنے کے بعد ہر نفس کو ''اپنی مدد آپ کے تحت'' فطرت کے رموز و اسرار کا مشاہدہ کرنے کے لیے تنہا نہیں چھوڑ دیا بلکہ انسانوں کے سمند رمیں سے کچھ''گوہروں''کا انتخاب عمل میں لایا گیا ،ان مخصوص لوگوں کو پہلی صف میں ''پیغمبر'' کا نام ملا جبکہ دوسری صف میں انہیں ''استاد '' کے نام سے متعارف کروایا گیا۔ تاریخِ انسانی کے حقائق اس بات پر گواہ ہیں کہ سیکھنے والوں نے سکھانے والوں سے بہر طور بہت کچھ سیکھا اور یزداں کی آشنائی کے زمرے میں حقو ق اللہ سے لیکر انسانیت کی فلاح و ترویج سے مروجہ حقو ق العباد پر بھی بھرپور زور دیاگیا۔

اب اس بات کی وضاحت ہو چکی کہ انسانوں کی بستیوں میں تہذیب و تمدن، قوانین و ضوابط اور اخلاقی مدار کے نظم و ضبط کی ذمہ داری ''فرد'' سے بھی پہلے ''استاد '' کے سپر د ہوگئی، یعنی فرد کی تربیت میں سب سے اہم کردار استاد نے ادا کیا جس کے نتیجے میں معاشرتی فلاح ایک بہترین نتیجے کے طور پر سامنے آئی ،لیکن وقت ایک متغیر حقیقت ہے جو ہر دم ایک نئے چہرے کے ساتھ سامنے آتا ہے اور اسی تغیر پذیری کے تحت موجودہ دور ہمارے لیے بھی ایک مکمل امتحان کی شکل اختیار کر گیا، مسلمان جنکی اخلاقی تربیت پر کسی بھی چیز سے زیادہ زور دیا جاتا تھا وہ مادیت پرستی کے جنجال میں پھنس کر اپنی اقدار کھو بیٹھے اور''راستہ ''دکھانے والے خود بھی اپنی منزلوں کا درست تعین کرنے میں ناکام رہے، آج ہمارے معاشرے کے تعلیمی معیارکا یہ عالم ہے کہ تعلیم نسواں، ناخواندگی، دیہی علاقوں کی ترقی سے بھی ہٹ کر اگر محض مہذب طبقات کے تعلیمی اور اخلاقی شعار کا جائزہ لیا جائے تو نتیجہ صفر نظر آتاہے اور ذرا سی گہرائی میں جا کر دیکھاجائے تواکثر مسند تدریس پر متمکن لوگ اس ناکامی کی وجہ بن کر سامنے آتے ہیں جنہوں نے اپنے سامنے بیٹھنے والے نا پختہ اور غیر تربیت یافتہ ذہنوں کی درست راہنمائی کی بجائے اس پیغبرانہ پیشے کو محض مادیت پرستی کے غلاف میں لپیٹ کر اپنی ضروریات کی نظر کر دیا، کہیں ان ''ناکام پیشہ وروں '' کے چہروں پر ''کوچنگ کلاسز '' کے بورڈز لگے نظر آئے تو کہیں ''حرص اور ہوس'' کے ٹھپے ،جو غریب لوگوں کی اولاد کو تعلیمی درسگاہ میں داخل ہونے سے بھی روکتے ہیں، کبھی کسی کالج کے پرنسپل پرنادار طلباء کے لیے حکومت کی جانب سے دی جانے والی امدادی کتب کباڑیے کو بیچنے کا الزام لگا تو کبھی کسی درسگاہ کے ممتحن نے نازک پھولوں کو ڈھال بنا کر اسلامی شعار کا جنازہ نکال دیا، کبھی ذاتی پسندیدگی کی بنیاد پر نا اہل طلبا ئو طالبات کو انسانیت کی کردار کُشی کا لائسنس دیا گیا تو کبھی تشد د کر کے ا، ب ،ج سیکھنے والے ریشمی وجود چیر پھاڑ دیے گئے، غرض یہ کہ بادی النظری میں آٹے میں نمک کے برابر لوگ اصل فرض کی تکمیل میں سر کردہ نظر آئے ، لہذا معاشرے کی اکائی یعنی فرد کی تربیت میں خاطر خواہ ناکامی دیکھنے کو ملی اور ہم اس سوسائٹی کو اجتماعی طور پر بُرا بھلا کہنے پر مجبور ہوگئے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ استاد اور ''پیشہ وروں '' کے ساتھ ساتھ تدریس اور کاروبار کے فرق کو ملحوظِ خاطر رکھا جائے اور اپنے فرض کی جائز تکمیل میں مصروف اساتذہ کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ جعلی اداروں اور مفاد پرست پیشہ وروں کو رد کر دیا جائے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sufi nouman riaz

Read More Articles by Sufi nouman riaz: 16 Articles with 5393 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
11 Jun, 2018 Views: 468

Comments

آپ کی رائے