بیمار معاشرہ کاش ایسا ہو جائے؟

(Babar Alyas, Chichawatni)
قدم انفرادی طور پر اٹھانے کی ضرورت ھے مجموعی طور پر بہتری خود نظر آۓ گئ

قلم اور تلوار میں کوئی فرق نہیں لیکن اہل علم ؤ دانش رکھنے والوں کے نزدیک قلم زیادہ موزوں ہتھیار ہے۔ جب قلم کی بات ہو تو صرف قلم کی اپنی ذاتی کوئی اہمیت تب تک نہیں ھوتی جب تک اس کے بیان کرنے والے میں علم ؤ ہنر, تعلیم ؤ شعور اور وہ عمل کامل نہ ہو۔ اس تعلیم ، شعور اور عمل کو عملی طور پر آج سے تقریباً 1440 سال پہلے آقا دو عالم ,سرور کائنات, امام کائنات محمد رسول اللہ ﷺ نے کر دکھا اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک مکمل ضابطہ حیات سے نواز۔ آج کے دور میں رہتے ہوئے معاشی، معاشرتی ، اخلاق اور سب سے بڑھ کر اسلامی اقدار کی روح سے دیکھا جائے تو ۔۔۔۔۔ کچھ نظر نہیں آتا ۔

معاشرہ ، اقتدار اور کردار کا مجموعہ ہوتا ہے یہ کردار انسان کو وارثت میں ملتے ہیں اور ہر معاشرے پر انسان کا کردار اہمیت کا حامل ہوتا ہے اور یہی کردار معاشرے کو پروان چڑھاتے ہیں۔ اور ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں اس کا مذہب وہ ہے جو خالق کائنات کا پسندیدہ مذہب ہے۔ اور شریعت اسلامیہ میں ایمان کی ستر سے کچھ اوپر شاخیں ہیں اور حیاء بھی ان ہی میں سے ایک شاخ ہے۔حدیث مبارکہ ہے ’’جب حیاء فوت ہو جائے تو پھر انسان جو چاہے وہ کرے‘‘۔مسلمان کافر کا تابع نہیں بلکہ اصلاح کا پہلو ہے جسے ہم سمجھنے سے قاصر ہیں ، میرے وہ بھائی جو معاشرے میں انقلاب کی بات کرتے ہیں ان سے گزارش کروں گا کہ پہلے لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر لاؤ اور ان کے دلوں سے بے حیاء، نفر ت ،بے انصافی،خود غرضی، رشوت، لالچ کی جڑیں جو کہ ایک تناور درخت کی شکل اختیار کر چکی ہیں ان کا قلہ قلمہ کرکے ان کے ضمیر کو بید ار کرو۔ کیونکہ میرے محترم ایسے انقلاب نہیں آتا مساجد ویران ہوں، نماز کی جگہ موسیقی ہو ، زکوۃ کی تقسیم میں بے انصافی، قرآن و حدیث کی روشنی کی جگہ دنیاوی مقاصد کے اصول کو اپنی اصل منزل تصور کیا جائے ، سچ کا تصور بھی مشکل ہو ذرا بھر دنیاوی مفاد کے لیے جھوٹی قسمیں عام اور جھوٹے گواہوں کی خریدو فروخت کو وسیلہ بنایا جائے ۔میرے ہم وطنوں ہم اپنی اسلامی تعلیمات سے بہت دور نکل چکے ہیں جس کی وجہ سے ہم لوگ بے حسی کا شکار ہو چکے ہیں، جب ایک خدا کو ماننے والا مسلمان اسلامی اصولوں کو چھوڑ کر غیر اسلامی اصولوں کی طرف متوجہ ہو گا بے حسی پیدا ہوتی ہے۔ اور جب بے حسی جنم لے لے تو معاشرے تباہی کے کنارے پر پہنچ جاتے ہیں۔ ہماری اسلامی تعلیمات میں نبی کریم ﷺ نے ہمیں جن احکامت کی تعلیم دی ہے ان میں حیاء ایک اہم صفت ہے۔ آپ ﷺ کے طریقے اور دین اسلام کی روشنی سے جب تک دل منور نہیں ہونگے، اس وقت تک مساجد آباد نہیں ہونگی، عدل و انصاف قائم نہیں ہوگا، فرقہ پرستی کا سورج غروب نہیں ہوگا۔ امن کا سورج طلوع نہیں ہوگا، بھائی چارہ قائم نہیں ہوگا۔ سکون کی فضاء قائم نہیں ہوگی، مساوات پروان نہیں چڑھے گی۔ اس وقت تک اللہ راضی نہیں ہوگا۔ اور اگر اللہ کوراضی کرنا ہے توکتاب اللہ اور محمد ﷺ کی تعلیمات عمل پیراہونا ہو گا ۔ کیونکہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا’’تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کی خواہش اس ’’تعلیم ‘‘کے مطابق نہ ہو جائے جو میں لایا ہوں‘‘۔
تو میرے ہم وطنو! میں فیصلہ آپ پر چھوڑتا ہوں.آو قدم بڑھاؤ.......

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Babar Alyas

Read More Articles by Babar Alyas : 256 Articles with 91823 views »
استاد ہونے کے ناطے میرا مشن ہے کہ دائرہ اسلام کی حدود میں رہتے ہوۓ لکھو اور مقصد اپنی اصلاح ہو,
ایم اے مطالعہ پاکستان کرنے بعد کے درس نظامی کا کورس
.. View More
15 Jun, 2018 Views: 227

Comments

آپ کی رائے