پردہ یا فیشن

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر: بنت عطاء، کراچی
بحیثیت مسلمان ہم سب یہ جانتے ہیں کہ اس پرفتن دور میں پردہ کس قدر ضروری ہے۔ مگر صورتحال یہ ہے کہ پردے کو بھی فیشن بنا دیا گیا ہے۔ رنگین مِزین برقعے جو انکو بھی اپنی جانب متوجہ کرلیں جو دیکھنا نہیں چاہتے۔ عبایا پہننے تو رواج بنا لیا مگر مقصد کو بھول گئے۔ پردے کا مقصد یہ تھا کہ ہم نامحرم کی نظروں سے محفوظ رہ سکیں۔ جہاں سے کوئی باپردہ خاتون گزرے مردوں کی نظریں خود جھک جائیں۔ اتنے آرائشی مزین برقعے بنالئے گئے کہ ہر شخص بجائے سر جھکانے کے التا متوجہ ہوتا ہے۔ یعنی خواتین نے خود اپنے پردے کے مقصد اپنے دین کے حکم کو پامال کردیا۔

قرآن کریم میں اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ’’اور اپنے گھروں میں سکون سے بیٹھی رہو اور زمانہ جاہلیت کی طرح زیب و زینت ظاہر نہ کرو‘‘۔ یعنی اﷲ تعالیٰ نے خواتین کو مخاطب ہوکر یہ حکم ارشاد فرمایا۔ یہ اور اس طرح کی کچھ دیگر آیات کریمات بھی موجود ہیں جن میں خواتین سے اپنے گھر میں رہنے، اپنے اوپر چادریں لینے اور حجاب کا اہتمام کرنے کے احکامات دیے گئے ہیں۔

احکامات الٰہی کو مدنظر رکھا جائے تو یقیناموجودہ پردہ حجاب نہیں بلکہ الٹا زیب و زینت کے معنوں میں آتا ہے۔ ایسا ہرگز نہیں کرنا چاہیے۔ جب اﷲ تعالیٰ نے ہمیں حجاب کا حکم دیا تو گویا اس کے احکامات پر درست معنوں میں عمل کرنا بھی ہم پر فرض ہے۔ پردے کو پردہ ہی رہنے دیا جائے اسے اپنی خواہشات اور فیشن کی بھینٹ نہ چڑھایا جائے۔ اپنے اسلامی وقار کو قائم رکھیں، سادگی کو اپنائیں، سادگی ایمان کا حصہ ہے۔

یاد رکھیں! فیشن سے عزت نہیں ملتی، اﷲ عزت دیتا ہے، اپنی نیتوں کو ٹھیک کرلیں، ڈھیلے ڈھالے اور سادہ حجاب اور برقعے استعمال کریں۔ یہ چا ر دن کی زندگی اپنی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے نہیں ملی تھی یہ زندگی ایک امتحان ہے آزمائش ہے کہ کون آخرت کی بہترین تیاری کرنے والا ہے۔کون اپنے رب کی رضا اور خوشی کو اہمیت دیتا ہے اور کون اپنی نفسانی خواہشات کے پیچھے اندھا دھند بھاگتا ہے۔

سوچنے کی بات ہے کہ ہم اگر بہت خوبصورت نظر آ بھی گئے تو کیا، فیشن کی دوڑ میں سب سے آگے نکل بھی گئے تو کیاہوگیا۔ اگر یہ سب کچھ ہمیں مل بھی گیا تو کیا ہوگا۔ کچھ پل کے لیے ہے یہ سب کچھ، اس کے بعد یہ سب ختم ہی ہوجانا ہے۔اس لیے اپنے پردے کا خیال رکھنا ہماری اپنی ذمے داری ہے۔ اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ آپ جب بھی برقع خریدیں نہ زیادہ زیب و زینت والا ہو اور نہ ہی تنگ ہو۔ اس سے ایک تو فائدہ یہ ہے کہ آپ کے حجاب میں بے حجاب سے آپ بچ جائیں گے، دوسرا آپ کے پیسے بھی کم خرچ ہوں گے، تیسرا یہ ہے کہ آپ کو شریعت کے مطابق حجاب کر سکیں گے۔ اس لیے آج سے اپنے موجودہ حجاب کا جائزہ لیں اور اگر کہیں کچھ خرابی ہے تو اسے فورا درست کریں یا پھر نئے برقعے کا اہتمام کریں۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1242 Articles with 521459 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 Jul, 2018 Views: 275

Comments

آپ کی رائے