دوغلے لوگ

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر: صبغہ احمد، فیصل آباد
کبھی کبھی میرا دل کرتا ہے میں پوری دنیا کو آگ لگا دوں۔ مجھے نفرت ہے ان دو منہ والوں سے، بالکل دو منہ والے سانپ کی طرح دو منہ والے دوغلے لوگ جو اس معاشرے میں اپنا زہر پھیلا رہے ہیں۔ یہ جانتے ہوئے بھی اس زہر کی لپیٹ میں ہر ایک آ رہا ہے۔ بچہ، بوڑھا، جوان۔ مجھے نفرت ہے معیار کو پرکھنے والے ان لوگوں سے جن کی آنکھیں اور سوچ اس سے آگے بڑھ ہی نہیں پا رہیں کہ معیاری چیز کے حقدار صرف وہ ہیں اور باقی ماندہ غیر معیاری و غیر ضروری چیز۔۔۔۔ وہ جو اپنے گھر مالی، خانساماں یا پھر چوکیدار ہیں ان کو دے دیں گے۔ وہ خوش ہو جائیں گے۔ تف ہے تم پر اے آدم زاد! تم وہ چیز اپنے بھائی کو دینا چاہتے ہو جو تم پسند نہیں کرتے یا جو تمہارے کام کی نہیں۔

میرے اندر نفرت ہے ان لوگوں کے لیے جو سگنلز پر بڑی بڑی گاڑیاں لے کر ان کے کھلنے کا انتظار کرتے ہیں اور شیشے کے پار موجود اس چھوٹے لڑکے کا ہاتھ جھٹک دیتے ہیں۔۔۔ نہیں وہ بھیک نہیں مانگ رہا تھا وہ تو پھول بیچ کر اپنے گھر میں لگی قفس کی آگ بجھانا چاہتا تھا۔ تو کیا ہوا سگنل پر ایسے بہت سے آتے ہیں۔ جی ہمیں ضرورت ہی نہیں پھول کی تو کیوں خریدیں۔ وہ لڑکا دیکھتا رہ گیا۔ ایک اور آس ٹوٹ گئی۔ ایک اور گلاب بک جانے کی آس۔ سگنل کھل گیا، اس کے قدم منجمد رہے پیچھے سے آنے والی گاڑی نے اس کی ٹانگیں توڑ دیں۔ تو کیا ہوا بہت سے لوگ معذور ہیں لیکن اپنے خاندان کا پیٹ بھی پال رہے ہیں۔

جی تو آپ رہے وہی دو منہ والے بے حس۔ گلی کے نکڑ پر کھڑا وہ دس سالہ بچہ جو ٹافیاں اور چاکلیٹ بیچ رہا ہے لیکن ہم کیوں خریدیں ہماری کوئی عمر ہے ٹافیاں کھانے کی نہ ہمارے گھر کوئی چھوٹا ببچہ ہے۔ ارے تمہیں ضرورت نہیں، اسے تو ہے ضرورت تمہارے خریدنے کی۔ یہی تو اس کی جمع پونجی ہے۔ لیکن نہیں تم تو ہو وہ دو منہ والے بے حس آدم۔ وہ کبیر بابا کو چھٹی چاہیے۔ کون وہ خانساماں۔ جی، کہہ رہا تھا اس کی بیوی کی طبعت ٹھیک نہیں۔ تو پھر۔ پھر کیا پرسوں مہمان آ رہے ہیں میں نے چھٹی نہیں دی۔ ٹھیک کیا۔ ہاں دو دن بعد ایک ہفتے کی چھٹی دے دوں گی۔ اور ہفتے کی چھٹی کے تیسرے دن ہی کبیر بابا واپس۔ ارے کیا ہوا بابا میں نے پورے ہفتے کی چھٹی دی تھی۔ بیگم صاحبہ! میری بیوی مر گئی۔ لو جی! تو بیگم صاحبہ کا کیا قصور، وہ تو احسان کر کے بری الذمہ۔

جی اور سنیے! کل رات وہ بہت خوش تھی۔ کیوں! اس نے مجھ سے محبت کا دعویٰ کیا ہے۔ تو آج کیا ہوا۔ میں نے اسے کسی اور لڑکی کے ساتھ دیکھا۔ ارے چھوڑو بھی! وہ مرد ہے چار محبتیں کرے گا۔ اس کے انتظار پہ تف۔ دو منہ والے انسان بڑھتے چلے گئے۔ آپ کہیں گے میں بہت منفی سوچ سوچنے لگی ہوں ہاں تو ٹھیک ہے منفی ہی سہی تم غور تو کرو۔ تم سگنل پر موجود لڑکے سے گلاب مت خریدو۔ تم ٹافی مت خریدو۔ تم اس کی مسکراہٹ خریدو۔ تم کہو گے بی بی! بولنا آسان ہے تم خود کرو تو جانو۔ تو ٹھیک! میں اپنے تئیں کروں گی جو مجھ سے بن پڑے گا اور جو میں کر سکوں گی۔ لیکن سنو! قطرہ قطرہ دریا بنتا ہے۔ میں پہلا قطرہ بنتی ہوں، تم آ کر دریا بن جانا۔ختم کرو یہ دو منہ اور سونے کو کندن بننے دو۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1242 Articles with 521060 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 Jul, 2018 Views: 1126

Comments

آپ کی رائے
بہت خوبصورت تحریر، احساس کو لفظوں کا جامہ بہت اچھے انداز میں پہنایا گیا ہے۔
By: Saleem Ullah Shaikh, Karachi on Jul, 28 2018
Reply Reply
0 Like