آزادی کی راہ میں

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر: صبا نزہت، کراچی
ـ’’مسلمان اور ہند و دو الگ الگ قومیں ہیں۔ دونوں کے رہن سہن اور رسم و رواج بھی ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ 2 قومی نظریہ سب سے پہلے سر سید احمد خان نے 1867 میں ایک ہندو مسلم فساد کے بعد پیش کیا تھا‘‘۔ کل اس کا مطالعہ پاکستان کا ٹیسٹ تھا اور وہ بہت دیر سے یہی جملے بار بار دہرارہا تھا۔ سب سے زیادہ دقت اسے سن یاد کرنے میں ہورہی تھی۔ میں کچن میں کھانا پکانے کے ساتھ ساتھ برتن بھی دھو رہی تھی اور اسے یاد کرتا بھی سن رہی تھی۔

میرا سب سے بڑا بیٹا حارث پانچویں جماعت میں تھا۔ ذہن تو اس کا بہت اچھا تھا۔ جو بھی یاد کرتا تھا اسے ذہن نشین ہوجاتا مگر اصل مسئلہ دماغ کا نہیں دل کا تھا جو پڑھائی سے زیادہ کھیل میں لگتا تھا۔ ابھی کل حالانکہ اس کا ٹیسٹ تھا مگر وہ میری مصروفیت کافائدہ اٹھا کر پڑھنے کے بجائے چھوٹے بیٹے حمزہ کے ساتھ چھت پر فٹ بال کھیل رہا تھا۔ اسی لئے میں اسے کان سے پکڑ کر کھینج کر نیچے لائی تھی اور اب اپنے سامنے بٹھا کر ٹیسٹ یاد کروارہی تھی۔

’’کیا ہے امی اتنا لمبا جواب ٹیچر نے یاد کرنے کو دے دیا اﷲ پوچھے سرسید احمد خان سے بلا وجہ د و قومی نظریہ پیش کردیا۔ اچھا بھلا ہندو مسلم بھائی بھائی بن کر رہ رہے تھے۔ اب یاد کرتے پھرو ان کا نظریہ۔ فلاں نے یہ پیش کیا فلاں سن میں اور فلاں نے یہ پیش کیا فلاں سن میں۔ مجھ سے نہیں یاد ہوتیں یہ کہانیاں‘‘،حارث نے برا منہ بنا کر اپنی کاپی پٹخ دی۔ میں سکتے کی حالت میں اس کو دیکھتی رہ گئی۔ ’’حارث تم سے کس نے کہا کہ ہندو مسلم بھائی بھائی بن کر رہتے تھے؟ ‘‘
’’اوہو امی فلموں میں تو یہی دکھاتے ہیں
ناں، ویسے بھی دونوں ملکوں کی زبان ایک، لباس ایک، کھانے ایک اور سرحدیں بھی ایک بھلا کیا ضرورت تھی ملک بنانے کی۔ ہم اپنی مسجد جاتے اور وہ مندر اورسب مل جل کر رہتے‘‘۔ اس کی باتوں نے تو مجھے حیران ہی کردیا تھا۔ نہ صرف حیران بلکہ پریشان اور دکھی بھی۔ یاالٰہی کہاں کمی رہ گئی میر ی تربیت میں کہ پاک سر زمین پر کھڑے ہو کر میرا بیٹا اس دو قومی نظریے کو جھٹلا دیا ہے جس کے لیے ہمارے بزرگوں نے لاکھوں جانوں کی قربانی پیش کی۔ جان، مال، اولاد ، رشتہ دار، عزت آبرو، عہدے، زمین اور جائیدادیں چھوڑ کر اس ملک کو حاصل کیا اور آج 70سال بعد نئی نسل کے بچے ان قربانیوں کو اپنی بزرگوں کی غلطی قرار دے رہے ہیں۔ پڑوسی ملک کے چینلز سے اپنے بچوں کو محفوظ رکھنے کے لیے میں اپنے گھر میں TVتک نہیں لائی تھی۔ پھر کیسے یہ زہر آلود سوچ میرے بیٹے کے ذہن میں منتقل ہوگئی تھی‘‘، حارث ایسا کیوں سوچا آپ نے اپنے ملک کے بارے میں ؟ کیا کسی نے آپ سے کچھ کہا ہے؟

’’امی میری کلاس میں جو عامر ہے ناوہی ایسا کہہ رہا تھا وہ اس فیملی بھارتی چینلز بہت شوق سے دیکھتے ہیں ناں وہی بتا رہا تھا کہ بھارت ویسے تو پاکستان جیسا ہی ہے مگر پاکستان سے زیادہ خوبصورت اور ترقی یافتہ ہے‘‘۔ اتنے میں بیل بجی تو وہ دروازہ کھولنے چلا گیا۔ یہ حارث کے بابا کے آنے کا ٹائم تھا۔ ہم ان کے آنے کا ہی انتظار کر رہے تھے ، وہ کپڑے بدل کر آئے تو میں نے فوراً ہی میز پر کھانا لگادیا سب کھانا کھانے لگے اور بات آئی گئی ہوگئی۔

اگلے دن حارث کا ٹیسٹ ہمیشہ کی طرح بہت اچھا ہوگیا تھا کیوں کہ وہ تمام سوالوں کے جوابات خوب اچھی طرح رٹا لگا کر گیا تھا۔ مگر میں مطمئن نہیں تھی۔ جیسے تیسے پورا ہفتہ گزرا۔ آخر کار ویک اینڈ آیا تو ہم نے سکھ کا سانس لیا دو دن تک اسکول کی چھٹی تھی لہٰذا ہم نے حارث کے نانا کے گھر جانے کا پروگرام بنایا۔ اتفاق سے سائرہ باجی بھی رہنے کے لیے آگئیں۔ ان کا بڑا بیٹا جواد میٹرک میں تھا اور چھوٹے بچے حماد، عمر اور ایمن حارث کے ہی ہم عمر تھے۔ ہم دونوں بہنوں کو دیکھ کر اتنے خوش ہوئے کہ جھٹ انہوں نے فون کر کے فہیم بھائی کو بھی بمعہ فیملی بلوالیا۔ شام تک وہ بھی اپنی بیوی اور بچے صہیب ، سیف اور منال کے ساتھ پہنچ گئے۔سب نے مل کر خوب رونق لگائی۔ ایک طرف سارے بچے مل کر بیٹھے ، صہیب، سیف ، حماد اور جواد اسٹور سے ناناکا کیرم نکال لائے۔ حارث گھر سے آتے ہوئے اپنا ٹیب لیتا آیا تھا۔ وہ عمر کو ٹیب میں اپنی نئی گیمز دکھانے لگا اور ایک طرف ایمن اور منال اپنی کبھی نہ ختم ہونی والی باتیں بھگارنے لگیں۔

دوسری طرف میں، سائرہ باجی، بھائی اور بھابھی ابو سے حال چال پوچھنے لگے۔ پھر سب نے مل کر کھانا کھایا۔ کھانے کے بعد جب چائے کا دور چلا تو مجھ سے رہا نہ گیا۔ آخر کار میں نے ابو سے کہہ ہی ڈالا۔ ’’ابو ذرا اپنا وہ قصہ تو سنائیں جب آپ سکول جاتے تھے اور ہندو لڑکے آپ کو مارتے تھے‘‘۔میرے یہ کہنے کی ہی دیر تھی کہ سارے بچے ابو کی طرف متوجہ ہوگئے۔’’کیوں نانا بھلا ہندو لڑکے آپ کیوں مارتے تھے؟ حسبِ توقع سب سے پہلے حارث نے ہی پوچھا تھا‘‘۔’’بیٹا وہ اس لیے مارتے تھے کہ میں ایک مسلمان لڑکا تھا اور وہ نہیں چاہتے تھے کہ مسلمان لڑکے بھی پڑھ لکھ جائیں اس لئے بلاوجہ تنگ کرتے تھے تاکہ میری ہمت پست ہوجائے اور میں پڑھنے لکھنے کا ارادہ ترک کردوں‘‘۔

’’تو بھلا اس میں کیا مضائقہ تھا کہ اگر مسلمان بچے بھی پڑھ لکھ جاتے‘‘۔’’مضائقہ تھا انہیں۔ اگر مسلمان لڑکے پڑھ لکھ جاتے تو پھر کھیتوں میں ہل کون چلاتا، رکشہ کون چلاتا، ہندو اور انگریزوں کی خدمت کون کرتا۔ اگر مسلمان لڑکے پڑھ لکھ جاتے تو پھر وہ سرکاری عہدے مانگنے لگتے۔ جج اور وکیل بنتے ، ڈاکٹر انجینئر بن جاتے، فوج میں اونچے عہدوں پر لگ جاتے، اپنے ا سکول کھولتے اور اپنی کتابیں لکھ ڈالتے۔ اور اگر وہ یہ سب کرلیتے تو پھر غلام کیسے رہتے‘‘۔ ابو نے مسکرا کر حارث کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو وہ بوکھلا گیا۔ ’’نانا امی بتا رہی تھیں کہ ہندو اسکول میں مسلمان طالب علموں کو بندے ماترم پڑھنے پر مجبور کرتے تھے ‘‘،سائرہ باجی کے بیٹے جواد نے پوچھا ۔

’’بندے ماترم، یہ کیا ہوتا ہے نانا جان‘‘، ننھے حمزہ نے ابو سے پوچھا تو ابو ماضی کے خیالوں میں کھو گئے۔ ’’بندے ماترم کا مطلب کچھ اس طرح ہے کہ اے زمین تو ہماری ماں ہے ، ہم تجھے سجدہ کرتے ہیں ، ہم تیرے بندے ہیں، اور تیری خاطر سر کٹوانے کو تیار ہیں۔ مگر بچوں ہم زمین کے بندے تو نہیں ہیں۔ ہم تو اﷲ رب العالمین کے بندے ہیں۔ جس نے ہمیں حکم دیا کہ زمین کی خاطر سر نہ کٹاؤ بلکہ اس کی خاطر سر کٹاؤ جس نے اس زمین کو بنایا۔ اب بھلے وہ سارے بچوں سے زبردستی اپنا قومی ترانہ پڑھوائیں مگر بھئی ہم تو زیر لب’’لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری ‘‘ہی پڑھا کرتے تھے، ابو نے ہنستے ہوئے کہا۔

’’واہ نانا ! آپ تو بہت بہادر تھے، ہند و سے ٹکراگئے‘‘۔ ’’ارے۔ ایسے ویسے بہادر نہیں تھے ہمارے ابو باقاعدہ پہلوانی کیا کرتے تھے‘‘۔ ’’ فہیم بھائی نے مسکراتے ہوئے ابو کو دیکھا، ابو قہقہ لگا کرکر ہنس پڑے‘‘۔ واہ بھئی کیا دن یاد کرادیے تم نے فہیم میاں‘‘۔’’ہیں نانا اور پہلوان‘‘ ،میرے چھوٹے بیٹے حمزہ نے اپنی گو ل گول آنکھیں مٹکاتے ہوئے کہا تو سب ہنس پڑے ‘‘۔

’’ نانا اور پہلوان‘‘، ارے یہ تو کسی ناول کا نام ہوسکتا ہے۔ صہیب نے اپنی دائیں ران پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا تو سیف اور جواد اسے گھورنے لگے۔ ’’محمود اور فاروق کا ڈبل رول کرنے والے ہیرو ہمیں دادا کی کہانی سننے دو‘‘، سیف نے صہیب کو آڑے ہاتھوں لیا۔ ’’ہاں تو نانا آپ بتائیں ناں آپ نے پہلوانی کیسے سیکھی‘‘۔

ارے بھائی ہمارے زمانے میں یہ ٹی وی ، کمپیوٹر اور موبائل تو ہوتے نہیں تھے جو ہم ان کے غلام بنے بیٹھے رہتے۔ ہمارے زمانے میں تو بچے پہلوانی کیا کرتے تھے یا تیراکی اور الحمد اﷲ ہم دونوں کھیلوں میں ہی ماہر تھے۔ باقاعدہ اکھاڑوں میں پہلوانی کے مقابلے کرائے جاتے تھے۔ ایک ہندوؤں کی ٹیم ہوا کرتی تھی اور ایک مسلمانوں کی۔ اکثر مسلمان ہی جیت جایا کرتے تھے۔ کبھی کبھار کوئی ہندو بھی بازی لے جاتا۔ اکثر ہم گاؤں کی نہر میں تیراکی کا مقابلہ بھی کیا کرتے تھے۔ ابو اکثر ایک قصہ سنانا شروع کرتے اور سناتے سناتے کوئی اور قصہ نکل آتا۔ابو کی یادوں کی گٹھری میں سنانے کے لیے بہت سے دلچسپ قصے ہوا کرتے تھے۔ ہم نے تو اپنے بچپن میں ہی انہیں کئی بار سن رکھا تھا مگر پھر بھی ہر بار سنتے وقت پھر سے مزہ آتا۔

’’اچھا نانا جان یہ تو بتائیں کہ جب پاکستان بنا تھا تو آپ کتنے سال کے تھے‘‘؟، حارث کو سب سے زیادہ دلچسپی پاکستان کے قصے سے تھی۔ اس کی بیتابی پر میں مسکرانے لگی۔’’بیٹا جانی جب پاکستان بنا تو اس وقت میں10سال کا تھا۔ میں روزانہ ریڈیو پر اپنے اباجی کے ساتھ قائد اعظم اور دوسرے رہنماؤں کی تقریریں سنا کرتا تھا۔ پھر شام میں باہر جا کر خوب نعرے لگا تا تھا ،پاکستان کا مطلب کیا، لا الہٰ الا اﷲ‘‘، ’’لے کر رہیں گے پاکستان، بٹ کے رہے گا ہندوستان ، پاکستان زندہ باد‘‘۔

مگر پھر ایک دن اماں نے مجھے گھر میں ہی بند کردیا اور کہا دیکھ بالے اب پاکستان بن چکا ہے ، اب اگر یہ نعرے لگائے تو یہ ہندو تمہیں مار ڈالیں گے۔ مجھے یہ خبر سن کر اتنی خوشی ہوئی کہ میں بیان نہیں کرسکتا، بس پھر اس دن سے میں نے رٹ لگا لی تھی کہ میں اب ہندوؤں کے ملک میں نہیں رہوں گا مجھے پاکستان جانا ہے۔اماں ہمیشہ میری خواہش پر مسکرادیتیں اورکہتیں بالے ابھی تم بہت چھوٹے ہو، جب بڑے ہوجاؤ گے تو چلے جانا، میں نہیں روکوں گی۔ مگر پاکستان جانے کے لیے تمہیں دل لگا کر پڑھنا ہوگا تاکہ وہاں جا کر اچھی ملازمت کرسکو۔ بس پھر میں دن رات دل لگا کر پڑھنے لگا تاکہ میٹرک کرلوں تو پاکستان جاسکوں۔ پھر ایک دن میرے ماموں نے چپکے سے اماں کو بتایا کہ وہ پاکستان جارہے ہیں۔ میرے کانوں میں یہ بات پڑی تو میں اماں کے پیچھے پڑگیا کہ میں بھی ماموں ممانی کے ساتھ جاؤں گا۔ ماموں تو راضی تھے مجھے لے جانے کے لیے لیکن اماں نہیں مانیں۔ میری لاکھ منتیں کرنے پر بھی وہ یہی کہتی رہیں کہ میٹرک کروگے تو پھر جانے دوں گی۔
میرے ماموں ممانی اپنے بچوں کے ساتھ روانہ ہوئے۔ UPسے امرتسر تک کا سفر چھپتے چھپاتے بسوں میں کیا۔ وہاں سے انہوں نے اماں کو خیریت کی چھٹی بھی لکھی۔ پھر امرتسر سے آگے انہیں بیل گاڑی میں جانا تھا۔بہت برا حال تھا۔ ایک ایک بیل گاڑی پر کئی کئی لوگ سفر کرتے تھے۔ عورتوں اور بچوں کو گاڑی پر بٹھا دیتے اور مرد خود پیدل سفر کرتے۔

نانا جان ٹرین تو اس زمانے میں چلا کرتی تھیں پھر وہ ٹرین سے کیوں نہیں آئے؟ وہ اس لئے بیٹا جانی کہ ٹرینیں محفوظ نہیں تھیں راستے میں سکھ ریل گاڑیوں پر حملہ کردیتے اوراپنی کرپانوں سے لوگوں کو گاجر مولیوں کی طرح کاٹ کر پھینک دیتے اور عورتوں کو اٹھا کر لے جاتے۔

پاکستان بننے کے بعد جب پہلی ٹرین امرستر سے لاہور پہنچی قائد اعظم اور فاطمہ جناح خود مہاجروں کے استقبال کے لیے اسٹیشن پہنچے تو جانتے ہو جب ریل گاڑی رکی تو انہوں نے کیا دیکھا۔ وہ گاڑی لاشوں سے لبا لب بھری ہوئی تھی کوئی ایک بھی مسلمان ان ظالموں نے زندہ نہیں چھوڑا تھا سوائے ڈرائیور کے۔ ابو کی بھرائی ہوئی آواز پر میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو سب ہی کی آنکھیں نم نظر آئیں۔ پھر آپ کے ماموں جان کیسے پہنچے؟ کیا بیل گاڑی پر وہ پاکستان پہنچ گئے۔ حماد نے ہچکچاتے ہوئے پوچھا تو نانا جان روپڑے۔ جس بیل گاڑی پر وہ لوگ سوار تھے اس پر ہمارے گاؤں کا ایک بندہ کرم دین تھا۔ وہ اکیلا تھا اس کے ساتھ فیملی نہیں تھی۔ پورے قافلے میں سے صرف وہ بڑی مشکل سے بچتا بچاتا صرف پاکستان پہنچ سکا تھا۔ اس کی زبانی معلوم ہوا کہ ممانی جان اتنے مشکل سفرکی تاب نہ لاسکیں اور امرتسر پہنچنے سے پہلے ہی چل بسیں تھیں۔ انہیں راستے میں ہی دفنا کر وہ آگے بڑھے تو سکھوں کے ایک جھتے نے انہیں گھیر لیا۔ سوائے ایک چاقو اور ایک بندوق بردار کے باقی سب نہتے تھے۔ سکھوں نے اپنی کرپانوں سے مردوں کی گردنیں اڑا دیں۔ قافلے کو لوٹ لیا اور عورتوں کو یرغمال بنا کر لے گئے۔ کرم دین کے پاس چاقو تھا وہ اور بندوق بردار ریٹائر ڈ فوجی ایک دو سکھوں کو جہنم واصل کر کے جان بچا کر بھاگ نکلے لیکن اپنے قافلے کی عورتوں کی چیخوں نے ان دونوں کے قدموں میں زنجیر یں ڈال دیں۔ چھپتے چھپاتے اس نے سکھوں کا پیچھا کیا اور ان کے ٹھکانے تک پہنچ گئے۔ وہ دو تھے اور سکھ تعداد میں کہیں زیادہ تھے۔ رات کو جب سارے سکھ نشے میں دھت اپنی فتح کا جشن منارہے تھے تو ان دونوں نے ان پر حملہ کردیا۔ اﷲ اکبر کا نعرہ سن کر سکھ بوکھلاگئے وہ سمجھے مسلمان فوج کے دستے نے ان پر حملہ کردیا ہے۔ بہت سوں نے ہتھیار ڈال دیے اور بہت سے بھاگ گئے۔ وہاں انہوں نے اپنی ساتھی خواتین کے علاوہ اور بھی بہت سے قیدی مہاجرین کو آزاد کروالیا اور سکھوں کے ٹھکانے کو آگ لگادی۔ بس یوں ہی لڑتے بھڑتے، بچتے بچاتے اور عزتیں لٹاتے بہت کم ہی خوش نصیب پاکستان کی سرحد تک پہنچ سکے۔ اتنے مظالم سہنے اور جانیں دینے کے باوجود پاکستان کی سرحد پر لاکھوں مہاجرین پورے ہندوستان سے ہجرت کر کے پہنچے تھے صرف اور صرف ایک آزاد اور مسلم ملک میں رہنے کا خواب سجائے۔ اپنے گھر، ملازمتیں ، دکانیں، زمین، کھیت، باغات اور رشتہ دار چھوڑ کر پاکستان جانے والے مہاجرین کو ان سب قربانیوں کے علاوہ اپنے پیاروں کی جانیں بھی لٹانی پڑیں۔ یہ لٹے پٹے قافلے جب پاک دھرتی پر قدم رکھتے تو سجدوں میں گر پڑتے۔ اور مٹی کو چوم لیتے۔ یہ مذہب کے نام پر ہونے والی تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت کہلائی۔ ابو جان بلک بلک کر رو رہے تھے اور ان کے ساتھ ہر آنکھ اشک بار تھی۔

’’ ظلم کیا ہندوؤں نے ،بہت ظلم کیا۔یہی نہیں بلکہ ان کے ساتھ انگریز بھی شریک کار تھے‘‘۔ انگریزوں کا کیا قصور نانا جان، انہوں نے تو اعلان کردیا تھا کہ پاکستان اور ہندوستان کے قیام کااور خود انگلستان چلے گئے تھے‘‘۔ ارے بیٹا! ان انگریزوں کو معصوم نہ سمجھنا۔ یہ یہود و نصاریٰ کبھی ہمارے دوست نہیں ہوسکتے۔ قرآن میں صاف صاف لکھا ہوا ہے۔ انگریز جاتے جاتے بھی پاکستان کے ساتھ بہت ناانصافی کر گیا۔ احمد آباد، گرداس پور، مشرقی پنجاب کے علاوہ کشمیر بھی جو کہ پاکستان میں شامل ہونا تھا انہیں ہندوستان کا حصہ بنادیا۔ہندوستان کی فوج کے پاس جتنے ہتھیار تھے ان کی تقسیم میں بھی ڈنڈی ماری۔ پاکستان میں شامل ہونے والی مسلمان فوجیوں کی ڈیوٹی دور دراز حصوں میں لگادی تاکہ وہ بروقت مہاجرین کی مدد کے لیے پاکستان نہ پہنچ سکیں۔ انہوں نے طوعا و کرھا پاکستان بننے کا اعلان تو کردیا مگر پاکستان کو ہر لحاظ سے اتنا کمزور کردیا کہ ہندوستان جب چاہے اس پر حملہ کر کے اسے پھر سے ہندوستان کا حصہ بنالے۔
اور یہی ہندوستان کے عزائم تھے اور اب بھی ہیں۔ ہندوبھارت کو اپنی ماں قرار دیتے ہیں اور انہیں یہ گوارا نہیں کہ ان کی ماں کے دو ٹکرے کردیے جائیں اس لیے 70سالوں سے ہندوؤں کی ایک ہی خواہش ہے کہ پاکستان پر حملہ کر کے اسے پھر سے ہندوستان کا حصہ بنادیا جائے۔’’ارے واہ! ہندوستان کے عزائم کی ایسی کی تیسی، ہم نے کیا چوڑیاں پہن رکھی ہیں، ذرا بری نگاہ اٹھا کر تو دیکھے پاکستان کی طرف، ایسا منہ توڑ جواب دیں گے کہ وہ بلبلا اٹھے گا‘‘۔حارث نے پرجوش آواز کے ساتھ ہوا میں مکا لہرا یا تو میں اندر تک پرسکون ہوگئی۔ میں یہی جذبہ تو دیکھنا چاہتی تھی اس کے اندر۔

’’ویسے بھی نانا میں نے کل ہی پڑھا ہے کہ ہندوستان اور مسلمان دو الگ الگ قومیں ہیں اور یہ دو قومی نظریہ سرسید احمد خان نے1867میں بنارس میں ہونے والے ہندو مسلم فساد کے بعد پیش کیا تھا، ارے واہ امی جان دیکھا آپ نے مجھے سن بھی یاد ہوگیا ہے ــ‘‘،اس کی چہکتی ہوئی آواز پر میری ہنسی نکل گئی۔

’’افف اب تو تم اپنی شیخیاں بگھارنا بند کرو تو ہم نانا سے پوچھیں گے کہ وہ پاکستان کب آئے‘‘،جو اد نے گھورتے ہوئے کہا تو وہ فوراً منہ پر انگلی رکھ کر بیٹھ گیا۔ آخر اسے بھی تو یہ جاننا تھا کہ نانا پاکستان کب آئے۔ سب پھر سے ہمہ تن گوش ہو کر نانا جان کی طرف دیکھنے لگے تو وہ پھر انہوں نے وہیں سے سلسلہ کلام جوڑا۔
’’اماں کی بات پتھر پر لکیر ثابت ہوئی۔ انہوں نے مجھے تعلیم مکمل کیے بغیر نہیں جانے دیا۔ اصل میں ان کا خیال تھا کہ وقت کے ساتھ ساتھ میرا جوش ٹھنڈا پڑجائے گا اور میں خود ہی انہیں چھوڑ کر جانے کاارادہ ترک کردوں گا۔ پاکستان کی خاطر وہ پہلے ہی اپنے بھائی ، بھابھی اور ان کے بچوں کو کھو چکی تھیں۔ لیکن میں بھی دھن کا پکا تھا۔ جب میٹرک کرلیا تو پھر سے پاکستان جانے کی رٹ لگادی۔ اس بار میرے ابا نے مجھے کہا کہ اگر تم 12ویں تک پڑھ لو تو پاکستان میں تمہیں بہتر نوکری ملنے کے امکانات زیادہ ہوجائیں گے اور تمہاری عمر بھی18سال ہوجائے گی۔ چنانچہ دو سال اور میں نے پاکستان جانے کی تڑپ میں گزار دیے پھر آخر کار اماں اور ابا نے میری خواہش کے آگے ہتھیار ڈال دیے۔

جانے سے پہلے اماں نے کہا کہ وہ اپنی زمینوں میں میرے حصے کی زمین بیچ کر مجھے پیسہ دینا چاہتی ہیں تاکہ پاکستان جا کر میں ان سے کچھ کاروبار شروع کرسکوں مگر میں نے اپنا حصہ لینے سے انکار کردیا۔ مہاجر جب دین کی خاطر ہجرت کرتا ہے تو پھر اپنا سب کچھ چھوڑ کر ہجرت کرتا ہے۔ میں بھلا کیوں اس سعادت سے محروم رہتا۔

پھر نانا جان پاکستان آکر آپ نے کیا کیا اور کہاں رہے؟ ایمن کے سوال پر نانا جان مسکرانے لگے۔ یہ تو ایک نئی داستان ہے۔ پھر کبھی سنائیں گے۔ بس بچوں آج کے لیے اتنا ہی کافی ہے۔

اتنا کہہ کر نانا جان اٹھ کھڑے ہوئے گویا محفل برخاست ہوئی۔ کمرے سے نکلنے سے پہلے وہ رک کر مڑے تھے ’’لیکن بچو اتنا ضرور یاد رکھنا کہ یہ ملک بڑی قربانیوں کے بعد حاصل ہوا ہے۔ اس کی قدر کرنا۔ آزادی کی قیمت وہی قوم جانتی ہے جو صدیوں تک غلامی کی زندگی بسر کرچکی ہو۔اس ملک کی باگ ڈوراب تمہارے ہاتھوں میں ہے اس کی حفاظت کرنا‘‘۔ نانا جان جاچکے تھے مگر اپنی نئی نسل کے دلوں میں ایک جوت جگا گئے تھے اوراس وقت سب کے دل یک زباں ہو کر ایک کی صدا لگا رہے تھے خون دل دے کے نکھاریں گے رخ برگ گلاب
ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے -

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1240 Articles with 517938 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
15 Aug, 2018 Views: 191

Comments

آپ کی رائے