یتیم

(wajahat Hussain Qazi, Islamabad)
بعض اوقات مناسب توجہ نہ ملنے کے باعث یہ بچے جرائم پیشہ افراد کے آلہ کار بن جاتے ہیں اسی لئے ہر فلاحی معاشرے کے افرادکا فرض بنتا ہے کہ وہ والدین کے سایہ سے محروم بچوں کے مسائل حل کریں اور ان پر شفقت کریں تاکہ ایسے بچوں میں احساس محرومی جنم نہ لے

یتیم بچے معاشرے کا وہ محروم طبقہ ہے جس کی پرورش کی ذمہ داری تمام صاحب ثروت لوگوں پر عائد ہوتی ہے مگر افسوس کا مقام ہے کہ یتیم بچوں کے ساتھ ایسا سلوک کیا جاتا ہے کہ جسے دیکھ کر انسان یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ کیا یتیم بچے کوئی الگ مخلوق ہیں جو باپ کی شفقت سے محروم ہونے کے بعد معاشرے کے رحم و کرم پر ہو جاتے ہیں۔ جس معاشرے میں یتیم کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے، انکی جائیدادوں کو ہڑپ کر لیا جاتا ہے اور انکو غلامی کی زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا جاتا ہے تو پھر ایسے محروم و مظلوم بچوں میں منفی جذبات پروان چڑھتے ہیں جو انکی شخصیت کو بری طرح متاثرکر دیتے ہیں اور ایسے بچے پھر اپنی من پسند زندگی گزارناپسند کرتے ہیں کیونکہ ان کے ننھے دماغوں میں یہ بات سماں جاتی ہے کہ اگر کوئی انہیں توجہ نہیں دیتا تو پھر انہیں کسی کی فکر کرنے کی کیا ضرورت اور یہی سے حالات خراب ہونا شروع ہو جاتے ہیں ۔ بعض اوقات مناسب توجہ نہ ملنے کے باعث یہ بچے جرائم پیشہ افراد کے آلہ کار بن جاتے ہیں اسی لئے ہر فلاحی معاشرے کے افرادکا فرض بنتا ہے کہ وہ والدین کے سایہ سے محروم بچوں کے مسائل حل کریں اور ان پر شفقت کریں تاکہ ایسے بچوں میں احساس محرومی جنم نہ لے۔حضور اکرم ؐ نے فرمایا تھا کہ’’بدترین ہے وہ گھر جس میں یتیم کے ساتھ ناروا سلوک اختیار کیا جاتا ہے اور ان کا خیال نہیں کیا جاتا اور بہترین ہے وہ گھر جس میں یتیم بچوں کے ساتھ حسن سلوک روا رکھا جاتا ہے‘‘ اگر تمام افراد یتیم بچوں کو توجہ دیں تو وہ معاشرے میں اپنا بہتر مقام بنا سکتے ہیں لیکن اگر یتیم بچوں پر توجہ نہ دی جائے تو وہ احساس کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں اور بعض بچوں کا تو معاشرے سے دل ہی اچاٹ ہو جاتا ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ جتنا ہو سکے یتیم اور مستحق بچوں کی مدد کی جائے ۔زکوٰۃ کی ادائیگی اسلام میں سب سے بڑا عطیہ تصور کیا جاسکتا ہے۔صدقہ کی صورت کچھ اور ہے یہ کسی بھی وقت دیا جاسکتا ہے اس کے بارے میں یہ بھی پابندی نہیں کہ کس قدر صدقہ کیا جائے،صدقے کے بارے میں کہا جاتاہے کہ’ صدقہ آفت کو دور اور عمر میں اضافہ کرتا ہے‘۔خیرات کی بھی یہی صورت ہے جو بھی استطاعت ہو خیرات کردیا جائے۔خیرات کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ’خیرات دے تاکہ تیری اولاد خیرات نہ مانگے‘۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’اگر دْنیا میں ایک حصہ راہ خدا میں دو گے تو آخرت میں ستر گنا زیادہ پاؤ گے‘۔ یہ تو بات طے ہے کہ ’خدا کی راہ میں دینا جان و مال کی حفاظت کرتا ہے‘۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم جہاں پر اتنا زیادہ خرچ کرتے ہیں وہیں پر یتیم اور مستحق بچوں کیلئے بھی کچھ نہ کچھ کریں اور ان کے چہروں پر مسکراہٹ لائیں ۔ ایک چیز ہمیں ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ ہر وقت اپنے حالات کا رونا روتے رہنا اچھی بات نہیں اس لئے کچھ وقت ان بچوں کیلئے بھی نکالنا چاہئے ۔اب جیسے عید یا دیگر تہوار آتے ہیں تو ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جو یتیم خانوں میں جا کر ان بچوں کو عید کی مبارک دیتے ہیں جن کے والدین کا سایہ ان کے سر سے اٹھ چکا ہے اور وہ ہر وقت راہ تکتے رہتے ہیں کہ کب کوئی آ ئے گا اور انہیں ان کا اپنا ہونے کا احساس دلائے گا ۔اگردیکھا جائے تو انسان ہی انسان کے کام آتا ہے کیونکہ صرف جانور ہیں جو صرف اپنے لئے جیتے ہیں مگر انسان کو اللہ تعالیٰ نے اشرف المخلوقات بنایا ہے تاکہ انسان ایک دوسرے کے کام آئے ۔اگر ہم آج کسی یتیم کی دادرسی کریں گے تو ہو سکتا ہے کہ کل ہمارے کسی اپنے کو یتیمی کا سامنا کرنا پڑے تو پھر دیگر افراد اس کی دادرسی کریں گے ۔ اس حقیقت سے بالکل بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ہم جیسا کرینگے ویسا ہی بھریں گے مطلب اگر ہم کسی کے ساتھ اچھا کرتے ہیں تو کل ہمارے ساتھ بھی لوگ اچھا کرینگے اور اگر کسی کے بچوں کا ہم آج بہتر سوچتے ہیں تو کل ہمارے بچوں کا دوسرے لوگ اچھا سوچیں گے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشرے کے تمام افراد محرومیوں کے شکار ہونے والے بچوں کی خبر گیری کریں اور جتنا ہو سکتا ہے ان کی بہتری کیلئے کام کریں تاکہ یتیم اور بے سہارا بچے بھی معاشرے کے کار آمد شہری بن سکیں کیونکہ آج کے بچے کل کا مستقبل ہیں اگر آج ہم ان کا ساتھ دیں گے تو کل وہ ہماری آنے والی نسلوں کیلئے معاون ثابت ہونگے ۔ہم سمجھتے ہیں کہ سرکاری سطح پر بھی جوادارے یتیموں کیلئے کام کر رہے ہیں ان کی بہتری کیلئے بھی کام کیا جائے۔
(ذراسوچئے)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: wajahat Hussain Qazi

Read More Articles by wajahat Hussain Qazi: 17 Articles with 8314 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Sep, 2018 Views: 282

Comments

آپ کی رائے