پھلجھڑیاں (2)

(Munir Bin Bashir, Karachi)

سلسلہ ‘پھلجھڑیاں‘ شروع کرتے وقت میں نے تحریر کیا تھا کہ زندگی میں بھی کئی واقعات ہوتے ہیں جن پر غور کیا جائے تو معاشرے کے مختلف افراد کے ذہنوں کی عکاسی ہوتی ہے یا معاشرے کے مختلف پہلو آشکارہ ہوتے ہیں - آج پھر کچھ ایسے ہی واقعات کے ساتھ حاضر ہوں

ہر فرد ھے ملت کے مقدر کا ستارہ
-----------------------------------
نوکری یا نخرہ --- ایک چیز چھوڑ دے -- اپنی نوکری کے دوران ٹر کوں کے پیچھے لکھے ہوئے اس فقرے پر پوری طرح صدق دل سے عمل کیا - اور جہاں کہیں پوسٹنگ کی جاتی بغیر کسی چون و چرا کے چلا جاتا - اسی سلسلے میں میری تعیناتی ایک اہم جگہ ہوئی - وہاں ایک دن ایک سویپر سے بات ہوئی جو کچھ صفائی کر کے جا رہا تھا اس سے تاخیر سے آنے کا سبب پوچھا تو اس دوران بات سے بات نکلتی گئی -
اس نے کہا “صاحب ہمارا کیا ہے - ہم دو ٹکے کے انسان ہیں --ہماری کیا حیثیت ہے -- وغیرہ وغیرہ “
مجھے ایک دم جھٹکا سا لگا یہ کیسے کہہ رہا ہے کہ ہماری کیا حیثیت ہے
میں نے کہا “سنو -اس وقت میں اور تم اس کمرے میں اکیلے ہیں -مجھے ایک دم دل کا دورہ پڑ جاتا ہے - سیکرٹری باہر ہے - مجھے ایک دم پانی کی طلب ہوتی ہے -میرا حلق خشک ہو جاتا ہے اور میری عجب سی حالت ہو جاتی ہے تو کون ہے جو مجھے فوری طور پر پانی پلائے گا یا باہر اطلاع دے گا - تم نہ ہو تو باہر سیکرٹری کو پتہ بھی نہیں چلے گا کہ مجھ پر کیا بیت رہی ہے ---چنانچہ اس وقت --- اس لمحے - اس موقع پر --- میرے لئے سب سے اہم ترین --یعنی سب سے اہم آدمی تم ہی ہو “
نہ جانے اس کی سمجھ میں آیا یا نہیں اب تک سوچتا رہتا ہوں کیوں کہ وہ عجیب شش و پنج کے انداز میں باہر
نکل گیا تھا -الجھن اس کی آنکھوں‌سے ظاہر ہو رہی تھی -

یہ میری کوتاہ فکری اور کند ذہنی ہے کہ میں اب تک نہیں سمجھ سکا کہ ہم ایک حلال کام کو اور اس حلال کام کے کر نے والوں کو برا کیوں سمجھتے ہیں - مجھے یاد آرہا ہے کہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں یہ کام مسلمان ہی کرتے ہیں - اور قرۃالعیں حیدر نے بھی اپنی ایک کتاب میں لکھا ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں نے یہ پیشہ اختیار کر لیا ہے - یہ پیسہ کمانے کا حلال طریقہ ہے -البتہ چوری کرنا - پیسہ چھین لینا وغیرہ حرام کام ہیں‌ جن سے نفرت کر نی چاہیئے -
کبھی کبھار دل شہر کے شور شرابےسے بے زار ہو جاتا ہے تو میں کسی دوردراز علاقے کی طرف نکل جاتا ہوں - کوئٹہ میں بھی ایک مرتبہ اس قسم کی اکتاہٹ کا شکار ہوا تو ہنہ جھیل کی طرف جا نکلا - میں ہنہ جھیل کے کنارے بیٹھا ہوا تھا - - چاروں طرف سناٹا چھایا ہوا تھا- ہے - میں غیر ارادی طور پر جھیل میں پتھر پھینکنے لگا - جھیل کے گہرے نیلے پانی میں لہروں کے دائرے سے بنتے اور پھر پھیل جا تے تھے - میری سوچوں کے دائرے بھی پھیلنے لگے - نہ جانے اس وقت کیوں پھریہی دفتر کا واقعہ یاد آگیا اور اس کے ساتھ ہی اردو کے افسانہ نگار منشی پریم چند بھی -
منشی پریم چند نباض بھی تھے اور مصلح بھی تھے - معاشرتی زندگی میں اخلاقی قدروں کا جو زیاں نظر آتا ہے۔ اسے وہ بڑی کامیابی سے بے نقاب کرتے ہیں - ایک جگہ وہ لکھتے ہیں - اصل عبارت تو ذہن میں نہیں آرہی لیکن کچھ ایسے تھی --- کہ پھولوں کی کیاری میں طرح طرح کے خوب صورت رنگین پھول لگے ہوئے تھے - ان کے اوپر ایک تتلی منڈلا رہی تھی - پھول کےایک پودےپر نظر ڈالی تو اس کی جڑ نظر آئی - مٹی میں لتھڑ ی ھوی جس میں گو بر کی آمیزش زیادہ تھی -کھاد کے لئے گوبر استعمال کیا گیا تھا -گوبر پانی کے ساتھ مل کر لیس دار ملغوبہ بنا رہا تھا اور ایک گندی سی بو نکل رھی تھی --لیکن اوپر خوبصورت پھول مختلف رنگ لئے اپنی پوری رعنائیوں کے ہمراہ ہوا کے جھونکوں کے ساتھ لہرا رہا تھا - ایک نہایت ہی دلفریب منظر تھا - جی چاھتا تھا کہ دیکھتے ہی رہو - اس میں سے مست کرنے والی خوشبو جو نکل رہی تھی اس نے تمام فضا ء کو معطر کر کے خوشگوار بنا دیا تھا - لیکن کیا پھول کو معلوم ہے کہ اس کا یہ حسن - یہ مہک - یہ رعنائی -یہ دلکشی گندی سی جڑ کے مرہون منت ہے

اچانک جھیل کی لہروں میں ایک بڑا سا ارتعاش پیدا ہوا -- میں چونک پڑا - میں نے تو کوئی کنکر وغیرہ نہیں پھینکا تھا -- پھر یہ کیوں ؟- اوپر نگاہ کی تو ایک پرندہ فضا میں نظر آیا - اس نے غالباً پانی کو اپنے پیروں سے چھوا تھا اور پھر فضا میں اڑ گیا تھا
تھوڑی دیرمیں دائرہ بناتی لہریں معدوم ہونے لگیں اور آخر کار سطح آب سے بالکل غائب ہی ہوگئیں - میں نے سوچا کہ اسی طرح اس دنیا میں کتنی تہذیبوں نے جنم لیا اور پھر آہستہ آہسہ دوسری تہذیبوں میں ضم ہو گئیں یا ختم ہی ہوگئیں - آج انہیں کوئی جانتا بھی نہیں‌ - کتنے ممالک اونچے مقام تک پہنچے لیکن وقت کی گرد میں انکے بھی نام و نشان مٹ گئے - بالکل ان لہروں کی طرح -- لیکن اچھے سماج کے کچھ اصول ابدی ہیں -- ان میں کوئی بدلاؤ نہیں آتا - یہ اصول کبھی نہیں مٹتے
معاشرے کے مختلف طبقوں کے بارے میں علامہ اقبال بھی ایک ایسا اصول بتا چکے ہیں
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر --- ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
---------------------------------
وہ افغان مہاجر تھا یا افغان مجاہد
-----------------------------------
میرے ایک کزن تھے - اب مرحوم ہو چکے ہیں -کوئٹہ میں قیام تھا - وہ پر پیچ پہاڑی علاقوں میں گاڑی چلانے پر پورا عبور رکھتے تھے - کیسے ہی گول چکر دار موڑ کیوں نہ ہوں گاڑی ایسے چلاتے تھے جیسے کسی بڑی ہموار خط مستقیم پر گاڑی چلارہے ہوں - مجال ہے کہ ماتھے پر پریشانی کی شکنیں آئی ہوں یا کسی دشواری کا ذکر کیا ہو - البتہ ایک مرتبہ جب وہ لورالائی بلوچستان سے براستہ فورٹ منرو ڈیرہ غازی خان گئے تو واپس آکر کہا ایسی سانپ کی طرح کنڈلیاں مارتی ہوئی سڑک کبھی نہیں دیکھی - مجھے تو چکر ہی آگئے تھے - خیر یہ تو بات تھی ان کی مہارت کی جو برسیل تذکرہ آگئی تھی ورنہ اس وقت تو ایک اور قصہ سنانے کے لئے کی بورڈ پر انگلیاں چل رہی ہیں جو میرے کزن نے سنایا تھا -

انہوں نے بتایا کہ روس افغانستان جنگ کے دوران کا واقعہ ہے -
ایک مرتبہ رات کو کسی نے ان کے گھر کے دراوزے کی گھنٹی کے بٹن پر ہاتھ رکھ دیا اور اس وقت تک نہیں اٹھایا جب تک اندر سے آواز نہ آئی کون ہے -
خیر دروازہ کھولنے پر پتہ چلا کہ ان کے کوئی واقف ایک افغان باشندے کو لے کر آئے ہیں - افغان مہاجر زخمی تھا اور خون اس کے پیر سے بہہ رہا تھا - کسی ڈاکٹر سے معمولی پٹی کر والی تھی - واقف کار نے کہا کہ اس شخص کو فوری طور پر چمن پہنچانا ہے اور اس وقت تم سے زیادہ تیز رفتاری سے اسے کوئی نہیں پہنچا سکتا -یاد رہے کہ راستے میں بلند بالا پہاڑ کھوجک بھی واقع تھا جس کی جلیبی کی طرح بل کھاتی ہوئی سڑک کو چمن پہنچنے کے لئے پار کرنا تھا - وہی کھوجک پہاڑ جس میں پاکستان کی سب سے لمبی ریل کی سرنگ ہے -
خیر میرے کزن تیار ہو گئے اور روانہ ہو گئے -
کتنی تیز ڈبل کیبن گاڑی چلائی - کہیں ایکسی لیٹر سے پیر بھی ہٹایا یا نہیں -- خطرناک موڑوں کو کیسے پار کیا - سب کا تذ کرہ چھوڑیں اور سمجھیں کہ بخیر و عافیت چمن پہنچ گئے -
سیدھا مجاہدیں کے ہسپتال پہنچے اور واپس ہوئے -
اسے مجاہدیں کے ہسپتال میں داخل کر دیا گیا تھا - زخمی ہونے والے افغان مہاجر کی یہی ہدایت تھی -نہ جانے کیوں‌ ؟

دو تین ماہ بعد وہ افغان مہاجر صحت مند ہو کر واپس آیا - اس نے بتایا کہ گھریلو جھگڑے میں اسے گولی لگ گئی تھی وہ فوری طور پر افغانستان بارڈر چمن پہنچا اپنے کو افغان مجاہد کے طور پر پیش کیا اور کہا کہ وہ جنگ کے محاذ پر تھا - گولی لگ گئی ہے اور وہ زخمی ہو گیا ہے -
اس کا علاج بطور افغان مجاہد مفت کیا گیا تھا - اسے امداد کے طور پرکافی رقم بھی فراہم کی گئی -

وہ میرے کزن کا شکریہ ادا کر نے آیا تھا

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 506 Print Article Print
About the Author: Munir Bin Bashir

Read More Articles by Munir Bin Bashir: 102 Articles with 134606 views »
B.Sc. Mechanical Engineering (UET Lahore).. View More

Reviews & Comments

Language: