ماتحتوں سے متعلق ایک پریشانی کا حل

(Mufti Usman Uddin, )

دنیا کا نظام حیات اجتماعی ہے اور انسان اسی میں زندگی گزارتا ہے، اجتماعی نظام حیات میں ہر شخص کسی رشتہ یا تعلق کے واسطہ سے دوسرے کے ساتھ جڑا ہوتا ہے۔ انسانوں کے یہ باہمی روابط مختلف نوعیت کے ہوتے ہیں ، ،بسا اوقات آپس کے اس تعلق میں ایک شخص بڑا اور حاکم ہوتا ہے جبکہ دوسرا اس کے ماتحت اور زیر حکم ہوتا ہے، اس نوعیت کا تعلق معاشرہ میں بہت وسعت رکھتا ہے اور مختلف طبقات کے افراد اس میں جڑے ہوئے ہیں مثال کے طور پر والدین اور اولاد ،استاذ اور شاگرد ،مالک اور ملازم کا تعلق اسی نوعیت کا ہے کیوں کہ اولاد ،شاگرد اور ملازم یہ سب اپنے والدین ،استاذ اور مالک کے ماتحت ہوتے ہیں ۔

معاشرہ کے اندر اس رشتہ میں جڑے افرادآپس کے اس تعلق کے حوالہ سے جن پریشانیوں کے شکار ہوتے ہیں ان میں سے ایک پریشانی بڑوں کو اپنے ماتحتوں سے یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ ان کی بات نہیں مانتے، ان کی چاہت کے مطابق کام نہیں کرتے چنانچہ والدین اپنی اولاد کی ،استاذ اپنے شاگرد بچوں کی ،اسی طرح مالک اپنے ماتحت ملازمین کی یہی شکایت کرتے نظرآتے ہیں،یہ ایک بڑی پریشانی ہے جو بڑوں کو اپنے ماتحتوں سے ہوتی ہے ۔مذکورہ پریشانی میں مبتلا افرادبسا اوقات اپنے ماتحتوں کے لیے صرف سختی اور ڈانٹ ڈپٹ کا راستہ اختیار کرتے ہیں،مقصد یہ ہوتا ہے کہ اس سے وہ ان کے مطیع و فرماں بردارہوجائیں گے لیکن ہوتا اس کے برعکس ہے کہ ماتحت اس سے ایک طرح کی بغاوت پر اتر آتے ہیں اور اس پریشانی میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے بلکہ بسا اوقات یہ لاعلاج ہوجاتی ہے ، اس لیے اس طریقہ کار کا انتخاب نقصان دہ ہے ۔

مذکورہ پریشانی کا ایک بہترین حل ماتحتوں کی ’’حوصلہ افزائی ‘‘ہے ، حوصلہ افزائی کا مطلب یہ ہے کہ آپ ماتحتوں کے اچھے کام پر اپنے قول و فعل سے ان کی تعریف کریں اور ان کی غلطیوں سے حتی الامکان درگزر کریں،آپ کے اس رویہ سے ان کے دل میں آپ کے لیے اطاعت اور فرماں برداری کا سچا اور دیر پا جذبہ پیدا ہوگا جو کہ اصل مطلوب ہے ، اس کے برعکس گر آپ ان کے ساتھ ہر وقت سختی سے پیش آئیں گے ،ان کے اچھے کاموں کو نظر انداز کرکے صرف ان کی غلطیوں کو سامنے رکھتے ہوئے ان پر ٹوکیں گے توایسی صورت میں وہ وقتی طور پر بامر مجبوری آپ کی بات شاید مان جائیں گے لیکن عمومی طور پر یہ فرماں برداری صرف ظاہر تک ہی محدود ہوتی ہے باقی دل ہی دل میں وہ آپ کے باغی بنتے چلے جاتے ہیں جس کے آثار ان کے ظاہری اقوال و افعال میں بھی ظاہر ہوتے ہیں اور یہ بات جانبین کے لیے پریشانی کا باعث ہوتی ہے ۔ حوصلہ افزائی کا یہ عمل ایک انتہائی مفید عمل ہے اور یہ صرف ماتحتوں کے لیے ہی خاص نہیں ہے بلکہ انسان کا اپنی زندگی میں جن کے ساتھ بھی تعلق ہو ان کے ساتھ یہی حوصلہ افزائی کا رویہ اپنانا چاہیے ۔

در اصل انسان جو بھی کام کرتا ہے وہ حوصلہ کے ذریعہ کرتا ہے کیوں کہ حوصلہ ہی انسان کو آگے بڑھاتا ہے اور حوصلہ افزائی کے معنی ہی حوصلہ بڑھانے کے ہیں لہذااگر آپ اپنے ماتحتوں کی حوصلہ افزائی کریں گے تو ان کا حوصلہ بڑھے گا جس سے وہ آپ کی مرضی و منشا کے مطابق کام کریں گے اور اگر آپ ان پر ہر وقت غصہ اور سختی کریں گے ،ڈانٹ ڈپٹ کریں گے تو اس سے ان کی حوصلہ شکنی ہوگی جس کے نتیجہ میں کچھ حاصل نہیں ہوتا ہے۔اس حقیقت کو سمجھنے کی ضرورت ہے ،لوگ چوں کہ اس کو سمجھتے نہیں ہیں اس لیے وہ اس پریشانی میں مبتلا رہتے ہیں ۔

اس سلسلہ میں نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی ذات ہمارے لیے عملی نمونہ ہے ،صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم سارے کے سارے آپ کے انتہائی مطیع و فرماں بردارتھے ،ان کی اس اطاعت فرماں برداری کا راز، نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کا ان کے ساتھ نرمی اور احسان پر مبنی رویہ اور برتاو تھا ،حضور صلی اﷲ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام کے ساتھ سخت دل اور سخت مزاج نہیں تھے بلکہ نرم مزاج تھے اوروہ ان کے ساتھ انتہائی احسان اور نرمی کا برتاو رکھتے تھے،ان کے اچھے کاموں پر ان کی حوصلہ افزائی کے لیے تعریفی جملے ارشاد فرماتے تھے اور ان کی خطاوں سے درگزر فرماتے تھے ،حضرت انس نبی ؐ کے خادم خاص تھے وہ خود فرماتے ہیں کہ میں نے دس سال آپ ؐ کی خدمت کی اس دوران آپ نے مجھے کبھی کسی بات پر ڈانٹا نہیں ، اس عرصہ میں یقینا ان سے غلطیاں بھی ہوئی ہوں گی کیوں کہ وہ بھی انسان تھے اور کم عمر بھی لیکن آپ ؐ نے ان کی غلطیوں سے اس حد تک درگزر کیا کہ کبھی ان کو ڈانٹنے کی بھی نوبت نہیں آئی ،اس سے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے اپنے ماتحتوں کے سا تھ اخلاق اوربرتاو کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ،ان کا یہی برتاو اور رویہ تھا جس کے سبب صحابہ کرام آپ پر ہر وقت اپنی جان تک قربان کرنے کے لیے تیار ہوتے تھے ،اﷲ تعالی نے قرآن کریم میں بھی صحابہ کرام کی اس جان نثاری کا یہی راز بتایا ہے ۔
غرض نبی کریم ؐ کی اس عملی زندگی سے بھی ہمیں یہی سبق ملتا ہے کہ اگر ہم اپنے ماتحتوں کو اپنا مطیع و فرماں بردار دیکھنا چاہتے ہیں،ان سے اپنی مرضی و منشا کے مطابق درست کام لینا چاہتے ہیں تو ہمیں ان کے ساتھ صرف سختی اور ڈانٹ ڈپٹ والا رویہ اپنانے کے بجائے پیار و محبت کے ساتھ نرمی اور حوصلہ افزائی والا رویہ بھی اپنا نا چاہیے ،اسی سے ان کا حوصلہ بڑھے گا اور اسی حوصلہ کی بنیاد پر وہ محنت اور لگن کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو پورا کریں گے،اﷲ تعالی ہمیں حضور صلی اﷲ علیہ وسلم ؐ کی سیرت کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mufti Usman Uddin

Read More Articles by Mufti Usman Uddin: 7 Articles with 3065 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
23 Sep, 2018 Views: 446

Comments

آپ کی رائے