بیٹی سے ماں کا سفر

(Naik bano, Gilgit)
بیٹی جب تک اپنے والد ین کے پاس ہوتی ہے اجنبی نہیں ہوتی جیسے ہی شادی ہوجاتی ہے وہی بیٹی اپنوں کے لئے اجنبی بن جاتی ہے

بیٹی جب شادی کے اسٹیج سے ...
سسرال جاتی ہے تب .....
پرائی نہیں لگتی.
مگر ......
جب وہ میکے آ کر ہاتھ منہ دھونے کے بعد سامنے ٹنگے ٹاول کے بجائے اپنے بیگ سے مختصر رومال سے منہ پوچھتي ہے،
تب وہ پرائی لگتی ہے.
جب وہ باورچی خانے کے دروازے پر نامعلوم سی کھڑی ہو جاتی ہے،
تب وہ پرائی لگتی ہے.
جب وہ پانی کے گلاس کے لئے ادھر ادھر آنکھیں گھماتي ہے،
تب وہ پرائی لگتی ہے.
جب وہ پوچھتی ہے واشنگ مشین چلاوں کیا
تب وہ پرائی لگتی ہے.
جب میز پر کھانا لگنے کے بعد بھی برتن کھول کر نہیں دیکھتی
تو وہ پرائی لگتی ہے.
جب پیسے گنتے وقت اپنی نظریں چراتي ہے
تب وہ پرائی لگتی ہے.
جب بات بات پر غیر ضروری قہقہے لگا کر خوش ہونے کا ڈرامہ کرتی ہے
تب وہ پرائی لگتی ہے .....
اور لوٹتے وقت
'اب کب آئے گی' کے جواب میں 'دیکھو کب آنا ہوتا ہے' یہ جواب دیتی ہے،
تب ہمیشہ کے لئے پرائی ہو گئی ایسے لگتی ہے.
لیکن گاڑی میں بیٹھنے کے بعد
جب وہ چپکے سے آپ سے آنکھیں چھپا کے آنسو خشک کرنے کی کوشش کرتی ہے
تو وہ پرايا پن ایک جھٹکے میں بہہ جاتا
تب وہ اپنی سی لگتی
Dedicate to all Girls
نہیں چاہئے حصہ بھیا
میرا مايكا سجائے رکھنا
کچھ نہ دینا مجھے
صرف محبت برقرار رکھنا
پاپا کے اس گھر میں
میری یاد بسائے رکھنا
بچوں کے ذہنوں میں
میرا مان برقرار رکھنا
بیٹی ہوں ہمیشہ اس کے گھر کی
یہ اعزاز سجائے رکھنا.
Dedicated to all married girls .....
بیٹی سے ماں کا سفر......!!!!
بیٹی سے ماں کا سفر
بے فكري سے فکر کا سفر
رونے سے خاموش کرانے کا سفر
غصے سے تحمل کا سفر
پہلے جو آنچل میں چھپ جایا کرتی تھی.
آج کسی کو آنچل میں چھپا لیتی ہیں.
پہلے جو انگلی پہ گرم لگنے سے
گھر کو سر پہ اٹھایا کرتی تھی.
آج ہاتھ جل جانے پر بھی کھانا بنایا کرتی ہیں.
پہلے جو چھوٹی چھوٹی باتوں پہ رویا کرتی تھی
آج بو بڑی بڑی باتوں کو ذہن میں چھپایا کرتی ہے.
پہلے بھائی ،،
دوستوں سے لڑ لیا کرتی تھی.
آج ان سے بات کرنے کو بھی ترس جاتی ہے.
ماں، ماں کہہ کر پورے گھر میں کھلا کرتی تھی.
آج ماں سن کے آہستہ سے مسکرایا کرتی ہے
10 بجے اٹھنے پر بھی جلدی اٹھ جانا ہوتا تھا.
آج 7 بجے اٹھنے پر بھی لیٹ ہو جایا کرتی ہے
اپنے شوق پورے کرتے کرتے ہی سال گزر جاتا تھا.
آج اپنے شوق سارے بھلا بیٹھی ہے۔
ایک امتحان کے لئے پورے سال پڑھا کرتی تھی.
اب ہر روز بغیر تیاری کے امتحان دیا کرتی ہے.
نہ جانے کب کسی کی بیٹی
کسی کی ماں بن گئی.
کب بیٹی ماں کے سفر میں
تبدیل ہو گئی .....

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Naik bano

Read More Articles by Naik bano: 21 Articles with 13166 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
25 Sep, 2018 Views: 597

Comments

آپ کی رائے